بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Ibn Majah
6
24 hadith
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سُلَيْمٍ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ زِيَادٍ الْخَرَّاطُ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ هَلَكَ ابْنٌ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ لِي يَا كُرَيْبُ قُمْ فَانْظُرْ هَلِ اجْتَمَعَ لاِبْنِي أَحَدٌ فَقُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ فَقَالَ وَيْحَكَ كَمْ تَرَاهُمْ؟ أَرْبَعِينَ؟ قُلْتُ: لاَ. بَلْ هُمْ أَكْثَرُ ‏.‏ قَالَ: فَاخْرُجُوا بِابْنِي فَأَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏ "‏ مَا مِنْ أَرْبَعِينَ مِنْ مُؤْمِنٍ يَشْفَعُونَ لِمُؤْمِنٍ إِلاَّ شَفَّعَهُمُ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Kuraib the freed slave of ‘Abdullah bin ‘Abbas said:“A son of ‘Abdullah bin ‘Abbas died, and he said to me: ‘O Kuraib! Get up and see if anyone has assembled (to pray) for my son.’ I said: ‘Yes.’ He said: ‘Woe to you, how many do you see? Forty?’ I said: ‘No, rather there are more.’ He said: ‘Take my son out, for I bear witness that I hear the Messenger of Allah (ﷺ) say: “No (group of) forty believers intercede for a believer, but Allah will accept their intercession.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ایک بیٹے کا انتقال ہو گیا، تو انہوں نے مجھ سے کہا: اے کریب! جاؤ، دیکھو میرے بیٹے کے جنازے کے لیے کچھ لوگ جمع ہوئے ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں، انہوں نے کہا: تم پر افسوس ہے، ان کی تعداد کتنی سمجھتے ہو؟ کیا وہ چالیس ہیں؟ میں نے کہا: نہیں، بلکہ وہ اس سے زیادہ ہیں، تو انہوں نے کہا: تو پھر میرے بیٹے کو نکالو، میں قسم کھاتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: اگر چالیس ۱؎ مومن کسی مومن کے لیے شفاعت کریں تو اللہ تعالیٰ ان کی شفاعت کو قبول کرے گا ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الصَّلاَةِ ‏.‏ قُلْتُ كَمْ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: قَدْرُ قِرَاءَةِ خَمْسِينَ آيَةً ‏.‏
It was narrated from Anas bin Malik that Zaid bin Thabit said:“We ate Suhur with the Messenger of Allah (ﷺ) then we got up to perform prayer.” I said: “How long was there between the two?” He said: “As long as it takes to recite fifty verses.”
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی پھر ہم نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا: سحری اور نماز کے درمیان کتنا فاصلہ تھا؟ کہا: پچاس آیتیں پڑھنے کی مقدار ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ لاَ تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ وَلاَ لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ ‏"‏ ‏.‏
Abu Hurairah narrated that:the Messenger of Allah said: “Charity is not permissible for a rich person, or for one who is strong and healthy. ”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صدقہ و خیرات کسی مالدار یا ہٹے کٹے صحت مند آدمی کے لیے حلال نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ التَّمِيمِيِّ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فَسَمِعَ صَوْتَ، طَبْلٍ فَأَدْخَلَ إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ ثُمَّ تَنَحَّى حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏.‏
It was narrated that Mujahid said:“I was with Ibn Umar, and he heard the sound of a drum, so he put his fingers in his ears and turned away. He did that three times, then he said: “This is what I saw the Messenger of Allah do.' ”
مجاہد کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا انہوں نے طبلہ کی آواز سنی تو اپنی دونوں انگلیاں کانوں میں ڈال لیں، اور وہاں سے ہٹ گئے یہاں تک کہ ایسا تین مرتبہ کیا، پھر کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ آلَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مِنْ نِسَائِهِ وَحَرَّمَ فَجَعَلَ الْحَرَامَ حَلاَلاً ‏.‏ وَجَعَلَ فِي الْيَمِينِ كَفَّارَةً ‏.‏
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah swore to keep away from his wives and declared them as unlawful for him, so he made something permissible forbidden, and he offered expiation for having sworn to do so
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے ایلاء کیا، اور اپنے اوپر حلال کو حرام ٹھہرا لیا ۱؎ اور قسم کا کفارہ ادا کیا ۲؎۔
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الرُّخَامِيُّ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ أَبُو مُحَمَّدٍ، كَاتِبُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ الأَسْلَمِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْعُرْبَانِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْعُرْبَانُ أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ دَابَّةً بِمِائَةِ دِينَارٍ فَيُعْطِيَهُ دِينَارَيْنِ أَرْبُونًا فَيَقُولَ إِنْ لَمْ أَشْتَرِ الدَّابَّةَ فَالدِّينَارَانِ لَكَ ‏.‏
