حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَرَأَ عَلَى الْجِنَازَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ .
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Prophet (ﷺ) recited the Opening of the Book (Al-Fatihah) in the funeral prayer
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ میں سورۃ فاتحہ پڑھی ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ الْقَطَوَانِيُّ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ صِيَامَ لِمَنْ لَمْ يَفْرِضْهُ مِنَ اللَّيْلِ " .
It was narrated from Hafsah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"There is no fast for the one who did not make it incumbent upon himself from the night before
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کا روزی نہیں جو رات ہی میں اس کی نیت نہ کر لے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَأَى عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَثَرَ صُفْرَةٍ فَقَالَ " مَا هَذَا أَوْ مَهْ " . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ . فَقَالَ " بَارَكَ اللَّهُ لَكَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ " .
It was narrated from Anas bin Malik:the Prophet saw traces of yellow perfume on 'Abdur-Rahmaan bin 'Awf, and he asked him “What is this?” He said: “O Messenger of Allah, I married a women for the weight of a Nawah (Stone) of gold. He said: “May Allah bless you. Give a feast even if it is only with one sheep.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ( کے جسم ) پر پیلے رنگ کے اثرات دیکھے، تو پوچھا: یہ کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے ایک عورت سے گٹھلی کے برابر سونے کے عوض شادی کر لی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:«بارك الله لك أولم ولو بشاة» اللہ تمہیں برکت دے ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری سے ہی کیوں نہ ہو ۱؎۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُذَيْنَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ خَيَّرَ بَرِيرَةَ .
It was narrated from Abu Hurairah that:the Messenger of Allah (ﷺ) gave Barirah the choice
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو اختیار دیا ( کہ وہ اپنے شوہر مغیث کی زوجیت میں رہیں یا نہ رہیں ) ۔
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ يَحْيَى أَبُو الْخَطَّابِ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ سُعَيْرٍ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَنْ أَقَالَ مُسْلِمًا أَقَالَهُ اللَّهُ عَثْرَتَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:Whoever agrees with a Muslim to cancel a transaction Allah will forgive his sins on the Day of Resurrection
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کے اقالے کو مان لے ( یعنی اس کے ساتھ بیع کے فسخ پر راضی ہو جائے ) تو اللہ تعالیٰ ( اس احسان کے بدلہ میں ) قیامت کے دن اس کے گناہوں کو مٹا دے گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْهَرَوِيُّ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَكِّيُّ، أَخْبَرَنِي قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالشَّاهِدِ وَالْيَمِينِ .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:“The Messenger of Allah (ﷺ) passed judgement on the basis of a witness along with an oath by the claimant
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ اور ( مدعی کی ) قسم سے فیصلہ فرمایا
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ نَامَ فِي الْمَسْجِدِ وَتَوَسَّدَ رِدَاءَهُ فَأُخِذَ مِنْ تَحْتِ رَأْسِهِ فَجَاءَ بِسَارِقِهِ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُقْطَعَ فَقَالَ صَفْوَانُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أُرِدْ هَذَا رِدَائِي عَلَيْهِ صَدَقَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَهَلاَّ قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ " .
It was narrated from Abdullah bin Safwan that :his father slept in the mosque, using his upper wrap as a pillow, and it was taken from beneath his head. He brought the thief to the Prophet (ﷺ) and the Prophet (ﷺ) ordered that his hand be cut off. Safwan said: “O Messenger of Allah , (ﷺ) I did not want this! I give my upper wrap to him in charity.” The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Why did you not give it to him before you brought him to me?”
