حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ، حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ، سَمِعَ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " الرَّاكِبُ خَلْفَ الْجِنَازَةِ وَالْمَاشِي مِنْهَا حَيْثُ شَاءَ " .
Al-Mughirah bin Shu’bah said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘The rider should travel behind the funeral (procession) but the one who is walking may walk wherever he wants.”
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: سوار شخص جنازہ کے پیچھے چلے اور پیدل شخص ( آگے پیچھے، دائیں، بائیں ) جہاں چاہے چلے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ الضِّنِّيِّ، عَنْ مَيْمُونَةَ، مَوْلاَةِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَتْ: سُئِلَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنْ رَجُلٍ قَبَّلَ امْرَأَتَهُ وَهُمَا صَائِمَانِ قَالَ: " قَدْ أَفْطَرَا " .
It was narrated that Maimunah the freed (female) slave of the Messenger of Allah (ﷺ), said:“The Prophet (ﷺ) was asked about a man who kissed his wife when they were both fasting. He said: ‘They have broken their fast.’”
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی لونڈی میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کا بوسہ لیا اس حال میں کہ دونوں روزے سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا ۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ جُنَيْدٍ الدَّامَغَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَةَ، قَالَ سَمِعْتُ مُغِيرَةَ الأَزْدِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ حَيَّانَ الأَعْرَجِ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ، قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِلَى الْبَحْرَيْنِ - أَوْ إِلَى هَجَرَ - فَكُنْتُ آتِي الْحَائِطَ يَكُونُ بَيْنَ الإِخْوَةِ يُسْلِمُ أَحَدُهُمْ فَآخُذُ مِنَ الْمُسْلِمِ الْعُشْرَ وَمِنَ الْمُشْرِكِ الْخَرَاجَ .
It was narrated:that Ala bin Hadrami said: “The Messenger of Allah sent me to Bahrain or Hajar. I used to go to a garden that was shared by some brothers, one of whom had become Muslim. I would take the Ushr (one-tenth of the harvest) from the Muslim, and Kharaj from the Mushrik.”
علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بحرین ہجر بھیجا، میں ایک باغ میں جاتا جو کئی بھائیوں میں مشترک ہوتا، اور ان میں سے ایک مسلمان ہو چکا ہوتا، تو میں مسلمان سے عشر ( دسواں ) حصہ لیتا، اور کافر سے خراج ( محصول ) لیتا ۱؎۔
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " الْحَمْدُ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلاَ مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلاَ هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ . أَمَّا بَعْدُ " .
It was narrated from Ibn `Abbas that:The Prophet (ﷺ) said: “Al-hamdu lillahi nahmadhu wa nasta`inuhu wa na`udhu billahi min shururi anfusina wa min sayi'ati a`malina, man yahdihillahu fala mudilla lahu, wa man yudlil fala hadiya lahu. Wa ashadu an la ilaha illallahu wahduhu la sharika lahu, wa anna Muhammadan `abduhu wa rasuluhu. Amma ba`d. (Praise is to Allah, we praise Him and we seek His help. We seek refuge with Allah from the evil of our own souls and from our bad deeds, Whomsoever Allah guides will never be led astray; and whomsoever is led astray, no one can guide. I bear witness that none has the right to be worshiped but Allah, alone with no partner or associate, and that Muhammad is His slave and His Messenger. To proceed).”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( خطبہ میں ) فرمایا: «الحمد لله نحمده ونستعينه ونعوذ بالله من شرور أنفسنا ومن سيئات أعمالنا من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله. أما بعد» بیشک تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اسی کی تعریفیں بیان کرتے ہیں، ہم اسی سے مدد طلب کرتے ہیں، اسی سے مغفرت چاہتے ہیں، اور ہم اپنے نفسوں کی شرارتوں، اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں، اللہ جسے راہ دکھائے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جیسے گمراہ کر دے اسے کوئی راہ نہیں دکھا سکتا، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی ساجھی نہیں، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الْبَيَاضِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي الْمُظَاهِرِ يُوَاقِعُ قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ قَالَ " كَفَّارَةٌ وَاحِدَةٌ " .
It was narrated from Salamah bin Sakhr Al-Bayedi that:the Prophet (ﷺ) said concerning a man who declared Zihar upon his wife having intercourse with her before compensation: "Let him offer one expiation
سلمہ بن صخر بیاضی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہار کرنے والے شخص کے متعلق جو کفارہ کی ادائیگی سے پہلے جماع کر لے فرمایا: اس پر ایک ہی کفارہ ہے ۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ صَالِحٍ الْمَدَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّمَا الْبَيْعُ عَنْ تَرَاضٍ " .
