بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Ibn Majah
6
22 hadith
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي عَاصِمٍ النَّبِيلُ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ شَرِيكٍ الأَنْصَارِيَّةُ، قَالَتْ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ نَقْرَأَ عَلَى الْجِنَازَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ‏.‏
Umm Sharik Al-Ansari said:“The Messenger of Allah (ﷺ) commanded us to recite the Opening of the Book (Al-Fatihah) in the funeral prayer.”
ام شریک انصاریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم نماز جنازہ میں سورۃ فاتحہ پڑھیں۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ: ‏"‏ هَلْ عِنْدَكُمْ شَىْءٌ؟ ‏"‏ ‏.‏ فَنَقُولُ: لاَ ‏.‏ فَيَقُولُ: ‏"‏ إِنِّي صَائِمٌ ‏"‏ ‏.‏ فَيُقِيمُ عَلَى صَوْمِهِ ثُمَّ يُهْدَى لَنَا شَىْءٌ فَيُفْطِرُ ‏.‏ قَالَتْ: وَرُبَّمَا صَامَ وَأَفْطَرَ ‏.‏ قُلْتُ: كَيْفَ ذَا؟ قَالَتْ: إِنَّمَا مَثَلُ هَذَا مَثَلُ الَّذِي يَخْرُجُ بِصَدَقَةٍ فَيُعْطِي بَعْضَهَا وَيُمْسِكُ بَعْضًا ‏.‏
It was narrated that ‘Aishah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) would enter upon me and say: ‘Do you have anything (any food)?’ If we said: ‘No,’ he would say: ‘Then I am fasting.’ So he would continue fasting, then it we were given some food, he would break his fast.” She said: “Sometimes he would fast and (then) break fast (i.e., combine fasting and breaking fast in one day).” I said: “How is that?” She said: “Like the one who goes out with charity (i.e., something to give in charity),and he gives some away and keeps some.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آتے اور پوچھتے: کیا تمہارے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے ؟ ہم کہتے: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے: میں روزے سے ہوں ، اور اپنے روزے پر قائم رہتے، پھر کوئی چیز بطور ہدیہ آتی تو روزہ توڑ دیتے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ کبھی روزہ رکھتے، اور کبھی کھول دیتے، میں نے پوچھا: یہ کیسے؟ تو کہا: اس کی مثال ایسی ہے جیسے کہ کوئی صدقہ نکالے پھر کچھ دے اور کچھ رکھ لے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَوْلَمَ عَلَى شَىْءٍ مِنْ نِسَائِهِ مَا أَوْلَمَ عَلَى زَيْنَبَ فَإِنَّهُ ذَبَحَ شَاةً ‏.‏
It was narrated that Anas bin Malik said:“I never saw the Messenger of Allah give a wedding feast for any of his wives like the feast he gave for Zainab, for which he slaughtered a sheep.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن میں سے کسی کا اتنا بڑا ولیمہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا جتنا بڑا آپ نے اپنی بیوی زینب رضی اللہ عنہا کا کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ولیمہ میں ایک بکری ذبح کی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبِيبٍ الْمُسْلِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ طَلاَقُ الأَمَةِ اثْنَتَانِ وَعِدَّتُهَا حَيْضَتَانِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn 'Urnar that the Messenger of Allah (ﷺ), said:"The divorce of a slave woman is twice, and her waiting period is two menstrual cycles
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لونڈی کے لیے دو طلاقیں ہیں، اور اس کی عدت دو حیض ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَحُمَيْدٍ، وَثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ غَلاَ السِّعْرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ غَلاَ السِّعْرُ فَسَعِّرْ لَنَا ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمُسَعِّرُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّازِقُ إِنِّي لأَرْجُو أَنْ أَلْقَى رَبِّي وَلَيْسَ أَحَدٌ يَطْلُبُنِي بِمَظْلَمَةٍ فِي دَمٍ وَلاَ مَالٍ ‏"‏ ‏.‏
It was nanated that Anas bin Malik said:"Prices rose during the time of the Messenger of Allah (ﷺ), and they said: 'O Messenger of Allah, prices have risen, so fix the prices for us.' He said: 'Indeed Allah is the Musa'ir, [1] the Qabid, (Restrainer) the Basit,[2] the Razzaq (Provider). And I am hopeful that I meet my Lord and none of you are seeking (recompense from) me for an injustice involving blood or wealth
