بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Ibn Majah
6
24 hadith
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ، قَالَ رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ صَلَّى عَلَى جِنَازَةِ رَجُلٍ فَقَامَ حِيَالَ رَأْسِهِ فَجِيءَ بِجِنَازَةٍ أُخْرَى بِامْرَأَةٍ فَقَالُوا يَا أَبَا حَمْزَةَ صَلِّ عَلَيْهَا ‏.‏ فَقَامَ حِيَالَ وَسَطِ السَّرِيرِ فَقَالَ لَهُ الْعَلاَءُ بْنُ زِيَادٍ يَا أَبَا حَمْزَةَ هَكَذَا رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَامَ مِنَ الْجِنَازَةِ مُقَامَكَ مِنَ الرَّجُلِ وَقَامَ مِنَ الْمَرْأَةِ مُقَامَكَ مِنَ الْمَرْأَةِ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا فَقَالَ احْفَظُوا ‏.‏
It was narrated that Abu Ghalib said:“I saw Anas bin Malik offering the funeral prayer for a man, and he stood level with his head. Then another funeral was brought, that of a woman, and they said: ‘O Abu Hamzah! Offer the funeral prayer for her.’ So he stood level with the middle of the bed (the body was upon). ‘Ala’ bin Ziyad said to him: ‘O Abu Hamzah! Is this how you saw the Messenger of Allah (ﷺ) standing in relation to the body of a man and a woman as you have stood?’ He said: ‘Yes.’ Then he turned to us and said: ‘Remember this.’”
ابوغالب کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے ایک آدمی کی نماز جنازہ پڑھائی تو اس کے سر کے سامنے کھڑے ہوئے، پھر ایک دوسرا جنازہ ایک عورت کا لایا گیا، تو لوگوں نے کہا: اے ابوحمزہ! اس کی نماز جنازہ پڑھائیے، تو وہ چارپائی کے بیچ میں کھڑے ہوئے، تو ان سے علاء بن زیاد نے کہا: اے ابوحمزہ! کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح مرد اور عورت کے جنازے میں کھڑے ہوتے ہوئے دیکھا، جس طرح آپ کھڑے ہوئے؟ انہوں نے کہا: ہاں، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور بولے: سب لوگ یاد کر لو۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنِ الرَّبَابِ أُمِّ الرَّائِحِ بِنْتِ صُلَيْعٍ، عَنْ عَمِّهَا، سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ، فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرَةٍ. فَإِنْ لَمْ يَجِدْ، فَلْيُفْطِرْ عَلَى الْمَاءِ. فَإِنَّهُ طَهُورٌ ‏"‏ ‏.‏
Salman bin ‘Amr narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"When any one of you breaks his fast, let him break it with dates. If he cannot find dates, then let him break it with water, for it is a means of purification
سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی افطار کرے تو کھجور سے افطار کرے، اور اگر اسے کھجور نہ ملے تو پانی سے افطار کرے، اس لیے کہ وہ پاکیزہ چیز ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنِ الرَّبَابِ أُمِّ الرَّائِحِ بِنْتِ صُلَيْعٍ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ الصَّدَقَةُ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ وَهِيَ عَلَى ذِي الْقَرَابَةِ اثْنَتَانِ صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ ‏"‏ ‏.‏
Salman bin Amir Dabbi narrated that:the Messenger of Allah said: “Charity given to the poor is charity, and that given to a relative is two things: charity and upholding the ties of kinship.”