It was narrated from Dawud bin Salih Al Madani that his father said:I heard Abu Sa'eed Al-Khudri say: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Transactions may only be done by mutual consent
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیع بیچنے والے اور خریدنے والے کی باہمی رضا مندی سے منعقد ہوتی ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ أُصِيبَ رَجُلٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا فَكَثُرَ دَيْنُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ " . فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ وَلَيْسَ لَكُمْ إِلاَّ ذَلِكَ " . يَعْنِي الْغُرَمَاءَ .
It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri said:“At the time of the Messenger of Allah (ﷺ), a man suffered loss of some fruit that he had purchase, and his debts increased. The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Give him charity.' So the people gave him charity, but that was not enough to pay off his debts. The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Take what you find, but you have no right to more than that, meaning his creditors.”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ایک شخص کو اس کے خریدے ہوئے پھلوں میں گھاٹا ہوا، اور وہ بہت زیادہ مقروض ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: تم لوگ اسے صدقہ دو چنانچہ لوگوں نے اسے صدقہ دیا، لیکن اس سے اس کا قرض پورا ادا نہ ہو سکا، بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مل گیا وہ لے لو، اس کے علاوہ تمہارے لیے کچھ نہیں ہے یعنی قرض خواہوں کے لیے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ الْبَاهِلِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لأَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ الأَرْضَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ لَهَا خَرَاجًا مَعْلُومًا " .
It was narrated from Tawus that Ibn`Abbas told that the Messenger of Allah (ﷺ) merely said:“For one of you to give (land) to his brother is better for him than if he were to take a set amount in rent for it.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو صرف یہ فرمایا تھا: کوئی اپنے بھائی کو اپنی زمین یوں ہی مفت کھیتی کے لیے دیدے، تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ اس سے کوئی معین محصول لے ۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، أَنْبَأَنَا أَبُو الْجَعْدِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يُبْدَأُ بِالْخَيْلِ يَوْمَ وِرْدِهَا " .
It was narrated from Kathir bin 'Abdullah bin 'Amr bin 'Awf Al-Muzani, from his father, that his grandfather said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Start with the horses on the day that you bring (the animals to drink).' ”
عمرو بن عوف مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب گھوڑے اپنی باری کے دن پانی پلانے کے لیے لائے جائیں تو الگ الگ لائے جائیں ۔
حَدَّثَنَا الْخَلِيلُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ الْجَزَرِيُّ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أُتِيَ عِنْدَ مَالِهِ فُقُوتِلَ فَقَاتَلَ فَقُتِلَ فَهُوَ شَهِيدٌ " .
It was narrated from Ibn `Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“If a man's property is targeted, and he is fought and fights back and is killed, he is a martyr.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے اس کا مال چھینا جائے اور لڑا جائے پھر وہ بھی لڑے اور قتل ہو جائے، تو وہ شہید ہے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ وَمَنْ جَدَعَهُ جَدَعْنَاهُ " .
It was narrated from Samurah bin Jundab that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever kills his slave, we will kill him, and whoever mutilates (his slave) we will mutilate him.”
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے غلام کو قتل کیا ہم اسے قتل کریں گے، اور جس نے اس کی ناک کاٹی ہم اس کی ناک کاٹیں گے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، فِي قَوْلِهِ {وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ} قَالَ أَمَا إِنَّا سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ " أَرْوَاحُهُمْ كَطَيْرٍ خُضْرٍ تَسْرَحُ فِي الْجَنَّةِ فِي أَيِّهَا شَاءَتْ ثُمَّ تَأْوِي إِلَى قَنَادِيلَ مُعَلَّقَةٍ بِالْعَرْشِ فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذِ اطَّلَعَ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ اطِّلاَعَةً فَيَقُولُ سَلُونِي مَا شِئْتُمْ . قَالُوا رَبَّنَا وَمَاذَا نَسْأَلُكَ وَنَحْنُ نَسْرَحُ فِي الْجَنَّةِ فِي أَيِّهَا شِئْنَا فَلَمَّا رَأَوْا أَنَّهُمْ لاَ يُتْرَكُونَ مِنْ أَنْ يَسْأَلُوا قَالُوا نَسْأَلُكَ أَنْ تَرُدَّ أَرْوَاحَنَا فِي أَجْسَادِنَا إِلَى الدُّنْيَا حَتَّى نُقْتَلَ فِي سَبِيلِكَ . فَلَمَّا رَأَى أَنَّهُمْ لاَ يَسْأَلُونَ إِلاَّ ذَلِكَ تُرِكُوا " .
