حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهُ رَأَى جِنَازَةً يُسْرِعُونَ بِهَا قَالَ " لِتَكُنْ عَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ " .
It was narrated from Abu Musa that the Prophet (ﷺ) saw a funeral (procession) with which the people were rushing. He said:“You should move with tranquility.”
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنازہ دیکھا جسے لوگ دوڑتے ہوئے لے جا رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اطمینان سے چلو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ. وَأَيُّكُمْ يَمْلِكُ إِرْبَهُ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَمْلِكُ إِرْبَهُ؟
It was narrated that ‘Aishah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) used to kiss when he was fasting, and who among you can control his desire as the Messenger of Allah (ﷺ) used to control his desire?”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لیتے تھے، اور تم میں سے کون اپنی خواہش پہ ایسا اختیار رکھتا ہے جیسا کہ نبی اکرم صلیاللہ علیہ وسلم رکھتے تھے؟
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ الْفَرَّاءِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ إِذْ كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ فَلَمْ نَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ الْمَدِينَةَ فَكَانَ فِيمَا كَلَّمَ بِهِ النَّاسَ أَنْ قَالَ لاَ أُرَى مُدَّيْنِ مِنْ سَمْرَاءِ الشَّامِ إِلاَّ تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ هَذَا . فَأَخَذَ النَّاسُ بِذَلِكَ . قَالَ أَبُو سَعِيدٍ لاَ أَزَالُ أُخْرِجُهُ كَمَا كُنْتُ أُخْرِجُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَبَدًا مَا عِشْتُ .
It was narrated that:Abu Sa'eed Al-Khudri said: “We used to pay Zakatul-Fitr when the Messenger of Allah was among us, one Sa of food, one Sa of dates, one Sa of barley, one Sa of sun-baked cottage cheese, one Sa of raisins. We continued to do that until Mu'awiyah came to us in Al-Madinah. One of the things he said to the people was: 'I think that two Mudd wheat from Sham is equivalent to one Sa of this (i.e. dates).' So the people followed that.”Abu Sa'eed said: “I'll continue to pay it as I used to pay it at the time of Messenger of Allah for as long as I live.”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے ہم تو صدقہ فطر میں ایک صاع گیہوں، ایک صاع کھجور، ایک صاع جو، ایک صاع پنیر، اور ایک صاع کشمش نکالتے تھے، ہم ایسے ہی برابر نکالتے رہے یہاں تک کہ معاویہ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس مدینہ آئے، تو انہوں نے جو باتیں لوگوں سے کیں ان میں یہ بھی تھی کہ میں شام کے گیہوں کا دو مد تمہارے غلوں کی ایک صاع کے برابر پاتا ہوں، تو لوگوں نے اسی پر عمل شروع کر دیا۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: میں جب تک زندہ رہوں گا اسی طرح ایک صاع نکالتا رہوں گا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نکالا کرتا تھا
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ، تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَمَاتَ عَنْهَا وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا . قَالَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَهَا الصَّدَاقُ وَلَهَا الْمِيرَاثُ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ . فَقَالَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ الأَشْجَعِيُّ شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَضَى فِي بَرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ بِمِثْلِ ذَلِكَ . حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، مِثْلَهُ .
