حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا اسْتَهَلَّ الصَّبِيُّ صُلِّيَ عَلَيْهِ وَوُرِثَ " .
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“If a child utters a sound (after being born), the funeral prayer should be offered for him and (his relatives) may inherit from him.”
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بچہ ( پیدائش کے وقت ) روئے تو اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی، اور وہ وارث بھی ہو گا ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا غَيْلاَنُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمَيْنِ وَيُفْطِرُ يَوْمًا؟ قَالَ: " وَيُطِيقُ ذَلِكَ أَحَدٌ " . قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا؟ قَالَ: " ذَلِكَ صَوْمُ دَاوُدَ " . قَالَ: كَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمَيْنِ؟ قَالَ: " وَدِدْتُ أَنِّي طُوِّقْتُ ذَلِكَ " .
It was narrated that Abu Qatadah said:“Umar bin Khattab said: ‘O Messenger of Allah! What about a person who fasts two days and does not fast one day?’ He said: ‘Is anyone able to do that?’ He said: ‘O Messenger of Allah! What about a person who fasts one day and not the next?’ He said: ‘That is the fast of Dawud.’ He said: ‘What about a man who fasts one day and does not fast the next two days?’ He said: ‘I wish that I were given the ability to do that.’”
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! جو شخص دو دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے وہ کیسا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھلا ایسا کرنے کی کسی میں طاقت ہے؟ انہوں نے کہا: وہ شخص کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے، پھر انہوں نے کہا: وہ شخص کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھے اور دو دن افطار کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری تمنا ہے کہ مجھے اس کی طاقت ہوتی ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَأَبُو أُسَامَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَوْرَاتُنَا مَا نَأْتِي مِنْهَا وَمَا نَذَرُ قَالَ " احْفَظْ عَوْرَتَكَ إِلاَّ مِنْ زَوْجَتِكَ أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ " . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ قَالَ " إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لاَ تُرِيَهَا أَحَدًا فَلاَ تُرِيَنَّهَا " . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنْ كَانَ أَحَدُنَا خَالِيًا قَالَ " فَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ يُسْتَحْيَى مِنْهُ مِنَ النَّاسِ " .
Bahz bin Hakim narrated from his father that his grandfather said:“I said: 'O Messenger of Allah, with regard to our 'Awrah, what may we uncover of it and what must we conceal?' He said: 'Cover your 'Awrah, except from your wife and those whom your right hand possesses.' I said: 'O Messenger of Allah, what if the people live close together?' He said: 'If you can make sure that no one sees it, then do not let anyone see it.' I said: 'O Messenger of Allah, what if one of us is alone?' He said: 'Allah is more deserving that you should feel shy before Him than People.' ”
معاویہ بن حیدۃ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم اپنی شرمگاہیں کس قدر کھول سکتے ہیں اور کس قدر چھپانا ضروری ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیوی یا لونڈی کے علاوہ ہمیشہ اپنی شرمگاہ چھپائے رکھو ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر لوگ ملے جلے رہتے ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ایسا کر سکو کہ تمہاری شرمگاہ کوئی نہ دیکھے تو ایسا ہی کرو ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر ہم میں سے کوئی اکیلا ہو؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں سے اللہ زیادہ لائق ہے کہ اس سے شرم کی جائے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهُ قَالَ " مَنْ بَاعَ نَخْلاً وَبَاعَ عَبْدًا جَمَعَهُمَا جَمِيعًا " .
It was narrated from Nafi' from Ibn 'Umar that the Prophet (ﷺ) said:"Whoever sells a palm tree and sells a slave." Mentioning both of them together
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی کھجور کا درخت بیچے، اور کوئی غلام بیچے تو وہ ان دونوں کو اکٹھا بیچ سکتا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنُ أَخِي الْحُسَيْنِ الْجُعْفِيِّ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مَنَازِلَ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ وَأُصَفِّيَ مَالَهُ .
