بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Ibn Majah
6
22 hadith
حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ، مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مَيْمُونٍ الْمَدِينِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏ "‏ إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَى الْمَيِّتِ فَأَخْلِصُوا لَهُ الدُّعَاءَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘When you offer the prayer for the deceased, supplicate sincerely for him.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب تم میت کی نماز جنازہ پڑھو، تو اس کے لیے خلوص دل سے دعا کرو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو الْقَارِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ لاَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ مَا أَنَا قُلْتُ: ‏ "‏ مَنْ أَصْبَحَ وَهُوَ جُنُبٌ فَلْيُفْطِرْ ‏"‏ ‏.‏ مُحَمَّدٌ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَهُ ‏.‏
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Amr Al-Qari said:“I heard Abu hurairah say: ‘No, by the Lord of the Ka’bah! I did not say: “Whoever wakes up in a state of sexual impurity (and wants to fast) then he must not fast.” Muhammad (ﷺ) said it.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رب کعبہ کی قسم! یہ بات کہ کوئی جنابت کی حالت میں صبح کرے تو روزہ توڑ دے، میں نے نہیں کہی بلکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کہی ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، وَغِيَاثُ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّحَبِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا وَائِلُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَوْلَمَ عَلَى صَفِيَّةَ بِسَوِيقٍ وَتَمْرٍ ‏.‏
It was narrated from Anas bin Malik:that the Prophet offered Sawiq and dates as a wedding feast for Safiyyah
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کا ولیمہ ستو اور کھجور سے کیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ مُظَاهِرِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏"‏ طَلاَقُ الأَمَةِ تَطْلِيقَتَانِ وَقُرْؤُهَا حَيْضَتَانِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَاصِمٍ فَذَكَرْتُهُ لِمُظَاهِرٍ فَقُلْتُ حَدِّثْنِي كَمَا حَدَّثْتَ ابْنَ جُرَيْجٍ ‏.‏ فَأَخْبَرَنِي عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏"‏ طَلاَقُ الأَمَةِ تَطْلِيقَتَانِ وَقُرْؤُهَا حَيْضَتَانِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Aishah that the Prophet (ﷺ) said:"The divorce of a slave woman is twice, and her (waiting) period is two menstrual cycles." Abu 'Asim said: "I mentioned this to Muzahir and said: 'Tell me what you told Ibn Juraij.' So he told me, narrating from Qasim from 'Aishah, that the Prophet (ﷺ) said: 'The divorce of a slave woman is twice, and her (waiting) period is two menstrual cycles
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لونڈی کی دو طلاقیں ہیں، اور اس کی عدت دو حیض ہے ۔ ابوعاصم کہتے ہیں کہ میں نے مظاہر بن اسلم سے اس حدیث کا ذکر کیا اور ان سے عرض کیا کہ یہ حدیث آپ مجھ سے ویسے ہی بیان کریں جیسے کہ آپ نے ابن جریج سے بیان کی ہے، تو انہوں نے مجھے «قاسم عن عائشہ» کے طریق سے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لونڈی کے لیے دو طلاقیں ہیں اور اس کی عدت دو حیض ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ غَلاَ السِّعْرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالُوا لَوْ قَوَّمْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏ "‏ إِنِّي لأَرْجُو أَنْ أُفَارِقَكُمْ وَلاَ يَطْلُبَنِي أَحَدٌ مِنْكُمْ بِمَظْلَمَةٍ ظَلَمْتُهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Sa'eed said:"Prices rose at the time of the Messenger of Allah (ﷺ), and they said: 'Why do you not fix the food prices, O Messenger of Allah?' He said: 'I hope that when I leave you, no one among you will be demanding restitution for a wrong that I have done to him
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں مہنگائی بڑھ گئی، تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ نرخ مقرر کر دیں تو اچھا رہے گا! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری خواہش ہے کہ میں تم سے اس حال میں جدا ہوں کہ کوئی مجھ سے کسی زیادتی کا جو میں نے اس پر کی ہو مطالبہ کرنے والا نہ ہو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الْعُصْفُرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ النُّعْمَانِ الأَسَدِيِّ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الأَسَدِيِّ، قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الصُّبْحَ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَامَ قَائِمًا فَقَالَ ‏"‏ عُدِلَتْ شَهَادَةُ الزُّورِ بِالإِشْرَاكِ بِاللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ تَلاَ هَذِهِ الآيَةَ ‏{‏وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ حُنَفَاءَ لِلَّهِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِه‏}‏‏.‏
It was narrated that Khuraim bin Fatik Al-Asadi said that :the Prophet(ﷺ) prayed the Morning prayer, and when he had finished, he stood up and said: “Bearing false witness is equivalent to associating others with Allah,” three times. Then he recited this Verse: “And shun lying speech (false statements), Hunafa' Lillah (i.e., worshiping none but Allah), not associating partners (in worship) to Him.”