It was narrated from ‘Abdullah concerning the Verse:“Think not of those as dead who are killed in the way of Allah. Nay, they are alive, with their Lord, and they have provision,”[3:169] that he said: “We asked about that, and (the Prophet (ﷺ)) said: ‘Their souls are like green birds that fly wherever they wish in Paradise, then they come back to lamps suspended from the Throne. While they were like that, your Lord looked at them and said, “Ask me for whatever you want.” They said: “O Lord, what should we ask You for when we can fly wherever we wish in Paradise?” When they saw that they would not be left alone until they had asked for something, they said: “We ask You to return our souls to our bodies in the world so that we may fight for Your sake (again).” When He saw that they would not ask for anything but that, they were left alone.’”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: «ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا بل أحياء عند ربهم يرزقون» کے بارے میں ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ) سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شہداء کی روحیں سبز چڑیوں کی شکل میں جنت میں جہاں چاہیں چلتی پھرتی ہیں، پھر شام کو عرش سے لٹکی ہوئی قندیلوں میں بسیرا کرتی ہیں، ایک بار کیا ہوا کہ روحیں اسی حال میں تھیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف جھانکا پھر فرمانے لگا: تمہیں جو چاہیئے مانگو، روحوں نے کہا: ہم جنت میں جہاں چاہتی ہیں چلتی پھرتی ہیں، اس سے بڑھ کر کیا مانگیں؟ جب انہوں نے دیکھا کہ بغیر مانگے خلاصی نہیں تو کہنے لگیں: ہمارا سوال یہ ہے کہ تو ہماری روحوں کو دنیاوی جسموں میں لوٹا دے کہ ہم پھر تیرے راستے میں قتل کئے جائیں، اللہ تعالیٰ نے جب دیکھا کہ وہ اس کے علاوہ اور کچھ نہیں مانگ رہی ہیں تو چھوڑ دیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ يَلْبَسَ الْمُحْرِمُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا بِوَرْسٍ أَوْ زَعْفَرَانٍ .
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Umar said:“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade the Muhrim to wear a garment dyed with Wars or saffron.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کو ورس ( خوشبودار گھاس ) اور زعفران سے رنگا کپڑا پہننے سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، جَمِيعًا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي خُزَيْمَةَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ، عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " فِي الاِسْتِنْجَاءِ ثَلاَثَةُ أَحْجَارٍ لَيْسَ فِيهَا رَجِيعٌ " .
It was narrated that Khuzaimah bin Thabit said:"The Messenger of Allah said: 'For cleaning yourself you need three stones, no one of them being dung
خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: استنجاء کے لیے تین پتھر ہوں جن میں گوبر نہ ہو ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ مَنْ يَأْكُلُ الْغُرَابَ وَقَدْ سَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " فَاسِقًا " . وَاللَّهِ مَا هُوَ مِنَ الطَّيِّبَاتِ .
It was narrated that Ibn ‘Umar said:“Who eats crows? The Messenger of Allah (ﷺ) called them vermin, By Allah, they are not from among the good and permissible things.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ کوّا کون کھائے گا؟ جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو فاسق کہا، اللہ کی قسم وہ پاک چیزوں میں سے نہیں ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، - رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الأَشْهَلِ - قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَهُوَ يَتَغَدَّى فَقَالَ " ادْنُ فَكُلْ " . فَقُلْتُ إِنِّي صَائِمٌ فَيَا لَهْفَ نَفْسِي هَلاَّ كُنْتُ طَعِمْتُ مِنْ طَعَامِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ .
It was narrated that Anas bin Malik – a man from the tribe of Banu ‘Abdul-Ashhal – said:* “I came to the Prophet (ﷺ) when he was eating breakfast and he said: ‘Come and eat.’ I said: ‘I am fasting. Alas! Would that I had eaten of the food of the Messenger of Allah (ﷺ).’”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ (جو قبیلہ بنی عبدالاشہل کے ایک شخص ہیں) کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت آپ دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آؤ کھانا کھاؤ ،، میں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں، تو ہائے افسوس کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے میں سے کیوں نہیں کھا لیا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ اخْتِنَاثِ الأَسْقِيَةِ وَإِنَّ رَجُلاً بَعْدَمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنْ ذَلِكَ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ إِلَى سِقَاءٍ فَاخْتَنَثَهُ فَخَرَجَتْ عَلَيْهِ مِنْهُ حَيَّةٌ .