It was narrated from Masruq that:Abdullah was asked about a man who married a woman and died without having consummated the marriage with her, nor stipulating the dowry. Abdullah said: “The dowry is hers, and the inheritance is hers and she has to observe the waiting period.” Ma'qil bin Sinan Al-Ashja'i said: “I saw the Messenger of Allah (ﷺ) pass a similar ruling concerning Birwa' bint Washiq.” (Sahih) Another chain from 'Alqamah, from Abdullah, with similar wording. It was narrated from Masruq that: Abdullah was asked about a man who married a woman and died without having consummated the marriage with her, nor stipulating the dowry. Abdullah said: “The dowry is hers, and the inheritance is hers and she has to observe the waiting period.” Ma'qil bin Sinan Al-Ashja'i said: “I saw the Messenger of Allah pass a similar ruling concerning Birwa' bint Washiq.” (Sahih) Another chain from 'Alqamah, from Abdullah, with similar wording
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے کسی عورت سے شادی کی، اور مہر کی تعین اور دخول سے پہلے ہی اس کا انتقال ہو گیا، تو انہوں نے کہا: اس عورت کو مہر ملے گا، اور میراث سے حصہ ملے گا، اور اس پہ عدت بھی لازم ہو گی، تو معقل بن سنان اشجعی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، جب آپ نے بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے سلسلہ میں ایسے ہی فیصلہ کیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الْبَيَاضِيِّ، قَالَ كُنْتُ امْرَأً أَسْتَكْثِرُ مِنَ النِّسَاءِ لاَ أُرَى رَجُلاً كَانَ يُصِيبُ مِنْ ذَلِكَ مَا أُصِيبُ فَلَمَّا دَخَلَ رَمَضَانُ ظَاهَرْتُ مِنِ امْرَأَتِي حَتَّى يَنْسَلِخَ رَمَضَانُ فَبَيْنَمَا هِيَ تُحَدِّثُنِي ذَاتَ لَيْلَةٍ انْكَشَفَ لِي مِنْهَا شَىْءٌ فَوَثَبْتُ عَلَيْهَا فَوَاقَعْتُهَا فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَى قَوْمِي فَأَخْبَرْتُهُمْ خَبَرِي وَقُلْتُ لَهُمْ سَلُوا لِي رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ . فَقَالُوا مَا كُنَّا لِنَفْعَلَ إِذًا يُنْزِلَ اللَّهُ فِينَا كِتَابًا أَوْ يَكُونَ فِينَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَوْلٌ فَيَبْقَى عَلَيْنَا عَارُهُ وَلَكِنْ سَوْفَ نُسَلِّمُكَ لِجَرِيرَتِكَ اذْهَبْ أَنْتَ فَاذْكُرْ شَأْنَكَ لِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ . قَالَ فَخَرَجْتُ حَتَّى جِئْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أَنْتَ بِذَاكَ " . فَقُلْتُ أَنَا بِذَاكَ وَهَا أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ صَابِرٌ لِحُكْمِ اللَّهِ عَلَىَّ . قَالَ " فَأَعْتِقْ رَقَبَةً " . قَالَ قُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَصْبَحْتُ أَمْلِكُ إِلاَّ رَقَبَتِي هَذِهِ . قَالَ " فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ " . قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهَلْ دَخَلَ عَلَىَّ مَا دَخَلَ مِنَ الْبَلاَءِ إِلاَّ بِالصَّوْمِ قَالَ " فَتَصَدَّقْ وَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا " . قَالَ قُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ بِتْنَا لَيْلَتَنَا هَذِهِ مَا لَنَا عَشَاءٌ . قَالَ " فَاذْهَبْ إِلَى صَاحِبِ صَدَقَةِ بَنِي زُرَيْقٍ فَقُلْ لَهُ فَلْيَدْفَعْهَا إِلَيْكَ وَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا وَانْتَفِعْ بِبَقِيَّتِهَا " .
It was narrated that Salamah bin Sakhr Al-Bayadi said:"I was a man who had a lot of desire for women, and I do not think there was any man who had as great a share of that as me. When Ramadan began, I declared Zihar upon my wife (to last) until Ramadan ended. While she was talking to me one night, part of her body became uncovered. I jumped on her and had intercourse with her. The next morning I went to my people and told them, and said to them: 'Ask the Messenger of Allah (ﷺ) for me.' They said: 'We will not do that, lest Allah reveal Quran concerning us or the Messenger of Allah (ﷺ) says, something about us, and it will be a lasting source of disgrace for us. Rather we will leave you to deal with it yourself. Go yourself and tell the Messenger of Allah (ﷺ) about your problem.' So I went out and when I came to him, I told him what happened. The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Did you really do that?' I said: 'I really did that, and here I am, O Messenger of Allah. (ﷺ) I will bear Allah’s ruling on me with patience.' He said: 'Free a slave.' I said: 'By the One Who sent you with the truth, I do not own anything but myself.' He said: 'Fast for two consecutive months.' I said: 'O Messenger of Allah, the thing that happened to me was only because of fasting.' He said: 'Then give charity, or feed sixty poor persons.' I said: 'By the One Who sent you with the truttu we spent last night with no dinner.' He said: 'Then go to the collector of charity of Banu Zuraiq, and tell him to give you something, then feed sixty poor persons, and benefit from the rest
