حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ ثَوْبَانَ، مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَاسًا رُكْبَانًا عَلَى دَوَابِّهِمْ فِي جِنَازَةٍ فَقَالَ " أَلاَ تَسْتَحْيُونَ أَنَّ مَلاَئِكَةَ اللَّهِ يَمْشُونَ عَلَى أَقْدَامِهِمْ وَأَنْتُمْ رُكْبَانٌ " .
It was narrated that Thawban, the freed slave of the Messenger of Allah (ﷺ), said:“The Messenger of Allah (ﷺ) saw some people riding on their animals in a funeral (procession). He said: ‘Do you not feel ashamed that the angels of Allah are walking on foot and you are riding?’”
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنازہ میں کچھ لوگوں کو جانوروں پر سوار دیکھا، تو فرمایا: تمہیں شرم نہیں آتی کہ اللہ کے فرشتے پیدل چل رہے ہیں اور تم سوار ہو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ، عَنْ حَفْصَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ .
It was narrated from Hafsah that:The Messenger of Allah (ﷺ) used to kiss when he was fasting
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لیتے تھے۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَمَّارٍ الْمُؤَذِّنِ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ، مُؤَذِّنِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَمَرَ بِصَدَقَةِ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ سُلْتٍ .
It was narrated from Ammar bin Sa'eed, the Mu'adhdhin of the Messenger of Allah from his father,:that the Messenger of Allah enjoined Sadaqatul-Fitr, one Sa of dates, one Sa of barley, or one Sa of Sult (a kind of barley without skin on it, resembling wheat)
مؤذن رسول سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاع کھجور، ایک صاع جو اور ایک صاع سلت ( بے چھلکے کا جو ) صدقہ فطر میں دینے کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ أُوتِيَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ جَوَامِعَ الْخَيْرِ وَخَوَاتِمَهُ - أَوْ قَالَ فَوَاتِحَ الْخَيْرِ - فَعَلَّمَنَا خُطْبَةَ الصَّلاَةِ وَخُطْبَةَ الْحَاجَةِ خُطْبَةُ الصَّلاَةِ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ . وَخُطْبَةُ الْحَاجَةِ إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلاَ مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلاَ هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ . ثُمَّ تَصِلُ خُطْبَتَكَ بِثَلاَثِ آيَاتٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ} إِلَى آخِرِ الآيَةِ { وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ } إِلَى آخِرِ الآيَةِ {اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلاً سَدِيدًا يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ} إِلَى آخِرِ الآيَةِ .
It was narrated that:`Abdullah bin Mas`ud said: “The Messenger of Allah (ﷺ) was granted a combination of all manner of goodness, as well as its seal,” or he said: “The opening (of the way to) all good. He (ﷺ) taught us the Khutbah of prayer and Khutbah of need. 'The Khutbah of prayer is: At-tahiyyatu lillahi was-salawatu wat-tayyibat. As-salamu `alaika ayyuhan-Nabiyyu was rahmat-ullahi was barakatuhu. As-salamu `alaina wa `ala `ibadillahis-salihin. Ashhadu an la ilaha illallah. Wa ashhadu anna Muhammadan `abduhu wa rasuluh (All compliments, prayers and pure words are due to Allah. Peace be upon you, O Prophet, and the mercy of Allah and His blessings. Peace be upon us and upon the righteous slaves of Allah. I bear witness that none has the right to be worshiped but Allah. And I bear witness that Muhammad (ﷺ) is His slave and Messenger). The Khutbah of need is: Al-hamdu lillahi nahmadhu wa nasta`inuhu wa nastaghfiruhu, wa na`udhu billahi min shururi anfusina wa min sayi'ati a`malina, man yahdihillahu fala mudilla lahu, wa man