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ایک دفعہ قیمتیں چڑھ گئیں، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے لیے ایک نرخ ( بھاؤ ) مقرر کر دیجئیے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ ہی نرخ مقرر کرنے والا ہے، کبھی کم کر دیتا ہے اور کبھی زیادہ کر دیتا ہے، وہی روزی دینے والا ہے، اور مجھے امید ہے کہ میں اپنے رب سے اس حال میں ملوں کہ کوئی مجھ سے جان یا مال میں کسی ظلم کا مطالبہ کرنے والا نہ ہو ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، - مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ - عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَهْلِ مِصْرَ عَنْ سُرَّقٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَجَازَ شَهَادَةَ الرَّجُلِ وَيَمِينَ الطَّالِبِ ‏.‏
It was narrated from Surraq that :the Prophet (ﷺ) allowed the testimony of a man along with the oath of the claimant
سرق (ابن اسد جہنی) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی کی قسم کے ساتھ ایک شخص کی گواہی کو جائز رکھا ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ مُزَيْنَةَ سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الثِّمَارِ فَقَالَ ‏"‏ مَا أُخِذَ فِي أَكْمَامِهِ فَاحْتُمِلَ فَثَمَنُهُ وَمِثْلُهُ مَعَهُ وَمَا كَانَ فِي الْجِرَانِ فَفِيهِ الْقَطْعُ إِذَا بَلَغَ ذَلِكَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ وَإِنْ أَكَلَ وَلَمْ يَأْخُذْ فَلَيْسَ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ الشَّاةُ الْحَرِيسَةُ مِنْهُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ ثَمَنُهَا وَمِثْلُهُ مَعَهُ وَالنَّكَالُ وَمَا كَانَ فِي الْمُرَاحِ فَفِيهِ الْقَطْعُ إِذَا كَانَ مَا يَأْخُذُ مِنْ ذَلِكَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ ‏"‏ ‏.‏
XOIt was narrated from Amr bin Shu'aib, from his father, from his grandfather, that a man from Muzainah asked the Prophet (ﷺ) about fruits. :He said: “What is taken from the tree and carried away, its value and the like of it along with it (meaning double its price must be paid). What (is taken) from the place where dates are dried, (the penalty) is cutting off the hand if the amount taken is equal to the price of a shield. But if (the person) eats it and does not take it away, there is no penalty.” He said: “What about the sheep taken from the pasture, O Messenger of Allah (ﷺ)?” He said: “(The thief) must pay double its price and be punished, and if it was in the pen then his hand should be cut off, if what was taken was worth the price of a shield.”
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ مزینہ کے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پھلوں کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص پھل خوشے میں سے توڑ کر چرائے تو اسے اس کی دوگنی قیمت دینی ہو گی، اور اگر پھل کھلیان میں ہو تو ہاتھ کاٹا جائے گا، بشرطیکہ وہ ڈھال کی قیمت کے برابر ہو، اور اگر اس نے صرف کھایا ہو لیا نہ ہو تو اس پر کچھ نہیں ، اس شخص نے پوچھا: اگر کوئی چراگاہ میں سے بکریاں چرا لے جائے ( تو کیا ہو گا ) ؟ اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی دوگنی قیمت ادا کرنی ہو گی، اور سزا بھی ملے گی، اور اگر وہ اپنے باڑے میں ہو تو اس میں ( چوری کرنے پر ) ہاتھ کاٹا جائے بشرطیکہ چرائی گئی چیز کی قیمت ڈھال کی قیمت کے برابر ہو ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ حُوَيِّصَةَ، وَمُحَيِّصَةَ، ابْنَىْ مَسْعُودٍ وَعَبْدَ اللَّهِ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ ابْنَىْ سَهْلٍ خَرَجُوا يَمْتَارُونَ بِخَيْبَرَ فَعُدِيَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ فَقُتِلَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ تُقْسِمُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ نُقْسِمُ وَلَمْ نَشْهَدْ قَالَ ‏"‏ فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذًا تَقْتُلُنَا ‏.‏ قَالَ فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ عِنْدِهِ ‏.‏
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, from his grandfather, that :Huwayyisah and Muhayyisah , the sons of Mas'ud, and 'Abdullah and 'Abdur-Rahman the sons of Sahl, went out to search for food in Khaibar. 'Abdullah was attacked and killed, and mention of that was made to the Messenger of Allah (ﷺ). He said: “Will you swear an oath and establish your right to blood money?” They said: “O Messenger of Allah (ﷺ), how can we swear an oath when we did not witness anything?” He said: “Do you want the Jews to swear that they are innocent?” They said: “O Messenger of Allah (ﷺ), then they will kill us too.” So the Messenger of Allah (ﷺ) paid the blood money himself
