بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Ibn Majah
6
25 hadith
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الأَيْلِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَأَبُو بَكْرٍ وَ عُمَرُ وَعُثْمَانُ يَمْشُونَ أَمَامَ الْجِنَازَةِ ‏.‏
It was narrated that Anas bin Malik said:“The Messenger of Allah (ﷺ), Abu Bakr, ‘Umar and ‘Uthman used to walk ahead of the funeral (procession).”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم جنازہ کے آگے چلتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: رُخِّصَ لِلْكَبِيرِ الصَّائِمِ فِي الْمُبَاشَرَةِ وَكُرِهَ لِلشَّابِّ ‏.‏
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“A concession was granted to those who are older with regard to touching while fasting, but it was disliked on the part of those who are younger.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بوڑھے روزہ دار کو بیوی سے چمٹ کر سونے کی رخصت دی گئی ہے، لیکن نوجوانوں کے لیے مکروہ قرار دی گئی ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، وَأَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ الْوَسْقُ سِتُّونَ صَاعًا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that:Jabir bin Abdullah said: “The Messenger of Allah said: 'A Wasq is sixty Sa.' ”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے ۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَالْخَلِيلُ بْنُ عَمْرٍو، قَالاَ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ إِلْيَاسَ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ أَعْلِنُوا هَذَا النِّكَاحَ وَاضْرِبُوا عَلَيْهِ بِالْغِرْبَالِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Aishah:that the Prophet said: “Announce this marriage, and beat the sieve for it.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نکاح کا اعلان کرو اور اس پر دف بجاؤ ۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ، مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ جَاءَ عُوَيْمِرٌ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ فَقَالَ سَلْ لِي رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَرَأَيْتَ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً فَقَتَلَهُ أَيُقْتَلُ بِهِ أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنْ ذَلِكَ فَعَابَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ الْمَسَائِلَ ‏.‏ ثُمَّ لَقِيَهُ عُوَيْمِرٌ فَسَأَلَهُ فَقَالَ مَا صَنَعْتَ فَقَالَ صَنَعْتُ أَنَّكَ لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَعَابَ الْمَسَائِلَ فَقَالَ عُوَيْمِرٌ وَاللَّهِ لآتِيَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَلأَسْأَلَنَّهُ ‏.‏ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَوَجَدَهُ قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ فِيهِمَا فَلاَعَنَ بَيْنَهُمَا فَقَالَ عُوَيْمِرٌ وَاللَّهِ لَئِنِ انْطَلَقْتُ بِهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ كَذَبْتُ عَلَيْهَا ‏.‏ قَالَ فَفَارَقَهَا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَصَارَتْ سُنَّةً فِي الْمُتَلاَعِنَيْنِ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ انْظُرُوهَا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْحَمَ أَدْعَجَ الْعَيْنَيْنِ عَظِيمَ الأَلْيَتَيْنِ فَلاَ أُرَاهُ إِلاَّ قَدْ صَدَقَ عَلَيْهَا وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أُحَيْمِرَ كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ فَلاَ أُرَاهُ إِلاَّ كَاذِبًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الْمَكْرُوهِ ‏.‏
It was narrated that Sahl bin Sa'd As-Sa'idi said:"Uwaimir came to 'Asim bin 'Adi and said: 'Ask the Messenger of Ailah (ﷺ) for me: "Do you think that if a man finds another man with his wife and kills him, he should be killed in retaliation, or what should he do?" 'Asim asked the Messenger of Allah (ﷺ) about that, and the Messenger of Allah (ﷺ) disapproved of the question. Then 'Uwaimir met him ('Asim) and asked him about that, saying: 'What did you do?’ He said: I did that and you have not brought me any good. I asked the Messenger of Allah (ﷺ) and he disapproved of this question.’ Uwaimir said: 'By Allah, I will go to the Messenger of Allah (ﷺ) myself and ask him.' So he went to the Messenger of Allah (ﷺ) and found that Qur'an had been revealed concerning them, and the Prophet (ﷺ) told them to go through the procedure of Li'an. 