yudlil fala hadiya lahu. Wa ashadu an la ilaha illallahu wahduhu la sharika lahu, wa anna Muhammadan `abduhu wa rasuluhu. (Praise is to Allah, we praise Him and we seek His help and His forgiveness. We seek refuge with Allah from the evil of our own souls and from our bad deeds, Whomsoever Allah guides will never be led astray; and whomsoever is led astray, no one can guide. I bear witness that none has the right to be worshiped but Allah, alone with no partner or associate, and that Muhammad (ﷺ) is His slave and His Messenger). Then add to your Khutbah the following three verses: 'O you who believe! Fear Allah as He should be feared, and die not except in the state of Islam (as Muslims) with complete submission to Allah.' And: 'O mankind! Be dutiful to your Lord, Who created you from a single person, and from him He created his wife, and from them both He created many men and women, and fear Allah through Whom you demand your mutual (rights), and (do not cut the relations of) the wombs (kinship). Surely, Allah is Ever an All-Watcher over you.' And: 'O you who believe! Keep your duty to Allah and fear Him, and speak (always) the truth. He will direct you to do righteous good deeds and will forgive you your sins...' until the end of the verse.”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیر کے جامع کلمات دیئے گئے تھے ۱؎ خواہ وہ اخیر کے ہوں، یا کہا: شروع کے، آپ نے ہمیں صلاۃ کا خطبہ سکھایا اور حاجت کا خطبہ بھی، صلاۃ کا خطبہ یہ ہے: «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» آداب بندگیاں، صلاتیں اور پاکیزہ خیراتیں، اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بند ے اور رسول ہیں اور حاجت کا خطبہ یہ ہے:«إن الحمد لله نحمده ونستعينه ونستغفره ونعوذ بالله من شرور أنفسنا ومن سيئات أعمالنا من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» بیشک تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اسی کی تعریفیں بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد طلب کرتے ہیں، اسی سے مغفرت چاہتے ہیں، اور ہم اپنے نفسوں کی شرارتوں، اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں، اللہ جسے راہ دکھائے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جیسے گمراہ کر دے اسے کوئی راہ نہیں دکھا سکتا، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی ساجھی نہیں، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں اس کے بعد اپنے خطبہ کے ساتھ قرآن کی تین آیتیں پڑھو: «يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله حق تقاته» اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے، اور مسلمان ہی رہ کر مرو اخیر آیت تک «واتقوا الله الذي تساءلون به والأرحام» اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو، اور رشتے ناتے توڑنے سے بھی بچو، بیشک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے اخیر آیت تک «اتقوا الله وقولوا قولا سديدا يصلح لكم أعمالكم ويغفر لكم ذنوبكم» اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور نپی تلی بات کہو اللہ تعالیٰ تمہارے کام سنوارے دے گا، اور تمہارے گناہ معاف کرے گا، اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرے گا اس نے بڑی مراد پالی اخیر آیت تک ۲؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ تَبَارَكَ الَّذِي وَسِعَ سَمْعُهُ كُلَّ شَىْءٍ . إِنِّي لأَسْمَعُ كَلاَمَ خَوْلَةَ بِنْتِ ثَعْلَبَةَ وَيَخْفَى عَلَىَّ بَعْضُهُ وَهِيَ تَشْتَكِي زَوْجَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَهِيَ تَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكَلَ شَبَابِي وَنَثَرْتُ لَهُ بَطْنِي حَتَّى إِذَا كَبِرَتْ سِنِّي وَانْقَطَعَ وَلَدِي ظَاهَرَ مِنِّي اللَّهُمَّ إِنِّي أَشْكُو إِلَيْكَ . فَمَا بَرِحَتْ حَتَّى نَزَلَ جِبْرَائِيلُ بِهَؤُلاَءِ الآيَاتِ {قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ}.
