بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Ibn Majah
6
17 hadith
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْبَخْتَرِيُّ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ صَلُّوا عَلَى أَطْفَالِكُمْ فَإِنَّهُمْ مِنْ أَفْرَاطِكُمْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:“The Prophet (ﷺ) said: ‘Offer the (funeral) prayer for your children, for they have gone ahead of you (i.e. to prepare your place in Paradise for you).”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے بچوں کی نماز جنازہ پڑھو، کیونکہ وہ تمہارے پیش رو ہیں ۔
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِي فِرَاسٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ: ‏ "‏ صَامَ نُوحٌ الدَّهْرَ إِلاَّ يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ الأَضْحَى ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Firas that he heard ‘Abdullah bin ‘Amr say:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘(Prophet) Nuh fasted for a lifetime, except for the Day of Fitr and the Day of Adha.’”
عبداللہ بن عمر و رضی اللہ عنہما کو کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: نوح علیہ السلام نے عید الفطر اور عید الاضحی کے علاوہ ہمیشہ روزہ رکھا ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ وَهْبٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا الأَحْوَصُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَرَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، وَعَبْدِ الأَعْلَى بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ فَلْيَسْتَتِرْ وَلاَ يَتَجَرَّدْ تَجَرُّدَ الْعَيْرَيْنِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Utbah bin 'Abd Sulamain:that the Messenger of Allah said: “When anyone of you has intercourse with his wife, let him cover himself and not be naked liked donkeys.”
عتبہ بن عبدسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص اپنی بیوی سے صحبت کرے تو کپڑا اوڑھ لے، اور گدھا گدھی کی طرح ننگا نہ ہو جائے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ خَالِدٍ النُّمَيْرِيُّ أَبُو الْمُغَلِّسِ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّ ثَمَرَ النَّخْلِ لِمَنْ أَبَّرَهَا إِلاَّ أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ وَأَنَّ مَالَ الْمَمْلُوكِ لِمَنْ بَاعَهُ إِلاَّ أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ ‏.‏
It was narrated that 'Ubadah bin Samit said:"The Messenger of Allah (ﷺ) ruled that the fruit of a palm tree belongs to the one who pollinated it, and that the wealth of a slave belongs to the one who sold him, unless the purchaser stipulated a condition
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ کھجور کے درخت کا پھل اس شخص کا ہو گا جس نے اس کی تابیر ( پیوندکاری ) کی، سوائے اس کے کہ خریدنے والا خود لینے کی شرط طے کر لے، اور جس نے کوئی غلام بیچا اور اس غلام کے پاس مال ہو تو غلام کا مال اس کا ہو گا جس نے اس کو بیچا، سوائے اس کے کہ خریدنے والا شرط طے کر لے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الضَّيْفِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنِ انْتَسَبَ إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever claims to belong to someone other than his father, or (a freed slave) who claims that his Wala is for other than his real master, the curse of Allah (SWT), the angels and all the people will be upon him.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے کو اپنے والد کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کرے، یا ( کوئی غلام یا لونڈی ) اپنے مالک کے بجائے کسی اور کو مالک بنائے تو اللہ تعالیٰ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی اس پر لعنت ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْرٍ، عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ النَّحَّاسُ وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ وَالْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلاَنِيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ شَوْذَبٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ أَتَى رَجُلٌ بِقَاتِلِ وَلِيِّهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اعْفُ ‏"‏ ‏.