'Uwaimir said: 'O Messenger of Allah, (ﷺ) by Allah if I take her back, I would have been telling lies about her.' So he left her before the Messenger of Allah (ﷺ) told him to do so, and that became the Sunnah for two who engage in the procedure of Li'an. Then the Prophet (ﷺ) said: 'Wait and see. If she gives birth to a child who is black in color with widely-spaced dark eyes and large buttocks, then I think that he was telling the truth about her, but if she gives birth to a child with a red complexion like a Wahrah,[1] then I think that he was lying.' Then she gave birth to a child with features resembling those of the man concerning whom she was accused
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عویمر عجلانی ( رضی اللہ عنہ ) عاصم بن عدی ( رضی اللہ عنہ ) کے پاس آئے، اور کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے لیے یہ مسئلہ پوچھو کہ اگر کوئی مرد اپنی عورت کے ساتھ کسی اجنبی مرد کو ( زنا ) کرتے ہوئے پائے پھر اس کو قتل کر دے تو کیا اس کے بدلے اسے بھی قتل کر دیا جائے گا یا وہ کیا کرے؟ عاصم ( رضی اللہ عنہ ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے سوالات برے لگے ۱؎، پھر عویمر ( رضی اللہ عنہ ) عاصم ( رضی اللہ عنہ ) سے ملے اور پوچھا: تم نے کیا کیا؟ عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے کیا جو کیا یعنی پوچھا لیکن تم سے مجھے کوئی بھلائی نہیں پہنچی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے اس طرح کے سوالوں کو برا جانا، عویمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اللہ کی قسم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خود جاؤں گا اور آپ سے پوچھوں گا، چنانچہ وہ خود آپ کے پاس آئے تو دیکھا کہ ان دونوں کے بارے میں وحی اتر چکی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان لعان کرا دیا، عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! اب اگر اس عورت کو میں ساتھ لے جاؤں تو گویا میں نے اس پر تہمت لگائی چنانچہ انہوں نے اس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی چھوڑ دیا، پھر لعان کرنے والوں کے بارے میں یہ دستور ہو گیا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو اگر عویمر کی عورت کالے رنگ کا، کالی آنکھوں والا، بڑی سرین والا بچہ جنے تو میں سمجھتا ہوں کہ عویمر سچے ہیں، اور اگر سرخ رنگ کا بچہ جنے جیسے وحرہ ( سرخ کیڑا ہوتا ہے ) تو میں سمجھتا ہوں وہ جھوٹے ہیں ۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر اس عورت کا بچہ بری شکل پہ پیدا ہوا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ يُوسُفَ بْنَ مَاهَكَ، يُحَدِّثُ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يَسْأَلُنِي الْبَيْعَ وَلَيْسَ عِنْدِي أَفَأَبِيعُهُ قَالَ ‏ "‏ لاَ تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Hakim bin Hizam said:"I said: 'O Messenger of Allah, a man is asking me to sell him something that I do not possess; Shall I sell it to him?' He said: 'Do not sell what is not with you
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! ایک آدمی مجھ سے ایک چیز خریدنا چاہتا ہے، اور وہ میرے پاس نہیں ہے، کیا میں اس کو بیچ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو چیز تمہارے پاس نہیں ہے اس کو نہ بیچو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ وَجَدَ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ أَفْلَسَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ غَيْرِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever finds his exact property with a man who has become bankrupt, and then he has more right to it than anyone else.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے بعینہ اپنا مال اس شخص کے پاس پا لیا جو مفلس ( دیوالیہ ) ہو گیا ہو، تو وہ دوسرے قرض خواہوں سے اس مال کا زیادہ حقدار ہے ۔
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى، ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ الْمَكِّيُّ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ حَفَرَ بِئْرًا فَلَهُ أَرْبَعُونَ ذِرَاعًا عَطَنًا لِمَاشِيَتِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Abdullah bin Mughaffal that the Prophet (ﷺ) said:“Whoever digs a well, is entitled to forty forearms' length surrounding it is as a resting place for his flocks.”
