بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Ibn Majah
6
18 hadith
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَأَبُو دَاوُدَ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ كَانَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ يُكَبِّرُ عَلَى جَنَائِزِنَا أَرْبَعًا وَأَنَّهُ كَبَّرَ عَلَى جِنَازَةٍ خَمْسًا فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُكَبِّرُهَا ‏.‏
It was narrated that ‘Abdur-Rahman bin Abi Laila said:“Zaid bin Arqan used to say the Takbir four times in the funeral prayer, and he said the Takbir five times for one funeral. I asked him (about that) and he said: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) used to do that.’”
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ہمارے جنازوں میں چار بار اللہ اکبر کہا کرتے تھے، ایک بار انہوں نے ایک جنازہ میں پانچ تکبیرات کہیں، میں نے ان سے وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانچ تکبیرات ۱؎ ( بھی ) کہتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صِيَامِ النَّبِيِّ، ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَتْ: كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ صَامَ ‏.‏ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: قَدْ أَفْطَرَ. وَلَمْ أَرَهُ صَامَ مِنْ شَهْرٍ قَطُّ أَكْثَرَ مِنْ صِيَامِهِ مِنْ شَعْبَانَ. كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ. كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ إِلاَّ قَلِيلاً ‏.‏
It was narrated that Abu Salamah said:“I asked ‘Aishah about the fasting of the Prophet (ﷺ). She said: ‘He used to fast until we thought he would always fast. And he used to not fast until we thought he would always not fast. I never saw him fast more in any month than in Sha’ban. He used to fast all of Sha’ban; he used to fast all of Sha’ban except a little.’”
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے سلسلے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھتے یہاں تک کہ ہم یہ کہتے کہ آپ روزے ہی رکھتے جائیں گے، اور روزے چھوڑ دیتے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھیں گے ہی نہیں، اور میں نے آپ کو شعبان سے زیادہ کسی مہینہ میں روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا، آپ سوائے چند روز کے پورے شعبان روزے رکھتے تھے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ - عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لَمَّا تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلاَثًا وَقَالَ ‏ "‏ لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ سَبَّعْتُ لِنِسَائِي ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Al-Harith from his father that when when the Messenger of Allah (ﷺ) married Umm Salamah, he stayed with her for three days, then he said:“You are not insignificant in your husband's eyes. If you wish, I will stay with you for seven days, but then I will stay with my other wives for seven days too.”
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان سے شادی کی تو ان کے پاس تین دن رہے، اور فرمایا: تم میرے نزدیک کم تر نہیں ہو اگر تم چاہتی ہو میں سات روز تک تمہارے پاس رہ سکتا ہوں، اس صورت میں میں سب عورتوں کے پاس سات سات روز تک رہوں گا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ خَالِهِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَتْ تَحْتِي امْرَأَةٌ وَكُنْتُ أُحِبُّهَا وَكَانَ أَبِي يُبْغِضُهَا فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَأَمَرَنِي أَنْ أُطَلِّقَهَا فَطَلَّقْتُهَا ‏.‏
It was narrated that 'Abdullah bin 'Umar said:"I had a wife whom I loved, but my father hated her. 'Umar mentioned that to the Prophet (ﷺ) and he ordered me to divorce her, so I divorced her
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے نکاح میں ایک عورت تھی میں اس سے محبت کرتا تھا، اور میرے والد اس کو برا جانتے تھے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اسے طلاق دے دوں، چنانچہ میں نے اسے طلاق دے دی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، ح وَحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِيَّاكُمْ وَالْحَلِفَ فِي الْبَيْعِ فَإِنَّهُ يُنَفِّقُ ثُمَّ يَمْحَقُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Qatadah that the Messenger of Allah (ﷺ), said:"Beware of swearing oaths when selling, for it may help you to make a sale but it destroys the blessing
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیع ( خرید و فروخت ) میں قسمیں کھانے سے بچو، کیونکہ اس سے گرم بازاری تو ہو جاتی ہے اور برکت جاتی رہتی ہے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمَدِينِيُّ أَبُو عُبَيْدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ الأَنْصَارِيَّ، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يَجِدُ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً أَيَقْتُلُهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ سَعْدٌ بَلَى وَالَّذِي أَكْرَمَكَ بِالْحَقِّ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اسْمَعُوا مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that Sa'd bin Ubadah Al-Ansari said:“O Messenger of Allah (ﷺ) if a man finds another man with his wife, should he kill him?” The Messenger of Allah (ﷺ) said: “No.” Sa'd said: “Yes he should, by the one who honored you with the Truth!” The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Listen to what your leader says!”