It was narrated from Mu'awiyah bin Qurrah that his father said:“The Messenger of Allah (ﷺ) sent me to a man who had married his father's wife after he died, to strike his neck (execute him) and confiscate his wealth.”
قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایسے شخص کے پاس بھیجا جس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کر لی تھی، تاکہ میں اس کی گردن اڑا دوں اور اس کا سارا مال لے لوں ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَتَلَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَدَفَعَهُ إِلَى وَلِيِّ الْمَقْتُولِ فَقَالَ الْقَاتِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ قَتْلَهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِلْوَلِيِّ " أَمَا إِنَّهُ إِنْ كَانَ صَادِقًا ثُمَّ قَتَلْتَهُ دَخَلْتَ النَّارَ " . قَالَ فَخَلَّى سَبِيلَهُ . قَالَ وَكَانَ مَكْتُوفًا بِنِسْعَةٍ فَخَرَجَ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ فَسُمِّيَ ذَا النِّسْعَةِ .
It was narrated that Abu Hurairah said:“A man killed (another) during the time of the Messenger of Allah (ﷺ) and was referred to the Prophet (ﷺ). He handed him over to the victim's next of kin, but the killer said: 'O Messenger of Allah (ﷺ), by Allah I did not mean to kill him.' The Messenger of Allah (ﷺ) said to the next of kin, 'If he is telling the truth and you kill him, you will go to Hell.' So he let him go. He had been tied with a rope, and he went out dragging his rope, so he became known as Dhan-Nis'ah (the one with the rope)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قتل کر دیا تو اس کا مقدمہ آآپ کے پاس لایا گیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قاتل کو مقتول کے ولی کے حوالے کر دیا، قاتل نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم، میرا اس کو قتل کرنے کا قطعاً ارادہ نہیں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولی سے کہا: اگر یہ اپنی بات میں سچا ہے، اور تم نے اس کو قتل کر دیا تو تم جہنم میں جاؤ گے تو مقتول کے ولی نے اس کو چھوڑ دیا، قاتل پٹے سے بندھا ہوا تھا، وہ پٹا گھسیٹتا ہوا نکلا، اور اس کا نام ہی پٹے والا پڑ گیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ أَصْحَابَ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانُوا يَوْمَ بَدْرٍ ثَلاَثَمِائَةٍ وَبِضْعَةَ عَشَرَ عَلَى عِدَّةِ أَصْحَابِ طَالُوتَ مَنْ جَازَ مَعَهُ النَّهَرَ وَمَا جَازَ مَعَهُ إِلاَّ مُؤْمِنٌ .
It was narrated that Bara’ bin ‘Azib said:“We were talking about how, on the Day of Badr, the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ) numbered three hundred ten and something, the same number as the Companions of (Talut) who crossed the river with him, and no one crossed the river with him but a believer.”
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم برابر گفتگو کرتے رہتے تھے کہ غزوہ بدر میں صحابہ کی تعداد تین سو دس سے کچھ اوپر تھی، اور یہی تعداد طالوت کے ان ساتھیوں کی بھی تھی جنہوں نے ان کے ساتھ نہر پار کی ( یاد رہے کہ ) ان کے ساتھ صرف اسی شخص نے نہر پار کی تھی جو ایمان والا تھا۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ أَبِي سَوِيَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ هِشَامٍ، يَسْأَلُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ عَنِ الرُّكْنِ الْيَمَانِيِّ، وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ فَقَالَ عَطَاءٌ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " وُكِلَ بِهِ سَبْعُونَ مَلَكًا فَمَنْ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ - قَالُوا آمِينَ " . فَلَمَّا بَلَغَ الرُّكْنَ الأَسْوَدَ قَالَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ مَا بَلَغَكَ فِي هَذَا الرُّكْنِ الأَسْوَدِ فَقَالَ عَطَاءٌ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " مَنْ فَاوَضَهُ فَإِنَّمَا يُفَاوِضُ يَدَ الرَّحْمَنِ " . قَالَ لَهُ ابْنُ هِشَامٍ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ فَالطَّوَافُ قَالَ عَطَاءٌ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا وَلاَ يَتَكَلَّمُ إِلاَّ بِسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلاَ حَوْلَ وَلاَقُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ مُحِيَتْ عَنْهُ عَشْرُ سِيِّئَاتٍ وَكُتِبَتْ لَهُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ وَرُفِعَ لَهُ بِهَا عَشْرُ دَرَجَاتٍ وَمَنْ طَافَ فَتَكَلَّمَ وَهُوَ فِي تِلْكَ الْحَالِ خَاضَ فِي الرَّحْمَةِ بِرِجْلَيْهِ كَخَائِضِ الْمَاءِ بِرِجْلَيْهِ " .
