حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَزَوَّرِ، عَنْ نُفَيْعٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ، وَأَبِي، بَرْزَةَ قَالاَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي جِنَازَةٍ فَرَأَى قَوْمًا قَدْ طَرَحُوا أَرْدِيَتَهُمْ يَمْشُونَ فِي قُمُصٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أَبِفِعْلِ الْجَاهِلِيَّةِ تَأْخُذُونَ - أَوْ بِصُنْعِ الْجَاهِلِيَّةِ تَشَبَّهُونَ - لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَدْعُوَ عَلَيْكُمْ دَعْوَةً تَرْجِعُونَ فِي غَيْرِ صُوَرِكُمْ " . قَالَ فَأَخَذُوا أَرْدِيَتَهُمْ وَلَمْ يَعُودُوا لِذَلِكَ .
It was narrated that ‘Imran bin Husain and Abu Barzah said:“We went out with the Messenger of Allah (ﷺ) to attend a funeral, and he saw some people who had cast aside their upper sheets and were walking in their shirts only. The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Are you adopting the practice of the days of ignorance?’ or; ‘Are you imitating the behavior of the days of ignorance? I was about to supplicate against you that you would return in a different form.’ So they put their sheets back on and never did that again.”
عمران بن حصین اور ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں نکلے، تو آپ نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی چادریں پھینک دیں، اور صرف قمیصیں پہنے ہوئے چل رہے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ دور جاہلیت کا طریقہ اپناتے ہو یا جاہلیت کے طریقہ کی مشابہت کرتے ہو؟ میں نے ارادہ کیا کہ تم پر ایسی بد دعا کروں کہ تم اپنی صورتوں کے علاوہ دوسری صورتوں میں اپنے گھروں کو لوٹو یہ سنتے ہی ان لوگوں نے اپنی چادریں لے لیں، اور دوبارہ ایسا نہ کیا۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " رُبَّ صَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ صِيَامِهِ إِلاَّ الْجُوعُ. وَرُبَّ قَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ قِيَامِهِ إِلاَّ السَّهَرُ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“There are people who fast and get nothing from their fast except hunger, and there are those who pray and get nothing from their prayer but a sleepless night.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہت سے روزہ رکھنے والے ایسے ہیں کہ ان کو اپنے روزے سے بھوک کے سوا کچھ نہیں حاصل ہوتا، اور بہت سے رات میں قیام کرنے والے ایسے ہیں کہ ان کو اپنے قیام سے جاگنے کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِالصَّدَقَةِ . فَقَالَتْ زَيْنَبُ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ أَيُجْزِينِي مِنَ الصَّدَقَةِ أَنْ أَتَصَدَّقَ عَلَى زَوْجِي وَهُوَ فَقِيرٌ وَبَنِي أَخٍ لِي أَيْتَامٍ وَأَنَا أُنْفِقُ عَلَيْهِمْ هَكَذَا وَهَكَذَا وَعَلَى كُلِّ حَالٍ قَالَ " نَعَمْ " . قَالَ وَكَانَتْ صَنَاعَ الْيَدَيْنِ .
It was narrated that:Umm Salamah said: “The Messenger of Allah enjoined charity upon us. Zainab, the wife of Abdullah said: 'Will it be accepted as charity on my part if I give charity to my husband who is poor, and to the children of a brother of mine who are orphans, spending such and such on them, and in all circumstances?' He said: 'Yes.'”
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صدقہ کا حکم دیا، تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا میری زکاۃ ادا ہو جائے گی اگر میں اپنے شوہر پہ جو محتاج ہیں، اور اپنے بھتیجوں پہ جو یتیم ہیں صدقہ کروں، اور میں ہر حال میں ان پر ایسے اور ایسے خرچ کرتی ہوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ دست کاری کرتی تھیں ( اور پیسے کماتی تھیں ) ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الْحُسَيْنِ، - اسْمُهُ خَالِدٌ الْمَدَنِيُّ - قَالَ كُنَّا بِالْمَدِينَةِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَالْجَوَارِي يَضْرِبْنَ بِالدُّفِّ وَيَتَغَنَّيْنَ فَدَخَلْنَا عَلَى الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهَا . فَقَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ صَبِيحَةَ عُرْسِي وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ تُغَنِّيَانِ وَتَنْدُبَانِ آبَائِي الَّذِينَ قُتِلُوا يَوْمَ بَدْرٍ وَتَقُولاَنِ فِيمَا تَقُولاَنِ وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ . فَقَالَ " أَمَّا هَذَا فَلاَ تَقُولُوهُ مَا يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ إِلاَّ اللَّهُ " .