صفوان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ مسجد میں سو گئے، اور اپنی چادر کو تکیہ بنا لیا، کسی نے ان کے سر کے نیچے سے اسے نکال لیا، وہ چور کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کاٹے جانے کا حکم دیا، صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میرا مقصد یہ نہ تھا، میری چادر اس کے لیے صدقہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے آخر میرے پاس اسے لانے سے پہلے ایسا کیوں نہیں کیا ؟ ۱؎۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ، حَدَّثَنِي أَبُو لَيْلَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ رِجَالٍ، مِنْ كُبَرَاءِ قَوْمِهِ أَنَّ عَبْدَ، اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ وَمُحَيِّصَةَ خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ مِنْ جَهْدٍ أَصَابَهُمْ فَأُتِيَ مُحَيِّصَةُ فَأُخْبِرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ قَدْ قُتِلَ وَأُلْقِيَ فِي فَقِيرٍ أَوْ عَيْنٍ بِخَيْبَرَ فَأَتَى يَهُودَ فَقَالَ أَنْتُمْ وَاللَّهِ قَتَلْتُمُوهُ . قَالُوا وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ . ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى قَوْمِهِ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُمْ ثُمَّ أَقْبَلَ هُوَ وَأَخُوهُ حُوَيِّصَةُ وَهُوَ أَكْبَرُ مِنْهُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ فَذَهَبَ مُحَيِّصَةُ يَتَكَلَّمُ وَهُوَ الَّذِي كَانَ بِخَيْبَرَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِمُحَيِّصَةَ " كَبِّرْ كَبِّرْ " . يُرِيدُ السِّنَّ فَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ ثُمَّ تَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِمَّا أَنْ يَدُوا صَاحِبَكُمْ وَإِمَّا أَنْ يُؤْذِنُوا بِحَرْبٍ " . فَكَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَيْهِمْ فِي ذَلِكَ فَكَتَبُوا إِنَّا وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِحُوَيِّصَةَ وَمُحَيِّصَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ " تَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ " . قَالُوا لاَ . قَالَ " فَتَحْلِفُ لَكُمْ يَهُودُ " . قَالُوا لَيْسُوا بِمُسْلِمِينَ فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ عِنْدِهِ فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِائَةَ نَاقَةٍ حَتَّى أُدْخِلَتْ عَلَيْهِمُ الدَّارَ فَقَالَ سَهْلٌ فَلَقَدْ رَكَضَتْنِي مِنْهَا نَاقَةٌ حَمْرَاءُ .
It was narrated from Sahl bin Abu Hathmah from the elders of his people that :'Abdullah bin Sahl and Muhayyishah set out for Khaibar because of some problem that had arisen. Someone came to Muhayyishah, and he told him that Abdullah bin Sahl had been killed and thrown into a pit or well in Khaibar. He came to the Jews and said: “By Allah, you killed him.” They said: “By Allah, we did not kill him.” Then he went back to his people and told them about that. Then he and his brother Huwayyisah, who was older than him, and 'Abdur-Rahman bin Sahl, came (to the Prophet (ﷺ)). Muhayyisah, who was the one who had been at Khaibar, went and he began to speak, but the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Let the elder speak first.” So Huwayyisah spoke, then Muhayyisah spoke. The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Either (the Jews) will pay the blood money for your companion, or war will be declared on them.” The Messenger of Allah (ﷺ) sent a letter to that effect (to the Jews) and they wrote back saying: “By Allah, we did not kill him.” The Messenger of Allah (ﷺ) said to Huwayyisah, Muhayyisah and Abdur-Rahman: “Will you swear an oath establishing your claim to the blood money of your companion?” They said: “No” He said: “Should the Jews swear an oath for you?” They said: “They are not Muslims.” So the Messenger of Allah (ﷺ) paid the blood money himself, and he sent one hundred she-camels to them and some of them entered the house. Sahl said: “A red she-camels from among them kicked me.”