‏ فَأَبَى فَقَالَ ‏"‏ خُذْ أَرْشَكَ ‏"‏ ‏.‏ فَأَبَى ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ فَإِنَّكَ مِثْلُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَلُحِقَ بِهِ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ قَالَ ‏"‏ اقْتُلْهُ فَإِنَّكَ مِثْلُهُ ‏"‏ ‏.‏ فَخَلَّى سَبِيلَهُ ‏.‏ قَالَ فَرُئِيَ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ ذَاهِبًا إِلَى أَهْلِهِ ‏.‏ قَالَ كَأَنَّهُ قَدْ كَانَ أَوْثَقَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ قَالَ ابْنُ شَوْذَبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، فَلَيْسَ لأَحَدٍ بَعْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَقُولَ ‏"‏ اقْتُلْهُ فَإِنَّكَ مِثْلُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ مَاجَهْ هَذَا حَدِيثُ الرَّمْلِيِّينَ لَيْسَ إِلاَّ عِنْدَهُمْ ‏.‏
It was narrated that Anas bin Malik said:“A man brought the killer of his relative to the Messenger of Allah (ﷺ) and the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Pardon him,' but the refused. He said: 'Take the blood money,' but he refused. He said: 'Go and kill him, but then you will be like him.’ Someone caught up with him and reminded him that the Messenger of Allah (ﷺ) had said: 'Go and kill him, but then you will be like him.’ So he let him go. He said: So he was seen dragging his strap going to his family. He said: It seemed that he had tied him up. It's narrated that AbdurRahman bin AlQasim said "Then it is not (permissible) for anyone after the Prophet ﷺ to say 'Go and kill him, but then you will be like him
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص اپنے ولی کے قاتل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے معاف کر دو ، اس نے انکار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیت لے لو اس نے انکار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اسے قتل کر دو اور تم بھی اسی کی طرح ہو جاؤ ۱؎ چنانچہ اس سے مل کر کہا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جاؤ تم اس کو قتل کر دو تم بھی اس کے مثل ہو جاؤ تو اس نے اسے چھوڑ دیا، قاتل کو اپنے گھر والوں کی طرف اپنا پٹا گھسیٹتے ہوئے جاتے دیکھا گیا، گویا کہ مقتول کے وارث نے اسے باندھ رکھا تھا ۱؎۔ ابوعمیر اپنی حدیث میں کہتے ہیں: ابن شوذب نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے یہ قول نقل کیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کے لئے «اقتله فإنك مثله» کہنا درست نہیں۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: یہ اہل رملہ کی حدیث ہے، ان کے علاوہ کسی اور نے یہ روایت نہیں کی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ لَهِيعَةَ بْنِ عُقْبَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْوَرْدِ، صَاحِبَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ إِيَّاكُمْ وَالسَّرِيَّةَ الَّتِي إِنْ لَقِيَتْ فَرَّتْ وَإِنْ غَنِمَتْ غَلَّتْ ‏.‏
It was narrated that Lahi’ah bin ‘Uqbah said:“I heard Abul-Ward, the Companion of the Messenger of Allah (ﷺ), say: ‘Beware of the troop which, when it meets (the enemy) it flees, and when it takes spoils of war, it steals from it.’”
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابوالورد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس فوجی دستے میں شرکت سے بچو جس کی دشمن سے مڈبھیڑ ہو تو وہ بھاگ کھڑا ہو، اور اگر مال غنیمت حاصل ہو تو اس میں خیانت کرے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمُطَّلِبِ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِذَا فَرَغَ مِنْ سَبْعِهِ جَاءَ حَتَّى يُحَاذِيَ بِالرُّكْنِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فى حَاشِيَةِ الْمَطَافِ وَلَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الطُّوَّافِ أَحَدٌ ‏.‏ قَالَ ابْنُ مَاجَهْ هَذَا بِمَكَّةَ خَاصَّةً ‏.‏
It was narrated that Muttalib said:“When he finished seven (circuits of Tawaf), I saw the Messenger of Allah (ﷺ) come until he was parallel with the Corner, then he prayed two Rak’ah at the edge of the Mataf (area for Tawaf), and there was nothing between him and the people who were performing Tawaf.”
