بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Ibn Majah
6
17 hadith
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمَّا مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ صَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَقَالَ ‏ "‏ إِنَّ لَهُ مُرْضِعًا فِي الْجَنَّةِ وَلَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا ‏.‏ وَلَوْ عَاشَ لَعَتَقَتْ أَخْوَالُهُ الْقِبْطُ وَمَا اسْتُرِقَّ قِبْطِيٌّ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“Then Ibrahim the son of the Messenger of Allah (ﷺ) died, the Messenger of Allah (ﷺ) prayed and said: ‘He has a wet-nurse in Paradise, and if he had lived he would have been a Siddiq and a Prophet. If he had lived his maternal uncles, the Egyptians, would have been set free and no Egyptian would ever have been enslaved.’”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم کا انتقال ہو گیا، تو آپ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی، اور فرمایا: جنت میں ان کے لیے ایک دایہ ہے، اور اگر وہ زندہ رہتے تو صدیق اور نبی ہوتے، اور ان کے ننہال کے قبطی آزاد ہو جاتے، اور کوئی بھی قبطی غلام نہ بنایا جاتا ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ بِسِتٍّ مِنْ شَوَّالٍ، كَانَ كَصَوْمِ الدَّهْرِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Ayyub that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever fasts Ramadan then follows it with six days of Shawwal, it is as if he fasted for a lifetime.”
ابوایوب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے رمضان کا روزہ رکھا، پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے، تو وہ پورے سال روزے رکھنے کے برابر ہو گا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مُخَلَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ لاَ يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى رَجُلٍ جَامَعَ امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah:that the Prophet said: “Allah will not look at a man who has intercourse with his wife in her buttocks.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف نہیں دیکھے گا جو کسی عورت سے اس کے دبر ( پچھلی شرمگاہ ) میں جماع کرے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ لاَ تَبِيعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"Do not sell fruits until they have ripened
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھلوں کو ان کی پختگی ظاہر ہونے سے پہلے نہ بیچو ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ خَمْسِمِائَةِ عَامٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abdullah bin Amr that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever claims to belong to someone other than his father will not smell the fragrance of Paradise, even though its fragrance may be detected from a distance of five hundred years.”
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنا والد کسی اور کو بتائے، وہ جنت کی خوشبو نہیں سونگھ سکے گا، حالانکہ اس کی خوشبو پانچ سو سال کی مسافت سے محسوس ہوتی ہے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي السَّفَرِ، قَالَ قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَا مِنْ رَجُلٍ يُصَابُ بِشَىْءٍ مِنْ جَسَدِهِ فَيَتَصَدَّقُ بِهِ إِلاَّ رَفَعَهُ اللَّهُ بِهِ دَرَجَةً أَوْ حَطَّ عَنْهُ بِهِ خَطِيئَةً ‏"‏ ‏.‏ سَمِعَتْهُ أُذُنَاىَ وَوَعَاهُ قَلْبِي ‏.‏
Abu Darda said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'There is no man who suffers some (injury) on his body and forgives (the perpetrator), but Allah (SWT) will raise him one degree in status thereby, or erase from him one sin.'My own ears heard it and my heart memorized it.”
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: کوئی بھی شخص جس کے جسم کو صدمہ پہنچے پھر وہ ثواب کی نیت سے معاف کر دے، تو اللہ تعالیٰ اس کے عوض اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے اور ایک گناہ معاف کر دیتا ہے، یہ میرے کانوں نے سنا اور دل نے یاد رکھا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو فَرْوَةَ، يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ، رُوَيْمٍ اللَّخْمِيُّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، - قَالَ وَلَقِيَهُ وَكَلَّمَهُ - قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قُدُورُ الْمُشْرِكِينَ نَطْبُخُ فِيهَا قَالَ ‏"‏ لاَ تَطْبُخُوا فِيهَا ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ فَإِنِ احْتَجْنَا إِلَيْهَا فَلَمْ نَجِدْ مِنْهَا بُدًّا قَالَ ‏"‏ فَارْحَضُوهَا رَحْضًا حَسَنًا ثُمَّ اطْبُخُوا وَكُلُوا ‏"‏ ‏.‏
‘Urwah bin Ruwaim Al-Lakhmi narrated that Abu Tha’labah Al-Khushani – whom he said he met and spoke with – said:“I came to the Messenger of Allah (ﷺ) and asked him: ‘O Messenger of Allah! Can we cook in the vessels of the idolaters?’ He said: ‘Do not cook in them.’ I said: ‘What if we need them and cannot find anything else?’ He said: ‘Wash them well, then cook and eat.’”