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, from his grandfather that :the Prophet (ﷺ) forbade the deal involving earnest money. (Hasan)Abu 'Abdullah said: Earnest money refers to when a man buys an animal for one hundred Dinar, then he gives the seller two Dinar in advance and says: "If I do not buy the animal, then the two Dinar are yours." And it was said that it refers, and Allah knows best, to when a man buys something, and gives the seller a Dirham or less or more, and says: "If I take it (all well and good), and if I do not, then the Dirham is yours
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( عربان کی بیع ) سے منع فرمایا ہے۔ ابوعبداللہ ( ابن ماجہ ) کہتے ہیں کہ عربان: یہ ہے کہ آدمی ایک جانور سو دینار میں خریدے، اور بیچنے والے کو اس میں سے دو دینار بطور بیعانہ دیدے، اور کہے: اگر میں نے جانور نہیں لیا تو یہ دونوں دینار تمہارے ہیں۔ بعض لوگوں نے کہا ہے واللہ اعلم: ( عربان یہ ہے کہ ) آدمی ایک چیز خریدے پھر بیچنے والے کو ایک درہم یا زیادہ یا کم دے، اور کہے اگر میں نے یہ چیز لے لی تو بہتر، ورنہ یہ درہم تمہارا ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُعْفِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ الْعُكْلِيُّ، أَخْبَرَنِي أُبَىُّ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، حَدَّثَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ الأَنْصَارِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ، يَقُولُ إِنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ خَيْرُ الشُّهُودِ مَنْ أَدَّى شَهَادَتَهُ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا ‏"‏ ‏.‏
Zaid bin Khalid Al-Juhani said that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) say:“The best of witnesses is the one who gives his testimony before he is asked for it.”
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بہتر گواہ وہ ہے جو پوچھے جانے سے پہلے گواہی دیدے ۱؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَعَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ النَّخَعِيُّ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ حُذَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ بَاعَ دَارًا وَلَمْ يَجْعَلْ ثَمَنَهَا فِي مِثْلِهَا لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Hudhaifah bin Yaman that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever sells a house and does not use the money for something similar, will not to be blessed therein.' ”
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی گھر بیچے اور پھر اس کی قیمت سے ویسا ہی دوسرا گھر نہ خریدے، تو اس میں اس کو برکت نہیں ہو گی ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا سَرَقَ الْعَبْدُ فَبِيعُوهُ وَلَوْ بِنَشٍّ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“If a slave steals, then sell him, even for half Price.' ”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر غلام چوری کرے تو اسے بیچ دو، خواہ وہ نصف اوقیہ ( بیس درہم ) میں بک سکے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُرِّ، عَنِ الْخَشْخَاشِ الْعَنْبَرِيِّ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَمَعِي ابْنِي فَقَالَ ‏ "‏ لاَ تَجْنِي عَلَيْهِ وَلاَ يَجْنِي عَلَيْكَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Khashkhash Al-Anbari said:“I came to the Prophet (ﷺ) and my son was with me. He said: 'You will not be punished because of his crime and he will not be punished because of yours.'”
خشخاش عنبری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میرے ساتھ میرا بیٹا بھی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیری اس کے جرم پر اور اس کی تیرے جرم پر گرفت نہیں ہو گی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَمُرَةَ، أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ كَانَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ إِذَا غَزَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَمَلَ مَعَهُ رُمْحًا فَإِذَا رَجَعَ طَرَحَ رُمْحَهُ حَتَّى يُحْمَلَ لَهُ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ لأَذْكُرَنَّ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ لاَ تَفْعَلْ فَإِنَّكَ إِنْ فَعَلْتَ لَمْ تُرْفَعْ ضَالَّةٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that ‘Ali bin Abi Talib said:“When Mughirah bin Shu’bah fought alongside the Prophet (ﷺ) he would carry a spear, and when he would come back he would throw his spear down so that someone would pick it up and give it back to him.” ‘Ali said to him: “I will tell the Messenger of Allah (ﷺ) about that.” He (the Prophet (ﷺ)) said: “Do not do that, for it you do that it will not be picked up as a lost item to be returned.”