Humaid bin Abu Sawiyyah said:I heard Ibn Hisham asking ‘Ata’ bin Abu Rabah about the Yemenite Corner, when he was performing Tawaf around the House. ‘Ata’ said: Abu Hurairah told me that the Prophet (ﷺ) said: “Seventy angels have been appointed over it. Whoever says: Allahumma inni as’alukal-‘afwa wal-‘afiyah fid-dunya wal-akhirah; Rabbana atina fid-dunya hasanah, wa fil-akhirati hasanah, wa qina ‘adhaban-Nar (O Allah, I ask You for pardon and well-being in this world and in the Hereafter. Our Lord, give us good in this world and good in the Hereafter and protect us from the torment of the Fire), they say: Amin.” When he reached the Black Corner (where the Black Stone is), he said: O Abu Muhammad! What have you heard about this Black Corner? ‘Ata’ said: Abu Hurairah told me that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: “Whoever faces it is facing the Hand of the Most Merciful.’” Ibn Hisham said to him: O Abu Muhammad, what about Tawaf? ‘Ata’ said: Abu Hurairah told me that he heard the Prophet (ﷺ) say: “Whoever performs Tawaf around the House seven times and does not say anything except: Subhan Allah wal-hamdu lillah, wa la ilaha illallah wa Allahu Akbar, wa la hawla wa la quwwata illa billah (Glory is to Allah, praise is to Allah, none has the right to be worshipping but Allah, and there is no power nor strength except with Allah), ten bad deeds will be erased from him, ten merits will be recorded for him, and he will be raised ten degrees in status. Whoever performs Tawaf and talks when he is in that situation, is wading in mercy like one who wades in water.”
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَعَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي هِلاَلٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَأْكُلُ الرُّطَبَ بِالْبِطِّيخِ .
It was narrated that Sahl bin Sa’d said:“The Messenger of Allah (ﷺ) used to eat dates with melon.”
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تر کھجور تربوز کے ساتھ ملا کر کھایا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، أَنْبَأَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " لاَ يَتَنَاجَى اثْنَانِ عَلَى غَائِطِهِمَا يَنْظُرُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا إِلَى عَوْرَةِ صَاحِبِهِ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَمْقُتُ عَلَى ذَلِكَ " . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَرَّاقُ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ هِلاَلٍ، . قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى هُوَ الصَّوَابُ . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، نَحْوَهُ .
It was narrated from Abu Sa`eed al-Khudri that:The Messenger of Allah said: "No two people should converse while relieving themselves, each of them looking at the private parts of the other, for Allah, the Mighty and Sublime, hates that." (Da'if) Other chains with similar wording
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قضائے حاجت کے وقت دو آدمی آپس میں کانا پھوسی نہ کریں کہ آپس میں ہر ایک دوسرے کی شرمگاہ دیکھ رہا ہو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اس سے سخت ناراض ہوتا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبَّادٍ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَيْنِ الْجَانِّ وَأَعْيُنِ الإِنْسِ فَلَمَّا نَزَلَتِ الْمُعَوِّذَتَانِ أَخَذَهُمَا وَتَرَكَ مَا سِوَى ذَلِكَ .