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا تو میں نے سوال کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم مشرکین کی ہانڈیوں میں کھانا پکا سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان میں نہ پکاؤ میں نے کہا: اگر اس کی ضرورت پیش آ جائے اور ہمارے لیے کوئی چارہ کار ہی نہ ہو؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب تم انہیں اچھی طرح دھو لو، پھر پکاؤ اور کھاؤ ۱؎۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ قَالَ لَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مِنْ طَوَافِ الْبَيْتِ أَتَى مَقَامَ إِبْرَاهِيمَ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا مَقَامُ أَبِينَا إِبْرَاهِيمَ الَّذِي قَالَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ ‏{وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى}‏ ‏.‏ قَالَ الْوَلِيدُ فَقُلْتُ لِمَالِكٍ هَكَذَا قَرَأَهَا ‏{وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى}‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏
It was narrated that Jabir said:“When Allah’s Messenger (ﷺ) finished circumambulating the House, he came to Maqam Ibrahim. ‘Umar said: ‘O Messenger of Allah, this is the Maqam of our father Ibrahim, about which Allah says, “And take you (people) the Maqam (place) of Ibrahim as a place of prayer.’” [2:]
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے طواف سے فارغ ہوئے تو مقام ابراہیم کے پاس آئے، عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ ہمارے باپ ابراہیم کی جگہ ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» مقام ابراھیم کو نماز کی جگہ بناؤ ، ولید کہتے ہیں کہ میں نے مالک سے کہا: کیا اس کو اسی طرح ( بکسر خاء ) صیغہ امر کے ساتھ پڑھا؟ انہوں نے کہا: ہاں ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَيَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ إِذَا أُتِيَ بِأَوَّلِ الثَّمَرَةِ قَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا وَفِي ثِمَارِنَا وَفِي مُدِّنَا وَفِي صَاعِنَا بَرَكَةً مَعَ بَرَكَةٍ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ يُنَاوِلُهُ أَصْغَرَ مَنْ بِحَضْرَتِهِ مِنَ الْوِلْدَانِ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that when the first fruits (of the season) were brought, the Messenger of Allah (ﷺ) would say:“O Allah, bless us in our city and in our fruits, in our Mudd and in our Sa’,* blessing upon blessing.” Then he would give it to the smallest of the children present
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب موسم کا پہلا پھل آتا تو فرماتے: «اللهم بارك لنا في مدينتنا وفي ثمارنا وفي مدنا وفي صاعنا بركة مع بركة» یعنی اے اللہ! ہمارے شہر میں، ہمارے پھلوں میں، ہمارے مد میں، اور ہمارے صاع میں، ہمیں برکت عطا فرما، پھر آپ اپنے سامنے موجود بچوں میں سب سے چھوٹے بچے کو وہ پھل عنایت فرما دیتے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ لاَ يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ النَّاقِعِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Umar said:"The Messenger of Allah said: 'No one among you should urinate into standing water
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھہرے ہوئے پانی میں کوئی شخص ہرگز پیشاب نہ کرے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّ خَالِدَةَ بِنْتَ أَنَسٍ أُمَّ بَنِي حَزْمٍ السَّاعِدِيَّةَ، جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَعَرَضَتْ عَلَيْهِ الرُّقَى فَأَمَرَهَا بِهَا ‏.‏
It as narrated from Abu Bakr bin Muhammad that Khalidah bint Anas, the mother of Banu Hazm As-Sa’idiyyah, came to the Prophet (ﷺ) and recited a Ruqyah to him, and he told her to use it
ابوبکر بن محمد سے روایت ہے کہ خالدہ بنت انس ام بنی حزم ساعدیہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، اور آپ کے سامنے کچھ منتر پیش کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کی اجازت دے دی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ هَذِهِ مِنْهُ بَيْضَاءُ ‏.‏ يَعْنِي عَنْفَقَتَهُ ‏.‏
It was narrated that Abu Juhaifah said:“I saw the Messenger of Allah (ﷺ), and this part of his hair was white” – meaning the tuft of hair between the lower lip and the chin
ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ بال یعنی داڑھی بچہ سفید دیکھی۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلاَ تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Muhammad that they heard Abu Hurairah say:"Abul Qasim(ﷺ) said: 'Call yourselves by my name but do not call yourselves by my Kunyah
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ میرے نام پر نام رکھو، لیکن میری کنیت پر کنیت نہ رکھو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏ "‏ مُرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ قَبْلَ أَنْ تَدْعُوا فَلاَ يُسْتَجَابَ لَكُمْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that ‘Aishah said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘enjoin what is good and forbid what is evil, before you call and you are not answered.’”