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اللہ کے رسول! آدمی اگر اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پائے تو کیا اسے قتل کر دے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کا اعزاز بخشا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! سنو تمہارا سردار کیا کہہ رہا ہے ؟ ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مَعْدِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَنْبَأَنَا ابْنُ عَجْلاَنَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ قَتَلَ مُعَاهِدًا لَهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ سَبْعِينَ عَامًا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:“Whoever kills a Mu'ahid who has the protection of Allah and the protection of his Messenger, will not smell the fragrance of Paradise, even though its fragrance may be detected from a distance of Seventy years.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: جس نے کسی ایسے ذمی کو قتل کر دیا جس کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے پناہ دے رکھی ہو، تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پائے گا، حالانکہ اس کی خوشبو ستر سال کی مسافت سے محسوس کی جاتی ہے ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ وَدَّعَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ أَسْتَوْدِعُكَ اللَّهَ الَّذِي لاَ تَضِيعُ وَدَائِعُهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) gave me a send-off and said: ‘I command you to Allah’s keeping, Whose trust is never lost.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے رخصت کیا تو یہ دعا فرمائی: «أستودعك الله الذي لا تضيع ودائعه» میں تمہیں اللہ کے سپرد کرتا ہوں جس کی امانتیں ضائع نہیں ہوتیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، وَقَبِيصَةُ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنِ ابْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، يَعْلَى أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ طَافَ مُضْطَبِعًا ‏.‏ قَالَ قَبِيصَةُ وَعَلَيْهِ بُرْدٌ ‏.‏
It was narrated from Ibn Ya’la bin Umayyah that his father Ya’la said:“The Prophet (ﷺ) performed Tawaf while doing Idtiba’.”* (In his narration, one of the narrators) Qabisah said: “While wearing a Yemenite cloth.”
یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اضطباع کر کے طواف کیا، قبیصہ کے الفاظ اس طرح ہیں: «وعليه برد» اور آپ کے جسم پر چادر تھی۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُحِبُّ الْحَلْوَاءَ وَالْعَسَلَ ‏.‏
(It was narrated that ‘Aishah said:“The Messenger of Allah 9saw) used to like sweets and honey.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حلوا ( شیرینی ) اور شہد پسند فرماتے تھے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي سَفَرٍ فَأَرَادَ أَنْ يَقْضِيَ حَاجَتَهُ فَقَالَ لِي ‏"‏ ائْتِ تِلْكَ الأَشَاءَتَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ - قَالَ وَكِيعٌ يَعْنِي النَّخْلَ الصِّغَارَ ‏.‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ الْقِصَارَ - ‏"‏ فَقُلْ لَهُمَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَأْمُرُكُمَا أَنْ تَجْتَمِعَا ‏"‏ ‏.‏ فَاجْتَمَعَتَا فَاسْتَتَرَ بِهِمَا فَقَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ قَالَ لِي ‏"‏ ائْتِهِمَا فَقُلْ لَهُمَا لِتَرْجِعْ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا إِلَى مَكَانِهَا ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ لَهُمَا فَرَجَعَتَا ‏.‏
It was narrated from Ya'la bin Murrah that his father said:"I was with the Prophet on a journey, and he wanted to relieve himself. He said to me: 'Go to those two small date-palm trees and tell them: "The Messenger of Allah orders you to come together.'" So they came together and he concealed himself behind them, and relieved himself. Then he said to me: 'Go to them and tell them: "Go back, each one of you, to your places.'" So I said that to them and they went back
مرہ بن وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا، آپ نے قضائے حاجت کا ارادہ کیا اور مجھ سے کہا: تم کھجور کے ان دونوں چھوٹے درختوں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں باہم مل جانے کا حکم دے رہے ہیں ، چنانچہ حکم پاتے ہی وہ دونوں درخت باہم مل گئے ۲؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آڑ میں قضائے حاجت کی اور پھر مجھ سے فرمایا: ان دونوں کے پاس جاؤ اور کہو کہ اپنی اپنی جگہ واپس لوٹ جائیں ۔ مرہ کہتے ہیں: میں نے جا کر ان سے یہ کہا تو وہ دونوں درخت اپنی اپنی جگہ واپس لوٹ گئے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ فَإِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from ‘Aishah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:‘Seek refuge with Allah, for the evil eye is real.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی پناہ طلب کرو، اس لیے کہ نظر بد حق ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الأَجْلَحِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِنَّ أَحْسَنَ مَا غَيَّرْتُمْ بِهِ الشَّيْبَ الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Dharr that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The best things with which you change gray hair are henna and Katam.”