It was narrated that Abu Sa’eed said:“The Messenger of Allah (ﷺ) used to seek refuge from the evil eye of the jinn and of mankind. When the Mu’awwidhatain* were revealed, he started to recite them and stopped reciting anything else.”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنوں کی نظر بد سے، پھر آدمیوں کی نظر بد سے پناہ مانگتے تھے، پھر جب معوذتین ( سورۃ الفلق اور سورۃ الناس ) نازل ہوئیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پڑھنا شروع کیا، اور باقی تمام چیزیں چھوڑ دیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الصَّيْرَفِيُّ، مُحَمَّدُ بْنُ فِرَاسٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بْنِ زَكَرِيَّا الرَّاسِبِيُّ، حَدَّثَنَا دَفَّاعُ بْنُ دَغْفَلٍ السَّدُوسِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، صُهَيْبِ الْخَيْرِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ أَحْسَنَ مَا اخْتَضَبْتُمْ بِهِ لَهَذَا السَّوَادُ أَرْغَبُ لِنِسَائِكُمْ فِيكُمْ وَأَهْيَبُ لَكُمْ فِي صُدُورِ عَدُوِّكُمْ " .
It was narrated that Suhaib Al-Khair said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The best thing with which you can dye your hair is this black (dye). It makes your women desire you and creates fear in the hearts of your enemies.’”
صہیب الخیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو خضاب تم لگاتے ہو ان میں بہترین کالا خضاب ہے، اس سے عورتیں تمہاری طرف زیادہ راغب ہوتی ہیں، اور تمہارے دشمنوں کے دلوں میں تمہاری ہیبت زیادہ بیٹھتی ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا رَافِعٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ زَيْنَبَ، كَانَ اسْمُهَا بَرَّةَ فَقِيلَ لَهَا تُزَكِّي نَفْسَهَا فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ زَيْنَبَ .
It was narrated from Abu Hurairah that:"Zainab used to be called "Barrah" (good), and it was said that she was praising herself. So the Messenger of Allah(ﷺ) changed her name to Zainab
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں زینب کا نام بّرہ تھا ( یعنی نیک بخت اور صالحہ ) لوگوں نے اعتراض کیا کہ یہ اپنی تعریف آپ کرتی ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بدل کر زینب رکھ دیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ إِذْ دَخَلَتِ امْرَأَةٌ مِنْ مُزَيْنَةَ تَرْفُلُ فِي زِينَةٍ لَهَا فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ انْهَوْا نِسَاءَكُمْ عَنْ لُبْسِ الزِّينَةِ وَالتَّبَخْتُرِ فِي الْمَسْجِدِ فَإِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَمْ يُلْعَنُوا حَتَّى لَبِسَ نِسَاؤُهُمُ الزِّينَةَ وَتَبَخْتَرْنَ فِي الْمَسَاجِدِ " .
It was narrated that ‘Aishah said:“While the Messenger of Allah (ﷺ) was sitting in the mosque, a woman from Muzainah (tribe) entered, trailing her garment in the mosque. The Prophet (ﷺ) said: ‘O people, tell your women not to wear their adornments and show pride in the mosque, for the Children of Israel were not cursed until their women wore adornments and walked proudly in their places of worship.’”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں قبیلہ مزینہ کی ایک عورت مسجد میں بنی ٹھنی اتراتی ہوئی داخل ہوئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! اپنی عورتوں کو زیب و زینت کا لباس پہن کر اور ناز و ادا کے ساتھ مسجد میں آنے سے منع کرو، کیونکہ بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کی لعنت اس وقت آئی تھی جبکہ ان کی عورتوں نے لباس فاخرہ پہننے شروع کئے، اور مسجدوں میں ناز و ادا کے ساتھ داخل ہونے لگیں ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، وَهَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " يَقُولُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ الْكِبْرِيَاءُ رِدَائِي وَالْعَظَمَةُ إِزَارِي فَمَنْ نَازَعَنِي وَاحِدًا مِنْهُمَا أَلْقَيْتُهُ فِي النَّارِ " .