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے بزرگوں سے روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ رضی اللہ عنہما دونوں محتاجی کی وجہ سے جو ان کو لاحق تھی ( روزگار کی تلاش میں ) اس یہودی بستی خیبر کی طرف نکلے، محیصہ رضی اللہ عنہ کو خبر ملی کہ عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ قتل کر دئیے گئے ہیں، اور انہیں خیبر کے ایک گڑھے یا چشمے میں ڈال دیا گیا ہے، وہ یہودیوں کے پاس گئے، اور کہا: اللہ کی قسم، تم لوگوں نے ہی ان ( عبداللہ بن سہل ) کو قتل کیا ہے، وہ قسم کھا کر کہنے لگے کہ ہم نے ان کا قتل نہیں کیا ہے، اس کے بعد محیصہ رضی اللہ عنہ خیبر سے واپس اپنی قوم کے پاس پہنچے، اور ان سے اس کا ذکر کیا، پھر وہ، ان کے بڑے بھائی حویصہ، اور عبدالرحمٰن بن سہل رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور محیصہ رضی اللہ عنہ جو کہ خیبر میں تھے بات کرنے بڑھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محیصہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: بڑے کا لحاظ کرو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد عمر میں بڑے سے تھی چنانچہ حویصہ رضی اللہ عنہ نے گفتگو کی، اور اس کے بعد محیصہ رضی اللہ عنہ نے، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: یا تو یہود تمہارے آدمی کی دیت ادا کریں ورنہ اس کو اعلان جنگ سمجھیں اور یہود کو یہ بات لکھ کر بھیج دی، انہوں نے بھی جواب لکھ بھیجا کہ اللہ کی قسم، ہم نے ان کو قتل نہیں کیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حویصہ، محیصہ اور عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہم سے کہا: تم قسم کھا کر اپنے ساتھی کی دیت کے مستحق ہو سکتے ہو ، انہوں نے انکار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر یہود قسم کھا کر بری ہو جائیں گے وہ کہنے لگے: وہ تو مسلمان نہیں ہیں، ( کیا ان کی قسم کا اعتبار کیا جائے گا ) آخر کار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کی دیت ادا کی، اور ان کے لیے سو اونٹنیاں بھیجیں جنہیں ان کے گھر میں داخل کر دیا گیا۔ سہل رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک لال اونٹنی نے مجھے لات ماری۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِنَفَرٍ يَرْمُونَ فَقَالَ " رَمْيًا بَنِي إِسْمَاعِيلَ فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا " .
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“The Prophet (ﷺ) passed by some people who were shooting (arrows) and said: ‘Shoot, Banu Isma’il, for your father was an archer.’”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو تیر اندازی کر رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسماعیل کی اولاد! تیر اندازی کرو، تمہارے والد ( اسماعیل ) بڑے تیر انداز تھے ۱؎۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ الرَّازِيُّ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لَيَأْتِيَنَّ هَذَا الْحَجَرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَهُ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا وَلِسَانٌ يَنْطِقُ بِهِ يَشْهَدُ عَلَى مَنْ يَسْتَلِمُهُ بِحَقٍّ " .
It was narrated that Sa’eed bin Jubair said:I heard Ibn ‘Abbas say: The Messenger of Allah (ﷺ) said: “This Stone will be brought on the Day of Resurrection, and it will be given two eyes with which to see, and a tongue with which to speak, and it will bear witness for those who touched it in sincerity.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ پتھر قیامت کے دن آئے گا اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے وہ دیکھ رہا ہو گا، ایک زبان ہو گی جس سے وہ بول رہا ہو گا، اور گواہی دے گا اس شخص کے حق میں جس نے حق کے ساتھ اسے چھوا ہو گا ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ زُهَيْرٍ، قَالَ قَالَ سَالِمٌ سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يَقُولُ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِيَّاكُمْ وَالتَّعْرِيسَ عَلَى جَوَادِّ الطَّرِيقِ وَالصَّلاَةَ عَلَيْهَا فَإِنَّهَا مَأْوَى الْحَيَّاتِ وَالسِّبَاعِ وَقَضَاءَ الْحَاجَةِ عَلَيْهَا فَإِنَّهَا مِنَ الْمَلاَعِنِ " .