مطلب بن ابی وداعہ سہمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ اپنے ساتوں پھیروں سے فارغ ہوئے حجر اسود کے بالمقابل آ کر کھڑے ہوئے، پھر مطاف کے کنارے میں دو رکعتیں پڑھیں اور آپ کے اور طواف کرنے والوں کے بیچ میں کوئی آڑ نہ تھی۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: یہ ( بغیر سترہ کے نماز پڑھنا ) مکہ کے ساتھ خاص ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْحَوَارِيِّ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ بَيْتٌ لاَ تَمْرَ فِيهِ جِيَاعٌ أَهْلُهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from ‘Aishah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“A house in which there are no dates, its people will go hungry.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس گھر میں کھجور نہ ہو وہ گھر والے بھوکے ہیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهُ نَهَى عَنْ أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ ‏.‏
It was narrated from Jabir that:The Messenger of Allah forbade urinating into standing water
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي الْخَصِيبِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، وَمِسْعَرٍ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَمَرَهَا أَنْ تَسْتَرْقِيَ مِنَ الْعَيْنِ ‏.‏
It was narrated from ‘Aishah that the Prophet (ﷺ) commanded her to recite Ruqyah to treat the evil eye
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نظر بد لگ جانے پر دم کرنے کا حکم دیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ عُبَيْدَ بْنَ جُرَيْجٍ، سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ قَالَ رَأَيْتُكَ تُصَفِّرُ لِحْيَتَكَ بِالْوَرْسِ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ أَمَّا تَصْفِيرِي لِحْيَتِي فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُصَفِّرُ لِحْيَتَهُ ‏.‏
It was narrated from Sa’eed bin Abu Sa’eed that ‘Ubaid bin Juraij asked Ibn ‘Umar:“I see that you dye your beard yellow with Wars.” Ibn ‘Umar said: “As for my dyeing of my beard yellow with Wars, I saw the Messenger of Allah (ﷺ) dyeing his beard yellow.”
عبید بن جریج سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: میں آپ کو اپنی داڑھی ورس سے زرد ( پیلی ) کرتے دیکھتا ہوں؟، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں اس لیے زرد ( پیلی ) کرتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی داڑھی زرد ( پیلی ) کرتے دیکھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ ابْنَةً لِعُمَرَ، كَانَ يُقَالُ لَهَا عَاصِيَةُ فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ جَمِيلَةَ ‏.‏
It was narrated from Ibn Umar that:"a daughter of 'Umar was Asiyah(disobedient) then the Messenger of Allah(ﷺ) named her 'Jamilah' (beautiful)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کی ایک بیٹی کا نام عاصیہ تھا ( یعنی گنہگار، نافرمان ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بدل کر جمیلہ رکھ دیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ مَوْلَى أَبِي رُهْمٍ، - وَاسْمُهُ عُبَيْدٌ - أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، لَقِيَ امْرَأَةً مُتَطَيِّبَةً تُرِيدُ الْمَسْجِدَ فَقَالَ يَا أَمَةَ الْجَبَّارِ أَيْنَ تُرِيدِينَ قَالَتِ الْمَسْجِدَ قَالَ وَلَهُ تَطَيَّبْتِ قَالَتْ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏ "‏ أَيُّمَا امْرَأَةٍ تَطَيَّبَتْ ثُمَّ خَرَجَتْ إِلَى الْمَسْجِدِ لَمْ تُقْبَلْ لَهَا صَلاَةٌ حَتَّى تَغْتَسِلَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah met a woman who was wearing perfume and heading for the mosque. He said:“O slavewoman of the Compeller, where are you headed?” She said: “To the mosque.” He said: “And have you put on perfume for that?” She said: “Yes.” He said: “I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘Any woman who puts on perfume then goes out to the mosque, no prayer will be accepted from her until she takes a bath.’”
ابورہم کے عبید نامی غلام کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا سامنا ایک ایسی عورت سے ہوا جو خوشبو لگائے مسجد جا رہی تھی، تو انہوں نے کہا: اللہ کی بندی! کہاں جا رہی ہو؟ اس نے جواب دیا: مسجد، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم نے اسی کے لیے خوشبو لگا رکھی ہے؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں، انہوں نے کہا: بیشک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو عورت خوشبو لگا کر مسجد جائے، تو اس کی نماز قبول نہیں ہوتی یہاں تک کہ وہ غسل کر لے ۔
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ دَرَّاجًا، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ مَنْ يَتَوَاضَعْ لِلَّهِ سُبْحَانَهُ دَرَجَةً يَرْفَعْهُ اللَّهُ بِهِ دَرَجَةً وَمَنْ يَتَكَبَّرْ عَلَى اللَّهِ دَرَجَةً يَضَعْهُ اللَّهُ بِهِ دَرَجَةً حَتَّى يَجْعَلَهُ فِي أَسْفَلِ السَّافِلِينَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Sa’eed that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever humbles himself one degree for the sake of Allah, Allah will raise him in status one degree, and whoever behaves arrogantly towards Allah one degree, Allah will lower him in status one degree, until He makes him among the lowest of the low.”