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کے لیے جاتے تو اپنے ساتھ برچھا لے جاتے، اور لوٹتے وقت اسے پھینک دیتے، انہیں دینے کے لیے کوئی اسے اٹھا لاتا، اس پر علی رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ کی یہ حرکت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور بتاؤں گا، تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ایسا نہ کریں، کیونکہ اگر آپ نے ایسا کیا تو گمشدہ چیز اٹھائی نہیں جائے گی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا، وَعِكْرِمَةَ، يُحَدِّثَانِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَاءَتْ ضُبَاعَةُ بِنْتُ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَتْ إِنِّي امْرَأَةٌ ثَقِيلَةٌ وَإِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ فَكَيْفَ أُهِلُّ قَالَ ‏ "‏ أَهِلِّي وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:Duba’ah bint Zubair bin ‘Abdul- Muttalib came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: “I am a heavy woman and I want to go for Hajj. How should I enter Ihram?” He said: “Enter Ihram and stipulate the condition that you will exit Ihram from the point where you are prevented.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: میں ایک بھاری بھر کم عورت ہوں، اور میں حج کا ارادہ بھی رکھتی ہوں، تو میں تلبیہ کیسے پکاروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم تلبیہ پکارو اور ( اللہ سے ) شرط کر لو کہ جہاں تو مجھے روکے گا، میں وہیں حلال ہو جاؤں گی ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ عِيسَى الْحَنَّاطِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي كَنِيفِهِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ ‏. ‏ قَالَ عِيسَى فَقُلْتُ ذَلِكَ لِلشَّعْبِيِّ فَقَالَ صَدَقَ ابْنُ عُمَرَ وَصَدَقَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَمَّا قَوْلُ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ فِي الصَّحْرَاءِ لاَ يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلاَ يَسْتَدْبِرْهَا وَأَمَّا قَوْلُ ابْنِ عُمَرَ فَإِنَّ الْكَنِيفَ لَيْسَ فِيهِ قِبْلَةٌ اسْتَقْبِلْ فِيهِ حَيْثُ شِئْتَ ‏.‏ قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ وَحَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، فَذَكَرَ نَحْوَهُ ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Umar said:"I saw the Messenger of Allah in his (constructed) toilet, facing towards the Qiblah." (Da'if) (One of the narrators) 'Eisa said: "I told that to Sha'bi, and he said: 'Ibn 'Umar spoke the truth. As for the words of Abu Hurairah, he said: "In the desert do not face the Qiblah nor turn one's back towards it." As for the words of Ibn 'Umar, he said: "In the (constructed) toilet there is no Qiblah so turn in whatever direction you want." Another chain with similar wording
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بیت الخلاء میں قبلہ کی طرف منہ کر کے بیٹھے ہوئے ہیں۔ عیسیٰ کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث شعبی سے بیان کی تو انہوں نے کہا: ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سچ کہا، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی سچ کہا، لیکن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول یہ ہے کہ صحراء میں نہ تو قبلہ کی جانب منہ کرو نہ پیٹھ، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول یہ ہے کہ بیت الخلاء میں قبلہ کا اعتبار نہیں، جدھر چاہو منہ کرو۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ذَاتَ يَوْمٍ بِلَحْمٍ فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ فَنَهَسَ مِنْهَا ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:“One day some meat was brought to the Messenger of Allah (ﷺ) and the foreleg was offered to him which he liked, so he bit it with his front teeth.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک دن گوشت آیا، تو آپ کو دست کا گوشت پیش کیا گیا، اس لیے کہ وہ آپ کو بہت پسند تھا تو آپ نے اس میں سے دانت سے نوچ کر کھایا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِذَا شَرِبَ أَحَدُكُمْ فَلاَ يَتَنَفَّسْ فِي الإِنَاءِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَعُودَ فَلْيُنَحِّ الإِنَاءَ ثُمَّ لْيَعُدْ إِنْ كَانَ يُرِيدُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“When anyone of you drinks, let him not breathe into the vessel. If he wants to continue drinking, let him move the vessel away (in order to breathe) then bring it back, if he wants.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کچھ پئے تو برتن میں سانس نہ لے، اور اگر سانس لینا چاہے تو برتن کو منہ سے علیحدہ کر لے، پھر اگر چاہے تو دوبارہ پئے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ عَمِّي، يَحْيَى - وَمَا أَدْرَكْتُ رَجُلاً مِنَّا بِهِ شَبِيهًا يُحَدِّثُ النَّاسَ أَنَّ سَعْدَ بْنَ زُرَارَةَ - وَهُوَ جَدُّ مُحَمَّدٍ مِنْ قِبَلِ أُمِّهِ أَنَّهُ أَخَذَهُ وَجَعٌ فِي حَلْقِهِ يُقَالُ لَهُ الذُّبْحَةُ فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ لأُبْلِغَنَّ أَوْ لأُبْلِيَنَّ فِي أَبِي أُمَامَةَ عُذْرًا ‏"‏ ‏.‏ فَكَوَاهُ بِيَدِهِ فَمَاتَ فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ مِيتَةَ سُوءٍ لِلْيَهُودِ يَقُولُونَ أَفَلاَ دَفَعَ عَنْ صَاحِبِهِ ‏.‏ وَمَا أَمْلِكُ لَهُ وَلاَ لِنَفْسِي شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏
Muhammad bin ‘Abdur-Rahman bin Sa’d bin Zurarah Al-Ansari said:“I heard my paternal uncle Yahya – and I have not seen a man among us like him – tell the people that Sa'd bin Zurarah, who was the grandfather of Muhammad through his mother, was suffering from pain in his throat, known as croup. The Prophet (ﷺ) said: ‘I shall do my best for Abu Umamah.’ Such that I will be excused (i.e., free of blame if he is not healed). And he cauterized him with his own hand, but he died. The Prophet (ﷺ) said: ‘May the Jews be doomed! They will say: “Why could he not avert death from his Companions?” But I have no power to do anything for him or for my own self.’”
