حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ الْحُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ أَخْبَرَنِي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ الأَسْلَمِيِّ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ الْفَزَارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ صَلَّى عَلَى امْرَأَةٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا فَقَامَ وَسَطَهَا .
It was narrated from Samurah bin Jundab Al-Fazari that the Messenger of Allah (ﷺ) offered the funeral prayer for a woman who had died in nifas* and he stood level with her middle (i.e. her waist).” *The postnatal bleeding period
سمرہ بن جندب فزاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کی نماز جنازہ پڑھائی جو زچگی میں مر گئی تھی ۱؎، تو آپ اس کے بیچ میں کھڑے ہوئے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ. عَجِّلُوا الْفِطْرَ، فَإِنَّ الْيَهُودَ يُؤَخِّرُونَ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"The people will remain upon goodness so long as they hasten to break the fast. Hasten to break the fast, for the Jews delay it
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے ہمیشہ خیر میں رہیں گے، تم لوگ افطار میں جلدی کرو اس لیے کہ یہود اس میں دیر کرتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلاَّ سَيُكَلِّمُهُ رَبُّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تَرْجُمَانٌ فَيَنْظُرُ أَمَامَهُ فَتَسْتَقْبِلُهُ النَّارُ وَيَنْظُرُ عَنْ أَيْمَنَ مِنْهُ فَلاَ يَرَى إِلاَّ شَيْئًا قَدَّمَهُ وَيَنْظُرُ عَنْ أَشْأَمَ مِنْهُ فَلاَ يَرَى إِلاَّ شَيْئًا قَدَّمَهُ فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَتَّقِيَ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَلْيَفْعَلْ " .
Adi bin Hatim narrated that:the Messenger of Allah said: “Each one of you will be spoken to by his lord, with no mediator between them. He will look in from of him and the fire will be facing him. He will look to his right and will not see anything but something that he had sent on before. He will look to his left and will not see anything but something that he had sent on before. Whoeever among you can save himself in Fire, even with half a date, let him do so.”
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تم میں سے ہر شخص سے قیامت کے دن کلام کرے گا، اور دونوں کے درمیان کوئی ترجمان نہ ہو گا، وہ اپنے سامنے دیکھے گا تو آگ ہو گی، دائیں جانب دیکھے گا تو اپنے اعمال کے سوا کچھ نہ پائے گا، اور بائیں دیکھے گا تو اپنے اعمال کے سوا ادھر بھی کچھ نہ دیکھے گا، لہٰذا تم میں سے جو جہنم سے بچ سکے تو اپنے بچاؤ کا سامان کرے، اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی صدقہ کر کے ۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ إِذَا رَفَّأَ قَالَ " بَارَكَ اللَّهُ لَكُمْ وَبَارَكَ عَلَيْكُمْ وَجَمَعَ بَيْنَكُمَا فِي خَيْرٍ " .
It was narrated from Abu Hurairah:that the Prophet used to say, when offering congratulations of the occasion of marriage: “Barak Allahu lakum, wa barak 'alaikum, wa jama'a bainakuma fi khair (May Allah bless you and bestow blessings upon you, and bring you together in harmony).”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب شادی کی مبارکباد دیتے تو فرماتے: «بارك الله لكم وبارك عليكم وجمع بينكما في خير» اللہ تم کو برکت دے، اور اس برکت کو قائم و دائم رکھے، اور تم دونوں میں خیر پر اتفاق رکھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَضَى فِي بَرِيرَةَ ثَلاَثُ سُنَنٍ خُيِّرَتْ حِينَ أُعْتِقَتْ وَكَانَ زَوْجُهَا مَمْلُوكًا وَكَانُوا يَتَصَدَّقُونَ عَلَيْهَا فَتُهْدِي إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَيَقُولُ " هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ " . وَقَالَ " الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " .
It was narrated that Aishah said:'Three Sunan were established because of Barirah: She was given the choice (of whether to remain married) when she was freed, and her husband was a slave; they used to give her charity and she used to give it as a gift to the Prophet (ﷺ), and he would say: 'It is charity for her and a gift for us,' and he said, the 'Wala' is for the one who set the slave free
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ میں تین سنتیں سامنے آئیں ایک تو یہ کہ جب وہ آزاد ہوئیں تو انہیں اختیار دیا گیا، اور ان کے شوہر غلام تھے، دوسرے یہ کہ لوگ بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقہ دیا کرتے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ کر دیتیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: وہ اس کے لیے صدقہ ہے، اور ہمارے لیے ہدیہ ہے ، تیسرے یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کے سلسلہ میں فرمایا: حق ولاء ( غلام یا لونڈی کی میراث ) اس کا ہے جو آزاد کرے ۱؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ .
It was narrated from Ibn 'Umar that :the Prophet (ﷺ) forbade selling Hablul-Habalah
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حمل کے حمل کو بیچنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ الْمَدِينِيُّ، أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّهْرِيُّ وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ .
It was narrated from Abu Hurairah that:the Messenger of Allah (ﷺ) passed judgment on the basis of an oath (from the claimant) along with a (single) witness. [This is in the absence of two witnesses]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ اور ( مدعی کی ) قسم سے فیصلہ فرمایا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، سَمِعْتُ إِيَاسَ بْنَ عَبْدٍ الْمُزَنِيَّ، وَرَأَى، أُنَاسًا يَبِيعُونَ الْمَاءَ فَقَالَ لاَ تَبِيعُوا الْمَاءَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ يُبَاعَ الْمَاءُ .
It was narrated that Abu Minhal said:“I heard Iyas bin 'Abd Muzani say - when he saw people selling water: 'Do not sell water, for I heard the Messenger of Allah (ﷺ) forbidding selling of water.' ”
ابومنہال کہتے ہیں کہ میں نے ایاس بن عبداللہ مزنی رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کچھ لوگوں کو پانی بیچتے ہوئے دیکھا تو کہا: پانی نہ بیچو اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی بیچنے سے منع کیا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ، وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلاَ كَثَرٍ " .
It was narrated from Rafi bin Khadij that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The hand is not to be cut off for (stealing) produce or the spadix of palm trees.”
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ پھل چرانے سے ہاتھ کاٹا جائے گا اور نہ کھجور کا گابھا چرانے سے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ خَالِدٍ النُّمَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّ الْمَعْدِنَ جُبَارٌ وَالْبِئْرَ جُبَارٌ وَالْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ . وَالْعَجْمَاءُ الْبَهِيمَةُ مِنَ الأَنْعَامِ وَغَيْرِهَا . وَالْجُبَارُ هُوَ الْهَدَرُ الَّذِي لاَ يُغَرَّمُ .
It was narrated that 'Ubadah bin Samit said:“The Messenger of Allah (ﷺ) ruled that there is no liability for injuries caused by falling into a mines or a well, nor those caused by a beast.”
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: کان بیکار ہے اور کنواں بیکار و رائیگاں ہے، اور «عجماء» چوپائے وغیرہ حیوانات کو کہتے ہیں، اور «جبار» ایسے نقصان کو کہتے ہیں جس میں جرمانہ اور تاوان نہیں ہوتا، کنواں بیکار و رائیگاں ہے، اور بےزبان ( جانور ) کا زخم بیکار و رائیگاں ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ عَلَى الْمِنْبَرِ " {وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ} أَلاَ وَإِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْىُ " ثَلاَثَ مَرَّاتٍ .
It was narrated that ‘Uqbah bin ‘Amir Al-Juhani said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) reciting on the pulpit: ‘And make ready against them all you can of power.’[8:60] (And saying that) three times – ‘Power means shooting.”
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر آیت کریمہ: «وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة» ( سورۃ الانفال: ۶۰ ) دشمن کے لیے طاقت بھر تیاری کرو کو پڑھتے ہوئے سنا: ( اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ) آگاہ رہو! طاقت کا مطلب تیر اندازی ہی ہے یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيْنَ تَنْزِلُ غَدًا وَذَلِكَ فِي حَجَّتِهِ قَالَ " وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مَنْزِلاً " . ثُمَّ قَالَ " نَحْنُ نَازِلُونَ غَدًا بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ - يَعْنِي الْمُحَصَّبَ - حَيْثُ قَاسَمَتْ قُرَيْشٌ عَلَى الْكُفْرِ " . وَذَلِكَ أَنَّ بَنِي كِنَانَةَ حَالَفَتْ قُرَيْشًا عَلَى بَنِي هَاشِمٍ أَنْ لاَ يُنَاكِحُوهُمْ وَلاَ يُبَايِعُوهُمْ . قَالَ مَعْمَرٌ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَالْخَيْفُ الْوَادِي .
It was narrated that Usamah bin Zaid said:“I said: ‘O Messenger of Allah, where will you stay tomorrow?’ That was during his Hajj. He said: ‘Has ‘Aqil left us any house?’ Then he said: ‘Tomorrow we will stay in the valley of Banu Kinanah, Muhassab where the Quraish swore an oath of disbelief.’” That was where the Banu Kinana had sworn an oath with the Quriash against Banu Hashim, that they would not intermarry with them or engage in trade with them. Ma’mar said: “Zuhri said: Khaif means a valley.’”
