بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Ibn Majah
6
21 hadith
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِذَا صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ يَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الإِسْلاَمِ وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الإِيمَانِ اللَّهُمَّ لاَ تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ وَلاَ تُضِلَّنَا بَعْدَهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:“When the Messenger of Allah (ﷺ) offered the funeral prayer he would say: ‘Allahummaghfir lihayyina wa mayyitina, wa shahidina wa gha’ibina, wa saghirina wa kabirina, wa dhakarina wa unthana. Allahumma man ahyaitahu minna fa'ahyihi ‘alal-Islam, wa man tawaffaytahu minna fa tawaffahu ‘alal- iman. Allahumma la tahrimna ajrahu wa la tudillana ba’dah. [O Allah, forgive our living and our dead, those who are present and those who are absent, our young and our old, our males and our females. O Allah, whomever of us You cause to live, let him live in Islam, and whomever of us You cause to die, let him die in (a state of) faith. O Allah, do not deprive us of his reward, and do not let us go astray after him].’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی نماز جنازہ پڑھتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم اغفر لحينا وميتنا وشاهدنا وغائبنا وصغيرنا وكبيرنا وذكرنا وأنثانا اللهم من أحييته منا فأحيه على الإسلام ومن توفيته منا فتوفه على الإيمان اللهم لا تحرمنا أجره ولا تضلنا بعده» اے اللہ! ہمارے زندوں کو، ہمارے مردوں کو، ہمارے حاضر لوگوں کو، ہمارے غائب لوگوں کو، ہمارے چھوٹوں کو، ہمارے بڑوں کو، ہمارے مردوں کو اور ہماری عورتوں کو بخش دے، اے اللہ! تو ہم میں سے جس کو زندہ رکھے اس کو اسلام پر زندہ رکھ، اور جس کو وفات دے، تو ایمان پر وفات دے، اے اللہ! ہمیں اس کے اجر سے محروم نہ کر، اور اس کے بعد ہمیں گمراہ نہ کر ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَبِيتُ جُنُبًا. فَيَأْتِيهِ بِلاَلٌ، فَيُؤْذِنُهُ بِالصَّلاَةِ فَيَقُومُ فَيَغْتَسِلُ. فَأَنْظُرُ إِلَى تَحَدُّرِ الْمَاءِ مِنْ رَأْسِهِ. ثُمَّ يَخْرُجُ فَأَسْمَعُ صَوْتَهُ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ ‏.‏ قَالَ مُطَرِّفٌ: فَقُلْتُ لِعامِرٍأفِي رَمَضَانَ؟ قَالَ رَمَضَانُ وَغَيْرُهُ سَوَاءٌ ‏.‏
It was narrated that ‘Aishah said:“The Prophet (ﷺ) used to spend the night in a state of sexual impurity, then Bilal would come to him and inform him that it is time for prayer. So he would get up and have a bath, and I would see the water dripping from his head, then he would go out and I would hear his voice during Fajr prayer.” (One of the narrators) Mutarrif said: "I said to Amir: 'Was that during Ramadan?' He said: 'In Ramadan and at other times
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کی حالت میں رات گزارتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بلال رضی اللہ عنہ آتے، اور آپ کو نماز کی اطلاع دیتے تو آپ اٹھتے اور غسل فرماتے، میں آپ کے سر سے پانی ٹپکتے ہوئے دیکھتی تھی، پھر آپ نکلتے تو میں نماز فجر میں آپ کی آواز سنتی۔ مطرف کہتے ہیں: میں نے عامر سے پوچھا: کیا ایسا رمضان میں ہوتا؟ انہوں نے کہا کہ رمضان اور غیر رمضان سب برابر تھا۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ شَهِدْتُ لِلنَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَلِيمَةً مَا فِيهَا لَحْمٌ وَلاَ خُبْزٌ ‏.‏ قَالَ ابْنُ مَاجَهْ لَمْ يُحَدِّثْ بِهِ إِلاَّ ابْنُ عُيَيْنَةَ ‏.‏
It was narrated from Sufyan (Ibn 'Uyainah) from `Ali bin Zaid bin Ju`dan from Anas bin Malik who said:“I attended a wedding feast for the Prophet in which there was no meat and no bread.” Ibn Majah said: It was not narrated except by Ibn `Uyainah
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ولیمہ میں شریک ہوا، اس میں نہ گوشت تھا نہ روٹی تھی۔ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث صرف سفیان بن عیینہ ہی نے علی بن زید بن جدعان سے روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَيُّوبَ الْغَافِقِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَتَى النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ سَيِّدِي زَوَّجَنِي أَمَتَهُ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنِي وَبَيْنَهَا ‏.‏ قَالَ فَصَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ الْمِنْبَرَ فَقَالَ ‏ "‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَا بَالُ أَحَدِكُمْ يُزَوِّجَ عَبْدَهُ أَمَتَهُ ثُمَّ يُرِيدُ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَهُمَا إِنَّمَا الطَّلاَقُ لِمَنْ أَخَذَ بِالسَّاقِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"A man came to the Prophet (ﷺ) and said: 'O Messenger of Allah, my master married me to his slave woman, and now he wants to separate me and her.' The Messenger of Allah (ﷺ) ascended the pulpit and said: 'O people, what is the matter with one of you who marries his slave to his slave woman, then wants to separate them? Divorce belongs to the one who takes hold of the calf (i.e., her husband).’ “
