بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Ibn Majah
6
24 hadith
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي مَاجِدَةَ الْحَنَفِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ الْجِنَازَةُ مَتْبُوعَةٌ وَلَيْسَتْ بِتَابِعَةٍ لَيْسَ مِنْهَا مَنْ تَقَدَّمَهَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from ‘Abdullah bin Mas’ud that the Messenger of Allah (ﷺ) said:‘The funeral should be followed and should not follow. There should be no one with it who walks ahead of it.”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنازہ کے پیچھے چلنا چاہیئے، اس کے آگے نہیں چلنا چاہیئے، جو کوئی جنازہ کے آگے ہو وہ اس کے ساتھ نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ، وَالْجَهْلَ، وَالْعَمَلَ بِهِ، فَلاَ حَاجَةَ لِلَّهِ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:‘Whoever does not give up evil and ignorant speech, and acting in accordance with that, Allah has no need of his giving up his food and drink.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص روزہ میں جھوٹ بولنا، جہالت کی باتیں کرنا، اور ان پر عمل کرنا نہ چھوڑے، تو اللہ کو کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ ابْنِ أَخِي، زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ زَيْنَبَ، امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَتْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَيُجْزِئُ عَنِّي مِنَ الصَّدَقَةِ النَّفَقَةُ عَلَى زَوْجِي وَأَيْتَامٍ فِي حِجْرِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ لَهَا أَجْرَانِ أَجْرُ الصَّدَقَةِ وَأَجْرُ الْقَرَابَةِ ‏"‏ ‏.‏ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ابْنِ أَخِي، زَيْنَبَ عَنْ زَيْنَبَ، امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَحْوَهُ ‏.‏
It was narrated that:Zainab, the wife of Abdullah said: “I asked the Messenger of Allah: 'Will it be accepted as charity on my part if I spend on my husband and the orphans in my care?' The Messenger of Allah said: 'She will have two rewards, the reward for charity and the reward for upholding ties of kinship.'”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر میں اپنے شوہر اور زیر کفالت یتیم بچوں پر خرچ کروں تو کیا زکاۃ ہو جائے گی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو دہرا اجر ملے گا، ایک صدقے کا اجر، دوسرے رشتہ جوڑنے کا اجر ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ فَصْلُ مَا بَيْنَ الْحَلاَلِ وَالْحَرَامِ الدُّفُّ وَالصَّوْتُ فِي النِّكَاحِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Muhammad bin Hatib that the Messenger of Allah said:“What differentiates between the lawful and the unlawful is (beating) the Daff and raising the voices (in song) at the time of marriage.”
محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حلال اور حرام میں فرق یہ ہے کہ نکاح میں دف بجایا جائے، اور اس کا اعلان کیا جائے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، قَالَ أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ هِلاَلَ بْنَ أُمَيَّةَ، قَذَفَ امْرَأَتَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ الْبَيِّنَةُ أَوْ حَدٌّ فِي ظَهْرِكَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ هِلاَلُ بْنُ أُمَيَّةَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنِّي لَصَادِقٌ وَلَيُنْزِلَنَّ اللَّهُ فِي أَمْرِي مَا يُبَرِّئُ ظَهْرِي ‏.‏ قَالَ فَنَزَلَتْ ‏{‏وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلاَّ أَنْفُسُهُمْ‏}‏ ‏.‏ حَتَّى بَلَغَ ‏{‏وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ‏}‏ ‏.‏ فَانْصَرَفَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمَا فَجَاءَا فَقَامَ هِلاَلُ بْنُ أُمَيَّةَ فَشَهِدَ وَالنَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ فَهَلْ مِنْ تَائِبٍ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَامَتْ فَشَهِدَتْ فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ الْخَامِسَةِ ‏{‏أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ‏}‏ ‏.‏ قَالُوا لَهَا إِنَّهَا الْمُوجِبَةُ ‏.‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَتَلَكَّأَتْ وَنَكَصَتْ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهَا سَتَرْجِعُ فَقَالَتْ وَاللَّهِ لاَ أَفْضَحُ قَوْمِي سَائِرَ الْيَوْمِ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ انْظُرُوهَا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ الْعَيْنَيْنِ سَابِغَ الأَلْيَتَيْنِ خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ ‏"‏ ‏.