It was narrated from 'Urwah bin Zubair, that 'Aishah said:"Blessed is the One Whose hearing encompasses all things. I heard some of the words of Khawlah bint Tha'labah, but some of her words were not clear to me, when she complained to the Messenger of Allah (ﷺ) about her husband, and said: 'O Messenger of Allah, (ﷺ) he has consumed my youth and I split my belly for him (i.e., bore him many children), but when I grew old and could no longer bear children he declared Zihar upon me; O Allah, I complain to You.' She continued to complain until Jibra'il brought down these Verses: 'Indeed Allah has heard the statement of she who pleads with you (O Muhammad) concerning her husband, and complains to Allah" (58:)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا بابرکت ہے وہ ذات جو ہر چیز کو سنتی ہے، میں خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا کی بات سن رہی تھی، کچھ باتیں سمجھ میں نہیں آ رہی تھیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے شوہر کی شکایت کر رہی تھیں کہ میرا شوہر میری جوانی کھا گیا، میں اس کی اولاد جنتی رہی، جب میں بوڑھی ہو گئی اور ولادت کا سلسلہ منقطع ہو گیا، تو اس نے مجھ سے ظہار کر لیا، اے اللہ! میں تجھ ہی سے شکوہ کرتی ہوں، وہ ابھی وہاں سے ہٹی بھی نہیں تھیں کہ جبرائیل علیہ السلام یہ آیتیں لے کر اترے: «قد سمع الله قول التي تجادلك في زوجها وتشتكي إلى الله» ( سورة المجادلة: 1 ) اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو تجھ سے اپنے شوہر کے بارے میں جھگڑ رہی تھی اور اللہ سے شکوہ کر رہی تھی ۱؎۔
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيَّانِ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ اشْتَرَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مِنْ رَجُلٍ مِنَ الأَعْرَابِ حِمْلَ خَبَطٍ فَلَمَّا وَجَبَ الْبَيْعُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " اخْتَرْ " . فَقَالَ الأَعْرَابِيُّ عَمْرَكَ اللَّهَ بَيِّعًا .
It was narrated that Jabir bin' Abdullah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) bought a load of fodder from a Bedouin man. When the transaction was concluded, the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Choose (either to go ahead or to cancel the transaction).' The Bedouin said: 'May Allah grant you a long life of good transaction
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اعرابی ( دیہاتی ) سے ایک بوجھ چارا خریدا، پھر جب بیع مکمل ہو گئی، تو آپ نے اس سے فرمایا: تجھ کو اختیار ہے ( بیع کو باقی رکھ یا منسوخ کر دے ) تو دیہاتی نے کہا: اللہ آپ کی عمردراز کرے میں بیع کو باقی رکھتا ہوں ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانٍ، قَالَ هُوَ جَدِّي مُنْقِذُ بْنُ عَمْرٍو وَكَانَ رَجُلاً قَدْ أَصَابَتْهُ آمَّةٌ فِي رَأْسِهِ فَكَسَرَتْ لِسَانَهُ وَكَانَ لاَ يَدَعُ عَلَى ذَلِكَ التِّجَارَةَ وَكَانَ لاَ يَزَالُ يُغْبَنُ فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ لَهُ " إِذَا أَنْتَ بَايَعْتَ فَقُلْ لاَ خِلاَبَةَ . ثُمَّ أَنْتَ فِي كُلِّ سِلْعَةٍ ابْتَعْتَهَا بِالْخِيَارِ ثَلاَثَ لَيَالٍ فَإِنْ رَضِيتَ فَأَمْسِكْ وَإِنْ سَخِطْتَ فَارْدُدْهَا عَلَى صَاحِبِهَا " .
It was narrated that Muhammad bin Yahya bin Habban said:“My grandfather was Munqidh bin 'Amr. He was a man who had suffered a head wound and lost the power of speech, but that did not stop him from engaging in trade. He was always being cheated, so he went to the Prophet (ﷺ) and told him about that. He said to him: 'When you buy something, say: “There should be no intention of cheating,” and for every product you buy, you have the choice for three nights. If you are pleased with it, keep it, and if you are displeased then return it.'”