It was narrated that Abu Husain, whose name was Khalid Al-Madani, said:“We were in Al-Madinah on the Say of 'Ashura and the girls were beating the Daff and singing. We entered upon Rubai' bint Mu'awwidh and mentioned that to her. She said: 'The Messenger of Allah entered upon me on the morning of my wedding, and there were two girls with me who were singing and mentioning the qualities of my forefathers who were killed on the Day of Badr. One of the things they were saying was: “Among us there is a Prophet who knows what will happen tomorrow.” He said: “Do not say this, for no one knows what will happen tomorrow except Allah.”
ابوالحسین خالد مدنی کہتے ہیں کہ ہم عاشورہ کے دن مدینہ میں تھے، لڑکیاں دف بجا رہی تھیں اور گا رہی تھیں، پھر ہم ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، ان سے یہ بیان کیا تو انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری شادی کے دن صبح میں آئے، اس وقت میرے پاس دو لڑکیاں گا رہی تھیں، اور بدر کے دن شہید ہونے والے اپنے آباء و اجداد کا ذکر کر رہی تھیں، گانے میں جو باتیں وہ کہہ رہی تھیں ان میں یہ بات بھی تھی: «وفينا نبي يعلم ما في غد» ہم میں مستقبل کی خبر رکھنے والے نبی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا مت کہو، اس لیے کہ کل کی بات اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ الْبَاهِلِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا فِي الْمَسْجِدِ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ . فَقَالَ رَجُلٌ لَوْ أَنَّ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً فَقَتَلَهُ قَتَلْتُمُوهُ وَإِنْ تَكَلَّمَ جَلَدْتُمُوهُ وَاللَّهِ لأَذْكُرَنَّ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ . فَذَكَرَهُ لِلنَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَاتِ اللِّعَانِ . ثُمَّ جَاءَ الرَّجُلُ بَعْدَ ذَلِكَ يَقْذِفُ امْرَأَتَهُ فَلاَعَنَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بَيْنَهُمَا وَقَالَ " عَسَى أَنْ تَجِيءَ بِهِ أَسْوَدَ " . فَجَاءَتْ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا .
It was narrated that 'Abdullah said:"We were in the mosque one Friday night when a man said: 'If a man finds a man with his wife and kills him, will you kill him, and if he speaks,will you flog him. By Allah I will mention that to the Prophet (ﷺ). So he mentioned that to the Prophet (ﷺ), and Allah revealed the Verses of Li'an. Then after that the man came and accused his wife, so the Prophet (ﷺ) told them to go through the procedure of Li'an and he said: 'Perhaps she will give birth to a black child.’ Then she gave birth to a black child with curly hair
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم جمعہ کی رات کو مسجد میں تھے کہ ایک شخص آ کر کہنے لگا اگر کوئی اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے، پھر اس کو مار ڈالے، تو تم لوگ اس کو مار ڈالو گے، اور اگر زبان سے کچھ کہے تو تم اسے کوڑے لگاؤ گے، اللہ کی قسم میں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر ضرور کروں گا، آخر اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، تب اللہ تعالیٰ نے لعان کی آیتیں نازل فرمائیں، پھر وہ آیا اور اس نے اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان لعان کرایا اور فرمایا: میرا گمان ہے کہ شاید اس عورت کا بچہ کالا ہی پیدا ہو چنانچہ ایسا ہی ہوا، اس کے یہاں کالا گھونگھریالے بال والا بچہ پیدا ہوا۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ، قَالَ لَمَّا بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِلَى مَكَّةَ نَهَاهُ عَنْ شِفِّ مَا لَمْ يُضْمَنْ .