‏ فَجَاءَتْ بِهِ كَذَلِكَ فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ لَوْلاَ مَا مَضَى مِنْ كِتَابِ اللَّهِ لَكَانَ لِي وَلَهَا شَأْنٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn 'Abbas that:Hilal bin Umayyah accused his wife in the presence of the Prophet (ﷺ) of (committing adultery) with Sharik bin Sahma'. The Prophet said: "Bring proof or you will feel the Hadd (punishment) on your back." Hilal bin Umayyah said: "By the One Who sent you with the truth, I am telling the truth, and Allah will send down revelation concerning my situation which will spare my back." Then the following was revealed: "And for those who accuse their wives, but have no witnesses except themselves, let the testimony of one of them be four testimonies (i.e., testifies four times) by Allah that he is one of those who speak the truth. And the fifth (testimony should be) the invoking of the curse of Allah on him if he be of those who tell a lie (against her). But it shall avert the punishment (of stoning to death) from her, it she bears witness four times by Allah, that he (her husband) is telling a lie. And the fifth (testimony) should be that the wrath of Allah be upon her if he (her husband) speaks the truth." The Prophet (ﷺ), turned and sent for them, and they came. Hilal bin Umayyah stood up and bore witness, and the Prophet (ﷺ) said: "Allah knows that one of you is lying. Will either of you repent?" Then she stood up and affirmed her innocence. On the fifth time, meaning that the wrath of Allah be upon her if he (her husband) speaks the truth, they said to her: "It will invoke the wrath of Allah." Ibn 'Abbas said: "She hesitated and backed up, until we thought that she was going to recant. Then she said: 'By Allah, I cannot dishonor my people for ever.' Then the Prophet (ﷺ) said: 'Wait and see. If she gives birth to a child with black eyes, fleshy buttocks and big calves, then he is the son of Sharik bin Sahma'.' And she gave birth to such a child. Then the Prophet (ﷺ) said: 'Had it not the matter been settled by the Book of Allah, I would have punished her severely
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شریک بن سحماء کے ساتھ ( بدکاری کا ) الزام لگایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم گواہ لاؤ ورنہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے لگیں گے، ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں بالکل سچا ہوں، اور اللہ تعالیٰ میرے بارے میں کوئی ایسا حکم اتارے گا جس سے میری پیٹھ حد لگنے سے بچ جائے گی، راوی نے کہا: پھر یہ آیت اتری: «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم» جو لوگ اپنی بیویوں کو تہمت لگاتے ہیں اور ان کے پاس اپنے سوا کوئی گواہ نہیں ہوتے… یہاں تک کہ اخیر آیت: «والخامسة أن غضب الله عليها إن كان من الصادقين» ( سورة النور: ۶-۹ ) تک پہنچے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے اور ہلال اور ان کی بیوی دونوں کو بلوایا، وہ دونوں آئے، ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور گواہیاں دیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے، تو کوئی ہے توبہ کرنے والا ، اس کے بعد ان کی بیوی کھڑی ہوئی اور اس نے گواہی دی، جب پانچویں گواہی کا وقت آیا یعنی یہ کہنے کا کہ عورت پہ اللہ کا غضب نازل ہو اگر مرد سچا ہو تو لوگوں نے عورت سے کہا: یہ گواہی ضرور واجب کر دے گی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہ سن کر وہ عورت جھجکی اور واپس مڑی یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ اب وہ اپنی گواہی سے پھر جائے گی، لیکن اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو اپنے گھر والوں کو زندگی بھر کے لیے رسوا اور ذلیل نہیں کروں گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو اگر اس عورت کو کالی آنکھوں والا، بھری سرین والا، موٹی پنڈلیوں والا بچہ پیدا ہو، تو وہ شریک بن سحماء کا ہے ، بالآخر اسی شکل کا لڑکا پیدا ہوا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ کی کتاب کا فیصلہ جو ہو چکا نہ ہوا ہوتا تو میں اس عورت کے ساتھ ضرور کچھ سزا کا معاملہ کرتا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ لاَ يَحِلُّ بَيْعُ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ وَلاَ رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, that his grandfather said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'It is not permissible to sell something that is not with you, nor to profit from what you do not possess