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said:"The Messenger of Allah said: 'Beware of stopping to rest and praying in the middle of the road, for it is the refuge of snakes and carnivorous animals, and beware of relieving yourselves in the middle of the road, for this is an act that provokes curses
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیچ راستے میں رات کو پڑاؤ ڈالنے اور نماز پڑھنے سے بچو، اس لیے کہ وہ سانپوں اور درندوں کے باربار آنے اور جانے کا راستہ ہے، اور وہاں قضائے حاجت سے بھی بچو اس لیے کہ یہ لعنت کے اسباب میں سے ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَقَدْ كُنَّا نَرْفَعُ الْكُرَاعَ فَيَأْكُلُهُ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بَعْدَ خَمْسَ عَشْرَةَ مِنَ الأَضَاحِيِّ .
It was narrated that ‘Aishah said:“We used to store trotters and the Messenger of Allah (ﷺ) would eat them fifteen days after the sacrifice.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم لوگ قربانی کے گوشت میں سے پائے اکٹھا کر کے رکھ دیتے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پندرہ روز کے بعد انہیں کھایا کرتے تھے
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ مَرَرْنَا عَلَى بِرْكَةٍ فَجَعَلْنَا نَكْرَعُ فِيهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ تَكْرَعُوا وَلَكِنِ اغْسِلُوا أَيْدِيَكُمْ ثُمَّ اشْرَبُوا فِيهَا فَإِنَّهُ لَيْسَ إِنَاءٌ أَطْيَبَ مِنَ الْيَدِ " .
It was narrated that Ibn ‘Umar said:“We passed by a pond and we started to lap up water from it. The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Do not lap up the water, rather wash your hands then drink from them, for there is no better vessel than the hand.’”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک حوض کے پاس سے ہمارا گزر ہوا تو ہم منہ لگا کے پانی پینے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: منہ لگا کر پانی نہ پیو، بلکہ اپنے ہاتھوں کو دھو لو پھر ان سے پیو، اس لیے کہ ہاتھ سے زیادہ پاکیزہ کوئی برتن نہیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ حُصَيْنٍ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ أَبِي سَعْدِ الْخَيْرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " مَنِ اكْتَحَلَ فَلْيُوتِرْ مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لاَ فَلاَ حَرَجَ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:“Whoever applies kohl, let him do it an odd number of times. Whoever does that has done well, and whoever does not, it does not matter.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص سرمہ لگائے تو طاق لگائے، اگر ایسا کرے گا تو بہتر ہو گا، اور اگر نہ کیا تو حرج کی بات نہیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ يُسْتَمْتَعَ بِجُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ .
It was narrated that ‘Aishah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) commanded that use should be made of the skins of dead animals, if they were tanned.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا: جب مردہ جانوروں کی کھال کو دباغت دے دی جائے، تو لوگ ا سے فائدہ اٹھائیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ زَمْعَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ وَهْبِ بْنِ عَبْدِ بْنِ زَمْعَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبِ بْنِ زَمْعَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ فِي تِجَارَةٍ إِلَى بُصْرَى قَبْلَ مَوْتِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِعَامٍ وَمَعَهُ نُعَيْمَانُ وَسُوَيْبِطُ بْنُ حَرْمَلَةَ وَكَانَا شَهِدَا بَدْرًا وَكَانَ نُعَيْمَانُ عَلَى الزَّادِ وَكَانَ سُوَيْبِطٌ رَجُلاً مَزَّاحًا فَقَالَ لِنُعَيْمَانَ أَطْعِمْنِي . قَالَ حَتَّى يَجِيءَ أَبُو بَكْرٍ . قَالَ فَلأُغِيظَنَّكَ . قَالَ فَمَرُّوا بِقَوْمٍ فَقَالَ لَهُمْ سُوَيْبِطٌ تَشْتَرُونَ مِنِّي عَبْدًا لِي قَالُوا نَعَمْ . قَالَ إِنَّهُ عَبْدٌ لَهُ كَلاَمٌ وَهُوَ قَائِلٌ لَكُمْ إِنِّي حُرٌّ . فَإِنْ كُنْتُمْ إِذَا قَالَ لَكُمْ هَذِهِ الْمَقَالَةَ تَرَكْتُمُوهُ فَلاَ تُفْسِدُوا عَلَىَّ عَبْدِي . قَالُوا لاَ بَلْ نَشْتَرِيهِ مِنْكَ . فَاشْتَرَوْهُ مِنْهُ بِعَشْرِ قَلاَئِصَ ثُمَّ أَتَوْهُ فَوَضَعُوا فِي عُنُقِهِ عِمَامَةً أَوْ حَبْلاً . فَقَالَ نُعَيْمَانُ إِنَّ هَذَا يَسْتَهْزِئُ بِكُمْ وَإِنِّي حُرٌّ لَسْتُ بِعَبْدٍ . فَقَالُوا قَدْ أَخْبَرَنَا خَبَرَكَ . فَانْطَلَقُوا بِهِ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَأَخْبَرُوهُ بِذَلِكَ . قَالَ فَاتَّبَعَ الْقَوْمَ وَرَدَّ عَلَيْهِمُ الْقَلاَئِصَ وَأَخَذَ نُعَيْمَانَ . قَالَ فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَأَخْبَرُوهُ . قَالَ فَضَحِكَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَأَصْحَابُهُ مِنْهُ حَوْلاً .
It was narrated that Umm Salamah said:"Abu Bakr went out to trade in Busra, one year before the Prophet (ﷺ) died, and with him were Nu`aiman and Suwaibit the sons of Harmalah, who had been present at Badr. Nu`aiman was in charge of the provisions, and Suwaibit was a man who joked a lot. He said to Nu`aiman: 'Feed me'. He said: 'Not until Abu Bakr comes'. He said: 'Then I will have to annoy you'. Then they passed by some people, and Suwaibit said to them: 'Will you buy a slave from me?' They said: 'Yes'. He said 'He is a slave who talks a lot and he will tell you, "I am a free man". If you are going to let him go when he says that to you, do not bother buying him.' They said: 'We will buy him from you.' So they bought him from him in return for ten young she-camels, then they brought him and tied a turban or a rope around his neck. Nu`aiman said: 'This man is making fun of you. I am a free man, not a slave.' They said: 'He has already told us about you; and they took him off.' Then Abu Bakr came and he (Suwaibit) told him about that. So he followed those people and returned their camels to them, and took Nu`aiman back. When they came to the Prophet (ﷺ) they told him what had happened, and the Prophet (ﷺ) and his companions laughed about it for a year