سلمان بن عامر ضبی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسکین و فقیر کو صدقہ دینا ( صرف ) صدقہ ہے، اور رشتہ دار کو صدقہ دینا دو چیز ہے، ایک صدقہ اور دوسری صلہ رحمی
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي جُشَمٍ فَقَالُوا بِالرِّفَاءِ وَالْبَنِينَ فَقَالَ لاَ تَقُولُوا هَكَذَا وَلَكِنْ قُولُوا كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ وَبَارِكْ عَلَيْهِمْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from `Aqil bin Abu Talib:that he married a woman from Banu Jusham, and they said: “May you live in harmony and have many sons.” He said: “Do not say that, rather say what the Messenger of Allah said: 'Allahumma barik lahum wa barik `alaihim (O Allah, bless them and bestow blessings upon them).' ”
عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے قبیلہ بنی جشم کی ایک عورت سے شادی کی، تو لوگوں نے ( جاہلیت کے دستور کے مطابق ) یوں کہا:«بالرفاء والبنين» میاں بیوی میں اتفاق رہے اور لڑکے پیدا ہوں تو آپ نے کہا: اس طرح مت کہو، بلکہ وہ کہو، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:«اللهم بارك لهم وبارك عليهم» اے اللہ! ان کو برکت دے اور اس برکت کو قائم و دائم رکھ ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أُمِرَتْ بَرِيرَةُ أَنْ تَعْتَدَّ، بِثَلاَثِ حِيَضٍ ‏.‏
It was narrated that 'Aishah said:"Barirah was told to observe the waiting period for three menstrual cycles
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا گیا کہ وہ تین حیض عدت گزاریں
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الأَخْضَرُ بْنُ عَجْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَسْأَلُهُ فَقَالَ ‏"‏ لَكَ فِي بَيْتِكَ شَىْءٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ بَلَى حِلْسٌ نَلْبَسُ بَعْضَهُ وَنَبْسُطُ بَعْضَهُ وَقَدَحٌ نَشْرَبُ فِيهِ الْمَاءَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ائْتِنِي بِهِمَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَأَتَاهُ بِهِمَا فَأَخَذَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ مَنْ يَشْتَرِي هَذَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمٍ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَنْ يَزِيدُ عَلَى دِرْهَمٍ ‏"‏ ‏.‏ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا قَالَ رَجُلٌ أَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمَيْنِ ‏.‏ فَأَعْطَاهُمَا إِيَّاهُ وَأَخَذَ الدِّرْهَمَيْنِ فَأَعْطَاهُمَا الأَنْصَارِيَّ وَقَالَ ‏"‏ اشْتَرِ بِأَحَدِهِمَا طَعَامًا فَانْبِذْهُ إِلَى أَهْلِكَ وَاشْتَرِ بِالآخَرِ قَدُومًا فَأْتِنِي بِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَفَعَلَ فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَشَدَّ فِيهِ عُودًا بِيَدِهِ وَقَالَ ‏"‏ اذْهَبْ فَاحْتَطِبْ وَلاَ أَرَاكَ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا ‏"‏ ‏.‏ فَجَعَلَ يَحْتَطِبُ وَيَبِيعُ فَجَاءَ وَقَدْ أَصَابَ عَشْرَةَ دَرَاهِمَ فَقَالَ ‏"‏ اشْتَرِ بِبَعْضِهَا طَعَامًا وَبِبَعْضِهَا ثَوْبًا ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ هَذَا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَجِيءَ وَالْمَسْأَلَةُ نُكْتَةٌ فِي وَجْهِكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لاَ تَصْلُحُ إِلاَّ لِذِي فَقْرٍ مُدْقِعٍ أَوْ لِذِي غُرْمٍ مُفْظِعٍ أَوْ دَمٍ مُوجِعٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Anas bin Malik that :a man from among the Ansar came to the Prophet (ﷺ) and begged from him. He said, "Do you have anything in your house?" He said: "Yes, a blanket, part of which we cover ourselves with and part we spread beneath us, and a bowl from which we drink water." He said: "Givethem to me." So he brought them to him, and the Messenger of Allah (ﷺ) took them in his hand and said, "Who will by these two things?" A man said: "I will by them for one Dirham." He said: "Who will offer more than a Dirham?" two or three times. A man said: "I will buy them for two Dirham." So he gave them to him and took the two Dirham, which he gave to the Ansari and said: "Buy food with one of them and give it to your family, and buy an axe