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade tipping up water skins. After the Messenger of Allah (ﷺ) had forbidden that, a man got up at night and tipped up a water skin, and a snake fell out of it onto him.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک کے منہ باہر کر کے پانی پینے سے منع فرمایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ممانعت کے بعد ایک شخص نے رات کو اٹھ کر مشک کے منہ سے پانی پینا چاہا، تو اس میں سے ایک سانپ نکلا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي كَبْشَةَ الأَنْمَارِيِّ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يَحْتَجِمُ عَلَى هَامَتِهِ وَبَيْنَ كَتِفَيْهِ وَيَقُولُ " مَنْ أَهْرَاقَ مِنْهُ هَذِهِ الدِّمَاءَ فَلاَ يَضُرُّهُ أَنْ لاَ يَتَدَاوَى بِشَىْءٍ لِشَىْءٍ " .
It was narrated from Abu Kabshah Al-Anmari that the Prophet (ﷺ) used to be cupped on his head and between his shoulders, and he said:“Whoever lets blood from these places, it does not matter if he does not seek treatment for anything else.”
ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر پر اور دونوں کندھوں کے درمیان پچھنا لگواتے اور فرماتے تھے: جو ان مقامات سے خون بہا دے، تو اگر وہ کسی بیماری کا کسی چیز سے علاج نہ کرے تو اس کے لیے نقصان دہ نہیں ہو سکتا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ رَأَيْتُ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَمِيصَ حَرِيرٍ سِيَرَاءَ .
It was narrated that Anas said:“I saw Zainab the daughter of the Messenger of Allah (ﷺ) wearing a shirt of Siyara’ silk
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحب زادی زینب رضی اللہ عنہا کو سرخ دھاری دار ریشمی کرتا پہنے دیکھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، وَغُنْدَرٌ، وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلِمَةَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ، أَنَّ قَوْمًا، مِنَ الْيَهُودِ قَبَّلُوا يَدَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَرِجْلَيْهِ .
It was narrated from Safwan bin 'Assal that:"Some people among the Jews kissed the hands and feet of the Prophet(ﷺ)
صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہود کے کچھ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ اور پاؤں چومے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَسَعِيدُ بْنُ شُرَحْبِيلَ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ نَفَثَ فِي يَدَيْهِ وَقَرَأَ بِالْمُعَوِّذَتَيْنِ وَمَسَحَ بِهِمَا جَسَدَهُ .
It was narrated from 'Aishah that:whenever the Prophet (saas) went to bed, he would blow into his hands, recite Al-Mu'awwidhatain, then wipe his hands over his body
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر لیٹتے تو اپنے دونوں ہاتھوں میں پھونک مارتے، اور معوذتین: «قل أعوذ برب الفلق» و «قل أعوذ برب الناس» پڑھتے، اور انہیں اپنے جسم پر پھیر لیتے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ الْمَكِّيُّ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ حَسَّانَ الْمَخْزُومِيَّ، قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ صَالِحٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " كَلاَمُ ابْنِ آدَمَ عَلَيْهِ لاَ لَهُ إِلاَّ الأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْىَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَذِكْرَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
It was narrated from Umm Habibah, the wife of the Prophet (ﷺ), that the Prophet (ﷺ) said:“The words of the son of Adam count against him, not for him, except what is good and forbidding what is evil, and remembering Allah.”
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انسان کی ہر بات کا اس پر وبال ہو گا، اور کسی بات سے فائدہ نہ ہو گا سوائے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور ذکر الٰہی کے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَا أَصْبَحَ فِي آلِ مُحَمَّدٍ إِلاَّ مُدٌّ مِنْ طَعَامٍ " . أَوْ " مَا أَصْبَحَ فِي آلِ مُحَمَّدٍ مُدٌّ مِنْ طَعَامٍ " .