It was narrated from 'Ata that 'Attab bin Asid said that :when the Messenger of Allah (ﷺ) sent him to Makkah, he forbade him from profiting off of what he did not possess
عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مکہ بھیجا، تو اس چیز کے نفع سے منع کیا جس کے وہ ضامن نہ ہوں۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ أَبِي الْمُعْتَمِرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ رَافِعٍ، عَنِ ابْنِ خَلْدَةَ الزُّرَقِيِّ، وَكَانَ، قَاضِيًا بِالْمَدِينَةِ قَالَ جِئْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ فِي صَاحِبٍ لَنَا قَدْ أَفْلَسَ فَقَالَ هَذَا الَّذِي قَضَى فِيهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَيُّمَا رَجُلٍ مَاتَ أَوْ أَفْلَسَ فَصَاحِبُ الْمَتَاعِ أَحَقُّ بِمَتَاعِهِ إِذَا وَجَدَهُ بِعَيْنِهِ " .
It was narrated that Ibn Khaldah, who was a judge in Al-Madinah, said:We came to Abu Hurairah and asked him about a companion of ours who had become bankrupt. He said: “This is what the Prophet (ﷺ) ruled: 'Any man who dies or becomes bankrupt, the owner of the product has more right to it, if he finds the exact thing.”
ابن خلدہ زرقی (وہ مدینہ کے قاضی تھے) کہتے ہیں کہ ہم اپنے ایک ساتھی کے سلسلے میں جس کا دیوالیہ ہو گیا تھا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، تو انہوں نے کہا: ایسے ہی شخص کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا تھا: جو شخص مر جائے یا جس کا دیوالیہ ہو جائے، تو سامان کا مالک ہی اپنے سامان کا زیادہ حقدار ہے، جب وہ اس کو بعینہ اس کے پاس پائے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ خَالِدٍ النُّمَيْرِيُّ أَبُو الْمُغَلِّسِ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، أَخْبَرَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى فِي النَّخْلَةِ وَالنَّخْلَتَيْنِ وَالثَّلاَثَةِ لِلرَّجُلِ فِي النَّخْلِ فَيَخْتَلِفُونَ فِي حُقُوقِ ذَلِكَ فَقَضَى أَنَّ لِكُلِّ نَخْلَةٍ مِنْ أُولَئِكَ مِنَ الأَرْضِ مَبْلَغُ جَرِيدِهَا حَرِيمٌ لَهَا .
It was narrated from 'Ubadah bin Samit that :the Messenger of Allah (ﷺ) ruled concerning one, two or three date palms belonging to a man among other palm trees - when they differ concerning entitlement to the surrounding land. He ruled that the land around each of those trees, as far as their leaves reach, measured from the bottom of the tree, belongs to the owner of the tree
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ باغ میں کسی شخص کے ایک یا دو یا تین درخت ہوں، پھر لوگ اختلاف کریں کہ کتنی زمین پر ان کا حق ہے؟ تو اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا: ہر درخت کے لیے نیچے کی اتنی زمین ہے جہاں تک اس کی ڈالیاں پھیلی ہیں، وہی اس درخت کی چوحدی ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَمْرَةَ، أَخْبَرَتْهُ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُقْطَعُ الْيَدُ إِلاَّ فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا " .
It was narrated from Aishah that the Messenger of Allah (S.A.W.) said:“Do not cut off (the thief's hand) except for something worth one quarter of a Dinar or more
ام المؤمینین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاتھ اسی وقت کاٹا جائے گا جب ( چرائی گئی چیز کی قیمت ) چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ ہو ۱؎۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ الْعُرُوقِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي عَازِبٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ قَوَدَ إِلاَّ بِالسَّيْفِ " .
It was narrated from Nu'man bin Bashir that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“There is no retaliation except with the sword.”
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قصاص صرف تلوار سے ہے ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ .
It was narrated from Anas bin Malik that the Prophet (ﷺ) entered Makkah on the day of the Conquest, with a helmet on his head
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن اس حال میں مکہ داخل ہوئے کہ آپ کے سر پر خود تھا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، اخْتَلَفَا بِالأَبْوَاءِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ . وَقَالَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ لاَ يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ . فَأَرْسَلَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ أَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ بَيْنَ الْقَرْنَيْنِ وَهُوَ يَسْتَتِرُ بِثَوْبٍ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَنْ هَذَا قُلْتُ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُنَيْنٍ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ أَسْأَلُكَ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ قَالَ فَوَضَعَ أَبُو أَيُّوبَ يَدَهُ عَلَى الثَّوْبِ فَطَأْطَأَهُ حَتَّى بَدَا لِي رَأْسُهُ ثُمَّ قَالَ لإِنْسَانٍ يَصُبُّ عَلَيْهِ اصْبُبْ . فَصَبَّ عَلَى رَأْسِهِ ثُمَّ حَرَّكَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ . ثُمَّ قَالَ هَكَذَا رَأَيْتُهُ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَفْعَلُ .
It was narrated from Ibrahim bin ‘Abdullah bin Hunain, from his father, that ‘Abdullah bin ‘Abbas and Miswar bin Makhramah disagreed at Abwa’. Abdullah bin ‘Abbas said that the Muhrim may wash his head, and Miswar said that the Muhrim may not wash his head. Ibn ‘Abbas sent me to Abu Ayyub Al-Ansari to ask him about that, and I found him taking a bath near the well, screened with a piece of cloth. I greeted him with Salam, and he said:“Who is this?” I said: “I am ‘Abdullah bin Hunain. ‘Abdullah bin ‘Abbas sent me to you to ask you how the Messenger of Allah (ﷺ) used to wash his head when he was in Ihram.” He said: “Abu Ayyub put his hand on the cloth and lowered it until his head appeared, then he said to someone who was pouring water for him, Pour water. So he poured water on his head. Then he rubbed his head with his hands, forwards and backwards, and said: ‘This is what I saw him (ﷺ) doing.’”
عبداللہ بن حنین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہم کے درمیان مقام ابواء میں اختلاف ہوا تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: محرم اپنا سر دھو سکتا ہے، اور مسور رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں دھو سکتا، چنانچہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا، تاکہ میں ان سے اس سلسلے میں معلوم کروں، میں نے انہیں کنویں کے کنارے دو لکڑیوں کے درمیان ایک کپڑے کی آڑ لیے ہوئے نہاتے پایا، میں نے سلام عرض کیا، تو انہوں نے پوچھا: کون ہے؟ میں نے کہا: میں عبداللہ بن حنین ہوں، مجھے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے آپ کے پاس بھیجا ہے تاکہ میں آپ سے معلوم کروں کہ حالت احرام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر کو کیسے دھوتے تھے، ابوایوب رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ کپڑے پر رکھا اور اسے جھکایا یہاں تک کہ مجھے ان کا سر دکھائی دینے لگا، پھر ایک شخص سے جو پانی ڈال رہا تھا، کہا: پانی ڈالو، تو اس نے آپ کے سر پر پانی ڈالا، پھر آپ نے اپنے ہاتھوں سے سر کو ملا، اور دونوں ہاتھ سر کے آگے سے لے گئے، اور پیچھے سے لائے، پھر بولے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى الْمَازِنِيُّ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ، مَوْلَى الثَّعْلَبِيِّينَ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ أَبِي مَعْقِلٍ الأَسَدِيِّ، وَقَدْ صَحِبَ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَتَيْنِ بِغَائِطٍ أَوْ بِبَوْلٍ .