with the other and bring it to me." So he did that, and the Messenger of Allah (ﷺ) took it and fixed a handle to it, and said: "Go and gather firewood, and I do not want to see you for fifteen days." So he went and gathered firewood and sold it, then he came back, and he had earned ten Dirham. (The Prophet (ﷺ)) said: "Buy food with some of it and clothes with some." Then he said: "This is better for you than coming with begging (appearing) as a spot on your face on the Day of Resurrection. Begging is only appropriate for one who is extremely poor or who is in severe debt, or one who must pay painful blood money.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، وہ آپ سے کوئی چیز چاہ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تمہارے گھر میں کوئی چیز ہے ؟، اس نے عرض کیا: جی ہاں! ایک کمبل ہے جس کا ایک حصہ ہم اوڑھتے اور ایک حصہ بچھاتے ہیں، اور ایک پیالہ ہے جس سے ہم پانی پیتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ دونوں چیزیں میرے پاس لے آؤ ، وہ گیا، اور ان کو لے آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو اپنے ہاتھ میں لیا پھر فرمایا: انہیں کون خریدتا ہے ؟ ایک شخص بولا: میں یہ دونوں چیزیں ایک درہم میں لیتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک درہم پر کون بڑھاتا ہے ؟ یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین بار فرمایا، ایک شخص بولا: میں انہیں دو درہم میں لیتا ہوں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دونوں چیزیں اس شخص کے ہاتھ بیچ دیں، پھر دونوں درہم انصاری کو دئیے اور فرمایا: ایک درہم کا اناج خرید کر اپنے گھر والوں کو دے دو، اور دوسرے کا ایک کلہاڑا خرید کر میرے پاس لاؤ ، اس نے ایسا ہی کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کلہاڑے کو لیا، اور اپنے ہاتھ سے اس میں ایک لکڑی جما دی اور فرمایا: جاؤ اور لکڑیاں کاٹ کر لاؤ ( اور بیچو ) اور پندرہ دن تک میرے پاس نہ آؤ ، چنانچہ وہ لکڑیاں کاٹ کر لانے لگا اور بیچنے لگا، پھر وہ آپ کے پاس آیا، اور اس وقت اس کے پاس دس درہم تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچھ کا غلہ خرید لو، اور کچھ کا کپڑا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے لیے اس سے بہتر ہے کہ تم قیامت کے دن اس حالت میں آؤ کہ سوال کرنے کی وجہ سے تمہارے چہرے پر داغ ہو، یاد رکھو سوال کرنا صرف اس شخص کے لیے درست ہے جو انتہائی درجہ کا محتاج ہو، یا سخت قرض دار ہو یا تکلیف دہ خون بہا کی ادائیگی میں گرفتار ہو ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ ‏.‏
It was narrated from Jabir that:the Prophet (ﷺ) passed judgement on the basis of an oath (from the claimant) along with a (single) witness
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ اور ( مدعی کی ) قسم سے فیصلہ فرمایا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ ‏.‏
It was narrated that Jabir said:“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade selling surplus water.”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زائد پانی بیچنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلاَ كَثَرٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The hand is not to be cut off for (stealing) produce or the spadix of palm trees.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیاللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھل اور کھجور کا گابھا چرانے سے ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ النَّارُ جُبَارٌ وَالْبِئْرُ جُبَارٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“(The injuries caused by) a fire are without liability, and by falling into a well.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگ بیکار ہے، اور کنواں بیکار ہے ۔
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ نُعَيْمٍ الرُّعَيْنِيِّ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ نَهِيكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ تَعَلَّمَ الرَّمْىَ ثُمَّ تَرَكَهُ فَقَدْ عَصَانِي ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that ‘Uqbah bin ‘Amir Al-Juhani said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘Whoever learns how to shoot (arrows) then abandons it, has disobeyed me.’”