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: تم بھلی بات کا حکم دو، اور بری بات سے منع کرو، اس سے پہلے کہ تم دعا کرو اور تمہاری دعا قبول نہ کی جائے ۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُسْلِمٍ الأَعْوَرِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَعُودُ الْمَرِيضَ وَيُشَيِّعُ الْجِنَازَةَ وَيُجِيبُ دَعْوَةَ الْمَمْلُوكِ وَيَرْكَبُ الْحِمَارَ وَكَانَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ عَلَى حِمَارٍ وَيَوْمَ خَيْبَرَ عَلَى حِمَارٍ مَخْطُومٍ بِرَسَنٍ مِنْ لِيفٍ وَتَحْتَهُ إِكَافٌ مِنْ لِيفٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Anas bin Malik said:“The Messenger of Allah (ﷺ) used to visit the sick, attend funerals, accept the invitations of slaves and ride donkeys. On the day (of the battle) of Quraizah and Nadir, he was riding a donkey. On the day of Khaibar he was riding a donkey that was bridled with palmfibers and beneath him was a packsaddle made of palmfibers.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مریض کی عیادت کرتے، جنازے کے پیچھے جاتے، غلام کی دعوت قبول کر لیتے، گدھے کی سواری کرتے، جس دن بنو قریظہ اور بنو نضیر کا واقعہ ہوا، آپ گدھے پر سوار تھے، خیبر کے دن بھی ایک ایسے گدھے پر سوار تھے جس کی رسی کھجور کی چھال کی تھی، اور آپ کے نیچے کھجور کی چھال کا زین تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ وَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَلاَ تَعْجِزْ فَإِنْ أَصَابَكَ شَىْءٌ فَلاَ تَقُلْ لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا ‏.‏ وَلَكِنْ قُلْ قَدَّرَ اللَّهُ وَمَا شَاءَ فَعَلَ فَإِنَّ ‏"‏ لَوْ ‏"‏ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَانِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The strong believer is better and more beloved to Allah than the weak believer, although both are good. Strive for that which will benefit you, seek the help of Allah, and do not feel helpless. If anything befalls you, do not say, "if only I had done such and such" rather say "Qaddara Allahu wa ma sha'a fa'ala (Allah has decreed and whatever he wills, He does)." For (saying) 'If' opens (the door) to the deeds of Satan
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: طاقتور مومن اللہ تعالیٰ کے نزدیک کمزور مومن سے بہتر اور پیارا ہے ۱؎، دونوں میں سے ہر ایک میں خیر ہے، ہر اس چیز کی حرص کرو جو تمہیں نفع دے، اور اللہ سے مدد طلب کرو، دل ہار کر نہ بیٹھ جاؤ، اگر تمہیں کوئی نقصان پہنچے تو یہ نہ کہو: کاش کہ میں نے ایسا ویسا کیا ہوتا تو ایسا ہوتا، بلکہ یہ کہو: جو اللہ نے مقدر کیا تھا اور جو اس نے چاہا کیا، اس لیے کہ اگر مگر شیطان کے عمل کے لیے راستہ کھول دیتا ہے ۲؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَقْرَمَ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنْتُ مَعَ أَبِي بِالْقَاعِ مِنْ نَمِرَةَ فَمَرَّ بِنَا رَكْبٌ فَأَنَاخُوا بِنَاحِيَةِ الطَّرِيقِ فَقَالَ لِي أَبِي كُنْ فِي بَهْمِكَ حَتَّى آتِيَ هَؤُلاَءِ الْقَوْمَ فَأُسَائِلَهُمْ ‏.‏ قَالَ فَخَرَجَ وَجِئْتُ - يَعْنِي دَنَوْتُ - فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَحَضَرْتُ الصَّلاَةَ فَصَلَّيْتُ مَعَهُمْ فَكُنْتُ أَنْظُرُ إِلَى عُفْرَتَىْ إِبْطَىْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كُلَّمَا سَجَدَ‏.‏ ‏ قَالَ ابْنُ مَاجَهْ النَّاسُ يَقُولُونَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ يَقُولُ النَّاسُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ‏‏.‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَصَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، وَأَبُو دَاوُدَ قَالُوا حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَقْرَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَحْوَهُ‏.‏
It was narrated from (`Ubaidullah bin `Abdullah) bin Aqram Al-Khuza`i that his father said:“I was with my father on the plain in Namirah,* when some riders passed us and made their camels kneel down at the side of the road. My father said to me: ‘Stay with your lambs until I go to those people and see what they want.’ He said: Then he (my father) went out and I came, (i.e., I came near,) then there was the Messenger of Allah (ﷺ), and the time for prayer came so I prayed with them, and I was looking at the whiteness of the armpits of the Messenger of Allah (ﷺ) every time he prostrated.” Ibn Majah said: The people say `Ubaidullah bin `Abdullah, but Abu Bakr bin Abu Shaibah said: "The people say `Abdullah bin `Ubaidullah." Muhammad bin Bashshar said: "`Abdur-Rahman bin Mahdi, Safwan bin `Eisa and Abu Dawud all said: 'Dawud bin Qais narrated to us, from `Ubaidullah bin `Abdullah bin Aqram, from his father, from the Prophet (ﷺ).'" With similar wording
عبداللہ بن اقرم خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک بار اپنے والد کے ساتھ نمرہ کے میدان میں تھا کہ ہمارے پاس سے کچھ سوار گزرے، انہوں نے راستے کی ایک جانب اپنی سواریوں کو بٹھایا، مجھ سے میرے والد نے کہا: تم اپنے جانوروں میں رہو تاکہ میں ان لوگوں کے پاس جا کر ان سے پوچھوں ( کہ کون لوگ ہیں ) ، وہ کہتے ہیں: میرے والد گئے، اور میں بھی قریب پہنچا تو دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں، میں نماز میں حاضر ہوا اور ان لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی، جب جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں جاتے میں آپ کی دونوں بغلوں کی سفیدی کو دیکھتا تھا ۲؎۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: لوگ «عبیداللہ بن عبداللہ»کہتے ہیں، اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا کہ لوگ «عبداللہ بن عبیداللہ» کہتے ہیں۔