خریم بن فاتک اسدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر پڑھائی، جب فارغ ہوئے تو کھڑے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے ، یہ جملہ آپ نے تین بار دہرایا، پھر آیت کریمہ: «واجتنبوا قول الزور حنفاء لله غير مشركين به» جھوٹ بولنے سے بچو، اللہ کے لیے سیدھے چلو، اس کے ساتھ شرک نہ کرو ( سورة الحج: ۳۰-۳۱ ) کی تلاوت فرمائی۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، سَمِعْتُ أَبَا الْمُنْذِرِ، - مَوْلَى أَبِي ذَرٍّ - يَذْكُرُ أَنَّ أَبَا أُمَيَّةَ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِلِصٍّ فَاعْتَرَفَ اعْتِرَافًا وَلَمْ يُوجَدْ مَعَهُ الْمَتَاعُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا إِخَالُكَ سَرَقْتَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ بَلَى ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ مَا إِخَالُكَ سَرَقْتَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ بَلَى ‏.‏ فَأَمَرَ بِهِ فَقُطِعَ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ قُلْ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ مَرَّتَيْنِ ‏.‏
It was narrated from Ishaq bin Abu Talhah:“I heard Abu Mundhir, the freed slave of Abu Dharr, say that Abu Umayyah narrated to him, that a thief was brought to the Messenger of Allah (ﷺ) and he admitted his crime, although the stolen goods were not found with him. The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'I do not think you stole them.’ He said: 'Yes I did.' Then he said (again): ‘I do not think that you stole them.’ and he said: 'Yes I did.' Then he ordered that his hand be cut off. The Prophet (ﷺ) ' Say: I seek Allah's forgiveness and I repent to Him.' So he (the thief) said: 'I seek Allah's forgiveness and I repent to him.' He (the Prophet (ﷺ) said twice: 'O Allah! Accept his repentance.”
ابوامیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا، اس نے اقبال جرم تو کیا لیکن اس کے پاس سامان نہیں ملا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ تم نے چوری نہیں کی ہے ، اس نے کہا: کیوں نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: میرے خیال میں تم نے چوری نہیں کی ، اس نے کہا: کیوں نہیں؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو«أستغفر الله وأتوب إليه» میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس سے توبہ کرتا ہوں ، تو اس نے کہا: «أستغفر الله وأتوب إليه» تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا: «اللهم تب عليه» اے اللہ تو اس کی توبہ قبول فرما ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ رَوْحِ بْنِ زِنْبَاعٍ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ خَصَى غُلاَمًا لَهُ فَأَعْتَقَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِالْمُثْلَةِ ‏.‏
It was narrated from Salamah bin Rawh bin Zinba', that :his grandfather came to the Prophet (ﷺ) and he had castrated a slave of his. The Prophet (ﷺ) manumitted the slave in compensation for having been mutilated
سلمہ بن روح بن زنباع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، انہوں نے اپنے غلام کو خصی کر دیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلام کو مثلہ ( ناک کان یا کوئی عضو کاٹ دینا ) کئے جانے کی بناء پر آزاد کر دیا۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، وَعَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَلِوَاؤُهُ أَبْيَضُ ‏.‏
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah that the Prophet (ﷺ) entered Makkah on the Day of the Conquest, and his standard was white
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کا جھنڈا سفید تھا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَسْتَلِمُ مِنْ أَرْكَانِ الْبَيْتِ إِلاَّ الرُّكْنَ الأَسْوَدَ وَالَّذِي يَلِيهِ مِنْ نَحْوِ دُورِ الْجُمَحِيِّينَ ‏.‏
It was narrated from Salim bin ‘Abdullah that his father said:“The Messenger of Allah (ﷺ) did not touch the corners of the Ka’bah apart from the Black Corner (i.e., the corner where the Black Stone is) and the one that is next to it facing the houses of Banu Jumah (i.e., the Yemenite Corner).”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بجز حجر اسود اور اس کے جو اس سے قریب ہے یعنی رکن یمانی جو بنی جمح کے محلے کی طرف ہے بیت اللہ کے کسی کونے کا استلام نہیں فرماتے تھے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِذَا ذَهَبَ الْمَذْهَبَ أَبْعَدَ ‏.‏
It was narrated that Mugirah bin Shu'bah said:"Whenever the Prophet went to relieve himself, he would go far away
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لیے تشریف لے جاتے تو دور جاتے ۱؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ أَبِي عِيسَى، عَنْ رَجُلٍ، - أُرَاهُ مُوسَى - عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ سَيِّدُ إِدَامِكُمُ الْمِلْحُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) said:‘The best of your seasonings is salt.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے سالنوں کا سردار نمک ہے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَدَحٌ مِنْ قَوَارِيرَ يَشْرَبُ فِيهِ ‏.‏