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے تیر اندازی سیکھی پھر اسے چھوڑ دیا، تو اس نے میری نافرمانی کی ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ، قَالَ رَأَيْتُ الأُصَيْلِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يُقَبِّلُ الْحَجَرَ وَيَقُولُ إِنِّي لأُقَبِّلُكَ وَإِنِّي لأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ لاَ تَضُرُّ وَلاَ تَنْفَعُ وَلَوْلاَ أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ ‏.‏
It was narrated that ‘Abdullah bin Sarjis said:“I saw the bald forehead of ‘Umar bin Khattab when he kissed the Black Stone and said: ‘I am kissing you, although I know that you are only a stone and you can neither cause harm nor bring benefit. Had I not seen the Messenger of Allah (ﷺ) kissing you, I would not have kissed you.’”
عبداللہ بن سرجس کہتے ہیں کہ میں نے «اصیلع» یعنی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ حجر اسود کو چوم رہے تھے، اور کہہ رہے تھے: میں تجھے چوم رہا ہوں حالانکہ مجھے معلوم ہے کہ تو ایک پتھر ہے، جو نہ نقصان پہنچا سکتا ہے نہ فائدہ، اور میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے چومتے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے نہ چومتا ۱؎۔
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْحِمْيَرِيَّ، حَدَّثَهُ قَالَ كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يَتَحَدَّثُ بِمَا لَمْ يَسْمَعْ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَيَسْكُتُ عَمَّا سَمِعُوا فَبَلَغَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو مَا يَتَحَدَّثُ بِهِ فَقَالَ وَاللَّهِ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ هَذَا وَأَوْشَكَ مُعَاذٌ أَنْ يَفْتِنَكُمْ فِي الْخَلاَءِ ‏.‏ فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاذًا فَلَقِيَهُ فَقَالَ مُعَاذٌ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو إِنَّ التَّكْذِيبَ بِحَدِيثٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نِفَاقٌ وَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى مَنْ قَالَهُ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏ "‏ اتَّقُوا الْمَلاَعِنَ الثَّلاَثَ الْبَرَازَ فِي الْمَوَارِدِ وَالظِّلِّ وَقَارِعَةِ الطَّرِيقِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Sa'eed Al-Himyari narrated that :Mu'adh bin Jabal used to narrate something that the Companions of the Messenger of Allah had not heard, and he used to keep quiet about what they had heard. News of this report reached 'Abdullah bin 'Amr, and he said: "By Allah, I never heard the Messenger of Allah say this, and Mu'adh will put you into difficulty with regard to relieving yourself." News of that reached Mu'adh, so he met with him ('Abdullah). Mu'adh said: "O 'Abdullah! Denying a Hadith from the Messenger of Allah is hypocrisy, and its sn is upon the one who said it (if it is not true). I did indeed hear the Messenger of Allah say: 'Beware of the three things which provoke curses: Relieving oneself in watering places, in places of shade and in the middle of the street
ابوسعید حمیری بیان کرتے ہیں کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ایسی احادیث بیان کرتے تھے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے نہیں سنی ہوتی تھیں، چنانچہ جو حدیثیں سنی ہوئی ہوتیں ان کے بیان سے خاموش رہتے، عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کو ان کی یہ حالت اور بیان کردہ روایات پہنچیں تو انہوں نے کہا: قسم اللہ کی! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا فرماتے ہوئے نہیں سنا، قریب ہے کہ معاذ تم کو قضائے حاجت کے مسئلے میں فتنے میں مبتلا کر دیں، یہ خبر معاذ رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو وہ ان سے جا کر ملے اور کہا: اے عبداللہ بن عمرو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی حدیث کو جھٹلانا نفاق ہے، اگر کہنے والے نے کوئی بات جھوٹ کہی تو اس کا گناہ اسی پر ہو گا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو واقعی یہ کہتے ہوئے سنا ہے: تین ایسی چیزوں سے بچو جو لعنت کا سبب ہیں: مسافروں کے وارد ہونے کی جگہوں پر، سائے دار درختوں کے نیچے، اور عام راستوں پر قضائے حاجت کرنے سے ۱؎۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ أَتَى النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَجُلٌ فَكَلَّمَهُ فَجَعَلَ تُرْعَدُ فَرَائِصُهُ فَقَالَ لَهُ ‏ "‏ هَوِّنْ عَلَيْكَ فَإِنِّي لَسْتُ بِمَلِكٍ إِنَّمَا أَنَا ابْنُ امْرَأَةٍ تَأْكُلُ الْقَدِيدَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ إِسْمَاعِيلُ وَحْدَهُ وَصَلَهُ ‏.‏
It was narrated that Abu Mas`ud said:“A man came to the Prophet (ﷺ) and his voice trembled out of awe as he spoke to him. The Prophet said to him, “Be calm, for I am not a king. Verily, I am only the son of a woman who ate dried meat.”