It was narrated that Ma'qil bin Abu Ma'qil Al-Asadi, who was a Companion of the Prophet, said:"The Messenger of Allah forbade us from facing either of the two Qiblah when defecating or urinating
معقل بن ابومعقل اسدی رضی اللہ عنہ (جن کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل ہے) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پیشاب اور پاخانے کے وقت دونوں قبلوں ( مسجد الحرام اور بیت المقدس ) کی طرف منہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ بَعَثَتْ مَعِي أُمُّ سُلَيْمٍ بِمِكْتَلٍ فِيهِ رُطَبٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَلَمْ أَجِدْهُ وَخَرَجَ قَرِيبًا إِلَى مَوْلًى لَهُ دَعَاهُ فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يَأْكُلُ . قَالَ فَدَعَانِي لآكُلَ مَعَهُ . قَالَ وَصَنَعَ ثَرِيدَةً بِلَحْمٍ وَقَرْعٍ . قَالَ فَإِذَا هُوَ يُعْجِبُهُ الْقَرْعُ . قَالَ فَجَعَلْتُ أَجْمَعُهُ فَأُدْنِيهِ مِنْهُ فَلَمَّا طَعِمْنَا مِنْهُ رَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ وَوَضَعْتُ الْمِكْتَلَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَجَعَلَ يَأْكُلُ وَيَقْسِمُ حَتَّى فَرَغَ مِنْ آخِرِهِ .
It was narrated that Anas said:“Umm Sulaim sent with me a basket of fresh dates for the Messenger of Allah (ﷺ), but I did not find him, as he had just gone out to a freed slave of his who had invited him and made food for him. I came to him and he was eating, and he called me to eat with him. He (the freed slave) had served him Tharid with meat and gourd, and he liked the gourd, so I started to collect the (pieces of) gourd and put them near him. When he had eaten he went back to him house and I put the basket (of dates) before him, and he started to eat them and share them, until he finished the last of them.”
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے میرے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ٹوکرا بھیجا، جس میں تازہ کھجور تھے، میں نے آپ کو نہیں پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک غلام کے پاس قریب میں تشریف لے گئے تھے، اس نے آپ کو دعوت دی تھی، اور آپ کے لیے کھانا تیار کیا تھا، آپ کھا رہے تھے کہ میں بھی جا پہنچا تو آپ نے مجھے بھی اپنے ساتھ کھانے کے لیے بلایا، ( غلام نے ) گوشت اور کدو کا ثرید تیار کیا تھا، میں دیکھ رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو بہت اچھا لگ رہا ہے، تو میں اس کو اکٹھا کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھانے لگا، پھر جب ہم اس میں سے کھا چکے، تو آپ اپنے گھر واپس تشریف لائے، میں نے ( تازہ کھجور کا ) ٹوکرا آپ کے سامنے رکھ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے لگے اور آپ تقسیم بھی کرتے جاتے تھے، یہاں تک کہ اسے بالکل ختم کر دیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ جَدَّةٍ، لَهُ يُقَالُ لَهَا كَبْشَةُ الأَنْصَارِيَّةُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا قِرْبَةٌ مُعَلَّقَةٌ فَشَرِبَ مِنْهَا وَهُوَ قَائِمٌ فَقَطَعَتْ فَمَ الْقِرْبَةِ تَبْتَغِي بَرَكَةَ مَوْضِعِ فِي رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ .
It was narrated from ‘Abdur-Rahman bin Abi ‘Amrah, from a grandmother of his who was called Kabshah Al-Ansariyyah, that the Messenger of Allah (ﷺ) entered upon her, and there was a water skin hanging there. He drank from it while standing, and she cut off the mouth of the water skin, seeking the blessing of the place where the mouth of the Messenger of Allah (ﷺ) had been
کبشہ انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے، ان کے پاس ایک پانی کی مشک لٹکی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑ ے کھڑے اس کے منہ سے منہ لگا کر پانی پیا، تو انہوں نے مشک کے منہ کو جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ کا لمس ہوا تھا برکت کے لیے کاٹ کر رکھ لیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِصْمَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ يَا نَافِعُ تَبَيَّغَ بِيَ الدَّمُ فَأْتِنِي بِحَجَّامٍ وَاجْعَلْهُ شَابًّا وَلاَ تَجْعَلْهُ شَيْخًا وَلاَ صَبِيًّا . قَالَ وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " الْحِجَامَةُ عَلَى الرِّيقِ أَمْثَلُ وَهِيَ تَزِيدُ فِي الْعَقْلِ وَتَزِيدُ فِي الْحِفْظِ وَتَزِيدُ الْحَافِظَ حِفْظًا فَمَنْ كَانَ مُحْتَجِمًا فَيَوْمَ الْخَمِيسِ عَلَى اسْمِ اللَّهِ وَاجْتَنِبُوا الْحِجَامَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَيَوْمَ السَّبْتِ وَيَوْمَ الأَحَدِ وَاحْتَجِمُوا يَوْمَ الاِثْنَيْنِ وَالثُّلاَثَاءِ وَاجْتَنِبُوا الْحِجَامَةَ يَوْمَ الأَرْبِعَاءِ فَإِنَّهُ الْيَوْمُ الَّذِي أُصِيبَ فِيهِ أَيُّوبُ بِالْبَلاَءِ وَمَا يَبْدُو جُذَامٌ وَلاَ بَرَصٌ إِلاَّ فِي يَوْمِ الأَرْبِعَاءِ أَوْ لَيْلَةِ الأَرْبِعَاءِ " .