محمد بن عبدالرحمٰن بن اسعد بن زرارہ انصاری سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے چچا یحییٰ بن اسعد بن زرارہ سے سنا، اور ان کا کہنا ہے کہ اپنوں میں ان جیسا متقی و پرہیزگار مجھے کوئی نہیں ملا لوگوں سے بیان کرتے تھے کہ سعد بن زرارہ ۱؎ ( جو محمد بن عبدالرحمٰن کے نانا تھے ) کو ایک بار حلق کا درد ہوا، اس درد کو «ذُبحہ» کہا جاتا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ابوامامہ ( یعنی! اسعد رضی اللہ عنہ ) کے علاج میں اخیر تک کوشش کرتا رہوں گا تاکہ کوئی عذر نہ رہے ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے ہاتھ سے داغ دیا، پھر ان کا انتقال ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود بری موت مریں، اب ان کو یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے اپنے ساتھی کو موت سے کیوں نہ بچا لیا، حالانکہ نہ میں اس کی جان کا مالک تھا، اور نہ اپنی جان کا ذرا بھی مالک ہوں ۲؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَادَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْوَاسِطِيَّانِ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ مُهَاجِرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ مَنْ لَبِسَ ثَوْبَ شُهْرَةٍ أَلْبَسَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَوْبَ مَذَلَّةٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Ibn ‘Umar said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever wears a garment of pride and vanity, Allah will clothe him, on the Day of Resurrection, in a garment of humiliation.’”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے شہرت کا لباس پہنا اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن ذلت کا لباس پہنائے گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ عَطَسَ رَجُلاَنِ عِنْدَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا - أَوْ سَمَّتَ - وَلَمْ يُشَمِّتِ الآخَرَ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَطَسَ عِنْدَكَ رَجُلاَنِ فَشَمَّتَّ أَحَدَهُمَا وَلَمْ تُشَمِّتِ الآخَرَ فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللَّهَ وَإِنَّ هَذَا لَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Anas bin Malik said:"Two men sneezed in he presence of the Prophet(ﷺ) and he replied (said: YarhamukAllah; may Allah have mercy on you') to one and not to the other. It was said: 'O Messenger of Allah(ﷺ), two men sneezed in your presence and you replied to one and not to the other?' He said: "'This one praised Allah(said Al-Hamdulillah fter sneezing) but that one did not
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو آدمیوں نے چھینکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کے جواب میں «يرحمك الله» اللہ تم پر رحم کرے کہا، اور دوسرے کو جواب نہیں دیا، تو عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! آپ کے سامنے دو آدمیوں نے چھینکا، آپ نے ایک کو جواب دیا دوسرے کو نہیں دیا، اس کا سبب کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک نے ( چھینکنے کے بعد ) «الحمد لله» کہا، اور دوسرے نے نہیں کہا ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، صَاحِبِ الدَّسْتَوَائِيِّ عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يَقُولُ عِنْدَ الْكَرْبِ ‏ "‏ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَرَبِّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَكِيعٌ مَرَّةً لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فِيهَا كُلِّهَا ‏.‏
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Prophet (ﷺ) used to say at times of distress:“La ilaha illallahul-Halimul-Karim, Subhan-Allahi Rabbil-‘Arshil-‘Azim, Subhan-Allahi Rabbil-samawatis-sab’i wa Rabbil-‘Arshil-Azim (None has the right to be worshipped but Allah, the Forbearing, the Most Generous; glory is to Allah the Lord of the Mighty Throne; glory is to Allah, the Lord of the seven heavens and the Lord of the Magnificent Throne).” Waki’ said with each wording La ilaha illallahu (none has the right to be worshipped but Allah) is to be included
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سخت تکلیف کے وقت یہ ( دعا ) پڑھتے تھے: «لا إله إلا الله الحليم الكريم سبحان الله رب العرش العظيم سبحان الله رب السموات السبع ورب العرش الكريم» اللہ حلیم ( برد بار ) و کریم ( کرم والے ) کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، پاکی بیان کرتا ہوں عرش عظیم کے رب اللہ کی، پاکی بیان کرتا ہوں ساتوں آسمان اور عرش کریم کے رب اللہ کی ۔ وکیع کی ایک روایت میں ہے کہ ہر فقرے کے شروع میں ایک ایک بار «لا إله إلا الله» ہے۔ ۱؎