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بالوں کی سفیدی بدلنے کے لیے سب سے بہترین چیز مہندی اور کتم ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ لَئِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لأَنْهَيَنَّ أَنْ يُسَمَّى رَبَاحٌ وَنَجِيحٌ وَأَفْلَحُ وَنَافِعٌ وَيَسَارٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Umar ibn Al-Khattab that the Prophet(ﷺ) said:"If I live- if Allah wills - I will forbid the names Rabah(profit), Najih(saved), Aflah (Successful), Nafi (beneficial) and Yasar(prosperity)
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں زندہ رہا تو ان شاءاللہ «رباح» ( نفع ) ، «نجیح» ( کامیاب ) ، «افلح» ( کامیاب ) ، «نافع» ( فائدہ دینے والا ) اور «یسار» ( آسانی ) ، نام رکھنے سے منع کر دوں گا ۱؎۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلاَلٍ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ مَا أَدَعُ بَعْدِي فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَى الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Usamah bin Zaid that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“I am not leaving behind me any tribulation that is more harmful to men than women.”
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اپنے بعد مردوں کے لیے عورتوں سے زیادہ نقصان دہ اور مضر کوئی فتنہ نہیں پاتا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ مَثَلُ الَّذِي يَجْلِسُ يَسْمَعُ الْحِكْمَةَ ثُمَّ لاَ يُحَدِّثُ عَنْ صَاحِبِهِ إِلاَّ بِشَرِّ مَا يَسْمَعُ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَتَى رَاعِيًا فَقَالَ يَا رَاعِي أَجْزِرْنِي شَاةً مِنْ غَنَمِكَ ‏.‏ قَالَ اذْهَبْ فَخُذْ بِأُذُنِ خَيْرِهَا ‏.‏ فَذَهَبَ فَأَخَذَ بِأُذُنِ كَلْبِ الْغَنَمِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَقَالَ فِيهِ ‏"‏ بِأُذُنِ خَيْرِهَا شَاةً ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The likeness of the one who sits and listen to wisdom then only speaks of the bad things that he had heard, is that of a man who comes to a shepherd and says: “O shepherd, give me one of your sheep to slaughter,” and (the shepherd) says: “Go and grab the ear of the best of them.” Then he goes and grabs the ear of the sheepdog.’” Another chain reports a similar hadith
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی مجلس میں بیٹھ کر حکمت کی باتیں سنے، پھر اپنے ساتھی سے صرف بری بات بیان کرے، تو اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص کسی چرواہے کے پاس جائے، اور کہے: اے چرواہے! مجھے اپنی بکریوں میں سے ایک بکری ذبح کرنے کے لیے دو، چرواہا کہے: جاؤ اور ان میں سب سے اچھی بکری کا کان پکڑ کر لے جاؤ، تو وہ جائے اور بکریوں کی نگرانی کرنے والے کتے کا کان پکڑ کر لے جائے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الرَّازِيُّ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ اللَّيْثِيُّ، حَدَّثَنَا نِزَارُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالاَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ صِنْفَانِ مِنْ أُمَّتِي لَيْسَ لَهُمَا فِي الإِسْلاَمِ نَصِيبٌ أَهْلُ الإِرْجَاءِ وَأَهْلُ الْقَدَرِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Abbas and Jabir bin 'Abdullah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'There are two types among my Ummah who have no share of Islam: the people of Irja' and the people of Qadar
ابن عباس اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم دونوں کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں دو قسم کے لوگ ایسے ہوں گے کہ ان کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں: ایک مرجئہ اور دوسرے قدریہ ( منکرین قدر ) ۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ، مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ وَيَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي، سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ إِذَا قَالَ ‏"‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that when the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Sami’ Allahu liman hamidah (Allah hears those who praise Him),” he said: “Rabbana wa lakal-hamd (O our Lord, to You is the praise).”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب «سمع الله لمن حمده» کہہ لیتے تو «ربنا ولك الحمد» کہتے۔