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مسعود کے دونوں بیٹے حویصہ و محیصہ رضی اللہ عنہما اور سہل کے دونوں بیٹے عبداللہ و عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہما خیبر کی جانب تلاش رزق میں نکلے، عبداللہ پر ظلم ہوا، اور انہیں قتل کر دیا گیا، اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم کھاؤ اور ( دیت کے ) مستحق ہو جاؤ وہ کہنے لگے: اللہ کے رسول! جب ہم وہاں حاضر ہی نہیں تھے تو قسم کیوں کر کھائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو یہود ( قسم کھا کر ) تم سے بری ہو جائیں گے وہ کہنے لگے: اللہ کے رسول! تب تو وہ ہمیں مار ہی ڈالیں گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کر دی۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ حَسَّانَ، قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَائِمًا عَلَى الْمِنْبَرِ وَبِلاَلٌ قَائِمٌ بَيْنَ يَدَيْهِ مُتَقَلِّدٌ سَيْفًا وَإِذَا رَايَةٌ سَوْدَاءُ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذَا عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ قَدِمَ مِنْ غَزَاةٍ ‏.‏
It was narrated that Harith bin Hassan said:“I came to Al-Madinah and saw the Prophet (ﷺ) standing on the pulpit, and Bilal standing in front of him, with his sword by his side, and (I saw) a black flag. I said: ‘Who is this?’ He said: ‘This is ‘Amr bin ‘As, who has just come back from a campaign.’”
حارث بن حسان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر کھڑے دیکھا، اور بلال رضی اللہ عنہ آپ کے سامنے گلے میں تلوار ٹکائے ہوئے تھے، پھر اچانک ایک کالا بڑا جھنڈا دکھائی دیا، میں نے کہا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ہیں جو ایک غزوہ سے واپس آئے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا خَالِي، يَعْلَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ اسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ الْحَجَرَ ثُمَّ وَضَعَ شَفَتَيْهِ عَلَيْهِ يَبْكِي طَوِيلاً ثُمَّ الْتَفَتَ فَإِذَا هُوَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يَبْكِي فَقَالَ ‏ "‏ يَا عُمَرُ هَاهُنَا تُسْكَبُ الْعَبَرَاتُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Ibn ‘Umar said:“The Messenger of Allah (ﷺ) turned to face the Stone, then he put his lips on it and wept for a long time. Then he turned and saw ‘Umar bin Khattab weeping. He said: ‘O ‘Umar, this is the place where tears should be shed.’”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کی طرف رخ کیا، پھر اپنے دونوں ہونٹ اس پر رکھ دئیے، اور دیر تک روتے رہے، پھر ایک طرف نظر اٹھائی تو دیکھا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی رو رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر! اس جگہ آنسو بہائے جاتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ قُرَّةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَهَى أَنْ يُصَلَّى عَلَى قَارِعَةِ الطَّرِيقِ أَوْ يُضْرَبَ الْخَلاَءُ عَلَيْهَا أَوْ يُبَالَ فِيهَا ‏.‏
Salim narrated from his father that:The Prophet forbade praying in the middle of the road, or defecating there, or urinating
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے راستے میں نماز پڑھنے یا پاخانہ پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ أُحِلَّتْ لَنَا مَيْتَتَانِ وَدَمَانِ فَأَمَّا الْمَيْتَتَانِ فَالْحُوتُ وَالْجَرَادُ وَأَمَّا الدَّمَانِ فَالْكَبِدُ وَالطِّحَالُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Two kinds of dead meat and two kinds of blood have been permitted to us. The two kinds of dead meat are fish and locusts, and the two kinds of blood are the liver and spleen.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے دو مردار اور دو خون حلال کر دئیے گئے ہیں: رہے دونوں مردار تو وہ مچھلی اور ٹڈی ہے، اور رہے دونوں خون: تو وہ جگر ( کلیجی ) اور تلی ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ سَاقِي الْقَوْمِ آخِرُهُمْ شُرْبًا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Qatadah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The oen who serves water to others should be the last one to drink from it.”