محمد بن یحییٰ بن حبان کہتے ہیں کہ میرے دادا منقذ بن عمرو ہیں، ان کے سر میں ایک زخم لگا تھا جس سے ان کی زبان بگڑ گئی تھی، اس پر بھی وہ تجارت کرنا نہیں چھوڑتے تھے، اور ہمیشہ ٹھگے جاتے تھے، بالآخر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: جب تم کوئی چیز بیچو تو یوں کہہ دیا کرو: دھوکا دھڑی نہیں چلے گی، پھر تمہیں ہر اس سامان میں جسے تم خریدتے ہو تین دن کا اختیار ہو گا، اگر تمہیں پسند ہو تو رکھ لو اور اگر پسند نہ آئے تو اسے اس کے مالک کو واپس کر دو ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغَلِّسِ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى فِي شُرْبِ النَّخْلِ مِنَ السَّيْلِ أَنَّ الأَعْلَى فَالأَعْلَى يَشْرَبُ قَبْلَ الأَسْفَلِ وَيُتْرَكُ الْمَاءُ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثُمَّ يُرْسَلُ الْمَاءُ إِلَى الأَسْفَلِ الَّذِي يَلِيهِ وَكَذَلِكَ حَتَّى تَنْقَضِيَ الْحَوَائِطُ أَوْ يَفْنَى الْمَاءُ .
It was narrated from 'Ubadah bin Samit that :the Messenger of Allah (ﷺ) ruled concerning the irrigation of palm trees from streams, that the higher ground should be irrigated before the lower, and that the water should be allowed to reach the ankles, then released to flow the nearest lower ground, and so on, until all the fields were watered or until the water ran out
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کھجور کے درختوں کو نالہ سے سینچنے کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ کیا کہ جس کا باغ اونچائی پر ہو، پہلے وہ اپنے باغ کو ٹخنوں تک پانی سے بھر لے، پھر پانی کو نیچے کی طرف جو اس کے قریب ہے اس کے لیے چھوڑ دے، اسی طرح سلسلہ بہ سلسلہ سیراب کیا جائے، یہاں تک کہ باغات سینچ کر ختم ہو جائیں یا پانی ختم ہو جائے۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ " .
It was narrated from Sa'eed bin Zaid bin 'Amr bin Nufail that the Prophet (ﷺ) said:“Whoever is killed defending his property, he is a martyr.”
سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنا مال بچانے میں مارا جائے تو وہ شہید ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ يُقْتَلُ الْوَالِدُ بِالْوَلَدِ " .
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, from his grandfather, that 'Umar bin Khattab said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'A father should not be killed for his son.'”
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: باپ کو بیٹے کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا ۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحَرَامِيُّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَرَامِيُّ الأَنْصَارِيُّ، سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ خِرَاشٍ، سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ لَمَّا قُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ يَوْمَ أُحُدٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا جَابِرُ أَلاَ أُخْبِرُكَ مَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لأَبِيكَ " . قُلْتُ بَلَى . قَالَ " مَا كَلَّمَ اللَّهُ أَحَدًا إِلاَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ وَكَلَّمَ أَبَاكَ كِفَاحًا . فَقَالَ يَا عَبْدِي تَمَنَّ عَلَىَّ أُعْطِكَ . قَالَ يَا رَبِّ تُحْيِينِي فَأُقْتَلُ فِيكَ ثَانِيَةً . قَالَ إِنَّهُ سَبَقَ مِنِّي أَنَّهُمْ إِلَيْهَا لاَ يُرْجَعُونَ . قَالَ يَا رَبِّ فَأَبْلِغْ مَنْ وَرَائِي . فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذِهِ الآيَةَ {وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا} " . الآيَةَ كُلَّهَا .