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کنواں کھودے تو اس کے گرد چالیس ہاتھ تک کی زمین اس کی ہو گی، اس کے جانوروں کو پانی پلانے اور بٹھانے کے لیے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَعَنَ اللَّهُ السَّارِقَ يَسْرِقُ الْبَيْضَةَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ وَيَسْرِقُ الْحَبْلَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (S.A.W.) said:“May Allah curse the thief! He steals an egg and his hand is cut off, and he steals a rope and his hand is cut off”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چور پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو، وہ ایک انڈا چراتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے، اور رسی چراتا ہے تو بھی اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ يَهُودِيًّا، رَضَخَ رَأْسَ امْرَأَةٍ بَيْنَ حَجَرَيْنِ فَقَتَلَهَا فَرَضَخَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأْسَهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ ‏.‏
It was narrated from Anas bin Malik that :a Jew crushed the head of a woman between two rocks and killed her, so the Messenger of Allah (ﷺ) crushed his head between two rocks
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے ایک عورت کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل ڈالا، تو رسول اللہ صلیاللہ علیہ وسلم نے بھی اس کے ساتھ وہی سلوک کیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِي الْعُمَيْسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ مَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَعُودُهُ فَقَالَ قَائِلٌ مِنْ أَهْلِهِ إِنْ كُنَّا لَنَرْجُو أَنْ تَكُونَ وَفَاتُهُ قَتْلَ شَهَادَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهَادَةٌ وَالْمَطْعُونُ شَهَادَةٌ وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شَهَادَةٌ - يَعْنِي الْحَامِلَ - وَالْغَرِقُ وَالْحَرِقُ وَالْمَجْنُوبُ - يَعْنِي ذَاتَ الْجَنْبِ - شَهَادَةٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Abdullah bin Jabir bin ‘Atik, from his father, that his grandfather fell sick and the Prophet (ﷺ) came to visit him. One of his family members said:“We hoped that when he died it would be as a martyr in the cause of Allah.” The Messenger of Allah (ﷺ) said: “In that case the martyrs of my nation would be few. Being killed in the cause of Allah is martyrdom; dying of the plague is martyrdom; when a pregnant woman dies in childbirth that is martyrdom; and dying of drowning, or burning, or of pleurisy, is martyrdom.”
جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ بیمار ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار پرسی ( عیادت ) کے لیے تشریف لائے، ان کے اہل خانہ میں سے کسی نے کہا: ہمیں تو یہ امید تھی کہ وہ اللہ کے راستے میں شہادت کی موت مریں گے، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب تو میری امت کے شہداء کی تعداد بہت کم ہے! ( نہیں ایسی بات نہیں بلکہ ) اللہ کے راستے میں قتل ہونا شہادت ہے، مرض طاعون میں مر جانا شہادت ہے، عورت کا زچگی ( جننے کی حالت ) میں مر جانا شہادت ہے، ڈوب کر یا جل کر مر جانا شہادت ہے، نیز پسلی کے ورم میں مر جانا شہادت ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever does not have sandals let him wear leather socks, and let him cut them to below the ankle.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو جوتے نہ پائے تو وہ موزے پہن لے، اور انہیں کاٹ کر ٹخنوں سے نیچے کر لے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيَّ، يَقُولُ أَنَا أَوَّلُ، مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏ "‏ لاَ يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ ‏"‏ ‏.‏ وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ حَدَّثَ النَّاسَ بِذَلِكَ ‏.‏
Abdullah bin Harith bin Jaz' Az-Zubaidi said:"I am the first one who heard the Prophet say: 'No one among you should urinate facing towards the Qiblah,' and I am the first one who told the people of that
عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں پہلا شخص ہوں جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: کوئی شخص قبلہ رو ہو کر ہرگز پیشاب نہ کرے اور میں سب سے پہلا شخص ہوں جس نے لوگوں سے یہ حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا عُمَرُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنْ أَكْلِ الْهِرَّةِ وَثَمَنِهَا‏.‏
It was narrated that Jabir said:“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade eating cats and he forbade their price.”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی اور اس کی قیمت کھانے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو السَّائِبِ، سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كُنَّا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَأْكُلُ وَنَحْنُ نَمْشِي وَنَشْرَبُ وَنَحْنُ قِيَامٌ ‏.‏