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا، آپ نے اس سے گفتگو کی تو ( خوف کی وجہ سے ) اس کے مونڈھے کانپنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: ڈرو نہیں، اطمینان رکھو، میں کوئی بادشاہ نہیں ہوں، میں تو ایک ایسی عورت کا بیٹا ہوں جو سوکھا گوشت کھایا کرتی تھی ۱؎۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں: صرف اسماعیل نے اسے موصول بیان کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَهُوَ يُحَوِّلُ الْمَاءَ فِي حَائِطِهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِنْ كَانَ عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ فِي شَنٍّ فَاسْقِنَا وَإِلاَّ كَرَعْنَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عِنْدِي مَاءٌ بَاتَ فِي شَنٍّ ‏.‏ فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْنَا مَعَهُ إِلَى الْعَرِيشِ فَحَلَبَ لَهُ شَاةً عَلَى مَاءٍ بَاتَ فِي شَنٍّ فَشَرِبَ ثُمَّ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ بِصَاحِبِهِ الَّذِي مَعَهُ ‏.‏
It was narrated that Jabir bin ‘Abdullah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) entered upon a man among the Ansar when he was watering his garden. The Messenger of Allah (ﷺ) said to him: ‘If you have any water that has been kept overnight in a water skin, then give us some to drink, otherwise we will drink by putting out mouths in the basin.’ He said: ‘I have water that has been kept in a water skin. So he went and we went with him, to the shelter, where he milked a sheep for him and (mixed it with) the water that had been kept overnight in a water skin. He drank from it, then he did likewise for his Companion who was with him.”
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے ایک شخص کے پاس تشریف لے گئے، وہ اپنے باغ میں پانی دے رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: اگر تمہارے پاس مشک میں باسی پانی ہو تو ہمیں پلاؤ، ورنہ ہم بہتے پانی میں منہ لگا کر پئیں گے، اس نے جواب دیا: میرے پاس مشک میں باسی پانی ہے، چنانچہ وہ اور اس کے ساتھ ساتھ ہم چھپر کی طرف گئے، تو اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر بکری کا دودھ دوھ کر اس باسی پانی میں ملایا جو مشک میں رکھا ہوا تھا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا، پھر اس نے ایسا ہی آپ کے ساتھ موجود صحابی کے ساتھ کیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ خَيْرُ أَكْحَالِكُمُ الإِثْمِدُ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعَرَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The best of your kohl is antimony, for it improves the eyesight and makes the hair (eyelashes) grow.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہتر سرمہ اثمد کا ہے، وہ نظر ( بینائی ) تیز کرتا، اور بالوں کو اگاتا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ كَانَ لِبَعْضِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ شَاةٌ فَمَاتَتْ فَمَرَّ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَلَيْهَا فَقَالَ ‏ "‏ مَا ضَرَّ أَهْلَ هَذِهِ لَوِ انْتَفَعُوا بِإِهَابِهَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Salman said:“One of the Mothers of the Believers had a sheep that died. The Messenger of Allah (ﷺ) passed by it and said: ‘It would not have harmed its owners if they had made use of its hide.’”