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قوم کا ساقی ( پلانے والا ) سب سے آخر میں پیتا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَتْ لِلنَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مُكْحُلَةٌ يَكْتَحِلُ مِنْهَا ثَلاَثًا فِي كُلِّ عَيْنٍ ‏.‏
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“The Prophet (ﷺ) had a kohl container from which he would apply kohl three times, to each eye.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہوسلمہ کے پاس ایک سرمہ دانی تھی، آپ اس میں سے ہر آنکھ میں تین بار سرمہ لگاتے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، كُلُّهُمْ عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ، قَالَ أَتَانَا كِتَابُ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ أَنْ لاَ تَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ وَلاَ عَصَبٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Ukaym said:“There came to us a letter from the Prophet (ﷺ) (saying): ‘No not make use of the untanned skin and sinew of dead animals.’”
عبداللہ بن عکیم کہتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب آیا کہ مردار کی کھال اور پٹھوں سے فائدہ نہ اٹھاؤ ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُخَالِطُنَا حَتَّى يَقُولَ لأَخٍ لِي صَغِيرٍ ‏ "‏ يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَكِيعٌ يَعْنِي طَيْرًا كَانَ يَلْعَبُ بِهِ ‏.‏
It was narrated that Abu Taiyah said:"I heard Anas Bin Malik say: The Messenger of Allah (ﷺ) used to mix with us so much that he said to a little brother of mine: "O Abu `Umair, what happened to the Nughair (one of the narrators Waki` said that it means a bird that he used to play with)
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگوں سے ( یعنی بچوں سے ) میل جول رکھتے تھے، یہاں تک کہ میرے چھوٹے بھائی سے فرماتے: «يا أبا عمير ما فعل النغير» اے ابوعمیر! تمہارا وہ «نغیر» ( پرندہ ) کیا ہوا؟ وکیع نے کہا «نغیر» سے مراد وہ پرندہ ہے جس سے ابوعمیر کھیلا کرتے تھے
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ حَبِيبِ بْنِ أَبِي الْعِشْرِينَ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ إِذَا رَأَى الْمَطَرَ قَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ صَيِّبًا هَنِيئًا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from ‘Aishah that when the Messenger of Allah (ﷺ) saw rain, he would say:“Allahumma aj’alhu sayyiban hani’an (O Allah, make it a wholesome rain cloud).”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بارش کو دیکھتے تو فرماتے: «اللهم اجعله صيبا هنيئا» اے اللہ! تو اس کو جاری اور بابرکت بنا ۔
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ خَرَجَ يَوْمًا إِلَى مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَوَجَدَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَاعِدًا عِنْدَ قَبْرِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَبْكِي فَقَالَ مَا يُبْكِيكَ قَالَ يُبْكِينِي شَىْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّ يَسِيرَ الرِّيَاءِ شِرْكٌ وَإِنَّ مَنْ عَادَى لِلَّهِ وَلِيًّا فَقَدْ بَارَزَ اللَّهَ بِالْمُحَارَبَةِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الأَبْرَارَ الأَتْقِيَاءَ الأَخْفِيَاءَ الَّذِينَ إِذَا غَابُوا لَمْ يُفْتَقَدُوا وَإِنْ حَضَرُوا لَمْ يُدْعَوْا وَلَمْ يُعْرَفُوا قُلُوبُهُمْ مَصَابِيحُ الْهُدَى يَخْرُجُونَ مِنْ كُلِّ غَبْرَاءَ مُظْلِمَةٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from ‘Umar bin Khattab that he went out one day to the mosque of the Messenger of Allah (ﷺ), and he found Mu’adh bin Jabal sitting by the grave of the Prophet (ﷺ), weeping. He said:“Why are you weeping?” He said: “I am weeping because of something that I heard from the Messenger of Allah (ﷺ). I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘A little showing off is polytheism and whoever shows enmity towards a friend of Allah has declared war on Allah. Allah loves those who se righteousness and piety are hidden, those who, if they are absent, are not missed, and if they are present, they are not invited or acknowledged. Their hearts are lamps of guidance and they get out of every trial and difficulty.’”