سلمہ بن صخر بیاضی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک ایسا آدمی تھا جسے عورتوں کی بڑی چاہت رہتی تھی، میں کسی مرد کو نہیں جانتا جو عورت سے اتنی صحبت کرتا ہو جتنی میں کرتا تھا، جب رمضان آیا تو میں نے اپنی بیوی سے رمضان گزرنے تک ظہار کر لیا، ایک رات وہ مجھ سے باتیں کر رہی تھی کہ اس کا کچھ بدن کھل گیا، میں اس پہ چڑھ بیٹھا، اور اس سے مباشرت کر لی، جب صبح ہوئی تو میں اپنے لوگوں کے پاس گیا، اور ان سے اپنا قصہ بیان کیا، میں نے ان سے کہا: تم لوگ میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھو، تو انہوں نے کہا: ہم نہیں پوچھیں گے، ایسا نہ ہو کہ ہماری شان میں وحی اترے، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگوں کے سلسلے میں کچھ فرما دیں، اور اس کا عار ہمیشہ کے لیے باقی رہے لیکن اب یہ کام ہم تمہارے ہی سپرد کرتے ہیں، اب تم خود ہی جاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا حال بیان کرو۔ سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں خود ہی چلا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے واقعہ بیان کیا، آپ نے فرمایا: تم نے یہ کام کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا: ہاں، اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں اور اپنے بارے میں اللہ کے حکم پر صابر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایک غلام آزاد کرو ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں تو صرف اپنی جان کا مالک ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لگاتار دو ماہ کے روزے رکھو، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول یہ بلا جو میرے اوپر آئی ہے روزے ہی کہ وجہ سے تو آئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو صدقہ دو، یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ ، میں نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ہم نے یہ رات اس حالت میں گزاری ہے کہ ہمارے پاس رات کا کھانا نہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی زریق کا صدقہ وصول کرنے والے کے پاس جاؤ، اور اس سے کہو کہ وہ تمہیں کچھ مال دیدے، اور اس میں سے ساٹھ مسکینوں کو کھلاؤ اور جو بچے اپنے کام میں لے لو ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مَرَّ بِرَجُلٍ بِمَكَّةَ وَهُوَ قَائِمٌ فِي الشَّمْسِ فَقَالَ " مَا هَذَا " . قَالُوا نَذَرَ أَنْ يَصُومَ وَلاَ يَسْتَظِلَّ إِلَى اللَّيْلِ وَلاَ يَتَكَلَّمَ وَلاَ يَزَالَ قَائِمًا . قَالَ " لِيَتَكَلَّمْ وَلْيَسْتَظِلَّ وَلْيَجْلِسْ وَلْيُتِمَّ صِيَامَهُ " . حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَنَبَةَ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا الْعَلاَءُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، عَنْ وُهَيْبٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَحْوَهُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ .
It was narrated from Ibn Abbas that the :Messenger of Allah (ﷺ) passed by a man in Makkah who was standing in the sun. He said: "What is this?" They said: "He vowed to fast and not to seek shade until night comes, and not to speak, and to remain standing." He said: "Let him speak and seek shade and let him sit down, but let him complete his fast."Another chain from Ibn 'Abbas, from the Prophet (ﷺ), with similar wording. expiation for breaking an oath
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ایک آدمی کے پاس سے گزرے، وہ دھوپ میں کھڑا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا: اس نے نذر مانی ہے کہ وہ روزہ رکھے گا، اور رات تک سایہ میں نہیں رہے گا، اور نہ بولے گا، اور برابر کھڑا رہے گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو چاہیئے کہ بولے، سایہ میں آ جائے، بیٹھ جائے اور اپنا روزہ پورا کرے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا " .
It was narrated from Samurah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"The two parties to a transaction have the choice (of annulling it) so long as they have not yet parted
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو ( بیع منسوخ کرنے کا ) اختیار ہے، جب تک کہ وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں ۔
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلاً، كَانَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ وَكَانَ يُبَايِعُ وَأَنَّ أَهْلَهُ أَتَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ احْجُرْ عَلَيْهِ . فَدَعَاهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لاَ أَصْبِرُ عَنِ الْبَيْعِ . فَقَالَ " إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ هَا وَلاَ خِلاَبَةَ " .