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah:“When ‘Abdullah bin ‘Amr bin Haram was killed, on the Day of Uhud, the Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘O Jabir, shall I not tell you what Allah said to your father?’ I said: ‘Yes.’ He said: ‘Allah does not speak to anyone except from behind a screen, but He spoke to your father face to face and said: “O My slave, ask Me and I shall give you.” He said: “O my Lord, bring me back to life so that I may be killed for Your sake a second time.” He said: “I have already decreed that they will not return (to the world after death).” He said: “O Lord, convey (the good news about my state) to those whom I have left behind.” So Allah revealed this Verse: ‘Think not of those as dead who are killed in the way of Allah.’”[3:]
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب جنگ احد میں ( ان کے والد ) عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ قتل کر دئیے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جابر! اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد سے جو فرمایا ہے کیا میں تمہیں وہ نہ بتاؤں ؟ میں نے کہا: کیوں نہیں! ضرور بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جب بھی کسی سے بات کی تو پردہ کے پیچھے سے لیکن تمہارے والد سے آمنے سامنے بات کی، اور کہا: اے میرے بندے! مجھ سے اپنی خواہش کا اظہار کرو، میں تجھے عطا کروں گا، انہوں نے کہا: اے میرے رب! تو مجھے دوبارہ زندہ کر دے کہ میں دوبارہ تیرے راستے میں مارا جاؤں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس بات کا پہلے ہی فیصلہ ہو چکا ہے کہ دنیا میں دوبارہ لوٹایا نہیں جائے گا، انہوں نے کہا: اے میرے رب! میرے پسماندگان کو ( میرا حال ) پہنچا دے، تو یہ آیت نازل ہوئی: «ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا» ( سورۃ آل عمران: ۱۶۹ ) جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے انہیں تم مردہ مت سمجھو ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ يَلْبَسُ الْقُمُصَ وَلاَ الْعَمَائِمَ وَلاَ السَّرَاوِيلاَتِ وَلاَ الْبَرَانِسَ وَلاَ الْخِفَافَ إِلاَّ أَنْ لاَ يَجِدَ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ وَلاَ تَلْبَسُوا مِنَ الثِّيَابِ شَيْئًا مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ أَوِ الْوَرْسُ " .
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Umar that a man asked the Messenger of Allah (ﷺ), what clothes may the Muhrim wear? The Messenger of Allah (ﷺ) said:“He should not wear a shirt, or turbans (or head cover), pants or pajamas, hooded cloaks and no leather socks, unless he cannot find sandals, in which case he may wear leather socks but should cut them to below the ankles. And he should not wear any clothes that have been touched (dyed) with saffron or Wars.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: محرم کون سے کپڑے پہنے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: قمیص، عمامے ( پگڑیاں ) ، پاجامے، ٹوپیاں، اور موزے نہ پہنے، البتہ اگر جوتے میسر نہ ہوں تو موزے پہن لے، اور انہیں کاٹ کر ٹخنوں سے نیچے کر لے، اور کوئی ایسا لباس بھی نہ پہنے جس میں زعفران یا ورس لگی ہو ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ زُهَيْرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، - قَالَ لَيْسَ أَبُو عُبَيْدَةَ ذَكَرَهُ وَلَكِنْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الأَسْوَدِ - عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَتَى الْخَلاَءَ فَقَالَ " ائْتِنِي بِثَلاَثَةِ أَحْجَارٍ " . فَأَتَيْتُهُ بِحَجَرَيْنِ وَرَوْثَةٍ فَأَخَذَ الْحَجَرَيْنِ وَأَلْقَى الرَّوْثَةَ وَقَالَ " هِيَ رِجْسٌ " .
It was narrated from 'Abdullah bin Mas'ud:"The Messenger of Allah went to the toilet and said: 'Bring me three stones.' So I brought him two stones and a piece of dung. He took the two stones and threw the dung away, saying: 'It is impure
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے گئے اور فرمایا: میرے پاس تین پتھر لاؤ ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں دو پتھر اور گوبر کا ایک ٹکڑا لے کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں پتھر لے لیے اور گوبر پھینک دیا، اور فرمایا: یہ ناپاک ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَا أَلْقَى الْبَحْرُ أَوْ جَزَرَ عَنْهُ فَكُلُوهُ وَمَا مَاتَ فِيهِ فَطَفَا فَلاَ تَأْكُلُوهُ " .