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو چیز تمہارے پاس نہ ہو اس کا بیچنا جائز نہیں، اور نہ اس چیز کا نفع جائز ہے جس کے تم ضامن نہیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَيُّمَا رَجُلٍ بَاعَ سِلْعَةً فَأَدْرَكَ سِلْعَتَهُ بِعَيْنِهَا عِنْدَ رَجُلٍ وَقَدْ أَفْلَسَ وَلَمْ يَكُنْ قَبَضَ مِنْ ثَمَنِهَا شَيْئًا فَهِيَ لَهُ ‏.‏ وَإِنْ كَانَ قَبَضَ مِنْ ثَمَنِهَا شَيْئًا فَهُوَ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:“Any man who sells a product with the man who has become bankrupt, and he has not taken any of its price, it belongs to him, but if he had taken any of its price, then he is like any other creditor.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کوئی سامان بیچا پھر اس نے اس کو بعینہ اس ( مشتری ) کے پاس پایا جو دیوالیہ ہو گیا ہے، اور بائع کو ابھی تک اس کی قیمت میں سے کچھ نہیں ملا تھا، تو وہ سامان بائع کو ملے گا، اور اگر وہ اس کی قیمت میں سے کچھ لے چکا ہے تو وہ دیگر قرض خواہوں کے مانند ہو گا ۱؎۔
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي الصُّغْدِيِّ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ صُقَيْرٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ نَافِعٍ أَبِي غَالِبٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ حَرِيمُ الْبِئْرِ مَدُّ رِشَائِهَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Sa'eed Al-Khudri that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The land around a well (that is considered to be part of it) is the length of the well rope (in all directions).”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کنویں کی چوحدی اس کی رسی کی لمبائی کے برابر ہو گی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بَنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَطَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي مِجَنٍّ قِيمَتُهُ ثَلاَثَةُ دَرَاهِمَ ‏.‏
It was narrated that Ibn Umar said:“The Prophet (S.A.W.) cut off (the hand of a thief) for a shield worth three Dirham.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال کی چوری پر ہاتھ کاٹا، اس کی قیمت تین درہم تھی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ يَهُودِيًّا، قَتَلَ جَارِيَةً عَلَى أَوْضَاحٍ لَهَا فَقَالَ لَهَا ‏ "‏ أَقَتَلَكِ فُلاَنٌ ‏"‏ ‏.‏ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لاَ ثُمَّ سَأَلَهَا الثَّانِيَةَ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لاَ ثُمَّ سَأَلَهَا الثَّالِثَةَ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ نَعَمْ فَقَتَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ حَجَرَيْنِ ‏.‏
It was narrated from Anas bin Malik that :a Jew killed a girl for her jewelry. He asked her (as she was dying): “Did so-and-so kill you?” and she gestured with her head to say no. Then he asked her again, and she gestured with her head to say no. he asked her a third time and she gestured with her head to say yes. So the Messenger of Allah (ﷺ) killed him (by crushing his head) between two rocks
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کو اس کے زیورات کی خاطر مار ڈالا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکی سے ( اس کی موت سے پہلے ) پوچھا: کیا تجھے فلاں نے مارا ہے؟ لڑکی نے سر کے اشارہ سے کہا: نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے کے متعلق پوچھا: ( کیا فلاں نے مارا ہے؟ ) دوبارہ بھی اس نے سر کے اشارے سے کہا: نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسرے کے متعلق پوچھا: تو اس نے سر کے اشارے سے کہا: ہاں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودی کو دو پتھروں کے درمیان رکھ کر قتل کر دیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ مَا تَقُولُونَ فِي الشَّهِيدِ فِيكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَمَنْ مَاتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ وَالْمَطْعُونُ شَهِيدٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ سُهَيْلٌ وَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مِقْسَمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، وَزَادَ، فِيهِ ‏"‏ وَالْغَرِقُ شَهِيدٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:“What do you say among yourselves about the martyr?” They said: “The one who is killed in the cause of Allah.” He said: “In that case the martyrs among my nation would be few. Whoever is killed in the cause of Allah is a martyr; whoever dies in the cause of Allah is a martyr; whoever dies of a stomach disease is a martyr; and whoever dies of the plague is a martyr.” Another chain narrates with the addition of "and the drowned is a martyr
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم شہید کسے سمجھتے ہو ؟ لوگوں نے جواب دیا: اللہ کے راستے میں مارا جانا ( شہادت ہے ) فرمایا: تب تو میری امت میں بہت کم شہید ہوں گے ! ( پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ایسی بات نہیں بلکہ ) جو اللہ کے راستے میں مارا جائے وہ شہید ہے، جو اللہ کے راستے میں مر جائے وہ بھی شہید ہے، پیٹ کی بیماری میں مرنے والا بھی شہید ہے، طاعون کے مرض میں مرنے والا شہید ہے ۔ سہیل کہتے ہیں: مجھے عبیداللہ بن مقسم نے خبر دی وہ ابوصالح سے روایت کرتے ہیں، اس میں یہ لفظ زیادہ ہے: اور ڈوب کر مرنے والا بھی شہید ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْعَرْجِ نَزَلْنَا فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَعَائِشَةُ إِلَى جَنْبِهِ وَأَنَا إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ وَكَانَتْ زِمَالَتُنَا وَزِمَالَةُ أَبِي بَكْرٍ وَاحِدَةً مَعَ غُلاَمِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ فَطَلَعَ الْغُلاَمُ وَلَيْسَ مَعَهُ بَعِيرُهُ فَقَالَ لَهُ أَيْنَ بَعِيرُكَ قَالَ أَضْلَلْتُهُ الْبَارِحَةَ ‏.‏ قَالَ مَعَكَ بَعِيرٌ وَاحِدٌ تُضِلُّهُ قَالَ فَطَفِقَ يَضْرِبُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏ "‏ انْظُرُوا إِلَى هَذَا الْمُحْرِمِ مَا يَصْنَعُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Asma’ bint Abu Bakr said:“We went out with the Messenger of Allah (ﷺ) until, when we were in ‘Arj, we stopped to camp. The Messenger of Allah (ﷺ) sat, with ‘Aishah by his side, and I was sitting beside Abu Bakr. Our mount* and the mount of Abu Bakr was one, under the care of the slave of Abu Bakr. The slave looked and his camel was not with him, so he said to him: ‘Where is your camel?’ He said: ‘I lost it yesterday.’ He said: ‘You have one camel with you and you lost it?’ He started to beat him, and the Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Look at what this Muhrim is doing!’”
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( حج کے لیے ) نکلے، جب مقام عرج میں پہنچے تو ہم نے پڑاؤ ڈال دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس بیٹھ گئیں، اور میں ( اپنے والد ) ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس، اس سفر میں میرا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سامان اٹھانے والا اونٹ ایک تھا جو ابوبکر کے غلام کے ساتھ تھا، اتنے میں غلام آیا، اس کے ساتھ اونٹ نہیں تھا تو انہوں نے اس سے پوچھا: تمہارا اونٹ کہاں ہے؟ اس نے جواب دیا: کل رات کہیں غائب ہو گیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تمہارے ساتھ ایک ہی اونٹ تھا، اور وہ بھی تم نے گم کر دیا، پھر وہ اسے مارنے لگے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: دیکھو اس محرم کو کیا کر رہا ہے ؟ ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ، أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الأَنْصَارِيَّ، يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الَّذِي يَذْهَبُ إِلَى الْغَائِطِ الْقِبْلَةَ وَقَالَ ‏ "‏ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Ayyub Ansari said:"The Messenger of Allah forbade the person who went to the Gha'it to face the Qiblah. He said: 'face towards the east or the west
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے سے منع فرمایا، اور فرمایا: مشرق ( پورب ) کی طرف منہ کرو، یا پچھم کی طرف ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، أَنْبَأَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُحِبُّ الْقَرْعَ ‏.‏
It was narrated that Anas said:“The Prophet (ﷺ) like gourd.”