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کل ( مکہ میں ) کہاں اتریں گے؟ یہ بات آپ کے حج کے دوران کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا عقیل نے ہمارے لیے کوئی گھر باقی چھوڑا ہے ؟ ۱؎ پھر فرمایا: ہم کل «خیف بنی کنانہ» یعنی محصب میں اتریں گے، جہاں قریش نے کفر پر قسم کھائی تھی، اور وہ یہ تھی کہ بنی کنانہ نے قریش سے عہد کیا تھا کہ وہ بنی ہاشم سے نہ تو شادی بیاہ کریں گے اور نہ ان سے تجارتی لین دین ۲؎۔ زہری کہتے ہیں کہ «خیف» وادی کو کہتے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَحْيَى التَّوْأَمِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ انْطَلَقَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَبُولُ فَاتَّبَعَهُ عُمَرُ بِمَاءٍ فَقَالَ " مَا هَذَا يَا عُمَرُ " . قَالَ مَاءٌ . قَالَ " مَا أُمِرْتُ كُلَّمَا بُلْتُ أَنْ أَتَوَضَّأَ وَلَوْ فَعَلْتُ لَكَانَتْ سُنَّةً " .
It was narrated that 'Aishah said:"The Prophet went out to urinate, and 'Umar followed him with water. He said: 'What is this, O 'Umar?' He said: 'Water.' He said: 'I have not been commanded to perform ablution every time I urinate. If I did that it would have become a Sunnah
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کے لیے باہر تشریف لے گئے، اور عمر رضی اللہ عنہ پیچھے سے پانی لے کر پہنچے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: عمر یہ کیا ہے؟ کہا: پانی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ جب بھی پیشاب کروں، تو وضو کروں، اور اگر میں ایسا کروں تو یہ سنت واجبہ بن جائے گی ۱؎۔
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ زِيَادٍ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْجَزْءِ الزُّبَيْدِيِّ، قَالَ أَكَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ طَعَامًا فِي الْمَسْجِدِ لَحْمًا قَدْ شُوِيَ فَمَسَحْنَا أَيْدِيَنَا بِالْحَصْبَاءِ ثُمَّ قُمْنَا فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ .
It was narrated that ‘Abdullah bin Harith bin Jaz’ Az-Zubaidi said:“We ate food with the Messenger of Allah (ﷺ) in the mosque, meat that had been roasted. Then we wiped our hands on the pebbles and got up to perform prayer without performing ablution.”
عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بھنا ہوا گوشت کھایا، پھر ہم نے اپنے ہاتھ کنکریوں سے پونچھ لیے، پھر ہم نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور ہم نے ( پھر سے ) وضو نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ نَشْرَبَ عَلَى بُطُونِنَا وَهُوَ الْكَرْعُ وَنَهَانَا أَنْ نَغْتَرِفَ بِالْيَدِ الْوَاحِدَةِ وَقَالَ " لاَ يَلَغْ أَحَدُكُمْ كَمَا يَلَغُ الْكَلْبُ وَلاَ يَشْرَبْ بِالْيَدِ الْوَاحِدَةِ كَمَا يَشْرَبُ الْقَوْمُ الَّذِينَ سَخِطَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَلاَ يَشْرَبْ بِاللَّيْلِ مِنْ إِنَاءٍ حَتَّى يُحَرِّكَهُ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ إِنَاءً مُخَمَّرًا وَمَنْ شَرِبَ بِيَدِهِ وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَى إِنَاءٍ يُرِيدُ التَّوَاضُعَ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِعَدَدِ أَصَابِعِهِ حَسَنَاتٍ وَهُوَ إِنَاءُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ إِذْ طَرَحَ الْقَدَحَ فَقَالَ أُفٍّ هَذَا مَعَ الدُّنْيَا " .