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ امہات المؤمنین میں سے کسی ایک کے پاس ایک بکری تھی جو مر گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس پر گزر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگ اس کی کھال کو کام میں لے آتے تو اس کے مالکوں کو کوئی نقصان نہ ہوتا ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ مِينَاءَ، عَنْ جَوْدَانَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ مَنِ اعْتَذَرَ إِلَى أَخِيهِ بِمَعْذِرَةٍ فَلَمْ يَقْبَلْهَا كَانَ عَلَيْهِ مِثْلُ خَطِيئَةِ صَاحِبِ مَكْسٍ ‏"‏ ‏.‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، - هُوَ ابْنُ مِينَاءَ - عَنْ جَوْدَانَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مِثْلَهُ ‏.‏
It was narrated from Jawdan that the Messenger of Allah(ﷺ) said:"If a man makes an excuse to his bother and he does not accept it, he will bear a burden of sin like that of the tax-collector." A hadith similar to the above has been narrated through a chain differing from the first at the 4th level of narrators
جوذان کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے بھائی سے معذرت کرے، اور پھر وہ اسے قبول نہ کرے تو اسے اتنا ہی گناہ ہو گا جتنا محصول ( ٹیکس ) وصول کرنے والے کو اس کی خطا پر ہوتا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ - وَقَالَ عَبْدُ الرَّحِيمِ يَتَعَوَّذُ - إِذَا سَافَرَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ وَالْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْرِ وَدَعْوَةِ الْمَظْلُومِ وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الأَهْلِ وَالْمَالِ ‏"‏ ‏.‏ وَزَادَ أَبُو مُعَاوِيَةَ فَإِذَا رَجَعَ قَالَ مِثْلَهَا ‏.‏
It was narrated that ‘Abdullah bin Sarjis said:“The Messenger of Allah (ﷺ) used to say” – and (one of the narrators) ‘Abdur-Rahim said: “he used to seek refuge” – “when he traveled: ‘Allahumma inni a’udhu bika min wa’tha’is-safar, wa ka’abatil-munqalab, wal-hawri ba’dal-kawr, wa da’watil-mazlum, wa su’il-manzari fil-ahli wal-mal (O Allah, I seek refuge with You from the hardships of travel and the sorrows of return, from decrease after increase, from the prayer of the one who has been wronged, and seeing some calamity befall my family or wealth).’” (One of the narrators) Abu Mu’awiyah added: “And when he returned he said likewise.”
عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے تو یہ دعا پڑھتے: ( اور عبدالرحیم کی روایت میں ہے کہ آپ پناہ مانگتے تھے ) :«اللهم إني أعوذ بك من وعثاء السفر وكآبة المنقلب والحور بعد الكور ودعوة المظلوم وسوء المنظر في الأهل والمال» اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں سفر کی صعوبتوں اور مشقتوں سے، واپسی کے غم سے، ترقی کے بعد تنزلی سے، اور مظلوم کی بد دعا سے اور اہل و عیال کے سلسلے میں برا منظر دیکھنے سے ۔ اور ابومعاویہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ سفر سے لوٹتے وقت بھی یہی دعا پڑھتے
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَابْنُ، لَهِيعَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ إِنَّ الإِسْلاَمَ بَدَأَ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ غَرِيبًا فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Islam began as something strange and will go back to being strange, so glad tidings to the strangers.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام اجنبی حالت میں شروع ہوا، اور عنقریب پھر اجنبی بن جائے گا، لہٰذا ایسے وقت میں اس پر قائم رہنے والے اجنبیوں کے لیے خوشخبری ہے ۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِقُبَّةٍ عَلَى بَابِ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ ‏"‏ مَا هَذِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا قُبَّةٌ بَنَاهَا فُلاَنٌ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ كُلُّ مَالٍ يَكُونُ هَكَذَا فَهُوَ وَبَالٌ عَلَى صَاحِبِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏ فَبَلَغَ الأَنْصَارِيَّ ذَلِكَ فَوَضَعَهَا فَمَرَّ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بَعْدُ فَلَمْ يَرَهَا فَسَأَلَ عَنْهَا فَأُخْبِرَ أَنَّهُ وَضَعَهَا لِمَا بَلَغَهُ عَنْكَ فَقَالَ ‏"‏ يَرْحَمُهُ اللَّهُ يَرْحَمُهُ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Anas said:“The Messenger of Allah (ﷺ) passed by a dome-shaped structure at the door of a man among the Ansar and said: ‘What is this? ‘They said: ‘A dome that was built by so-and-so.’ The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘All wealth that is like this (extravagant) will bring evil consequences to its owner on the Day of Resurrection.’ News of that reached the Ansari, so he demolished it. Then the Prophet (ﷺ) passed by (that place) later on and did not see it. He asked about it and was told that its owner had demolished it because of what he had heard from him. He said: ‘May Allah have mercy on him, may Allah have mercy on him.’”