It was narrated from Anas bin Malik that :there was a man at the time of the Messenger of Allah (ﷺ) whose mental faculties were lacking, and he used to buy and sell. His family came to the Prophet (ﷺ) and said, “O Messenger of Allah, stop him.” So The Prophet (ﷺ) called him, and told him not to do that. He said: “O Messenger of Allah (ﷺ), I cannot bear to be away from business.” He said, “If you engage in a transaction then say: “Take it (i.e., the goods) and don't cheat (me).' ”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص کچھ کم عقل تھا، اور وہ خرید و فروخت کرتا تھا تو اس کے گھر والے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! اس کو اپنے مال میں تصرف سے روک دیجئیے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلایا، اور اس کو خرید و فروخت کرنے سے منع کیا، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ خرید و فروخت نہ کروں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا جب خرید و فروخت کرو تو یہ کہہ لیا کرو کہ دھوکا دھڑی کی بات نہیں چلے گی ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَنْبَأَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى فِي سَيْلِ مَهْزُورٍ أَنْ يُمْسِكَ حَتَّى يَبْلُغَ الْكَعْبَيْنِ ثُمَّ يُرْسِلَ الْمَاءَ .
It was narrated from 'Amr bin Shu`aib, from his father, from his grandfather, that :the Messenger of Allah (ﷺ) ruled concerning the stream of Mahzur that the water should be retained until it reached the ankles, then released
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی مہزور کے نالے کے متعلق یہ فیصلہ کیا کہ پانی ٹخنوں تک روک لیا جائے، پھر اسے چھوڑ دیا جائے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ قَوْمًا، أَغَارُوا عَلَى لِقَاحِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَطَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ .
It was narrated from 'Aishah that :some people raided the she-camels of the Messenger of Allah (ﷺ) , so the Prophet(ﷺ) cut off their hands and feet (on opposite sides) and lanced (gouged out) their eyes
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں پر حملہ کر دیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پیر کاٹ دئیے اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يُقْتَلُ بِالْوَلَدِ الْوَالِدُ " .
It was narrated from Ibn 'Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“A father should not be killed for his son.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: باپ بیٹے کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لِلشَّهِيدِ عِنْدَ اللَّهِ سِتُّ خِصَالٍ يُغْفَرُ لَهُ فِي أَوَّلِ دَفْعَةٍ مِنْ دَمِهِ وَيُرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ وَيُجَارُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَيَأْمَنُ مِنَ الْفَزَعِ الأَكْبَرِ وَيُحَلَّى حُلَّةَ الإِيمَانِ وَيُزَوَّجُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ وَيُشَفَّعُ فِي سَبْعِينَ إِنْسَانًا مِنْ أَقَارِبِهِ " .
It was narrated from Miqdam bin Ma’dikarib that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The martyr has six things (in store) with Allah: He is forgiven from the first drop of his blood that is shed; he is shown his place in Paradise; he is spared the torment of the grave; he is kept safe from the Great Fright; he is adorned with a garment of faith; he is married to (wives) from among the wide-eyed houris; and he is permitted to intercede for seventy of his relatives.”
مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے یہاں شہید کے لیے چھ بھلائیاں ہیں: ۱- خون کی پہلی ہی پھوار پر اس کی مغفرت ہو جاتی ہے، اور جنت میں اس کو اپنا ٹھکانا نظر آ جاتا ہے ۲- عذاب قبر سے محفوظ رہتا ہے، ۳- حشر کی بڑی گھبراہٹ سے مامون و بےخوف رہے گا، ۴- ایمان کا جوڑا پہنایا جاتا ہے، ۵- حورعین سے نکاح کر دیا جاتا ہے، ۶- اس کے اعزہ و اقرباء میں سے ستر آدمیوں کے بارے میں اس کی سفارش قبول کی جاتی ہے ۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَأَنِّي أَرَى وَبِيصَ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بَعْدَ ثَلاَثَةٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ .
It was narrated that ‘Aishah said:“It is as if I can see the traces of perfume in the parting (of hair) of the Messenger of Allah (ﷺ) after three days, and he was a Muhrim.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ گویا میں تین دن بعد تک خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں، اور آپ احرام کی حالت میں ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ لِوَلَدِهِ أُعَلِّمُكُمْ إِذَا أَتَيْتُمُ الْغَائِطَ فَلاَ تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ وَلاَ تَسْتَدْبِرُوهَا " . وَأَمَرَ بِثَلاَثَةِ أَحْجَارٍ وَنَهَى عَنِ الرَّوْثِ وَالرِّمَّةِ وَنَهَى أَنْ يَسْتَطِيبَ الرَّجُلُ بِيَمِينِهِ .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'I am to you like a father to his son, and I teach you. So when you go to relieve yourselves, do not face the Qiblah or turn your backs towards it.' He ordered us to use three pebbles, and he forbade us to use dung and bones, and he forbade cleaning oneself with the right hand
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے لیے ایسا ہی ہوں جیسے باپ اپنے بیٹے کے لیے، میں تمہیں تعلیم دیتا ہوں کہ جب تم قضائے حاجت کے لیے بیٹھو تو قبلے کی طرف منہ اور پیٹھ نہ کرو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین پتھروں سے استنجاء کرنے کا حکم دیا، اور گوبر اور ہڈی سے، اور دائیں ہاتھ سے استنجاء کرنے سے منع کیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ، مِنْ آلِ ابْنِ الأَزْرَقِ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ، - وَهُوَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ - حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " الْبَحْرُ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ " . قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بَلَغَنِي عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ الْجَوَادِ أَنَّهُ قَالَ هَذَا نِصْفُ الْعِلْمِ لأَنَّ الدُّنْيَا بَرٌّ وَبَحْرٌ فَقَدْ أَفْتَاكَ فِي الْبَحْرِ وَبَقِيَ الْبَرُّ .
Mughirah bin Abu Burdah, who was of the tribe of Banu ‘Abd-Dar, narrated that he heard Abu Hurairah say:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The water of the sea is a means of purification and its dead meat is permissible.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے ۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ مجھے ابوعبیدہ الجواد سے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں نے کہا: یہ آدھا علم ہے اس لیے کہ دنیا بحر و بر یعنی خشکی اور تری کا نام ہے، تو آپ نے سمندر کے متعلق مسئلہ بتا دیا، اور خشکی ( کا مسئلہ ) باقی رہ گیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " إِذَا نَامَ أَحَدُكُمْ وَفِي يَدِهِ رِيحُ غَمَرٍ فَلَمْ يَغْسِلْ يَدَهُ فَأَصَابَهُ شَىْءٌ فَلاَ يَلُومَنَّ إِلاَّ نَفْسَهُ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:“If anyone of you goes to bed with a smell emanating from his hand, and he does not wash his hand, and something happens to him, he should not blame anyone but himself.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص جب اس حالت میں سوئے کہ اس کے ہاتھ میں چکنائی کی بو ہو، اور اس نے اپنا ہاتھ نہ دھویا ہو، پھر اسے کسی چیز نے نقصان پہنچایا تو وہ خود اپنے ہی کو ملامت کرے ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ شَرِبَ فَتَنَفَّسَ فِيهِ مَرَّتَيْنِ .
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Prophet (ﷺ) drank, and took two breaths while doing so
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی پیا، تو آپ نے دوبار سانس لی
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ سَعْدٍ الإِسْكَافِ، عَنِ الأَصْبَغِ بْنِ نُبَاتَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ نَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِحِجَامَةِ الأَخْدَعَيْنِ وَالْكَاهِلِ .
It was narrated that ‘Ali said:“Jibra’il came down to the Prophet (ﷺ) with (the recommendation of) cupping in the two veins at the side of the neck and the base of the neck.”
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام گردن کی دونوں رگوں اور دونوں مونڈھوں کے درمیان کی جگہ پر پچھنا لگانے کا حکم لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ أَبِي فَاخِتَةَ، حَدَّثَنِي هُبَيْرَةُ بْنُ يَرِيمَ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّهُ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ حُلَّةٌ مَكْفُوفَةٌ بِحَرِيرٍ إِمَّا سَدَاؤُهَا وَإِمَّا لُحْمَتُهَا فَأَرْسَلَ بِهَا إِلَىَّ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَصْنَعُ بِهَا أَلْبَسُهَا قَالَ " لاَ وَلَكِنِ اجْعَلْهَا خُمُرًا بَيْنَ الْفَوَاطِمِ " .
It was narrated from ‘Ali that a two-piece suit hemmed with silk, either on the wrap or the weft,* was given to the Messenger of Allah (ﷺ), and he sent them to me (‘Ali). I came to him and said:“O Messenger of Allah, what should I do with these? Shall I wear them?” He said: “No, rather make them into head-cloths and give them to the Fatimahs.”
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی ( جوڑا ) تحفہ میں آیا جس کے تانے یا بانے میں ریشم ملا ہوا تھا، آپ نے وہ میرے پاس بھیج دیا، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس کا کیا کروں؟ کیا میں اسے پہنوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ اسے فاطماؤں کی اوڑھنیاں بنا دو ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الأَجْلَحِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَلْتَقِيَانِ فَيَتَصَافَحَانِ إِلاَّ غُفِرَ لَهُمَا قَبْلَ أَنْ يَتَفَرَّقَا " .