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے ایک سال پہلے بصریٰ تجارت کے لیے گئے، ان کے ساتھ نعیمان اور سویبط بن حرملہ ( رضی اللہ عنہما ) بھی تھے، یہ دونوں بدری صحابی ہیں، نعیمان رضی اللہ عنہ کھانے پینے کی چیزوں پر متعین تھے، سویبط رضی اللہ عنہ ایک پر مذاق آدمی تھے، انہوں نے نعیمان رضی اللہ عنہ سے کہا: مجھے کھانا کھلاؤ، نعیمان رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آنے دیجئیے، سویبط رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تمہیں غصہ دلا کر پریشان کروں گا، پھر وہ لوگ ایک قوم کے پاس سے گزرے تو سویبط رضی اللہ عنہ نے اس قوم کے لوگوں سے کہا: تم مجھ سے میرے ایک غلام کو خریدو گے؟ انہوں نے کہا: ہاں، سویبط رضی اللہ عنہ کہنے لگے: وہ ایک باتونی غلام ہے وہ یہی کہتا رہے گا کہ میں آزاد ہوں، تم اس کی باتوں میں آ کر اسے چھوڑ نہ دینا، ورنہ میرا غلام خراب ہو جائے گا، انہوں نے جواب دیا: وہ غلام ہم تم سے خرید لیں گے، الغرض ان لوگوں نے دس اونٹنیوں کے عوض وہ غلام خرید لیا، پھر وہ لوگ نعیمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور ان کی گردن میں عمامہ باندھا یا رسی ڈالی تو نعیمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اس نے ( یعنی سویبط نے ) تم سے مذاق کیا ہے، میں تو آزاد ہوں، غلام نہیں ہوں، لوگوں نے کہا: یہ تمہاری عادت ہے، وہ پہلے ہی بتا چکا ہے ( کہ تم باتونی ہو ) ، الغرض وہ انہیں پکڑ کر لے گئے، اتنے میں ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے، تو لوگوں نے انہیں اس واقعے کی اطلاع دی، وہ اس قوم کے پاس گئے اور ان کے اونٹ دے کر نعیمان کو چھڑا لائے، پھر جب یہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( مدینہ ) آئے تو آپ اور آپ کے صحابہ سال بھر اس واقعے پر ہنستے رہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ الْمِقْدَامِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ إِذَا رَأَى سَحَابًا مُقْبِلاً مِنْ أُفُقٍ مِنَ الآفَاقِ تَرَكَ مَا هُوَ فِيهِ وَإِنْ كَانَ فِي صَلاَتِهِ حَتَّى يَسْتَقْبِلَهُ فَيَقُولُ " اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا أُرْسِلَ بِهِ " . فَإِنْ أَمْطَرَ قَالَ " اللَّهُمَّ سَيْبًا نَافِعًا " . مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثَةً وَإِنْ كَشَفَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَمْ يُمْطِرْ حَمِدَ اللَّهَ عَلَى ذَلِكَ .
‘Aishah narrated that when the Prophet (ﷺ) saw a cloud approaching from any horizon, he would stop what he was doing, even if he was praying, and turn to face it, then he would say:“Allahumma inna na’udhu bika min sharri ma ursila bihi (O Allah, we seek refuge with You from the evil of that with which it is sent).” Then if it rained he would say: “Allahumma sayyiban nafi’an (O Allah, a beneficial rain),” two or three times. And if Allah dispelled it and it did not rain, he would praise Allah for that
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب آسمان کے کسی کنارے سے اٹھتے بادل کو دیکھتے تو جس کام میں مشغول ہوتے اسے چھوڑ دیتے، یہاں تک کہ اگر نماز میں ( بھی ) ہوتے تو بادل کی طرف چہرہ مبارک کرتے، اور یہ دعا ما نگتے: «اللهم إنا نعوذ بك من شر ما أرسل به» اے اللہ ہم تیری پناہ مانگتے ہیں اس چیز کے شر سے جو اس کے ساتھ بھیجی گئی ہے پھر اگر بارش شروع ہو جاتی تو فرماتے: «اللهم سيبا نافعا» اے اللہ جاری اور فائدہ دینے والا پانی عنایت فرما ، دو یا تین مرتبہ یہی الفاظ دہراتے اور اگر اللہ تعالیٰ بادل ہٹا دیتا اور بارش نہ ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر اللہ کا شکر ادا کرتے ۱؎۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ الإِسْلاَمَ بَدَأَ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ غَرِيبًا فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ " . قَالَ قِيلَ وَمَنِ الْغُرَبَاءُ قَالَ النُّزَّاعُ مِنَ الْقَبَائِلِ .