It was narrated from Abu ‘Ubaidah that ‘Abdullah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The family of Muhammad has only a Mudd of food,’ or ‘The family of Muhammad does not have even a Mud of food.’”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آل محمد کے پاس کبھی ایک مد غلہ سے زیادہ نہیں رہا، یا آل محمد کے پاس کبھی ایک مد غلہ نہیں رہا ۔
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْعَسْكَرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ أَبُو هَاشِمٍ بْنُ أَبِي خِدَاشٍ الْمَوْصِلِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِحْصَنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ يَقْبَلُ اللَّهُ لِصَاحِبِ بِدْعَةٍ صَوْمًا وَلاَ صَلاَةً وَلاَ صَدَقَةً وَلاَ حَجًّا وَلاَ عُمْرَةً وَلاَ جِهَادًا وَلاَ صَرْفًا وَلاَ عَدْلاً يَخْرُجُ مِنَ الإِسْلاَمِ كَمَا تَخْرُجُ الشَّعَرَةُ مِنَ الْعَجِينِ " .
It was narrated that Hudhaifah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Allah will not accept any fasting, prayer, charity, Hajj, 'Umrah, Jihad, or any other obligatory or voluntary action from a person who follows innovation (Bid'ah). He comes out of Islam like a hair pulled out of dough
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کسی بدعتی کا روزہ، نماز، صدقہ و زکاۃ، حج، عمرہ، جہاد، نفل و فرض کچھ بھی قبول نہیں کرتا، وہ اسلام سے اسی طرح نکل جاتا ہے جس طرح گوندھے ہوئے آٹے سے بال نکل جاتا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ كَانَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ بَيْتُهُ أَقْصَى بَيْتٍ بِالْمَدِينَةِ وَكَانَ لاَ تُخْطِئُهُ الصَّلاَةُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ . قَالَ فَتَوَجَّعْتُ لَهُ فَقُلْتُ يَا فُلاَنُ لَوْ أَنَّكَ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا يَقِيكَ الرَّمَضَ وَيَرْفَعُكَ مِنَ الْوَقَعِ وَيَقِيكَ هَوَامَّ الأَرْضِ . فَقَالَ وَاللَّهِ مَا أُحِبُّ أَنَّ بَيْتِي بِطُنُبِ بَيْتِ مُحَمَّدٍ ـ صلى الله عليه وسلم ـ . قَالَ فَحَمَلْتُ بِهِ حِمْلاً حَتَّى أَتَيْتُ بَيْتَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَدَعَاهُ فَسَأَلَهُ فَذَكَرَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ وَذَكَرَ أَنَّهُ يَرْجُو فِي أَثَرِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ لَكَ مَا احْتَسَبْتَ " .
It was narrated that Ubayy bin Ka'b said:"There was a man among the Ansar whose house was the furthest house in Al-Madinah, yet he never missed prayer with the Messenger of Allah. I felt sorry for him and said: 'O so-and-so, why do you not buy a donkey to spare yourself the heat of the scorching sand, to carry over the stony ground, and to keep you away from the vermin on the ground?' He said: 'By Allah! I do not want to live so close to Muhammed.' This troubled me until I came to the house of the Prophet and mentioned that to him. He called (the man) and asked him, and he said something similar, and said that he was hoping for the reward for his steps. The Messenger of Allah said, 'You will have that (reward) that you sought
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مدینہ میں ایک انصاری شخص کا مکان انتہائی دوری پر تھا، اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس کی کوئی نماز نہیں چھوٹتی تھی، مجھے اس کی یہ مشقت دیکھ کر اس پر رحم آیا، اور میں نے اس سے کہا: اے ابوفلاں! اگر تم ایک گدھا خرید لیتے جو تمہیں گرم ریت پہ چلنے، پتھروں کی ٹھوکر اور زمین کے کیڑے مکوڑوں سے محفوظ رکھتا ( تو اچھا ہوتا ) ! اس انصاری نے کہا: اللہ کی قسم میں تو یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ میرا گھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے کسی گوشے سے ملا ہو، اس کی یہ بات مجھے بہت ہی گراں گزری ۱؎ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلایا اور اس سے پوچھا، تو اس نے آپ کے سامنے بھی وہی بات کہی، اور کہا کہ مجھے نشانات قدم پر ثواب ملنے کی امید ہے، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس ثواب کی تم امید رکھتے ہو وہ تمہیں ملے گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " إِذَا أَمَّنَ الْقَارِئُ فَأَمِّنُوا فَإِنَّ الْمَلاَئِكَةَ تُؤَمِّنُ فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلاَئِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“When the reciter says Amin, then say Amin, for the angels say Amin, and if a person’s Amin coincides with the Amin of the angels, his previous sins will be forgiven.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو، اس لیے کہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں، اور جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے مل جائے، تو اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۱؎۔