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whatever the sea throws out or is left behind when the tide ebbs, eat it, but whatever rises to its surface, do not eat it.’”
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس جانور کو سمندر نے کنارے پر ڈال دیا ہو یا پانی کم ہو جانے سے وہ مر جائے تو اسے کھاؤ، اور جو سمندر میں مر کر اوپر آ جائے اسے مت کھاؤ ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّ ثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، قَالَتْ أُتِيَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِطَعَامٍ فَعُرِضَ عَلَيْنَا فَقُلْنَا لاَ نَشْتَهِيهِ . فَقَالَ " لاَ تَجْمَعْنَ جُوعًا وَكَذِبًا " .
It was narrated that Asma’ bint Yazid said:“Some food was brought to the Prophet (ﷺ) and it was offered to us. We said: ‘We do not have any appetite for it.’ He said: ‘Do not combine hunger and lies.’”
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے کھانے کو کہا، ہم نے عرض کیا: ہمیں اس کی خواہش نہیں ہے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ بھوک اور غلط بیانی کو اکٹھا نہ کرو ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ اخْتِنَاثِ الأَسْقِيَةِ أَنْ يُشْرَبَ مِنْ أَفْوَاهِهَا .
It was narrated that Abu Sa’eed Al-Khudri said:“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade tipping up water skins in order to drink from their mouths.”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک کے منہ باہر نکال کر ان سے پانی پینے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي الْخَصِيبِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ احْتَجَمَ فِي الأَخْدَعَيْنِ وَعَلَى الْكَاهِلِ .
It was narrated from Anas that the Prophet (ﷺ) was cupped in the two veins at theside of the neck and the base of the neck
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گردن کی رگوں اور مونڈھے کے درمیان کی جگہ پچھنا لگوایا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الإِفْرِيقِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَفِي إِحْدَى يَدَيْهِ ثَوْبٌ مِنْ حَرِيرٍ وَفِي الأُخْرَى ذَهَبٌ فَقَالَ " إِنَّ هَذَيْنِ مُحَرَّمٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي حِلٌّ لإِنَاثِهِمْ " .
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Umar said:“The Messenger of Allah (ﷺ) came out to us, and in one of his hands was a garment of silk and in the other was some gold. He said: ‘These are forbidden to the males of my nation and permitted to the females.’”
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس گھر سے نکل کر آئے، آپ کے ایک ہاتھ میں ریشم کا کپڑا، اور دوسرے میں سونا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دونوں چیزیں میری امت کے مردوں پر حرام، اور عورتوں کے لیے حلال ہیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَبَّلْنَا يَدَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ .
It was narrated that Ibn Umar said:"We kissed the hand of the Prophet(ﷺ)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ چوما۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَضْطَجِعَ عَلَى فِرَاشِهِ فَلْيَنْزِعْ دَاخِلَةَ إِزَارِهِ ثُمَّ لْيَنْفُضْ بِهَا فِرَاشَهُ فَإِنَّهُ لاَ يَدْرِي مَا خَلَفَهُ عَلَيْهِ ثُمَّ لْيَضْطَجِعْ عَلَى شِقِّهِ الأَيْمَنِ ثُمَّ لْيَقُلْ رَبِّ بِكَ وَضَعْتُ جَنْبِي وَبِكَ أَرْفَعُهُ فَإِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا حَفِظْتَ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ " .
It was narrated from Abu Hurairah that:the Messenger of Allah (saas) said: "When anyone of you wants to go to bed, let him undo the edge of his Izar (waist wrap) and dust of his bed with it, for he does not know what came to it after him. Then let him lie down on his right side and say: 'Rabbi bika wada'tu janbi wa bika arfa'uhu, fa in amsakta nafsi farhamha, wa in arsaltaha fahfazha bima hafizta bihi 'ibadikaas-salihin (O Lord, by Your leave I lie down and by Your leave I rise, so if You should take my soul then have mercy on it, and if You should return my soul then protect it as You protect Your righteous slaves)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے بستر پر لیٹنے کا ارادہ کرے تو اپنے تہبند کا داخلی کنارہ کھینچ کر اس سے اپنا بستر جھاڑے، اس لیے کہ اسے نہیں پتہ کہ ( جانے کے بعد ) بستر پر کون سی چیز پڑی ہے، پھر داہنی کروٹ لیٹے اور کہے: «رب بك وضعت جنبي وبك أرفعه فإن أمسكت نفسي فارحمها وإن أرسلتها فاحفظها بما حفظت به عبادك الصالحين» میرے رب! میں نے تیرا نام لے کر اپنا پہلو رکھا ہے، اور تیرے ہی نام پر اس کو اٹھاؤں گا، پھر اگر تو میری جان کو روک لے ( یعنی اب میں نہ جاگوں اور مر جاؤں ) تو اس پر رحم فرما، اور اگر تو چھوڑ دے ( اور میں جاگوں ) تو اس کی حفاظت فرما ان چیزوں کے ذریعہ جن سے تو نے اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتا ہے ) ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي سَفَرٍ فَأَصْبَحْتُ يَوْمًا قَرِيبًا مِنْهُ وَنَحْنُ نَسِيرُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ . قَالَ " لَقَدْ سَأَلْتَ عَظِيمًا وَإِنَّهُ لَيَسِيرٌ عَلَى مَنْ يَسَّرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ تَعْبُدُ اللَّهَ لاَ تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمُ الصَّلاَةَ وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ وَتَصُومُ رَمَضَانَ وَتَحُجُّ الْبَيْتَ " . ثُمَّ قَالَ " أَلاَ أُدُلُّكَ عَلَى أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الصَّوْمُ جُنَّةٌ وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ كَمَا يُطْفِئُ النَّارَ الْمَاءُ وَصَلاَةُ الرَّجُلِ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ " . ثُمَّ قَرَأَ {تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ} حَتَّى بَلَغَ {جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ} ثُمَّ قَالَ " أَلاَ أُخْبِرُكَ بِرَأْسِ الأَمْرِ وَعَمُودِهِ وَذُرْوَةِ سَنَامِهِ الْجِهَادُ " . ثُمَّ قَالَ " أَلاَ أُخْبِرُكَ بِمِلاَكِ ذَلِكَ كُلِّهِ " . قُلْتُ بَلَى . فَأَخَذَ بِلِسَانِهِ فَقَالَ " تَكُفُّ عَلَيْكَ هَذَا " . قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَإِنَّا لَمُؤَاخَذُونَ بِمَا نَتَكَلَّمُ بِهِ قَالَ " ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا مُعَاذُ وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ عَلَى وُجُوهِهِمْ فِي النَّارِ إِلاَّ حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ " .
It was narrated that Mu’adh bin Jabal said:“I was with the Messenger of Allah (ﷺ) on a journey. One morning I drew close to him when we were on the move and said: ‘O Messenger of Allah, tell me of an action that will gain me admittance to Paradise and keep me far away from Hell.’ He said: ‘You have asked for something great, but it is easy for the one for whom Allah makes it easy. Worship Allah and do not associate anything in worship with Him, establish prayer, pay charity, fast Ramadan, and perform Hajj to the House.’ Then he said: ‘Shall I not tell you of the means of goodness? Fasting is a shield, and charity extinguishes sin as water extinguishes fire, and a man’s prayer in the middle of the night.’ Then he recited: “Their sides forsake their beds” until he reached: “As a reward for what they used to do.”[32:16-17] Then he said: ‘Shall I not tell you of the head of the matter, and its pillar and pinnacle? (It is) Jihad.’ Then he said: ‘Shall I not tell you of the basis of all that?’ I said: ‘Yes.’ He took hold of his tongue then said: ‘Restrain this.’ I said: ‘O Prophet of Allah, will we be brought to account for what we say?’ He said: ‘May your mother not found you, O Mu’adh! Are people thrown onto their faces in Hell for anything other than the harvest of their tongues?’”