It was narrated that Nafi’ said:“Ibn ‘Umar said: ‘O Nafi’! The blood is boiling in me. Bring me a cupper and let him be a young man, not an old man or a boy.’ Ibn ‘Umar said: ‘I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: “Cupping on an empty stomach is better, and it increases one’s intellect and memory. And it increases the memory of one who has a good memory so whoever wants to be cupped, (let him do it) on a Thursday, in the Name of Allah. Avoid cupping on Fridays, Saturdays and Sundays. Have yourselves cupped on Mondays and Tuesdays, and avoid cupping on Wednesdays, for that is the day on which the calamity befell Ayyub, and leprosy and leucoderma only appear on Wednesday or the night of Wednesday.”
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: نافع! میرا خون جوش میں ہے، لہٰذا کوئی پچھنا لگانے والا لاؤ، جو جوان ہو، ناکہ بوڑھا یا بچہ، نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: نہار منہ پچھنا لگانا بہتر ہے، اس سے عقل بڑھتی ہے، حافظہ تیز ہوتا ہے، اور یہ حافظ کے حافظے کو بڑھاتی ہے، لہٰذا جو شخص پچھنا لگائے تو اللہ کا نام لے کر جمعرات کے دن لگائے، جمعہ، ہفتہ ( سنیچر ) اور اتوار کو پچھنا لگانے سے بچو، پیر ( دوشنبہ ) اور منگل کو لگاؤ پھر چہار شنبہ ( بدھ ) سے بھی بچو، اس لیے کہ یہی وہ دن ہے جس میں ایوب علیہ السلام بیماری سے دوچار ہوئے، اور جذام و برص کی بیماریاں بھی بدھ کے دن یا بدھ کی رات ہی کو نمودار ہوتی ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ - وَلاَ أَقُولُ نَهَاكُمْ - عَنْ لُبْسِ الْمُعَصْفَرِ .
It was narrated that ‘Abdullah bin Hunain said:“I heard ‘Ali say: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) forbade me – and I do not say that he forbade you – from wearing clothes dyed with safflower.’”
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پیلے رنگ کے کپڑے پہننے سے روکا، میں یہ نہیں کہتا کہ تمہیں منع کیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ اسْتَأْذَنْتُ عَلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ " مَنْ هَذَا " . فَقُلْتُ أَنَا فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أَنَا أَنَا " .
It was narrated that Jabir said:"I asked the Prophet(ﷺ) for permission to enter, and he said: 'Who is that?' I said: 'Me'. The Prophet(ﷺ) said " Me, me?
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اندر آنے کی ) اجازت طلب کی تو آپ نے ( مکان کے اندر سے ) پوچھا: کون ہو ؟ میں نے عرض کیا: میں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں، میں کیا؟ ( نام لو ) ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، أَنْبَأَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ رَبِيعَةَ بْنَ كَعْبٍ الأَسْلَمِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، كَانَ يَبِيتُ عِنْدَ بَابِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَكَانَ يَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ مِنَ اللَّيْلِ " سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ " . الْهَوِيَّ ثُمَّ يَقُولُ " سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ " .
Rabi’ah bin Ka’b Al-Aslami narrated that he used to spend the night outside the door of the Messenger of Allah (ﷺ), and he used to hear the Messenger of Allah (ﷺ) saying at night:“Subhan Allahi Rabbil-‘alamin (Glory is to Allah, the Lord of the worlds),” repeating that for a while, then he said: Subhan Allahi wa bihamdihi (Glory and praise is to Allah).”
ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ خبر دیتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کے پاس رات گزارتے تھے اور رات کو بڑی دیر تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنتے: «سبحان الله رب العالمين» پھر فرماتے: «سبحان الله وبحمده» ۱؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَجُلاً، أَتَى النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ أَىُّ النَّاسِ أَفْضَلُ قَالَ " رَجُلٌ مُجَاهِدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ " . قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ " ثُمَّ امْرُؤٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ يَعْبُدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ " .
It was narrated from Abu Sa’eed Al-Khudri that a man came to the Prophet (ﷺ) and said:“Which of the people is best?” He said: “A man who strives in Jihad in the cause of Allah with himself and his wealth.” He said: “Then who?” He said: “A man in a mountain pass who worships Allah and leaves the people from his evil.”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: لوگوں میں سب سے بہتر اور اچھا کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ آدمی جو اپنی جان و مال سے اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہو ، اس نے پوچھا: پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر وہ آدمی جو کسی گھاٹی میں تنہا اللہ کی عبادت کرتا ہو، اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھتا ہو ۔
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَتَى عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ وَهُمَا فِي خَمِيلٍ لَهُمَا - وَالْخَمِيلُ الْقَطِيفَةُ الْبَيْضَاءُ مِنَ الصُّوفِ - قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ جَهَّزَهُمَا بِهَا وَوِسَادَةٍ مَحْشُوَّةٍ إِذْخِرًا وَقِرْبَةٍ .
It was narrated from ‘Ata’ bin Sa’ib from his father, from ‘Ali that the Messenger of Allah (ﷺ) came to ‘Ali and Fatimah, when they were covered with a Khamil belonging to them. And a Khamil is a white velvet made of wool. The Messenger of Allah (ﷺ) had given this to them as a wedding gift, along with a pillow stuffed with Idhkhir* and a water skin
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی اور فاطمہ ( رضی اللہ عنہما ) کے پاس آئے، وہ دونوں اپنی «خمیل» ( سفید اونی چادر کو کہتے ہیں ) اوڑھے ہوئے تھے، نبی اکرم صلی اللہعلیہ وسلم نے ان دونوں کو یہ چادر تھی، اذخر کی گھاس بھرا ایک تکیہ اور پانی رکھنے کی ایک مشک شادی کے وقت دی تھی۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ، حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ الْخَوْلاَنِيُّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَنْ أُفْتِيَ بِفُتْيَا غَيْرَ ثَبَتٍ فَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى مَنْ أَفْتَاهُ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever is given a Fatwa (verdict) that has no basis, then his sin will be upon the one who issued that Fatwa
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے ( بغیر تحقیق کے ) کوئی غلط فتویٰ دیا گیا ( اور اس نے اس پر عمل کیا ) تو اس کا گناہ فتویٰ دینے والے پر ہو گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ، مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " فَضْلُ الْجَمَاعَةِ عَلَى صَلاَةِ أَحَدِكُمْ وَحْدَهُ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ جُزْءًا " .
It was narrated from Abu Hurairah that:The Messenger of Allah said: "The prayer in congregation is twenty-five times more virtuous than the prayer of anyone of you on his own
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جماعت کی فضیلت تم میں سے کسی کے اکیلے نماز پڑھنے سے پچیس درجہ زیادہ ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَعَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَلَمَّا قَالَ {وَلاَ الضَّالِّينَ} . قَالَ " آمِينَ " . فَسَمِعْنَاهَا مِنْهُ .
It was narrated from ‘Abdul-Jabbar bin Wa’il that his father said:“I performed prayer with the Prophet (ﷺ) and when he said: ‘Nor of those who went astray’,[1:7] he said Amin and we heard that from him.”
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، جب آپ نے «ولا الضالين» کہا، تو اس کے بعد آمین کہا، یہاں تک کہ ہم نے اسے سنا۔