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لیے ایک درجہ تواضع کیا، تو اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند کر دے گا، اور جو اللہ تعالیٰ پر ایک درجہ تکبر اختیار کرے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کو ایک درجہ نیچے کر دے گا، یہاں تک کہ اس کو تمام لوگوں سے نیچے درجہ میں کر دے گا ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سِنَانٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ خَالِدٍ الْحِمْصِيِّ، عَنِ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ، قَالَ وَقَعَ فِي نَفْسِي شَىْءٌ مِنْ هَذَا الْقَدَرِ خَشِيتُ أَنْ يُفْسِدَ عَلَىَّ دِينِي وَأَمْرِي فَأَتَيْتُ أُبَىَّ بْنَ كَعْبٍ فَقَلْتُ أَبَا الْمُنْذِرِ إِنَّهُ قَدْ وَقَعَ فِي قَلْبِي شَىْءٌ مِنْ هَذَا الْقَدَرِ فَخَشِيتُ عَلَى دِينِي وَأَمْرِي فَحَدِّثْنِي مِنْ ذَلِكَ بِشَىْءٍ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَنْفَعَنِي بِهِ ‏.‏ فَقَالَ لَوْ أَنَّ اللَّهَ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَوَاتِهِ وَأَهْلَ أَرْضِهِ لَعَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ لَهُمْ وَلَوْ رَحِمَهُمْ لَكَانَتْ رَحْمَتُهُ خَيْرًا لَهُمْ مِنْ أَعْمَالِهِمْ ‏.‏ وَلَوْ كَانَ لَكَ مِثْلُ جَبَلِ أُحُدٍ ذَهَبًا أَوْ مِثْلُ جَبَلِ أُحُدٍ تُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا قُبِلَ مِنْكَ حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ ‏.‏ فَتَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ وَأَنَّ مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ ‏.‏ وَأَنَّكَ إِنْ مُتَّ عَلَى غَيْرِ هَذَا دَخَلْتَ النَّارَ وَلاَ عَلَيْكَ أَنْ تَأْتِيَ أَخِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَتَسْأَلَهُ ‏.‏ فَأَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ فَسَأَلْتُهُ فَذَكَرَ مِثْلَ مَا قَالَ أُبَىٌّ وَقَالَ لِي وَلاَ عَلَيْكَ أَنْ تَأْتِيَ حُذَيْفَةَ ‏.‏ فَأَتَيْتُ حُذَيْفَةَ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالاَ وَقَالَ ائْتِ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَاسْأَلْهُ ‏.‏ فَأَتَيْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏ "‏ لَوْ أَنَّ اللَّهَ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَوَاتِهِ وَأَهْلَ أَرْضِهِ لَعَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ لَهُمْ وَلَوْ رَحِمَهُمْ لَكَانَتْ رَحْمَتُهُ خَيْرًا لَهُمْ مِنْ أَعْمَالِهِمْ وَلَوْ كَانَ لَكَ مِثْلُ أُحُدٍ ذَهَبًا أَوْ مِثْلُ جَبَلِ أُحُدٍ ذَهَبًا تُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا قَبِلَهُ مِنْكَ حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ كُلِّهِ فَتَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ وَمَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ وَأَنَّكَ إِنْ مُتَّ عَلَى غَيْرِ هَذَا دَخَلْتَ النَّارَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Ibn Dailami said:"I was confused about this Divine Decree (Qadar), and I was afraid lest that adversely affect my religion and my affairs. So I went to Ubayy bin Ka'b and said: 'O Abu Mundhir! I am confused about the Divine Decree, and I fear for my religion and my affairs, so tell me something about that through which Allah may benefit me.' He said: 'If Allah were to punish the inhabitants of His heavens and of his earth, He would do so and He would not be unjust towards them. And if He were to have mercy on them, His mercy would be better for them than their own deeds. If you had the equivalent of Mount Uhud which you spent in the cause of Allah, that would not be accepted from you until you believed in the Divine Decree and you know that whatever has befallen