It was narrated that Ibn ‘Umar said:“At the time of the Messenger of Allah (ﷺ) we used to eat while walking, and drink while standing up.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چلتے پھرتے کھاتے تھے، اور کھڑے کھڑے پیتے تھے ۱؎۔
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَهَى أَنْ يُشْرَبَ مِنْ فَمِ السِّقَاءِ ‏.‏
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade drinking (directly) from the mouth of a water skin.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ مشک کے منہ سے پانی پیا جائے۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَطَرٍ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنِ النَّهَّاسِ بْنِ قَهْمٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ مَنْ أَرَادَ الْحِجَامَةَ فَلْيَتَحَرَّ سَبْعَةَ عَشَرَ أَوْ تِسْعَةَ عَشَرَ أَوْ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَلاَ يَتَبَيَّغْ بِأَحَدِكُمُ الدَّمُ فَيَقْتُلَهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever wants to be cupped, let him seek out the seventeenth, nineteenth or twenty-first (of the month); and let none of you allow his blood to rage so that it kills him.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص پچھنا لگوانا چاہے تو ( ہجری ) مہینے کی سترہویں، انیسویں یا اکیسویں تاریخ کو لگوائے، اور ( کسی ایسے دن نہ لگوائے ) جب اس کا خون جوش میں ہو کہ یہ اس کے لیے موجب ہلاکت بن جائے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ بَرَّادِ بْنِ يُوسُفَ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، قَاضِي مَرْوَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَخْطُبُ فَأَقْبَلَ حَسَنٌ وَحُسَيْنٌ عَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَعْثُرَانِ وَيَقُومَانِ فَنَزَلَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَأَخَذَهُمَا فَوَضَعَهُمَا فِي حِجْرِهِ فَقَالَ ‏"‏ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ‏{إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلاَدُكُمْ فِتْنَةٌ}‏ رَأَيْتُ هَذَيْنِ فَلَمْ أَصْبِرْ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ أَخَذَ فِي خُطْبَتِهِ ‏.‏
‘Abdullah bin Buraidah narrated that his father told him:I saw the Messenger of Allah (ﷺ) delivering a sermon, and Hasan and Husain came forward, wearing red shirts, stumbling and getting up again. The Prophet (ﷺ) stepped down, picked them up and put them in his lap. Then he said: “Allah and His Messenger have spoken the truth. ‘Your wealth and your children are only a trial.’ [64:15] I saw these two and I could not be patient. Then he resumed his sermon.”
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے دیکھا، اتنے میں حسن اور حسین رضی اللہ عنہما دونوں لال قمیص پہنے ہوئے آ گئے کبھی گرتے تھے کبھی اٹھتے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( منبر سے ) اترے، دونوں کو اپنی گود میں اٹھا لیا، اور فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کا قول سچ ہے: «إنما أموالكم وأولادكم فتنة» بلاشبہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں ، میں نے ان دونوں کو دیکھا تو صبر نہ کر سکا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ شروع کر دیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ وَاصِلِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي سَوْرَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا السَّلاَمُ فَمَا الاِسْتِئْنَاسُ قَالَ ‏ "‏ يَتَكَلَّمُ الرَّجُلُ تَسْبِيحَةً وَتَكْبِيرَةً وَتَحْمِيدَةً وَيَتَنَحْنَحُ وَيُؤْذِنُ أَهْلَ الْبَيْتِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Ayyub Ansari said:"We said: 'O Messenger of Allah(ﷺ), (we know) this (greeting of) Salam, but what does seeking permission to enter mean?' He said: 'It means a man saying SubhanAllah, and Allahu Akbar and Al Hamdulillah, and clearing his throat, announcing his arrival to the people in the house
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! سلام تو ہمیں معلوم ہے، لیکن «استئذان» کیا ہے؟ ( یعنی ہم اجازت کیسے طلب کریں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «استئذان» یہ ہے کہ آدمی تسبیح، تکبیر اور تحمید ( یعنی «سبحان الله، الله أكبر، الحمد لله» کہہ کر یا کھنکار کر ) سے گھر والوں کو خبردار کرے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ وَضَعَ يَدَهُ - يَعْنِي الْيُمْنَى - تَحْتَ خَدِّهِ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ - أَوْ تَجْمَعُ - عِبَادَكَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Abdullah that:whenever the Prophet (saas) went to his bed, he would put his hand - meaning his right hand - beneath his cheek then say: "Allahumma qini 'adhabaka yawm tab'athu - [or: tajma'u] - 'ibadaka (O Allah, save me from Your punishment on the Day when You resurrect - or gather - Your slaves)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر تشریف لے جاتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے رخسار مبارک کے نیچے رکھتے، پھر ( یہ دعا ) پڑھتے: «اللهم قني عذابك يوم تبعث ( أو تجمع ) عبادك» اے اللہ! مجھ کو تو اپنے اس دن کے عذاب سے بچا جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا یا جمع کرے گا ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَيْوَئِيلَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ مِنْ حُسْنِ إِسْلاَمِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لاَ يَعْنِيهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Part of a person’s goodness in Islam is his leaving alone that which does not concern him.