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری کے دروازے پر بنے گنبد پر سے گزرے، تو سوال کیا: یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا: یہ گول گھر ہے، اس کو فلاں نے بنایا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مال اس طرح خرچ ہو گا، وہ اپنے مالک کے لیے روز قیامت وبال ہو گا، انصاری کو اس کی خبر پہنچی، تو اس نے اس گھر کو ڈھا دیا، جب دوبارہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے گزرے، تو دیکھا کہ وہاں وہ بنگلہ نہیں ہے، تو اس کے بارے میں سوال فرمایا تو بتایا گیا کہ جب اس کو آپ کی کہی ہوئی بات کی خبر پہنچی، تو اس نے اسے ڈھا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے، اللہ اس پر رحم کرے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ نِزَارٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ صِنْفَانِ مِنْ هَذِهِ الأُمَّةِ لَيْسَ لَهُمَا فِي الإِسْلاَمِ نَصِيبٌ الْمُرْجِئَةُ وَالْقَدَرِيَّةُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'There are two types of people among this Ummah who have no share of Islam: The Murji'ah and the Qadariyyah
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس امت کے دو گروہ ایسے ہوں گے کہ اسلام میں ان کا کوئی حصہ نہیں: ایک مرجیہ ۱؎ اور دوسرا قدریہ ( منکرین قدر ) ۲؎۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ، حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي صَلاَةِ الْعِشَاءِ وَصَلاَةِ الْفَجْرِ لأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا ‏"‏ ‏.‏
Aishah said:"The Messenger of Allah said: 'If the people knew what (reward) there is in the 'Isha' prayer and fajr prayer, they would come even if they had to crawl
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگوں کو عشاء اور فجر کی نماز کا ثواب معلوم ہو جائے، تو وہ ان دونوں نمازوں میں ضرور آئیں، خواہ سرین کے بل گھسٹتے ہوئے کیوں نہ آنا پڑے ۱؎۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو أَيُّوبَ الْهَاشِمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاَةِ الْمَكْتُوبَةِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَإِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ ‏.‏
It was narrated that ‘Ali bin Abu Talib said:“When the Prophet (ﷺ) stood up to offer a prescribed prayer, he said Allahu Akbar and raised his hands until they were parallel to his shoulders. When he wanted to bow he did likewise; when he raised his head from bowing he did likewise; and when he stood up after the two prostrations he did likewise.”
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو «ألله أكبر» کہتے، اور اپنے دونوں ہاتھ مونڈھوں کے مقابل اٹھاتے، اور جب رکوع کا ارادہ کرتے تو اسی طرح کرتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اسی طرح کرتے ( یعنی رفع یدین کرتے ) ، اور جب دو سجدوں ( یعنی رکعتوں کے بعد ) اٹھتے تو اسی طرح کرتے۔