It was narrated from Bara bin Azib that the Messenger of Allah(ﷺ) said:"There are no two Muslims who meet and shake hands, but they will be forgiven before they part
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو مسلمان آپس میں ایک دوسرے سے ملتے اور مصافحہ کرتے ( ہاتھ ملاتے ) ہیں، تو ان کے جدا ہونے سے پہلے ان کی مغفرت کر دی جاتی ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ " اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ وَرَبَّ الأَرْضِ وَرَبَّ كُلِّ شَىْءٍ فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ الْعَظِيمِ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ دَابَّةٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا أَنْتَ الأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَىْءٌ وَأَنْتَ الآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَىْءٌ وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَىْءٌ وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَىْءٌ اقْضِ عَنِّي الدَّيْنَ وَأَغْنِنِي مِنَ الْفَقْرِ " .
It was narrated from Abu Hurairah that :when going to bed, the Prophet (saas) used to say: "Allahumma Rabbas-samawati wa Rabbal-ardi, wa Rabba kulli shay'in, faliqal-habbi wan-nawa, munzilat-Tawrati wal-Injili wal-Qur'anil-'Azim. A'udhu bika min sharri kulli dabbatin Anta akhidhun binasiyatiha, Antal-Awwalu fa laysa qablaka shayun, wa Antal-Akhiru, fa laysa ba'daka shayun', Antaz-zahiru, fa laysa fawqaka shayun', wa antal-batinu fa laysa dunaka shay', aqdi 'annid-dayna waghnini minal-faqr (O Allah, Lord of the heavens and Lord of the earth and Lord of all things, Cleaver of the seed and the kernel, Revealer of the Tawrah, the Injil and the Magnificent Qur'an, I seek refuge with You from the evil of every creature You seize by the forelock. You are the First and there is nothing before You; You are the Last and there is nothing after You; You are the Most High (Az-Zahir) and there is nothing above You, and You are the Most Near (Al-Batin) and there is nothing nearer than You. Settle my debt for me and spare me from poverty
(ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر تشریف لے جاتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم رب السموات ورب الأرض ورب كل شيء فالق الحب والنوى منزل التوراة والإنجيل والقرآن العظيم أعوذ بك من شر كل دابة أنت آخذ بناصيتها أنت الأول فليس قبلك شيء وأنت الآخر فليس بعدك شيء وأنت الظاهر فليس فوقك شيء وأنت الباطن فليس دونك شيء اقض عني الدين وأغنني من الفقر» اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے رب! ہر چیز کے رب! دانے اور گٹھلی کو پھاڑ کر پودا نکالنے والے! توراۃ، انجیل اور قرآن عظیم کو نازل کرنے والے! میں تیری پناہ چاہتا ہوں زمین پر رینگنے والی ہر مخلوق کے شر و فساد سے، جس کی پیشانی تیرے ہاتھوں میں ہے، تو ہی سب سے پہلے ہے، تجھ سے پہلے کوئی نہیں تھا، اور تو ہی سب سے آخر ہے تیرے بعد کوئی نہیں، اور تو ہی ظاہر ہے تیرے اوپر کوئی نہیں، اور تو ہی باطن ہے تجھ سے ورے کوئی چیز نہیں، میرا قرض ادا کرا دے اور فقر و مسکنت سے مجھے آزاد کرا دے آسودہ حال بنا دے ) ۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ، مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَاعِزٍ الْعَامِرِيِّ، أَنَّ سُفْيَانَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيَّ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَدِّثْنِي بِأَمْرٍ أَعْتَصِمُ بِهِ . قَالَ " قُلْ رَبِّيَ اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقِمْ " . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَكْثَرُ مَا تَخَافُ عَلَىَّ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِلِسَانِ نَفْسِهِ ثُمَّ قَالَ " هَذَا " .
Sufyan bin ‘Abdullah Thaqafi said:“I said: ‘O Messenger of Allah, tell me of something that I can adhere to.’ He said: ‘Say: “Allah is my Lord,” then stand straight (adhere steadfastly to Islam).’ He said: ‘O Messenger of Allah, what is the thing that you fear most for me?’ The Messenger of Allah (ﷺ) took hold of his own tongue, then he said: ‘This.’”
سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جس کو میں مضبوطی سے تھام لوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو: اللہ میرا رب ( معبود برحق ) ہے اور پھر اس پر قائم رہو ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کو ہم پر کس بات کا زیادہ ڈر ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا: اس کا ۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَلْتَوِي فِي الْيَوْمِ مِنَ الْجُوعِ مَا يَجِدُ مِنَ الدَّقَلِ مَا يَمْلأُ بِهِ بَطْنَهُ .
It was narrated that Nu’man bin Bashir said:“I heard ‘Umar bin Khattab say: ‘I saw the Messenger of Allah (ﷺ) writhing with hunger during the day, and he could not even find the worst of dates with which to fill his stomach.’”
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ دن میں بھوک سے کروٹیں بدلتے رہتے تھے، آپ کو خراب اور ردی کھجور بھی نہ ملتی تھی جس سے اپنا پیٹ بھر لیتے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خِدَاشٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ، وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ تَلاَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ هَذِهِ الآيَةَ {هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ} إِلَى قَوْلِهِ {وَمَا يَذَّكَّرُ إِلاَّ أُولُو الأَلْبَابِ} . فَقَالَ " يَا عَائِشَةُ إِذَا رَأَيْتُمُ الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِيهِ فَهُمُ الَّذِينَ عَنَاهُمُ اللَّهُ فَاحْذَرُوهُمْ " .
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) recited the following Verse: 'It is He Who has sent down to you (Muhammad) the Book (this Qur'an). In it are verses that are entirely clear, they are the foundations of the Book; and others not entirely clear (up to His saying: ) 'And none receive admonition except men of understanding.' Then he said: 'O 'Aishah, if you see those who dispute concerning it (the Qur'an), they are those whom Allah has referred to here, so beware of them
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت کریمہ تلاوت کی: «هو الذي أنزل عليك الكتاب منه آيات محكمات هن أم الكتاب وأخر متشابهات» اللہ تعالیٰ کے یہ فرمان «وما يذكر إلا أولو الألباب» تک: ( سورة آل عمران: 7 ) ، یعنی: وہی اللہ ہے جس نے تم پر کتاب اتاری، جس میں اس کی بعض آیات معلوم و متعین معنی والی محکم ہیں جو اصل کتاب ہیں، اور بعض آیات متشابہ ہیں، پس جن کے دلوں میں کجی اور ٹیڑھ ہے وہ تو اس کی متشابہ آیتوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں تاکہ فتنہ پھیلائیں اور ان کے معنی مراد کی جستجو کریں، حالانکہ ان کے حقیقی معنی مراد کو سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا، اور پختہ و مضبوط علم والے یہی کہتے ہیں کہ ہم تو ان پر ایمان رکھتے ہیں، یہ تمام ہمارے رب کی طرف سے نازل ہوئی ہیں، اور نصیحت تو صرف عقلمند حاصل کرتے ہیں ۔ اور ( آیت کی تلاوت کے بعد ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! جب ان لوگوں کو دیکھو جو متشابہ آیات میں جھگڑتے اور بحث و تکرار کرتے ہیں تو یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے اس آیت کریمہ میں مراد لیا ہے، تو ان سے بچو ۱؎۔
حَدَّثَنَا مَجْزَأَةُ بْنُ سُفْيَانَ بْنِ أَسِيدٍ، مَوْلَى ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الصَّائِغُ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " بَشِّرِ الْمَشَّائِينَ فِي الظُّلَمِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِالنُّورِ التَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
It was narrated that Anas bin Malik said:"The Messenger of Allah said: 'Give glad tidings to those who walk to the mosques in the dark, of perfect light on the Day of Resurrection
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تاریکیوں میں مسجدوں کی جانب چل کر جانے والوں کو قیامت کے دن کامل نور کی بشارت سنا دو ۔
حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ أُكَيْمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَزَادَ فِيهِ قَالَ فَسَكَتُوا بَعْدُ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ الإِمَامُ .
It was narrated that Abu Hurairah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) led us in prayer,” and he mentioned a similar report, and added to it, and he said: “And after that they were quiet in the prayers in which the Imam recites aloud.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، اس کے بعد پہلی جیسی روایت ذکر کی، البتہ اس میں اتنا زیادہ ہے: پھر لوگوں نے جہری نماز میں خاموشی اختیار کر لی ۱؎۔