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کدو پسند فرماتے تھے۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ سَقَيْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مِنْ زَمْزَمَ فَشَرِبَ قَائِمًا ‏.‏ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعِكْرِمَةَ فَحَلَفَ بِاللَّهِ مَا فَعَلَ ‏.‏
‘Asim narrated from Sha’bi, from Ibn ‘Abbas who said:“I drew water from Zamzam for the Prophet (ﷺ) and he drank standing up.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو زمزم کا پانی پلایا، تو آپ نے کھڑے کھڑے پیا ۱؎۔ شعبی کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث عکرمہ سے بیان کی تو انہوں نے قسم کھا کر کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَطَرٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ يَا نَافِعُ قَدْ تَبَيَّغَ بِيَ الدَّمُ فَالْتَمِسْ لِي حَجَّامًا وَاجْعَلْهُ رَفِيقًا إِنِ اسْتَطَعْتَ وَلاَ تَجْعَلْهُ شَيْخًا كَبِيرًا وَلاَ صَبِيًّا صَغِيرًا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏ "‏ الْحِجَامَةُ عَلَى الرِّيقِ أَمْثَلُ وَفِيهِ شِفَاءٌ وَبَرَكَةٌ وَتَزِيدُ فِي الْعَقْلِ وَفِي الْحِفْظِ فَاحْتَجِمُوا عَلَى بَرَكَةِ اللَّهِ يَوْمَ الْخَمِيسِ وَاجْتَنِبُوا الْحِجَامَةَ يَوْمَ الأَرْبِعَاءِ وَالْجُمُعَةِ وَالسَّبْتِ وَيَوْمَ الأَحَدِ تَحَرِّيًا وَاحْتَجِمُوا يَوْمَ الاِثْنَيْنِ وَالثُّلاَثَاءِ فَإِنَّهُ الْيَوْمُ الَّذِي عَافَى اللَّهُ فِيهِ أَيُّوبَ مِنَ الْبَلاَءِ وَضَرَبَهُ بِالْبَلاَءِ يَوْمَ الأَرْبِعَاءِ فَإِنَّهُ لاَ يَبْدُو جُذَامٌ وَلاَ بَرَصٌ إِلاَّ يَوْمَ الأَرْبِعَاءِ أَوْ لَيْلَةَ الأَرْبِعَاءِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Ibn ‘Umar said:“O Nafi’! The blood is boiling in me, find me a cupper, but let it be someone gentle if you can, not an old man or a young boy. For I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘Cupping on an empty stomach is better, and in it there is healing and blessing, and it increases one’s intellect and memory. So have yourselves cupped for the blessing of Allah on Thursdays, and avoid cupping on Wednesdays, Fridays, Saturdays and Sundays. Have yourselves cupped on Mondays and Tuesdays, for that is the day on which Allah relieved Ayyub of Calamity, and He inflicted calamity upon him on a Wednesday, and leprosy and leucoderma only appear on Wednesdays, or on the night of Wednesday.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے ( اپنے غلام ) نافع سے کہا: نافع! میرے خون میں جوش ہے، لہٰذا کسی پچھنا لگانے والے کو میرے لیے تلاش کرو، اور اگر ہو سکے تو کسی نرم مزاج کو لاؤ، زیادہ بوڑھا اور کم سن بچہ نہ ہو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: پچھنا نہار منہ لگانا بہتر ہے، اس میں شفاء اور برکت ہے، اس سے عقل بڑھتی ہے اور قوت حافظہ تیز ہوتی ہے، تو جمعرات کو پچھنا لگواؤ، اللہ برکت دے گا، البتہ بدھ، جمعہ، سنیچر اور اتوار کو پچھنا لگوانے سے بچو، اور ان دنوں کا قصد نہ کرو، پھر سوموار ( دوشنبہ ) اور منگل کے دن پچھنا لگواؤ، اس لیے کہ منگل وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ایوب علیہ السلام کو بیماری سے نجات دی، اور بدھ کے دن آپ کو اس بیماری میں مبتلا کیا تھا، چنانچہ جذام ( کوڑھ ) اور برص ( سفید داغ ) کی بیماریاں ( عام طور سے ) بدھ کے دن یا بدھ کی رات میں پیدا ہوتی ہیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سُهَيْلٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ الْمُفَدَّمِ ‏.‏ قَالَ يَزِيدُ قُلْتُ لِلْحَسَنِ مَا الْمُفَدَّمُ قَالَ الْمُشْبَعُ بِالْعُصْفُرِ ‏.‏
