بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Ibn Majah
6
17 hadith
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ، حَدَّثَنِي عَمِّي، زِيَادُ بْنُ جُبَيْرٍ حَدَّثَنِي أَبِي جُبَيْرُ بْنُ حَيَّةَ، أَنَّهُ سَمِعَ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏ "‏ الطِّفْلُ يُصَلَّى عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Jubair bin Hayyah narrated that he heard Mughirah bin Shu’bah say:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘The (funeral) prayer should be offered for a child.’”
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بچہ کی بھی نماز جنازہ پڑھی جائے گی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّافِعِيُّ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ. كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا. وَأَحَبُّ الصَّلاَةِ إِلَى اللَّهِ صَلاَةُ دَاوُدَ. كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ وَيُصَلِّي ثُلُثَهُ وَيَنَامُ سُدُسَهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Amr that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The most beloved fast to Allah is the fast of Dawud, for he used to fast one day and not the next. And the most beloved of prayer to Allah is the prayer of Dawud; he used to sleep half of the night, pray one-third of the night and sleep one-sixth of the night.”
عمرو بن اوس کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک روزوں میں سب سے زیادہ پسندیدہ روزہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے، وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن نہیں رکھتے تھے، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نماز داود علیہ السلام کی نماز ہے، آپ آدھی رات سوتے تھے، پھر تہائی رات تک نماز پڑھتے تھے، پھر رات کے چھٹے حصہ میں سو رہتے ۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا أَتَى امْرَأَتَهُ قَالَ اللَّهُمَّ جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنِي ثُمَّ كَانَ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ لَمْ يُسَلِّطِ اللَّهُ عَلَيْهِ الشَّيْطَانَ - أَوْ لَمْ يَضُرَّهُ - ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn `Abbas:that the Prophet said: “When anyone of you has intercourse with his wife, let him say: Allahumma jannibnish-Shaitana wa jannibish-Shaitana ma razaqtani (O Allah, keep Satan away from me and keep Satan away from that with which You bless me).' Then if they have a child, Allah will never allow Satan to gain control over him or he will never harm him.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس آئے تو یہ دعا پڑھے «اللهم جنبني الشيطان وجنب الشيطان ما رزقتني» اے اللہ! تو مجھے شیطان سے بچا، اور اس مباشرت سے جو اولاد ہو اس کو شیطان کے شر سے محفوظ رکھ پھر اس ملاپ سے بچہ ہونا قرار پا جائے تو اللہ تعالیٰ اس بچے پر شیطان کا زور نہ چلنے دے گا، یا شیطان اسے نقصان نہ پہنچ اس کے گا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ مَنْ بَاعَ نَخْلاً قَدْ أُبِّرَتْ فَثَمَرَتُهَا لِلَّذِي بَاعَهَا إِلاَّ أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ وَمَنِ ابْتَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلَّذِي بَاعَهُ إِلاَّ أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Salim bin 'Abdullah, bin 'Umar, from Ibn 'Umar, that :the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever sells a palm tree that has been pollinated, its fruits belong to the seller, unless the purchaser stipulated a condition. And whoever buys a slave who has wealth, his wealth belongs to the seller, unless the purchaser stipulated a condition
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص تابیر ( قلم ) کئے ہوئے کھجور کا درخت بیچے تو اس میں لگنے والا پھل بیچنے والے کا ہو گا، سوائے اس کے کہ خریدنے والا خود لینے کی شرط طے کر لے، اور جو شخص کوئی غلام بیچے اور اس غلام کے پاس مال ہو تو وہ مال اس کا ہو گا، جس نے اس کو بیچا ہے سوائے اس کے کہ خریدنے والا شرط طے کر لے کہ اسے میں لوں گا،، ۱؎۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، ح وَحَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، جَمِيعًا عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ مَرَّ بِي خَالِي - سَمَّاهُ هُشَيْمٌ فِي حَدِيثِهِ الْحَارِثَ بْنَ عَمْرٍو - وَقَدْ عَقَدَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِوَاءً فَقُلْتُ لَهُ أَيْنَ تُرِيدُ فَقَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ مِنْ بَعْدِهِ فَأَمَرَنِي أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ ‏.‏
It was narrated that Bara bin Azib said:“My maternal uncle passed by me - (one of the narrators) Hushaim named him in his narration as Harith bin Amr - and the Prophet (ﷺ) had given him a banner to carry. I said to him: 'Where are you going?’ He said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) has sent me to a man who married his father's wife after he died, and has commanded me to strike his neck (i.e. execute him).”