It was narrated from ‘Asim bin Muhammad bin Zaid bin ‘Abdullah, from his father, that his grandfather said:“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade us to drink while (lying) on our bellies, lapping up water, and he forbade us to drink from one hand only. He said: ‘None of you should lap up water as a dog does, and he should not drink water from one hand as the people with whom Allah is angry do, and he should not drink from a vessel at night without stirring it first, unless the vessel was covered. Whoever drinks from his hand when he is able to drink from a vessel, with the intention of humility, Allah will record good deeds equivalent to the number of fingers for him. It (i.e., the hand) is the vessel of ‘Eisa bin Maryam, (as) when he threw away the cup and said: ‘Ugh! That belongs to this world.’”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اوندھے منہ پیٹ کے بل لیٹ کر پینے سے منع فرمایا ہے، اور یہی «کرع» ہے، اور ہمیں اس بات سے بھی منع فرمایا کہ ایک ہاتھ سے چلو لیں، اور ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی کتے کی طرح برتن میں منہ نہ ڈالے، اور نہ ایک ہاتھ سے پئے، جیسا کہ وہ لوگ پیا کرتے تھے جن سے اللہ ناراض ہوا، رات میں برتن کو ہلائے بغیر اس میں سے نہ پئے مگر یہ کہ وہ ڈھکا ہوا ہو، اور جو شخص محض عاجزی و انکساری کی وجہ سے اپنے ہاتھ سے پانی پیتا ہے حالانکہ وہ برتن سے پینے کی استطاعت رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کی انگلیوں کی تعداد کے برابر نیکیاں لکھتا ہے، یہی عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کا برتن تھا جب انہوں نے یہ کہہ کر پیالہ پھینک دیا: اف! یہ بھی دنیا کا سامان ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " عَلَيْكُمْ بِالإِثْمِدِ عِنْدَ النَّوْمِ فَإِنَّهُ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعَرَ " .
It was narrated that Jabir said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘You should use antimony when you go to sleep, for it improves the eyesight and makes the hair (eyelashes) grow.’”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: سوتے وقت اثمد کا سرمہ ضرور لگاؤ، کیونکہ اس سے نظر ( نگاہ ) تیز ہوتی ہے اور بال اگتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنَّ شَاةً، لِمَوْلاَةِ مَيْمُونَةَ مَرَّ بِهَا - يَعْنِي النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ - قَدْ أُعْطِيَتْهَا مِنَ الصَّدَقَةِ مَيْتَةً فَقَالَ " هَلاَّ أَخَذُوا إِهَابَهَا فَدَبَغُوهُ فَانْتَفَعُوا بِهِ " . فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا مَيْتَةٌ . قَالَ " إِنَّمَا حَرُمَ أَكْلُهَا " .
It was narrated from Maimunah that he (meaning the Prophet (ﷺ)) passed by a dead sheep belonging to the freed slave woman of Maimunah, that had been given to her in charity. He said:“Why don’t they take its skin and ten it, and make us of it?” They said: “O Messenger of Allah, it is dead meat.”* He said: “It is only unlawful to eat it.”
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کی ایک لونڈی کو صدقہ کی ایک بکری ملی تھی جو مری پڑی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر اس بکری کے پاس ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں نے اس کی کھال کیوں نہیں اتار لی کہ اسے دباغت دے کر کام میں لے آتے ؟ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو مردار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صرف اس کا کھانا حرام ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ عَنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ رَجَعَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet(ﷺ) said:"When one of you gets up from his spot, then comes back, he has more right to it
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھ کر چلا جائے، پھر واپس آئے تو وہ اپنی جگہ ( پر بیٹھنے ) کا زیادہ حقدار ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ فَذَكَرَ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ وَعِنْدَ طَعَامِهِ قَالَ الشَّيْطَانُ لاَ مَبِيتَ لَكُمْ وَلاَ عَشَاءَ . وَإِذَا دَخَلَ وَلَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ قَالَ الشَّيْطَانُ أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ . فَإِذَا لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عِنْدَ طَعَامِهِ قَالَ أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ وَالْعَشَاءَ " .
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah that he heard the Prophet (ﷺ) say:“When a man enters his house, and remembers Allah when he enters and when he eats, Satan says: ‘You have no place to stay and no supper.’ If he enters his house and does not remember Allah upon entering, Satan says: ‘You have found a place to stay.’ And if he does not remember Allah when he eats, (Satan) says: ‘You have found a place to stay and supper.’”