It was narrated from ‘Abdullah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Islam began as something strange and will go back to being strange, so glad tidings to the strangers.” It was said: “Who are the strangers?’ He said: “Strangers who have left their families and tribes.”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام اجنبی حالت میں شروع ہوا، عنقریب پھر اجنبی بن جائے گا، لہٰذا ایسے وقت میں اس پر قائم رہنے والے اجنبیوں کے لیے خوشخبری ہے، آپ سے سوال کیا گیا: غرباء کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگ ہیں جو اپنے قبیلے سے نکال دئیے گئے ہوں ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، عَنْ أَبِيهِ، سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُنِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بَنَيْتُ بَيْتًا يُكِنُّنِي مِنَ الْمَطَرِ وَيُكِنُّنِي مِنَ الشَّمْسِ مَا أَعَانَنِي عَلَيْهِ خَلْقُ اللَّهِ تَعَالَى .
It was narrated that Ibn ‘Umar said:“I had built a house to shelter me from the rain and the sun, during the time of Allah’s Messenger (ﷺ), and no creature of Allah helped me in building it.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دیکھا کہ میں نے ایک گھر بنایا جو مجھے بارش اور دھوپ سے بچائے، اور اللہ کی مخلوق نے میری اس میں ( گھر بنانے میں ) کوئی مدد نہیں کی تھی۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ كَهْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَجَاءَ رَجُلٌ شَدِيدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ شَدِيدُ سَوَادِ شَعَرِ الرَّأْسِ لاَ يُرَى عَلَيْهِ أَثَرُ السَّفَرِ وَلاَ يَعْرِفُهُ مِنَّا أَحَدٌ . قَالَ فَجَلَسَ إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَأَسْنَدَ رُكْبَتَهُ إِلَى رُكْبَتِهِ وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ . ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ مَا الإِسْلاَمُ قَالَ " شَهَادَةُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَإِقَامُ الصَّلاَةِ وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ وَصَوْمُ رَمَضَانَ وَحَجُّ الْبَيْتِ " . قَالَ صَدَقْتَ . فَعَجِبْنَا مِنْهُ يَسْأَلُهُ وَيُصَدِّقُهُ . ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ مَا الإِيمَانُ قَالَ " أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلاَئِكَتِهِ وَرُسُلِهِ وَكُتُبِهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ " . قَالَ صَدَقْتَ . فَعَجِبْنَا مِنْهُ يَسْأَلُهُ وَيُصَدِّقُهُ . ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ مَا الإِحْسَانُ قَالَ " أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنَّكَ إِنْ لاَ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ " . قَالَ فَمَتَى السَّاعَةُ قَالَ " مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ " . قَالَ فَمَا أَمَارَتُهَا قَالَ " أَنْ تَلِدَ الأَمَةُ رَبَّتَهَا " . قَالَ وَكِيعٌ يَعْنِي تَلِدُ الْعَجَمُ الْعَرَبَ " وَأَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ رِعَاءَ الشَّاءِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبِنَاءِ " . قَالَ ثُمَّ قَالَ فَلَقِيَنِي النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بَعْدَ ثَلاَثٍ فَقَالَ " أَتَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ " . قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ " ذَاكَ جِبْرِيلُ أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ مَعَالِمَ دِينِكُمْ " .