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے ماموں کا گزر میرے پاس سے ہوا ( راوی حدیث ہشیم نے ان کے ماموں کا نام حارث بن عمرو بتایا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک جھنڈا باندھ دیا تھا، میں نے ان سے پوچھا: کہاں کا قصد ہے؟ انہوں نے عرض کیا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کے پاس روانہ کیا ہے جس نے اپنے باپ کے مرنے کے بعد اس کی بیوی ( یعنی اپنی سوتیلی ماں ) سے شادی کر لی ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا أَبُو لَيْلَى، عَنْ أَبِي عُكَّاشَةَ، عَنْ رِفَاعَةَ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى الْمُخْتَارِ فِي قَصْرِهِ فَقَالَ قَامَ جِبْرَائِيلُ مِنْ عِنْدِي السَّاعَةَ ‏.‏ فَمَا مَنَعَنِي مِنْ ضَرْبِ عُنُقِهِ إِلاَّ حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ إِذَا أَمِنَكَ الرَّجُلُ عَلَى دَمِهِ فَلاَ تَقْتُلْهُ ‏"‏ ‏.‏ فَذَاكَ الَّذِي مَنَعَنِي مِنْهُ ‏.‏
It was narrated that Rifa'ah said:“I entered upon Mukhtar in his palace and he said: 'Jibril has just left me.' Nothing stopped me from striking his neck (i.e, killing him) but a Hadith that I heard from Sulaiman bin Surad, according to which the Prophet (ﷺ) said: 'If a man trusts you with his life, then do not kill him.' That is what stopped me.”
رفاعہ کہتے ہیں کہ میں مختار ثقفی کے پاس اس کے محل میں گیا، تو اس نے کہا: جبرائیل ابھی ابھی میرے پاس سے گئے ہیں ۱؎، اس وقت اس کی گردن اڑا دینے سے صرف اس حدیث نے مجھے باز رکھا جو میں نے سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے سنی تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص تم سے جان کی امان میں ہو تو اسے قتل نہ کرو، تو اسی بات نے مجھے اس کو قتل کرنے سے روکا ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْعَامِلِيُّ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لأَكْثَمَ بْنِ الْجَوْنِ الْخُزَاعِيِّ ‏ "‏ يَا أَكْثَمُ اغْزُ مَعَ غَيْرِ قَوْمِكَ يَحْسُنْ خُلُقُكَ وَتَكْرُمْ عَلَى رُفَقَائِكَ يَا أَكْثَمُ خَيْرُ الرُّفَقَاءِ أَرْبَعَةٌ وَخَيْرُ السَّرَايَا أَرْبَعُمِائَةٍ وَخَيْرُ الْجُيُوشِ أَرْبَعَةُ آلاَفٍ وَلَنْ يُغْلَبَ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا مِنْ قِلَّةٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) said to Aktham bin Al-Jawn Al-Khuza’i:“O Aktham! Fight alongside people other than your own, it will improve your attitude and make you generous to your companions. O Aktham, the best number of companions is four, the best number of troops on an expedition is four hundred, the best number of an army is four thousand, and twelve thousand will never be overpowered because of their small number.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکثم بن جون خزاعی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اکثم! اپنی قوم کے علاوہ دوسرے لوگوں کے ہمراہ جہاد کرو، تمہارے اخلاق اچھے ہو جائیں گے، اور تمہارے ساتھیوں میں تمہاری عزت ہو گی، اکثم! چار ساتھی بہتر ہیں، بہترین دستہ چار سو سپاہیوں کا ہے، اور بہترین لشکر چار ہزار کا ہے، نیز بارہ ہزار کا لشکر کبھی کم تعداد کی وجہ سے مغلوب نہیں ہو گا ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَانَ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Umar said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘Whoever performs Tawaf around the House and prays two Rak’ah, it is as if he freed a slave.’”
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى، قَالاَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَأْكُلُ الْقِثَّاءَ بِالرُّطَبِ ‏.‏
It was narrated ‘Abdullah bin Ja’far said:“I saw the Messenger of Allah (ﷺ) eating cucumbers with dates.”
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تر کھجور کے ساتھ ککڑی کھاتے دیکھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ خُوَيْلِدٍ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ عَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِلَى الشِّعْبِ فَبَالَ حَتَّى أَنِّي آوِي لَهُ مِنْ فَكِّ وَرِكَيْهِ حِينَ بَالَ ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah turned towards a mountain pass and urinated, until I took pity on him because of the way he parted his legs when he urinated
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راستہ چھوڑ کر ایک گھاٹی کی جانب مڑے اور پیشاب کیا، یہاں تک کہ مجھے ترس آتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیروں کو پیشاب کے وقت بہت زیادہ کشادہ کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ الزُّرَقِيِّ، قَالَ قَالَتْ أَسْمَاءُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بَنِي جَعْفَرٍ تُصِيبُهُمُ الْعَيْنُ فَأَسْتَرْقِي لَهُمْ قَالَ ‏ "‏ نَعَمْ فَلَوْ كَانَ شَىْءٌ سَابَقَ الْقَدَرَ سَبَقَتْهُ الْعَيْنُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that ‘Ubaid bin Rifa’ah Az-Zuraqi said:“Asma’ said: ‘O Messenger of Allah! The children of Ja’far have been afflicted by the evil eye, shall I recite Ruqyah* for them?’ He said: ‘Yes, for if anything were to overtake the Divine decree it would be the evil eye.’”