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب آدمی گھر میں داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت اللہ کا ذکر کرتا ( یعنی بسم اللہ کہتا ) ہے، تو شیطان اپنے لشکر سے کہتا ہے کہ آج یہاں نہ تمہاری رات گزر سکتی ہے ( یعنی نہ سونے کی جگہ تم کو مل سکتی ہے ) اور نہ تمہیں کھانا مل سکتا ہے، اور جب آدمی گھر میں بغیر اللہ کا ذکر کئے ( یعنی بغیر بسم اللہ کہے ) داخل ہوتا ہے، تو شیطان ( اپنے لشکر سے ) کہتا ہے کہ تم نے سونے کی جگہ پا لی، اگر آدمی کھانے کے وقت بھی اللہ کا نام نہیں لیتا ہے، تو شیطان کہتا ہے کہ تم نے کھانے اور سونے دونوں کی جگہ پا لی ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَيَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " بَدَأَ الإِسْلاَمُ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ غَرِيبًا فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Islam began as something strange and will go back to being strange, so glad tidings to the strangers.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام اجنبی حالت میں شروع ہوا اور عنقریب پھر اجنبی ہو جائے گا، تو ایسے وقت میں اس پر قائم رہنے والے اجنبیوں کے لیے خوشخبری ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي السَّفَرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ مَرَّ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَنَحْنُ نُعَالِجُ خُصًّا لَنَا فَقَالَ " مَا هَذَا " . فَقُلْتُ خُصٌّ لَنَا وَهَى نَحْنُ نُصْلِحُهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَا أُرَى الأَمْرَ إِلاَّ أَعْجَلَ مِنْ ذَلِكَ " .
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Amr said:“The Messenger of Allah (ﷺ) passed by us when we were fixing a hut of ours, and said: ‘What is this?’ I said: ‘It is a hut of ours that has fallen into disrepair.’ The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The matter (of death) may come sooner than that.’”
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے اس وقت ہم اپنی ایک جھونپڑی درست کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا: یہ کیا ہے ؟ میں نے کہا: یہ ہماری جھونپڑی ہے، ہم اس کو درست کر رہے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے خیال میں موت اس سے بھی جلد آ سکتی ہے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ نَجِيحٍ، - وَكَانَ ثِقَةً - عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَنَحْنُ فِتْيَانٌ حَزَاوِرَةٌ فَتَعَلَّمْنَا الإِيمَانَ قَبْلَ أَنْ نَتَعَلَّمَ الْقُرْآنَ ثُمَّ تَعَلَّمْنَا الْقُرْآنَ فَازْدَدْنَا بِهِ إِيمَانًا " .
It was narrated that Jundub bin 'Abdullah said:"We were with the Prophet (ﷺ), and we were strong youths, so we learned faith before we learned Qur'an. Then we learned Qur'an and our faith increased thereby
جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، اور ہم طاقتور نوجوان تھے، ہم نے قرآن سیکھنے سے پہلے ایمان کو سیکھا، پھر ہم نے قرآن سیکھا، تو اس سے ہمارا ایمان اور زیادہ ( بڑھ ) ہو گیا۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْهُذَلِيُّ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزِّبْرِقَانِ بْنِ عَمْرٍو الضَّمْرِيِّ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لَيَنْتَهِيَنَّ رِجَالٌ عَنْ تَرْكِ الْجَمَاعَةِ أَوْ لأُحَرِّقَنَّ بُيُوتَهُمْ " .
It was narrated that Usamah bin Zaid said:"The Messenger of Allah said: 'Let men desist from failing to attend the congregation, otherwise I will burn their houses down
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ جماعتوں کے چھوڑنے سے ضرور باز رہیں، ورنہ میں ان کے گھروں کو آگ لگا دوں گا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ سَهْلٍ السَّاعِدِيُّ، قَالَ اجْتَمَعَ أَبُو حُمَيْدٍ وَأَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ وَسَهْلُ بْنُ سَعْدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَذَكَرُوا صَلاَةَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَامَ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ، ثُمَّ رَفَعَ حِينَ كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ، ثُمَّ قَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ، وَاسْتَوَى حَتَّى رَجَعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ .
‘Abbas bin Sahl As-Sa’di said:“Abu Humaid, Abu Usaid As-Sa’di, Sahl bin Sa’d, and Muhammad bin Maslamah came together and spoke about the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ). Abu Humaid said: ‘I am the most knowledgeable of you about the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ). The Messenger of Allah (ﷺ) stood up and said Allahu Akbar, and raised his hands, then he raised them when he said Allahu Akbar for Ruku’, then he stood up and raised his hands, and stood straight until every bone had returned to its place.’”
عباس بن سہل ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابو حمید ساعدی، ابواسید ساعدی، سہل بن سعد اور محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہم اکٹھے ہوئے، اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا تذکرہ کیا، ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو تم سب سے زیادہ جانتا ہوں، آپ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو «ألله أكبر» کہتے، اور دونوں ہاتھ اٹھاتے، پھر جب رکوع کے لیے «ألله أكبر» کہتے تو دونوں ہاتھ اٹھاتے، پھر جب رکوع سے اٹھتے تو دونوں ہاتھ اٹھاتے ( یعنی رفع یدین کرتے ) ، اور سیدھے کھڑے رہتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ واپس لوٹ آتی ۱؎۔