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے مالک نے اپنی لونڈی سے میرا نکاح کر دیا تھا، اب وہ چاہتا ہے کہ مجھ میں اور میری بیوی میں جدائی کرا دے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے اور فرمایا: لوگو! تمہارا کیا حال ہے کہ تم میں سے ایک شخص اپنے غلام کا نکاح اپنی لونڈی سے کر دیتا ہے، پھر وہ چاہتا ہے کہ ان دونوں میں جدائی کرا دے، طلاق تو اسی کا حق ہے جو عورت کی پنڈلی پکڑے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْبَلْخِيُّ أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ فَرُّوخَ، قَالَ قَالَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ أَدْخَلَ اللَّهُ رَجُلاً الْجَنَّةَ كَانَ سَهْلاً بَائِعًا وَمُشْتَرِيًا ‏"‏ ‏.‏
Uthman bin 'Affan narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Allah will admit to Paradise a man who was lenient when he sold and when he bought
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص کو جنت میں لے جائے جو نرمی کرنے والا ہو، خواہ بیچ رہا ہو یا خرید رہا ہو ۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُرَاتِ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏{‏لَنْ تَزُولَ قَدَمُ شَاهِدِ الزُّورِ حَتَّى يُوجِبَ اللَّهُ لَهُ النَّارَ‏}‏‏.‏
It was narrated from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:'The one who bears false witness will not move away (on the Day of Resurrection) until Allah condemns him to Hell.' ”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جھوٹی گواہی دینے والے کے پاؤں ( قیامت کے دن ) نہیں ٹلیں گے، جب تک اللہ اس کے لیے جہنم کو واجب نہ کر دے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، وَأَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَنْبَأَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ اسْتُكْرِهَتِ امْرَأَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَدَرَأَ عَنْهَا الْحَدَّ وَأَقَامَهُ عَلَى الَّذِي أَصَابَهَا ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ أَنَّهُ جَعَلَ لَهَا مَهْرًا ‏.‏
It was narrated from 'Abdul Jabbar bin Wa'il that his father said:“A Woman was coerced (i.e., raped) during the time of Messenger of Allah (ﷺ) He waived the legal punishment for her and carried it out on the one who had attacked her, but he (the narrator) did not say that he rules that she should be given a bridal-money.”
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت کے ساتھ جبراً بدکاری کی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت پر حد نہیں لگائی بلکہ اس شخص پر حد جاری کی جس نے اس کے ساتھ جبراً بدکاری کی تھی، اس روایت میں اس کا تذکرہ نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مہر بھی دلایا ہو ۱؎۔
حَدَّثَنَا رَجَاءُ بْنُ الْمُرَجَّى السَّمَرْقَنْدِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَةَ الصَّيْرَفِيُّ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم صَارِخًا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا لَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ سَيِّدِي رَآنِي أُقَبِّلُ جَارِيَةً لَهُ فَجَبَّ مَذَاكِيرِي ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ عَلَىَّ بِالرَّجُلِ ‏"‏ ‏.‏ فَطُلِبَ فَلَمْ يُقْدَرْ عَلَيْهِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اذْهَبْ فَأَنْتَ حُرٌّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عَلَى مَنْ نُصْرَتِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ يَقُولُ أَرَأَيْتَ إِنِ اسْتَرَقَّنِي مَوْلاَىَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ أَوْ مُسْلِمٍ ‏"‏ ‏.‏
Amr bin Shu'aib narrated from his father that his grandfather said:“A man came to the Prophet (ﷺ) screaming. The Messenger of Allah (ﷺ) said to him: 'What is the matter with you?' He said: 'My master saw me kissing a slave woman of his, so he cut off my penis.' The Prophet (ﷺ) said: 'Take me to the man.' He was sought but could not be found, so the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Go, for you are free.' He said: 'Who will protect me, O Messenger of Allah (ﷺ)? What if my master enslaves me again?' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Your protection will be (incumbent upon) every believer or Muslim.'”