عبید بن رفاعہ زرقی کہتے ہیں کہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ کے رسول! جعفر کے بیٹوں کو نظر بد لگ جاتی ہے، کیا میں ان کے لیے دم کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اگر کوئی چیز لکھی ہوئی تقدیر پر سبقت لے جاتی تو نظر بد لے جاتی ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ جِيءَ بِأَبِي قُحَافَةَ يَوْمَ الْفَتْحِ إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَكَأَنَّ رَأْسَهُ ثَغَامَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ اذْهَبُوا بِهِ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ فَلْتُغَيِّرْهُ وَجَنِّبُوهُ السَّوَادَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Jabir that he said:“Abu Quhaifah was brought to the Prophet (ﷺ) on the Day of the Conquest (of Makkah), and his head was all white. The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Take him to some of his womenfolk and let them change this, but avoid black.’”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، اس وقت ان کے بال سفید گھاس کی طرح تھے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں ان کی کسی عورت کے پاس لے جاؤ کہ وہ انہیں بدل دے ( یعنی خضاب لگا دے ) ، لیکن کالے خضاب سے انہیں بچاؤ ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ، حَدَّثَنَا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ لَقِيتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَالَ مَنْ أَنْتَ فَقُلْتُ مَسْرُوقُ بْنُ الأَجْدَعِ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ سَمِعْ��ُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏ "‏ الأَجْدَعُ شَيْطَانٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Masruq said:"I met 'Umar bin Khattab and he said: 'Who are you?' I said: 'Masruq bin Adja'.' 'Umar said: 'I heard the Messenger of Allah(ﷺ) saying,"Ajda' is a devil
مسروق کہتے ہیں کہ میری ملاقات عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہوئی، تو انہوں نے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے عرض کیا: میں مسروق بن اجدع ہوں، ( یہ سن کر ) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اجدع ایک شیطان ہے ۔
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى اللَّيْثِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَامَ خَطِيبًا فَكَانَ فِيمَا قَالَ ‏ "‏ إِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ وَإِنَّ اللَّهَ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا فَنَاظِرٌ كَيْفَ تَعْمَلُونَ أَلاَ فَاتَّقُوا الدُّنْيَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Sa’eed that the Messenger of Allah (ﷺ) stood up to deliver a sermon and one of the things that he said was:“This world is fresh and sweet, and Allah will make your successive generations therein, so look at what you do and beware of (the temptations of) this world and beware of (the temptations of) women.”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کھڑے ہوئے، تو اس خطبہ میں یہ بھی فرمایا: دنیا ہری بھری اور میٹھی ہے، اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں خلیفہ بنانے والا ہے، تو وہ دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کرتے ہو؟ سنو! تم دنیا سے بھی بچاؤ کرو، اور عورتوں سے بھی ۱؎۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنِ الأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ يَقُولُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ الْكِبْرِيَاءُ رِدَائِي وَالْعَظَمَةُ إِزَارِي مَنْ نَازَعَنِي وَاحِدًا مِنْهُمَا أَلْقَيْتُهُ فِي جَهَنَّمَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Allah, the Glorified, says: ‘Pride is My cloak and greatness My robe, and whoever competes with Me with regard to either of them, I shall throw him into Hell.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: بڑائی ( کبریائی ) میری چادر ہے، اور عظمت میرا تہہ بند، جو ان دونوں میں سے کسی ایک کے لیے بھی مجھ سے جھگڑے، ( یعنی ان میں سے کسی ایک کا بھی دعویٰ کرے ) میں اس کو جہنم میں ڈال دوں گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ الْبُخَارِيُّ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنِ الْحَارِثِ، - أَظُنُّهُ - عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ الإِيمَانُ يَزْدَادُ وَيَنْقُصُ ‏.‏
It was narrated that Abu Darda' said:"Faith increases and decreases
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کہ ایمان بڑھتا اور گھٹتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏ "‏ إِذَا قَالَ الإِمَامُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ‏.‏ فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Sa’eed Al-Khudri that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) say:“When the Imam says: ‘Sami’ Allahu liman hamidah (Allah hears those who praise Him),’ say: ‘Allahumma, Rabbana wa lakal-hamd (O Allah! O our Lord! To You is the praise).’”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب امام «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم «اللهم ربنا ولك الحمد» کہو ۔