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“The Messenger of Allah (ﷺ) had a glass cup from which he would drink.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شیشے کا ایک پیالہ تھا جس میں آپ پیتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنْبَأَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ طَارِقِ بْنِ سُوَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بِأَرْضِنَا أَعْنَابًا نَعْتَصِرُهَا فَنَشْرَبُ مِنْهَا قَالَ ‏"‏ لاَ ‏"‏ ‏.‏ فَرَاجَعْتُهُ قُلْتُ إِنَّا نَسْتَشْفِي بِهِ لِلْمَرِيضِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّ ذَلِكَ لَيْسَ بِشِفَاءٍ وَلَكِنَّهُ دَاءٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Tariq bin Suwaid Al-Hadrami said:“I said: ‘O Messenger of Allah, in our land there are grapes which we squeeze (to make wine). Can we drink from it?’ He said: ‘No.’ I repeated the question and said: ‘We treat the sick with it.’ He said: ‘That is not a cure, it is a disease.’”
طارق بن سوید حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے ملک میں انگور ہیں، کیا ہم انہیں نچوڑ کر پی لیا کریں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ، میں نے دوبارہ عرض کیا کہ ہم اس سے مریض کا علاج کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دوا نہیں بلکہ خود بیماری ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ، قَالَ كَانَ لِنَعْلِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قِبَالاَنِ مَثْنِيٌّ شِرَاكُهُمَا ‏.‏
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Abbas said:“The sandals of the Prophet (ﷺ) had two thongs doubled around their straps.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتیوں کے دو تسمے تھے، جو آگے سے دہرے ہوتے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنْ نَتْفِ الشَّيْبِ وَقَالَ ‏ "‏ هُوَ نُورُ الْمُؤْمِنِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Amr bin Sh'uaib from his father, that his grandfather said:"The Messenger of Allah(ﷺ) forbade plucking out white hairs and said: 'It is the light of the believer
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفید بال اکھیڑنے سے منع فرمایا، اور فرمایا کہ وہ مومن کا نور ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِذَا رَأَى مَخِيلَةً تَلَوَّنَ وَجْهُهُ وَتَغَيَّرَ وَدَخَلَ وَخَرَجَ وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ فَإِذَا أَمْطَرَتْ سُرِّيَ عَنْهُ ‏.‏ قَالَ فَذَكَرَتْ لَهُ عَائِشَةُ بَعْضَ مَا رَأَتْ مِنْهُ فَقَالَ ‏"‏ وَمَا يُدْرِيكِ لَعَلَّهُ كَمَا قَالَ قَوْمُ هُودٍ ‏{فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهِ }‏ ‏"‏ ‏.‏ الآيَةَ
It was narrated that ‘Aishah said:“If the Messenger of Allah (ﷺ) saw a cloud that looked as if it was bringing rain, the color of his face would change, and he would go in and out and walk to and fro. Then, if it rained, he would feel relieved.” ‘Aishah mentioned to him what she had seen him do, and he said: “How do you know? Perhaps it would be as the people of Hud said: ‘Then, when they saw it as a dense cloud coming towards their valleys, they said: “This is a cloud bringing us rain!” Nay, but it is that (torment) which you were asking to be hastened.” [46:]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بادل کو دیکھتے تو ( تردد و پریشانی کی وجہ سے ) آپ کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل جاتا، کبھی اندر تشریف لے جاتے کبھی باہر، کبھی آگے جاتے کبھی پیچھے، پھر جب بارش ہونے لگتی تو آپ کی یہ کیفیت ختم ہو جاتی، عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی اس کیفیت کا ذکر کیا جسے انہہوں نے دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ تجھے کیا معلوم؟ ہو سکتا ہے یہ وہی ہو جسے دیکھ کر قوم ہود نے کہا تھا: «فلما رأوه عارضا مستقبل أوديتهم قالوا هذا عارض ممطرنا بل هو ما استعجلتم به» تو جب ان لوگوں نے بادل کو اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تو کہنے لگے: یہ بادل ہے جو ہم پر پانی برسائے گا، ( نہیں اس میں پانی نہیں تھا ) بلکہ وہ چیز ( یعنی عذاب ) ہے جس کی تم جلدی مچا رہے تھے ( سورۃ الاحقاف: ۲۴ ) ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ النَّاسُ كَإِبِلِ مِائَةٍ لاَ تَكَادُ تَجِدُ فِيهَا رَاحِلَةً ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“People are like a hundred camels; you can hardly find one worth riding among them.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کی مثال ان سو اونٹوں کے مانند ہے، جن میں سے ایک بھی سواری کے لائق نہیں پاؤ گے ۱؎۔
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنِ ابْنِ هُبَيْرَةَ، عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏ "‏ لَوْ أَنَّكُمْ تَوَكَّلْتُمْ عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ لَرَزَقَكُمْ كَمَا يَرْزُقُ الطَّيْرَ تَغْدُو خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًا ‏"‏ ‏.‏
‘Umar said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘If you were to rely upon Allah with the reliance He is due, you would be given provision like the birds: They go out hungry in the morning and come back with full bellies in the evening.”