It was narrated that Ibn ‘Umar said:“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade Al-Mufaddam.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «مفدم» سے منع کیا ہے، یزید کہتے ہیں کہ میں نے حسن سے پوچھا: «مفدم» کیا ہے؟ انہوں نے کہا: جو کپڑا «کسم» میں رنگنے سے خوب پیلا ہو جائے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَىٍّ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ كَانَ لِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مُدْخَلاَنِ مُدْخَلٌ بِاللَّيْلِ وَمُدْخَلٌ بِالنَّهَارِ فَكُنْتُ إِذَا أَتَيْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي يَتَنَحْنَحُ لِي ‏.‏
It was narrated that Ali said:"I had two times of visiting the Messenger of Allah(ﷺ), at night and during the day. If I came to him when he was praying, he would clear his throat (to let me know he was praying)
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے کے لیے میرے دو وقت مقرر تھے: ایک رات میں، ایک دن میں، تو میں جب آتا اور آپ نماز کی حالت میں ہوتے تو آپ میرے لیے کھنکار دیتے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ، حَدَّثَنِي جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ مَنْ تَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ حِينَ يَسْتَيْقِظُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ ثُمَّ دَعَا رَبِّ اغْفِرْ لِي - غُفِرَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ الْوَلِيدُ أَوْ قَالَ ‏"‏ دَعَا اسْتُجِيبَ لَهُ فَإِنْ قَامَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى قُبِلَتْ صَلاَتُهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that ‘Ubadah bin As-Samit said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever wakes up in the morning and says upon waking: La ilaha illallah wahdahu la sharika lahu, lahul-mulku wa lahul-hamdu, wa Huwa ‘ala kulli shay’in Qadir; Subhan-Allah walhamdu lillahi, wa la ilaha illallahu, wa Allahu Akbar, wa la hawla wa la quwwata illa billahil-‘Aliyil-‘Azim (None has the right to be worshipped but Allah alone, with no partner or associate. His is the dominion and all praise is to Him, and He is Able to do all things. Glory is to Allah, praise is to Allah, none has the right to be worshiped but Allah, Allah is the Most Great, and there is no power and no strength except with Allah, the Most High, the Most Supreme), then he supplicates Rabbighfirli (O Lord, forgive me), he will be forgiven.’” Walid said: “Or he said: then if he supplicated, it will be answered for him then if he stood up and performed ablution and then performed prayer, his prayer would be accepted.”