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Allah the Glorified, says: ‘Pride is My cloak and greatness My robe, and whoever competes with Me with regard to either of them, I shall throw him into Hell.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بڑائی میری چادر ہے، اور عظمت میرا تہہ بند ہے، جو ان دونوں میں سے ایک کے لیے بھی مجھ سے جھگڑا کرے گا، میں اس کو آگ میں ڈال دوں گا ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ قَالَ " يُجْمَعُ خَلْقُ أَحَدِكُمْ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ إِلَيْهِ الْمَلَكَ فَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ فَيَقُولُ اكْتُبْ عَمَلَهُ وَأَجَلَهُ وَرِزْقَهُ وَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ . فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلاَّ ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلُهَا وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلاَّ ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَدْخُلُهَا " .
Abdullah bin Mas'ud said:"The Messenger of Allah (ﷺ), the true and truly inspired one, told us that: 'The creation of one of you is put together in his mother's womb for forty days, then it becomes a clot for a similar length of time, then it becomes a chewed lump of flesh for a similar length of time. Then Allah sends the angel to him and commands him to write down four things. He says: "Write down his deeds, his life span, his provision, and whether he is doomed (destined for Hell) or blessed (destined for Paradise)." By the One in Whose Hand is my soul! One of you may do the deeds of the people of Paradise until there is no more than a forearm's length between him and it, then the decree overtakes him and he does the deeds of the people of Hell until there is no more than a forearm's length between him and it, then the decree overtakes him and he does the deeds of the people of Paradise until he enters therein
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو صادق و مصدوق ( یعنی جو خود سچے ہیں اور سچے مانے گئے ہیں ) نے بیان کیا کہ پیدائش اس طرح ہے کہ تم میں سے ہر ایک کا نطفہ خلقت ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک جمع رکھا جاتا ہے، پھر وہ چالیس دن تک جما ہوا خون رہتا ہے، پھر چالیس دن تک گوشت کا ٹکڑا ہوتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس کے پاس چار باتوں کا حکم دے کر ایک فرشتہ بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس فرشتہ سے کہتا ہے: اس کا عمل، اس کی مدت عمر، اس کا رزق، اور اس کا بدبخت یا نیک بخت ہونا لکھو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں سے کوئی جنت والوں کا عمل کر رہا ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ اس پر اس کا مقدر غالب آ جاتا ہے ( یعنی لکھی ہوئی تقدیر غالب آ جاتی ہے ) ، اور وہ جہنم والوں کا عمل کر بیٹھتا ہے، اور اس میں داخل ہو جاتا ہے، اور تم میں سے کوئی جہنم والوں کا عمل کر رہا ہوتا ہے، یہاں تک کہ اس کے اور جہنم کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، کہ اس پر لکھی ہوئی تقدیر غالب آ جاتی ہے، اور وہ جنت والوں کا عمل کرنے لگتا ہے، اور جنت میں داخل ہو جاتا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَالَ " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَىْءٍ بَعْدُ " .
It was narrated that Ibn Abu Awfa said:“When the Messenger of Allah (ﷺ) raised his head from Ruku’, he said: ‘Sami’ Allahu liman hamidah, Allahumma, Rabbana lakal-hamd, mil’ as-samawati wa mil’ al- ard wa mil’ ma shi’ta min shay’in ba’d (Allah hears those who praise Him. O Allah! O our Lord, to You is the praise as much as fills the heavens, as much as fills the earth and as much as You will after that).’”
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو فرماتے: «سمع الله لمن حمده اللهم ربنا لك الحمد ملء السموات وملء الأرض وملء ما شئت من شيء بعد»، اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی، اے اللہ! اے ہمارے رب! تیرے لیے آسمانوں اور زمین بھر کر حمد ہے، اور اس کے بعد اس چیز بھر کر جو تو چاہے ۔