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چیختا ہوا آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا بات ہے ؟ وہ بولا: میرے مالک نے مجھے اپنی ایک لونڈی کا بوسہ لیتے ہوئے دیکھ لیا، تو میرے اعضاء تناسل ہی کاٹ ڈالے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس آدمی کو میرے پاس لاؤ جب اسے ڈھونڈا گیا تو وہ نہیں مل سکا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ تم آزاد ہو، غلام بولا: اللہ کے رسول! میری مدد کون کرے گا؟ یعنی اگر میرا مالک مجھے پھر غلام بنا لے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسی صورت میں ہر مومن یا مسلمان پر تمہاری مدد لازم ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْوَاسِطِيُّ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ، سَمِعْتُ أَبَا مِجْلَزٍ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَايَةَ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَتْ سَوْدَاءَ وَلِوَاؤُهُ أَبْيَضُ ‏.‏
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the flag of the Messenger of Allah (ﷺ) was black, and his standard was white
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا جھنڈا کالا اور چھوٹا جھنڈا سفید تھا ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، قَالَتْ لَمَّا اطْمَأَنَّ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَامَ الْفَتْحِ طَافَ عَلَى بَعِيرِهِ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ بِيَدِهِ ثُمَّ دَخَلَ الْكَعْبَةَ فَوَجَدَ فِيهَا حَمَامَةَ عَيْدَانٍ فَكَسَرَهَا ثُمَّ قَامَ عَلَى بَابِ الْكَعْبَةِ فَرَمَى بِهَا وَأَنَا أَنْظُرُهُ ‏.‏
It was narrated that Safiyyah bint Shaibah said:“When the Messenger of Allah (ﷺ) saw that things had settled down, in the year of the Conquest (of Makkah), he performed Tawaf on his camel, touching the corner with a staff in his hand. Then he entered the House and found a dove made of aloeswood. He broke it, then he stood at the door of the Ka’bah and threw it out, and I was watching him.”
صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب فتح مکہ کے سال اطمینان ہوا تو آپ نے اپنے اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا، آپ حجر اسود کا استلام ایک لکڑی سے کر رہے تھے جو آپ کے ہاتھ میں تھی، پھر کعبہ میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ اس میں لکڑی کی بنی ہوئی کبوتر کی مورت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے توڑ دیا، پھر کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہوئے اور اسے پھینک دیا، اس وقت میں آپ کو دیکھ رہی تھی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْحَوَارِيِّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ نِعْمَ الإِدَامُ الْخَلُّ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from ‘Aishah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“What a blessed condiment vinegar is.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سرکہ کیا ہی عمدہ سالن ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْمُثَنَّى، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي سَفَرٍ فَتَنَحَّى لِحَاجَتِهِ ثُمَّ جَاءَ فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ ‏.‏
It was narrated that Anas said:"I was with the Prophet on a journey. He went away to relieve himself, then he came and called for water and performed ablution
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ قضائے حاجت کے لیے الگ تھلگ ہوئے پھر واپس آئے، وضو کے لیے پانی مانگا اور وضو کیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا سَعَّادُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ خَيْرُ الدَّوَاءِ الْقُرْآنُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from ‘Ali that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The best remedy is the Qur’an.”
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین دوا قرآن ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ لِنَعْلِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قِبَالاَنِ ‏.‏
It was narrated that Anas said:“The sandals of the Prophet (ﷺ) had two thongs.”