you, could not have passed you by; and whatever has passed you by, could not have befallen you; and that if you were to die believing anything other than this, you would enter Hell. And it will not harm you to go to my brother, 'Abdullah bin Mas'ud, and ask him (about this).' So I went to 'Abdullah and asked him , and he said something similar to what Ubayy had said, and he told me: 'It will not harm you to go to Hudhaifah.' So I went to Hudhaifah and asked him, and he said something similar to what they had said. And he told me: 'Go to Zaid bin Thabit and ask him.' So I went to Zaid bun Thabit and asked him, and he said: 'I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "If Allah were to punish the inhabitants of His heavens and of His earth, he would do so and He would not be unjust towards them. And if He were to have mercy on them, His mercy would be better for them than their own deeds. If you had the equivalent of Mount Uhud which you spent in the cause of Allah, that would not be accepted from you until you believed in the Divine Decree and you know that whatever has befallen you, could not have passed you by; and whatever has passed you by, could not have befallen you; and that if you were to die believing anything other than this, you would enter Hell
عبداللہ بن فیروز دیلمی کہتے ہیں کہ میرے دل میں اس تقدیر کے سلسلے میں کچھ شبہات پیدا ہوئے، اور مجھے ڈر لاحق ہوا کہ کہیں یہ شبہات میرے دین اور میرے معاملے کو خراب نہ کر دیں، چنانچہ میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور عرض کیا: ابوالمنذر! میرے دل میں اس تقدیر کے سلسلے میں کچھ شبہات وارد ہوئے ہیں، مجھے ڈر ہے کہ کہیں میرا دین اور میرا معاملہ خراب نہ ہو جائے، لہٰذا آپ اس سلسلہ میں مجھ سے کچھ بیان کریں تاکہ اللہ تعالیٰ مجھے اس سے کچھ فائدہ پہنچائے، انہوں نے کہا: اگر اللہ تعالیٰ تمام آسمان و زمین والوں کو عذاب دینا چاہے تو انہیں عذاب دے سکتا ہے، اور وہ ظالم نہیں ہو گا، اور اگر ان پر رحم کرے تو اس کی رحمت ان کے حق میں ان کے اعمال سے زیادہ بہتر ہے، اور اگر تمہارے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو ( یا کہا: احد پہاڑ کے برابر مال ہو ) اور تم اسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دو، تو یہ اس وقت تک قبول نہیں ہو گا جب تک کہ تم تقدیر پہ ایمان نہ لاؤ، تم یہ یقین رکھو کہ جو ( خیر و شر ) تمہیں پہنچا وہ تم سے چوکنے والا نہ تھا، اور جو تمہیں نہیں پہنچا وہ تمہیں پہنچنے والا نہیں تھا ۱؎، اور اگر تم اس اعتقاد کے علاوہ پر مرے تو جہنم میں داخل ہو گے، اور کوئی حرج نہیں کہ تم میرے بھائی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو، عبداللہ بن فیروز دیلمی کہتے ہیں: میں عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور ان سے پوچھا، تو انہوں نے بھی وہی بتایا جو ابی رضی اللہ عنہ نے بتایا تھا، اور مجھ سے کہا: کوئی مضائقہ نہیں کہ تم حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ۔ چنانچہ میں حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے بھی وہی بتایا جو ان دونوں ( ابی بن کعب اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) نے بتایا تھا، اور انہوں نے کہا: تم زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور ان سے بھی پوچھ لو۔ چنانچہ میں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور ان سے بھی پوچھا، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: اگر اللہ تعالیٰ تمام آسمان و زمین والوں کو عذاب دینا چاہے تو انہیں عذاب دے سکتا ہے، اور وہ ظالم نہیں ہو گا، اور اگر ان پر رحم کرے تو اس کی رحمت ان کے حق میں ان کے اعمال سے بہتر ہے، اور اگر تمہارے پاس احد کے برابر سونا یا احد پہاڑ کے برابر سونا ہو، اور تم اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرو تو وہ اس وقت تک تمہاری جانب سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل قبول نہ ہو گا جب تک کہ تم پوری تقدیر پہ کلی طور پر ایمان نہ لاؤ، اور تم یہ یقین رکھو کہ جو ( خیر و شر ) تمہیں پہنچا ہے تم سے چوکنے والا نہ تھا، اور جو تم سے چوک گیا وہ تمہیں پہنچنے والا نہیں تھا، اور اگر تم اس عقیدہ کے علاوہ پر مرے تو جہنم میں داخل ہو گے ۲؎۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى السُّدِّيُّ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي عُمَرَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ، يَقُولُ ذُكِرَتِ الْجُدُودُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَهُوَ فِي الصَّلاَةِ فَقَالَ رَجُلٌ جَدُّ فُلاَنٍ فِي الْخَيْلِ ‏.‏ وَقَالَ آخَرُ جَدُّ فُلاَنٍ فِي الإِبِلِ ‏.‏ وَقَالَ آخَرُ جَدُّ فُلاَنٍ فِي الْغَنَمِ ‏.‏ وَقَالَ آخَرُ جَدُّ فُلاَنٍ فِي الرَّقِيقِ ‏.‏ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ صَلاَتَهُ وَرَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ آخِرِ الرَّكْعَةِ قَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَىْءٍ بَعْدُ اللَّهُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلاَ مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلاَ يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ ‏"‏ ‏.‏ وَطَوَّلَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ صَوْتَهُ بِالْجَدِّ لِيَعْلَمُوا أَنَّهُ لَيْسَ كَمَا يَقُولُونَ ‏.‏
It was narrated that Abu ‘Umar said:“I heard Abu Juhaifah say: Good fortune was mentioned in the presence of the Messenger of Allah (ﷺ) while he was performing prayer. A man said: ‘so-and-so’s fortune is in horses.’ Another man said: ‘So-and-so’s fortune is in camels.’ Another man said: ‘So-and-so’s fortune is in sheep.’ Another man said: ‘So- and-so’s fortune is in slaves.’ While the Messenger of Allah (ﷺ) was finishing his prayer, he raised his head at the end of the last Rak’ah and said: ‘Allahumma Rabbana lakal-hamd mil’ as-samawati wa mil’ al- ard wa mil’ ma shi’ta min shai’in ba’du. Allahumma la mani’ lima a’taita wa la mu’ti lima mana’ta, wa la yanfa’u dhal-jaddi minkal-jadd (Allah hears those who praise Him. O Allah! O our Lord! To You is the praise as much as fills the heavens, as much as fills the earth and as much as You will after that. O Allah, there is none who can withhold what You give, and none who can give what You withhold, and the good fortune of any fortunate person is to no avail against You).’ The Messenger of Allah (ﷺ) elongated the word Jadd (fortune) so that they would know that it was not as they had said.”
ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مال و دولت کا ذکر چھیڑا، آپ نماز میں تھے، ایک شخص نے کہا: فلاں کے پاس گھوڑوں کی دولت ہے، دوسرے نے کہا: فلاں کے پاس اونٹوں کی دولت ہے، تیسرے نے کہا: فلاں کے پاس بکریوں کی دولت ہے، چوتھے نے کہا: فلاں کے پاس غلاموں کی دولت ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز سے فارغ ہوئے اور آخری رکعت کے رکوع سے اپنا سر اٹھایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:«اللهم ربنا ولك الحمد ملئ السموات وملئ الأرض وملئ ما شئت من شيئ بعد اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» اے اللہ! اے ہمارے رب! تیرے لیے تعریف ہے، آسمانوں بھر، زمین بھر اور اس کے بعد اس چیز بھر جو تو چاہے، اے اللہ! نہیں روکنے والا کوئی اس چیز کو جو تو دے، اور نہیں دینے والا ہے کوئی اس چیز کو جسے تو روک لے، اور مالداروں کو ان کی مالداری تیرے مقابلہ میں نفع نہیں دے گی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «جَدّ» کہنے میں اپنی آواز کو کھینچا تاکہ لوگ جان لیں کہ بات ایسی نہیں جیسی وہ کہہ رہے ہیں۔