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، ایک دن میں صبح کو آپ سے قریب ہوا، اور ہم چل رہے تھے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے کوئی عمل بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے، اور جہنم سے دور رکھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے ایک بہت بڑی چیز کا سوال کیا ہے، اور بیشک یہ عمل اس شخص کے لیے آسان ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ آسان کر دے، تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک مت کرو، نماز قائم کرو، زکاۃ دو، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں بھلائی کے دروازے نہ بتاؤں؟ روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہوں کو ایسے ہی مٹاتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھاتا ہے، اور آدھی رات میں آدمی کا نماز ( تہجد ) ادا کرنا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت:«تتجافى جنوبهم عن المضاجع» ( سورة السجدة: 16 ) تلاوت فرمائی یہاں تک کہ «جزاء بما كانوا يعملون» تک پہنچے، پھر فرمایا: کیا میں تمہیں دین کی اصل، اس کا ستون اور اس کی چوٹی نہ بتا دوں؟ وہ اللہ کی راہ میں جہاد ہے ، پھر فرمایا: کیا ان تمام باتوں کا جس چیز پر دارومدار ہے وہ نہ بتا دوں ؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں ضرور بتائیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک پکڑی اور فرمایا: اسے اپنے قابو میں رکھو ، میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! کیا ہم جو بولتے ہیں اس پر بھی ہماری پکڑ ہو گی؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معاذ! تیری ماں تجھ پر روئے! لوگ اپنی زبانوں کی کارستانیوں کی وجہ سے ہی اوندھے منہ جہنم میں ڈالے جائیں گے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَنَا شَيْبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ مِرَارًا " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا أَصْبَحَ عِنْدَ آلِ مُحَمَّدٍ صَاعُ حَبٍّ وَلاَ صَاعُ تَمْرٍ " . وَإِنَّ لَهُ يَوْمَئِذٍ تِسْعَ نِسْوَةٍ .
It was narrated that Anas bin Malik said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say several times: ‘By the One in Whose Hand is the soul of Muhammad, the family of Muhammad does not have a Sa’ of food grains or a Sa’ of dates.’ And at that time he had nine wives.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو باربار فرماتے سنا ہے: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! آل محمد کے پاس کسی دن ایک صاع غلہ یا ایک صاع کھجور نہیں ہوتا، اور ان دنوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نو بیویاں تھیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، ح وَحَدَّثَنَا حَوْثَرَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَا ضَلَّ قَوْمٌ بَعْدَ هُدًى كَانُوا عَلَيْهِ إِلاَّ أُوتُوا الْجَدَلَ " . ثُمَّ تَلاَ هَذِهِ الآيَةَ {بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ} .
It was narrated that Abu Umamah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'No people go astray after having followed right guidance, but those who indulge in disputes.' Then he recited the Verse: "Nay! But they are a quarrelsome people
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی قوم ہدایت پر رہنے کے بعد گمراہ اس وقت ہوئی جب وہ «جدال» ( بحث اور جھگڑے ) میں مبتلا ہوئی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی: «بل هم قوم خصمون» بلکہ وہ جھگڑالو لوگ ہیں ( سورة الزخرف: 58 ) ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " الأَبْعَدُ فَالأَبْعَدُ مِنَ الْمَسْجِدِ أَعْظَمُ أَجْرًا " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'The greater the distance from the mosque, the greater the reward
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد میں جو جتنا ہی دور سے آتا ہے، اس کو اتنا ہی زیادہ اجر ملتا ہے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ فَإِنَّ قِرَاءَةَ الإِمَامِ لَهُ قِرَاءَةٌ " .
It was narrated that Jabir said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever has an Imam, the recitation of the Imam is his recitation.’”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے لیے امام ہو تو امام کی قراءت اس کی قراءت ہے ۱؎۔