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتیوں کے دو تسمے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ أَبِي الْمُنِيبِ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَهَى أَنْ يُقْعَدَ بَيْنَ الظِّلِّ وَالشَّمْسِ ‏.‏
It was narrated from Ibn Buraidah, from his father, that the Prophet(ﷺ) :"forbade sitting between the shade and sun
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دھوپ اور سایہ کے درمیان میں بیٹھنے سے منع کیا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ مُصْعَبٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ - وَلَيْسَ بِصَاحِبِ ابْنِ عُيَيْنَةَ - مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ مَنْ فَجِئَهُ صَاحِبُ بَلاَءٍ فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي مِمَّا ابْتَلاَكَ بِهِ وَفَضَّلَنِي عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيلاً - عُوفِيَ مِنْ ذَلِكَ الْبَلاَءِ كَائِنًا مَا كَانَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever unexpectedly comes across a person suffering a calamity, and says: Al-hamdu Lillahil-ladhi ‘afani mim-mabtalaka bihi, wa faddalani ‘ala kathirin mimman khalaqa tafdila (Praise is to Allah Who has kept me safe from that which has afflicted you and preferred me over many of those whom He has created), will be kept safe from that calamity, no matter what it is.’”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص اچانک کسی کو بلایا مصیبت میں مبتلا دیکھے تو یہ دعا پڑھے: «الحمد لله الذي عافاني مما ابتلاك به وفضلني على كثير ممن خلق تفضيلا» تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے عافیت دی اس چیز سے جس میں تجھ کو مبتلا کیا، اور مجھے اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت بخشی ، تو وہ اس بلا اور مصیبت سے محفوظ رہے گا، چاہے کوئی بھی بلا اور مصیبت ہو ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ تَفَرَّقَتِ الْيَهُودُ عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلاَثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The Jews split into seventy-one sects and my nation will split into seventy-three sects.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود اکہتر فرقوں میں بٹ گئے، اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَلاَّمِ بْنِ شُرَحْبِيلَ أَبِي شُرَحْبِيلَ، عَنْ حَبَّةَ، وَسَوَاءٍ، ابْنَىْ خَالِدٍ قَالاَ دَخَلْنَا عَلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَهُوَ يُعَالِجُ شَيْئًا فَأَعَنَّاهُ عَلَيْهِ فَقَالَ ‏ "‏ لاَ تَيْأَسَا مِنَ الرِّزْقِ مَا تَهَزَّزَتْ رُءُوسُكُمَا فَإِنَّ الإِنْسَانَ تَلِدُهُ أُمُّهُ أَحْمَرَ لَيْسَ عَلَيْهِ قِشْرٌ ثُمَّ يَرْزُقُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Habbah and Sawa’, the two daughters of Khalid, said:“We entered upon the Prophet (ﷺ) when he was doing something, so we helped him with it. Then he said: ‘Do not despair of provision so long as your heads are still moving, for a person’s mother bears him red with raw skin, then Allah provides for him.’”
ابنائے خالد حبہ اور سواء رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، آپ کچھ مرمت کا کام کر رہے تھے تو ہم نے اس میں آپ کی مدد کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم روزی کی طرف سے مایوس نہ ہونا جب تک تمہارے سر ہلتے رہیں، بیشک انسان کی ماں اس کو لال جنتی ہے، اس پر کھال نہیں ہوتی پھر اللہ تعالیٰ اس کو رزق دیتا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لأَخِيهِ - أَوْ قَالَ لِجَارِهِ - مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Anas bin Malik that:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'None of you truly believes until he loves for his brother" or he said "for his neighbor, what he loves for himself
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی ( یا اپنے پڑوسی ) کے لیے وہی چیز پسند نہ کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ مَا تَوَطَّنَ رَجُلٌ مُسْلِمٌ الْمَسَاجِدَ لِلصَّلاَةِ وَالذِّكْرِ إِلاَّ تَبَشْبَشَ اللَّهُ لَهُ كَمَا يَتَبَشْبَشُ أَهْلُ الْغَائِبِ بِغَائِبِهِمْ إِذَا قَدِمَ عَلَيْهِمْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that:The Prophet said: "A muslim does not regularly attend the mosques to perform prayer and remember Allah, but Allah feels happy with him just as the family of one who is absent feels happy when he comes back to them
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان مسجد کو نماز اور ذکر الٰہی کے لیے اپنا گھر بنا لے تو اللہ تعالیٰ اس سے ایسا خوش ہوتا ہے جیسے کہ کوئی شخص بہت دن غائب رہنے کے بعد گھر واپس لوٹے، تو گھر والے خوش ہوتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو حُذَيْفَةَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَةَ رَفَعَ يَدَيْهِ وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَيَقُولُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ ‏.‏ وَرَفَعَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ يَدَيْهِ إِلَى أُذُنَيْهِ ‏.‏
It was narrated from Abu Zubair that Jabir bin ‘Abdullah would raise his hands when he began the prayer, and when he bowed, and when he raised (his head) from Ruku’ he would do likewise, and he said:“I saw the Messenger of Allah (ﷺ) doing that.” (One of the narrators) said: “Ibrahim bin Tahman (one of the narrators) raised his hands to his ears.”
ابوالزبیر سے روایت ہے کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، اور جب رکوع کے لیے جاتے، یا رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی اسی طرح کرتے ( یعنی رفع یدین کرتے ) اور کہتے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ابراہیم بن طہمان ( راوی حدیث ) نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کانوں تک اٹھا کر بتایا۔