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ لاَ يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ مَرَّتَيْنِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Hurairah said that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The believer should not be stung from the same hole twice.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ، سَمِعَهُ مِنْ، خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ خَطَبَنَا عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مَا لَنَا طَعَامٌ نَأْكُلُهُ إِلاَّ وَرَقُ الشَّجَرِ حَتَّى قَرِحَتْ أَشْدَاقُنَا ‏.‏
It was narrated that Ibn ‘Umar said:“Utbah bin Ghazwan delivered a sermon on the pulpit and said: ‘I saw myself the seventh of seven with the Messenger of Allah (ﷺ), and we did not have any food to eat except the leaves of trees, until our gums hurt.’”
خالد بن عمیر کہتے ہیں کہ عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے ہمیں منبر پر خطبہ سنایا اور کہا: میں نے وہ وقت دیکھا ہے جب میں ان سات آدمیوں میں سے ایک تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہمارے پاس درخت کے پتوں کے سوا کھانے کو کچھ نہ ہوتا تھا، یہاں تک کہ ( اس کے پتے کھانے سے ) ہمارے مسوڑھے زخمی ہو جاتے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ الإِيمَانُ بِضْعٌ وَسِتُّونَ أَوْ سَبْعُونَ بَابًا أَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ وَأَرْفَعُهَا قَوْلُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الإِيمَانِ ‏"‏ ‏.‏ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، ح وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَحْوَهُ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Faith has sixty-some or seventy parts, the least of which is to remove a harmful thing from the road and the greatest of which is to say La ilaha illalah (none has the right to be worshipped but Allah). And modesty is a branch of faith.'" Another chain from Abu Hurairah, from the Prophet (ﷺ) with similar wording
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان کے ساٹھ یا ستر سے زائد شعبے ( شاخیں ) ہیں، ان میں سے ادنی ( سب سے چھوٹا ) شعبہ ۱؎ تکلیف دہ چیز کو راستے سے ہٹانا ہے، اور سب سے اعلیٰ اور بہتر شعبہ «لا إله إلا الله» اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں کہنا ہے، اور شرم و حیاء ایمان کی ایک شاخ ہے ۲؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلاَةِ فَتُقَامَ ثُمَّ آمُرَ رَجُلاً فَيُصَلِّيَ بِالنَّاسِ ثُمَّ أَنْطَلِقَ بِرِجَالٍ مَعَهُمْ حُزَمٌ مِنْ حَطَبٍ إِلَى قَوْمٍ لاَ يَشْهَدُونَ الصَّلاَةَ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ بِالنَّارِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'I was thinking of commanding that the call to prayer be given, then I would tell a man to lead the people in prayer, then I would go out with some other men carrying bundles of wood, and go to people who do not attend the prayer, and burn their houses down around them
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا پختہ ارادہ ہوا کہ نماز پڑھنے کا حکم دوں اور اس کے لیے اقامت کہی جائے، پھر ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، اور میں کچھ ایسے لوگوں کو جن کے ساتھ لکڑیوں کا گٹھر ہو، لے کر ان لوگوں کے پاس جاؤں جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے ہیں، اور ان کے ساتھ ان کے گھروں کو آگ لگا دوں ۱؎۔
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ إِذَا كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يَجْعَلَهُمَا قَرِيبًا مِنْ أُذُنَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ صَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، صَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ ‏.‏
It was narrated that Malik bin Huwairith said that when the Messenger of Allah (ﷺ) said Allahu Akbar, he would raise his hands until they were close to his ears; when he bowed in Ruku’ he did likewise, and when he raised his head from Ruku’ he did likewise
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تکبیر تحریمہ کہتے، تو اپنے دونوں ہاتھوں کو کانوں کے قریب تک اٹھاتے، اور جب رکوع میں جاتے تو بھی اسی طرح کرتے ( یعنی رفع یدین کرتے ) ، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو بھی ایسا ہی کرتے