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو رات میں بیدار ہو اور آنکھ کھلتے ہی یہ دعا پڑھے: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم» اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اور اسی کے لیے حمد و ثنا ہے، وہی ہر چیز پر قادر ہے، اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اللہ ہی سب سے بڑا ہے، طاقت و قوت اللہ بلند و برتر کی توفیق ہی سے ہے پھر یہ دعا پڑھے: «رب اغفر لي» اے رب مجھ کو بخش دے ، تو وہ بخش دیا جائے گا، ولید کہتے ہیں: یا یوں کہا: اگر وہ دعا کرے تو اس کی دعا قبول ہو گی، اور اگر اٹھ کر وضو کرے، پھر نماز پڑھے تو اس کی نماز قبول ہو گی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ بَعْجَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ خَيْرُ مَعَايِشِ النَّاسِ لَهُمْ رَجُلٌ مُمْسِكٌ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَيَطِيرُ عَلَى مَتْنِهِ كُلَّمَا سَمِعَ هَيْعَةً أَوْ فَزْعَةً طَارَ عَلَيْهِ إِلَيْهَا يَبْتَغِي الْمَوْتَ أَوِ الْقَتْلَ مَظَانَّهُ وَرَجُلٌ فِي غُنَيْمَةٍ فِي رَأْسِ شَعَفَةٍ مِنْ هَذِهِ الشِّعَافِ أَوْ بَطْنِ وَادٍ مِنْ هَذِهِ الأَوْدِيَةِ يُقِيمُ الصَّلاَةَ وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ وَيَعْبُدُ رَبَّهُ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْيَقِينُ لَيْسَ مِنَ النَّاسِ إِلاَّ فِي خَيْرٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:“The best lifestyle is that of a man who holds onto the reins of his horse for the sake of Allah, riding on its back. Every time he hears a commotion he rushes towards it, seeking death wherever he thinks he can find it; and a man who tends sheep at the top of one of these peaks, or in the bottom of one of these valleys, establishing the prayer, paying the charity, and worshipping his Lord until the inevitable (death) comes to him and there is nothing between him and the people except good.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے اچھی زندگی والا وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے ہوئے اس کی پشت پر اڑ رہا ہو، اور جہاں دشمن کی آواز سنے یا مقابلے کا وقت آئے تو فوراً مقابلہ کے لیے اس جانب رخ کرتا ہو، اور موت یا قتل کی جگہیں تلاش کرتا پھرتا ہو اور وہ آدمی ہے جو اپنی بکریوں کو لے کر تنہا کسی پہاڑ کی چوٹی پر رہتا ہو، یا کسی وادی میں جا بسے، نماز قائم کرتا ہو، زکاۃ دیتا ہو، اور اپنے رب کی عبادت کرتا ہو حتیٰ کہ اس حالت میں اسے موت آ جائے کہ وہ لوگوں کا خیرخواہ ہو ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو خَالِدٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ ضِجَاعُ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَدَمًا حَشْوُهُ لِيفٌ ‏.‏
It was narrated that ‘Aishah said:“The bed of the Messenger of Allah (ﷺ) was made of leather, stuffed with fibers of date-palm trees.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بچھونا چمڑے کا تھا، اور اس کے اندر کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، وَعَبْدَةُ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ح وَحَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَحَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، وَشُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ لاَ يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ النَّاسِ وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ فَإِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالاً فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Abdullah bin 'Amr bin 'As that:the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Allah will not take away knowledge by removing it from people (from their hearts). Rather He will take away knowledge by taking away the scholars, then when there are no scholars left, the people will take the ignorant as their leaders. They will be asked questions and they will issue verdicts without knowledge, thus they will go astray and lead others astray
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ علم کو اس طرح نہیں مٹائے گا کہ اسے یک بارگی لوگوں سے چھین لے گا، بلکہ اسے علماء کو موت دے کر مٹائے گا، جب اللہ تعالیٰ کسی بھی عالم کو باقی اور زندہ نہیں چھوڑے گا تو لوگ جاہلوں کو سردار بنا لیں گے، ان سے مسائل پوچھے جائیں گے، اور وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے، تو گمراہ ہوں گے، اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ صَلاَةُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ تَزِيدُ عَلَى صَلاَتِهِ فِي بَيْتِهِ وَصَلاَتِهِ فِي سُوقِهِ بِضْعًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'A man's prayer in congregation is twenty-some levels higher than his prayer in his house or in the marketplace
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا گھر میں یا بازار میں تنہا نماز پڑھنے سے بیس سے زیادہ درجہ افضل ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِذَا قَالَ ‏{وَلاَ الضَّالِّينَ}‏ قَالَ ‏ "‏ آمِينَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that ‘Ali said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying ‘Amin’ after he said, ‘nor of those who went astray.’[1:]
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم «ولا الضالين» کہتے تو «آمین» کہتے ۱؎۔