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اگر تم اللہ تعالیٰ پر ایسے ہی توکل ( بھروسہ ) کرو جیسا کہ اس پر توکل ( بھروسہ ) کرنے کا حق ہے، تو وہ تم کو ایسے رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے، وہ صبح میں خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر لوٹتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ صَالِحٍ أَبُو الصَّلْتِ الْهَرَوِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُوسَى الرِّضَا، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ الإِيمَانُ مَعْرِفَةٌ بِالْقَلْبِ وَقَوْلٌ بِاللِّسَانِ وَعَمَلٌ بِالأَرْكَانِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو الصَّلْتِ لَوْ قُرِئَ هَذَا الإِسْنَادُ عَلَى مَجْنُونٍ لَبَرَأَ ‏.‏
It was narrated that 'Ali bin Abu Talib said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Faith is knowledge in the heart, words on the tongue and action with the physical faculties. (limbs of the body).'" (Maudu)
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان دل کی معرفت، زبان سے اقرار اور اعضائے بدن سے عمل کا نام ہے ۔ ابوالصلت کہتا ہے: یہ سند ایسی ہے کہ اگر دیوانے پر پڑھ دی جائے تو وہ اچھا ہو جائے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ كَانَ فِي صَلاَةٍ مَا كَانَتِ الصَّلاَةُ تَحْبِسُهُ وَالْمَلاَئِكَةُ يُصَلُّونَ عَلَى أَحَدِكُمْ مَادَامَ فِي مَجْلِسِهِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ يَقُولُونَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ مَا لَمْ يُحْدِثْ فِيهِ مَا لَمْ يُؤْذِ فِيهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'When one of you enters the mosque, he is in a state of prayer, so long as the prayer keeps him there, and the angels will send prayer upon anyone of you so long as he remains in the place where he prayed, saying: "O Allah, forgive him; O Allah, have mercy on him; O Allah, accept his repentance," so long as he does not commit Hadath nor disturb anyone
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص مسجد میں داخل ہو کر نماز کے لیے رکے رہتا ہے تو وہ نماز ہی میں رہتا ہے، اور فرشتے اس شخص کے لیے اس وقت تک دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اس جگہ بیٹھا رہتا ہے جس جگہ اس نے نماز ادا کی ہے، وہ کہتے ہیں: اے اللہ! اسے بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم کر، اے اللہ! اس کی توبہ قبول فرما، یہ دعا یوں ہی جاری رہتی ہے جب تک کہ اس کا وضو نہ ٹوٹے، اور جب تک وہ ایذا نہ دے ۱؎۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ قُلْتُ لأَنْظُرَنَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَيْفَ يُصَلِّي، فَقَامَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا أُذُنَيْهِ، فَلَمَّا رَكَعَ رَفَعَهُمَا مِثْلَ ذَلِكَ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا مِثْلَ ذَلِكَ ‏.‏
It was narrated that Wa’il bin Hujr said:“I said: ‘I will look at the Messenger of Allah (ﷺ) and see how he performs the prayer.’ He stood up and faced the Qiblah, and raised his hands until they were parallel to his ears. When he bowed, he raised them likewise, and when he raised his head from Ruku’, he raised them likewise.”
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے دل میں سوچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں ضرور دیکھوں گا کہ آپ کیسے نماز پڑھتے ہیں، ( چنانچہ ایک روز میں نے دیکھا ) کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، قبلے کی طرف رخ کیا، اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کانوں کے بالمقابل کیا، پھر جب رکوع کیا تو ( بھی ) اسی طرح اٹھایا ( یعنی رفع یدین کیا ) ، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھایا، تو ( بھی ) اسی طرح اٹھایا ۱؎۔