It was narrated that 'Umar said:"We were sitting with the Prophet (ﷺ) when a man came to him whose clothes were intensely white and whose hair was intensely black; no signs of travel could be seen upon him, and none of us recognized him. He sat down facing the Prophet (ﷺ), with his knees touching his, and he put his hands on his thighs, and said: 'O Muhammad, what is Islam?' He said: 'To testify that none has the right to be worshipped but Allah, and that I am the Messenger of Allah, to establish regular prayer, to pay Zakat, to fast in Ramadan, and to perform Hajj to the House (the Ka'bah).' He said: 'You have spoken the truth.' We were amazed by him: He asked a question, then told him that he had spoken the truth. Then he said: 'O Muhammad, what is Iman faith? He said: 'To believe in Allah, His angels, His Messengers, His books, the Last day, and the Divine Decree (Qadar), both the good of it and the bad of it.' He said' You have spoken the truth.' We were amazed by him. He asked a question, then told him that he had spoken the truth. Then he said: 'O Muhammad, what is Ihsan (right action, goodness, sincerity)? He said: 'To worship Allah as if you see Him, for even though you do not see Him, He sees you.' He asked: "When will the Hour be?' He said: 'The one who is being asked about it does not know more than the one who is asking.' He asked: 'Then what are its signs?' he said: 'When the slave woman gives birth to her mistress' (Waki' said: This means when non-Arabs will give birth to Arabs") 'and when you see barefoot, naked, destitute shepherds competing in constructing tall buildings.' The Prophet (ﷺ) met me three days later and asked me: 'Do you know who that man was? I said" 'Allah and his Messenger know best.' He said: 'That was Jibril, who came to you to teach you your religion
عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک شخص آیا، جس کے کپڑے انتہائی سفید اور سر کے بال نہایت کالے تھے، اس پہ سفر کے آثار ظاہر نہیں تھے، اور ہم میں سے کوئی اسے پہچانتا بھی نہ تھا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا، اور اپنا گھٹنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنے سے ملا لیا، اور اپنے دونوں ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں ران پر رکھا، پھر بولا: اے محمد! اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں اللہ کا رسول ہوں، نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا، اور خانہ کعبہ کا حج کرنا ، اس نے کہا: آپ نے سچ فرمایا، تو ہمیں تعجب ہوا کہ خود ہی سوال کر رہا ہے، اور خود ہی جواب کی تصدیق بھی۔ پھر اس نے کہا: اے محمد! ایمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تم اللہ اور اس کے فرشتوں، اس کے رسولوں، اس کی کتابوں، یوم آخرت، اور بھلی بری تقدیر پر ایمان رکھو ، اس نے کہا: آپ نے سچ فرمایا، تو ہمیں تعجب ہوا کہ خود ہی سوال کر رہا ہے، اور خود ہی جواب کی تصدیق بھی۔ پھر اس نے کہا: اے محمد! احسان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو، اگر تم اس کو نہیں دیکھتے ہو تو یقین رکھو کہ وہ تم کو ضرور دیکھ رہا ہے ۔ پھر اس نے پوچھا: قیامت کب آئے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے پوچھ رہے ہو، وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا ۱؎۔ پھر اس نے پوچھا: اس کی نشانیاں کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لونڈی اپنے مالکن کو جنے گی ( وکیع راوی حدیث نے کہا: یعنی عجمی عورتیں عرب کو جنیں گی ) ۲؎ اور تم ننگے پاؤں، ننگے بدن، فقیر و محتاج بکریوں کے چرواہوں کو دیکھو گے کہ وہ بڑی بڑی کوٹھیوں اور محلات کے بنانے میں فخر و مسابقت سے کام لیں گے ۔ راوی کہتے ہیں: پھر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے تین دن کے بعد ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو وہ شخص کون تھا؟ ، میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ جبرائیل تھے جو تمہیں تمہارے دین کی اہم اور بنیادی باتیں سکھانے آئے تھے ۳؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، أَنْبَأَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ أَثْقَلَ الصَّلاَةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ صَلاَةُ الْعِشَاءِ وَصَلاَةُ الْفَجْرِ وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'The most burdensome prayers for the hypocrites are the 'Isha' prayer and the Fajr prayer. If only they knew what (reward) there is in them, they would come to them even if they had to crawl
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: منافقین پر سب سے بھاری عشاء اور فجر کی نماز ہے، اگر وہ ان دونوں نمازوں کا ثواب جان لیں تو مسجد میں ضرور آئیں گے، خواہ سرین کے بل گھسٹتے ہوئے کیوں نہ آنا پڑے ۔
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَاشِمِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ رِيَاحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ عِنْدَ كُلِّ تَكْبِيرَةٍ .
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) used to raise his hands at every Takbir (saying Allahu Akbar)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر تکبیر کے وقت اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے تھے۔