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن وہ مسجد نبوی کی جانب گئے، تو وہاں معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے پاس بیٹھے رو رہے ہیں، انہوں نے معاذ رضی اللہ عنہ سے رونے کا سبب پوچھا، تو معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے ایک ایسی بات رلا رہی ہے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: معمولی ریاکاری بھی شرک ہے، بیشک جس نے اللہ کے کسی دوست سے دشمنی کی، تو اس نے اللہ سے اعلان جنگ کیا، اللہ تعالیٰ ان نیک، گم نام متقی لوگوں کو محبوب رکھتا ہے جو اگر غائب ہو جائیں تو کوئی انہیں تلاش نہیں کرتا، اور اگر وہ حاضر ہو جائیں تو لوگ انہیں کھانے کے لیے نہیں بلاتے، اور نہ انہیں پہچانتے ہیں، ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں، ایسے لوگ ہر گرد آلود تاریک فتنے سے نکل جائیں گے ۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، قَالَ أَتَيْنَا خَبَّابًا نَعُودُهُ فَقَالَ لَقَدْ طَالَ سُقْمِي وَلَوْلاَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏"‏ لاَ تَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ ‏"‏ ‏.‏ لَتَمَنَّيْتُهُ وَقَالَ ‏"‏ إِنَّ الْعَبْدَ لَيُؤْجَرُ فِي نَفَقَتِهِ كُلِّهَا إِلاَّ فِي التُّرَابِ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ قَالَ ‏"‏ فِي الْبِنَاءِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Harithah bin Mudarrib said:“We came to Khabbab to visit him (when he was sick), and he said: ‘I have been sick for a long time, and were it not that I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: “Do not wish for death,” I would have wished for it.’ And he said: “A person will be rewarded for all his spending, except for (what he spends) on dust,” or he said, “on building.”
حارثہ بن مضرب کہتے ہیں کہ ہم خباب رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے آئے، تو آپ کہنے لگے کہ میرا مرض طویل ہو گیا ہے، اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ تم موت کی تمنا نہ کرو تو میں ضرور اس کی آرزو کرتا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندے کو ہر خرچ میں ثواب ملتا ہے سوائے مٹی میں خرچ کرنے کے ، یا فرمایا: عمارت میں خرچ کرنے کا ثواب نہیں ملتا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ ‏.‏ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الإِيمَانُ قَالَ ‏"‏ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلاَئِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَلِقَائِهِ وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ الآخِرِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الإِسْلاَمُ قَالَ ‏"‏ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ وَلاَ تُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمَ الصَّلاَةَ الْمَكْتُوبَةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ وَتَصُومَ رَمَضَانَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الإِحْسَانُ قَالَ ‏"‏ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنَّكَ إِنْ لاَ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى السَّاعَةُ قَالَ ‏"‏ مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكَ عَنْ أَشْرَاطِهَا إِذَا وَلَدَتِ الأَمَةُ رَبَّتَهَا فَذَلِكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا وَإِذَا تَطَاوَلَ رِعَاءُ الْغَنَمِ فِي الْبُنْيَانِ فَذَلِكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا فِي خَمْسٍ لاَ يَعْلَمُهُنَّ إِلاَّ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏ فَتَلاَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ {إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَىِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ‏}‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"One day the Prophet (ﷺ) appeared among the people. A man came to him and said: 'O messenger of Allah, what is Iman (faith)?' He said: 'To believe in Allah, His angels, His books, His Messengers and the meeting with, and to believe in the Final Resurrection.' He said: 'O Messenger of Allah, what is Islam?' He said: 'To worship Allah (alone) and not to associate anything with Him; to establish the prescribed prayers, to pay the obligatory Zakat, and to fast Ramadan.' He said: 'O Messenger of Allah, what is Ihsan? He said: 'To worship Allah as if you see Him, for even though you do not see Him, He sees you.' He said: "O Messenger of Allah, when will the Hour be?' He said: 'The one who is being asked about it does not know more than the one who is asking. But I will tell you about its signs. When the slave woman gives birth to her mistress that is one of its signs. When the shepherds compete in constructing tall buildings that is one of its signs. And there are five things which no one knows except Allah.' Then the Messenger of Allah (ﷺ) recited the Verse: "Verily, Allah, with Him (Alone) is the knowledge of the Hour, He sends down the rain, and knows that which is in the wombs. No person knows what he will earn tomorrow, and no person knows in what land he will die. Verily, Allah is All-Knower, All-Aware (of things)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن لوگوں میں باہر بیٹھے تھے کہ ایک آدمی آپ کے پاس آیا، اور اس نے کہا: اللہ کے رسول! ایمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تم اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، اس سے ملاقات اور یوم آخرت پر ایمان رکھو ۱؎۔ اس نے پوچھا: اللہ کے رسول! اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کرو، فرض نماز قائم کرو، فرض زکاۃ ادا کرو، اور رمضان کے روزے رکھو ۔ اس نے کہا: اللہ کے رسول! احسان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: احسان یہ ہے کہ اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو، اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ہو تو یہ سمجھو کہ وہ تمہیں ضرور دیکھ رہا ہے ۔ اس نے پوچھا: اللہ کے رسول! قیامت کب آئے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے پوچھ رہے ہو وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا، لیکن میں تم کو اس کی نشانیاں بتاؤں گا: جب لونڈی اپنی مالکن کو جنے تو یہ اس کی نشانیوں میں سے ہے، اور جب بکریوں کے چرواہے اونچی اونچی عمارتوں پر فخر و مسابقت کریں تو یہ اس کی نشانیوں میں سے ہے، قیامت کی آمد ان پانچ چیزوں میں سے ایک ہے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی: «إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث ويعلم ما في الأرحام وما تدري نفس ماذا تكسب غدا وما تدري نفس بأي أرض تموت إن الله عليم خبير» بیشک اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے، وہی بارش نازل فرماتا ہے، اور ماں کے پیٹ میں جو ہے اسے وہی جانتا ہے، کوئی نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کرے گا، نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ وہ کس سر زمین میں مرے گا، اللہ ہی علیم ( پورے علم والا ) اور خبیر ( خبر رکھنے والا ہے ) ( سورة لقمان: 34 ) ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ صَلَّى فِي مَسْجِدٍ جَمَاعَةً أَرْبَعِينَ لَيْلَةً لاَ تَفُوتُهُ الرَّكْعَةُ الأُولَى مِنْ صَلاَةِ الْعِشَاءِ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا عِتْقًا مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Umar bin Khattab that:The Prophet used to say: "Whoever performs prayer in congregation at the mosque for forty nights, never missing the first Rak'ah of the 'Isha' prayer, Allah will thereby decree for him salvation from the Fire
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: جس شخص نے مسجد میں چالیس دن تک جماعت کے ساتھ نماز پڑھی، اور نماز عشاء کی پہلی رکعت فوت نہ ہوئی، تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلہ میں اس کے لیے جہنم سے آزادی لکھ دے گا ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلاَةِ، وَإِذَا رَكَعَ ‏.‏
It was narrated from Anas that the Messenger of Allah (ﷺ) used to raise his hands when he entered prayer, and when he bowed in Ruku’
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں داخل ہوتے، اور جب رکوع کرتے، تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے تھے ( یعنی رفع یدین کرتے ) ۔