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی شخص کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ جس بات کا تعلق اس سے نہ ہو اسے وہ چھوڑ دے ۱؎۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَوْمًا بِطَعَامٍ سُخْنٍ فَأَكَلَ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ ‏ "‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ مَا دَخَلَ بَطْنِي طَعَامٌ سُخْنٌ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:“One day some hot food was brought to the Messenger of Allah (ﷺ), and he ate. Then when he had finished he said: ‘Praise is to Allah, no hot food has entered my stomach since such and such a time.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تازہ گرم کھانا لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھایا، جب فارغ ہوئے تو فرمایا: الحمدللہ میرے پیٹ میں اتنے اور اتنے دن سے گرم تازہ کھانا نہیں گیا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، وَهَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَرْدَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ مَنْ تَرَكَ الْكَذِبَ وَهُوَ بَاطِلٌ بُنِيَ لَهُ قَصْرٌ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ وَمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ وَهُوَ مُحِقٌّ بُنِيَ لَهُ فِي وَسَطِهَا وَمَنْ حَسَّنَ خُلُقَهُ بُنِيَ لَهُ فِي أَعْلاَهَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Ans bin Malik said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever gives up telling lies in support of a false claim, a palace will be built for him in the outskirts of Paradise. Whoever gives up argument when he is in the right, a palace will be built from him in the middle (of Paradise). And whoever had good behavior, a palace will be built for him in the highest reaches (of Paradise)
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جھوٹ بولنا چھوڑ دیا اور وہ باطل پر تھا تو اس کے لیے جنت کے کناروں میں ایک محل بنایا جائے گا، اور جس نے حق پر ہونے کے باوجود بحث اور کٹ حجتی چھوڑ دی اس کے لیے جنت کے بیچ میں محل بنایا جائے گا، اور جس نے اپنے آپ کو حسن اخلاق سے مزین کیا اس کے لیے جنت کے اوپری حصہ میں محل بنایا جائے گا ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَتِ الأَنْصَارُ بَعِيدَةً مَنَازِلُهُمْ مِنَ الْمَسْجِدِ فَأَرَادُوا أَنْ يَقْتَرِبُوا فَنَزَلَتْ ‏{وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ}‏ قَالَ فَثَبَتُوا ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The houses of the Ansar were far from the mosque and they wanted to move closer. Then the following Verse was revealed: 'We record that which they send before (them), and their traces.'" [Ya-Sin: 12] He said: So they remained (where they were)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انصار کے مکانات مسجد نبوی سے کافی دور تھے، ان لوگوں نے ارادہ کیا کہ مسجد کے قریب آ جائیں تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: «ونكتب ما قدموا وآثارهم» ہم ان کے کئے ہوئے اعمال اور نشانات قدم لکھیں گے ( يسين: 12 ) تو وہ اپنے مکانوں میں رک گئے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ رَافِعٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ عَمِّ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ تَرَكَ النَّاسُ التَّأْمِينَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِذَا قَالَ ‏"‏ ‏{غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ}‏ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ آمِينَ ‏"‏ ‏.‏ حَتَّى يَسْمَعَهَا أَهْلُ الصَّفِّ الأَوَّلِ فَيَرْتَجُّ بِهَا الْمَسْجِدُ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:“The people stopped saying Amin, but when the Messenger of Allah (ﷺ) said ‘Not (the way) of those who earned Your Anger, nor of those who went astray’[1:7] he would say Amin, until the people in the first row could hear it, and the mosque would shake with it
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے آمین کہنا چھوڑ دیا حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہتے تو آمین کہتے، یہاں تک کہ پہلی صف کے لوگ سن لیتے، اور آمین سے مسجد گونج اٹھتی۔