بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Ibn Majah
6
27 hadith
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ أَسْرِعُوا بِالْجِنَازَةِ فَإِنْ تَكُنْ صَالِحَةً فَخَيْرٌ تُقَدِّمُونَهَا إِلَيْهِ وَإِنْ تَكُنْ غَيْرَ ذَلِكَ فَشَرٌّ تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:‘Hasten with the funeral (procession), for if the person was righteous then you are advancing him towards good, and if he was otherwise then it is evil which you are taking off of your necks.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنازہ کو جلدی لے کر چلو کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اس کو نیکی کی طرف جلدی پہنچا دو گے، اور اگر بد ہے تو بدی کو اپنی گردن سے اتار پھینکو گے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَهُوَ صَائِمٌ مُحْرِمٌ ‏.‏
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The Messenger of Allah (ﷺ) had cupping done when he was fasting and in Ihram.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا جب کہ آپ روزے سے تھے، اور احرام باندھے ہوئے تھے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَشِيرِ بْنِ ذَكْوَانَ، وَأَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْخَوْلاَنِيُّ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّدَفِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ زَكَاةَ الْفِطْرِ طُهْرَةً لِلصَّائِمِ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ وَطُعْمَةً لِلْمَسَاكِينِ فَمَنْ أَدَّاهَا قَبْلَ الصَّلاَةِ فَهِيَ زَكَاةٌ مَقْبُولَةٌ وَمَنْ أَدَّاهَا بَعْدَ الصَّلاَةِ فَهِيَ صَدَقَةٌ مِنَ الصَّدَقَاتِ ‏.‏
It was narrated that:Ibn Abbas said: “The Messenger of Allah (ﷺ) enjoined Zakatul-Fitr as a purification for the fasting person from idle talk and obscenities, and to feed the poor. Whoever pays it before the (Eid) prayer, it is an accepted Zakah, and whoever pays it after the prayer, it is (ordinary) charity.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر روزہ دار کو فحش اور بیہودہ باتوں سے پاک کرنے، اور مسکینوں کی خوراک کے لیے فرض قرار دیا، لہٰذا جس نے اسے نماز عید سے پہلے ادا کر دیا، تو یہ مقبول زکاۃ ہے اور جس نے نماز کے بعد ادا کیا تو وہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏"‏ مَنْ يَتَزَوَّجُهَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا ‏.‏ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ أَعْطِهَا وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ لَيْسَ مَعِي ‏.‏ قَالَ ‏"‏ قَدْ زَوَّجْتُكَهَا عَلَى مَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that:Sahl bin Sa'd said: “A woman came to the Prophet and he said: 'Who will marry her ?' A man said: 'I will.' The Prophet said: 'Give her something, even if it is an iron ring.' He said: 'I do not have one.' He said: 'I marry her to you for what you know of the Quran.'”
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی تو آپ نے فرمایا: اس سے کون نکاح کرے گا ؟ ایک شخص نے کہا: میں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: اسے کچھ دو چاہے لوہے کی ایک انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو ، وہ بولا: میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اس کا نکاح تمہارے ساتھ اس قرآن کے بدلے کر دیا جو تمہیں یاد ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِنَّمَا آلَى لأَنَّ زَيْنَبَ رَدَّتْ عَلَيْهِ هَدِيَّتَهُ ‏.‏ فَقَالَتْ عَائِشَةُ لَقَدْ أَقْمَأَتْكَ ‏.‏ فَغَضِبَ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَآلَى مِنْهُنَّ ‏.‏
It was narrated from Aishah that:the Messenger of Allah (ﷺ) swore to keep away from his wives, because Zainab had sent back her gift and 'Aishah said: "She has disgraced you." He became angry and swore to keep away from them
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایلاء کیا، اس لیے کہ ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا نے آپ کا بھیجا ہوا ہدیہ واپس کر دیا تھا، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: زینب نے آپ کی بےقدری کی ہے، یہ سن کر آپ غصہ ہوئے اور ان سب سے ایلاء کر لیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الرُّعَيْنِيِّ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَالِكٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أُخْتَهُ نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ حَافِيَةً غَيْرَ مُخْتَمِرَةٍ وَأَنَّهُ ذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ ‏ "‏ مُرْهَا فَلْتَرْكَبْ وَلْتَخْتَمِرْ وَلْتَصُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Sa'eed Ar-Ru'aini that 'Abdullah bin Malik told him, that :'Uqbah bin 'Amir told him, that his sister vowed to walk, barefoot and bareheaded, and he mentioned that to the Messenger of Allah (ﷺ) He said: "Order her to ride and to cover her head, and to fast for three days
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کی بہن نے نذر مانی کہ ننگے پاؤں، ننگے سر اور پیدل چل کر حج کے لیے جائیں گی، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے حکم دو کہ سوار ہو جائے، دوپٹہ اوڑھ لے، اور تین دن کے روزے رکھے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ إِذَا تَبَايَعَ الرَّجُلاَنِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا وَكَانَا جَمِيعًا أَوْ يُخَيِّرْ أَحَدُهُمَا الآخَرَ فَإِنْ خَيَّرَ أَحَدُهُمَا الآخَرَ فَتَبَايَعَا عَلَى ذَلِكَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ ‏.‏ وَإِنْ تَفَرَّقَا بَعْدَ أَنْ تَبَايَعَا وَلَمْ يَتْرُكْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا الْبَيْعَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Abdullah bin 'Umar that the Messenger of Allah said:"When two men enter into a transaction, each of them has the choice (of annulling it) so long as they have not yet parted and are still together, or one of them has given the option or choice to the other. Once he has accepted the terms of the other, then the transaction is binding. If they part after concluding the transaction and neither of them has rescinded the transaction then the transaction is binding.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو آدمی ایک مجلس میں خرید و فروخت کریں، تو دونوں میں سے ہر ایک کو بیع فسخ کرنے کا اختیار ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں، یا ان میں سے کوئی ایک دوسرے کو اختیار نہ دیدے، پھر اگر ایک نے دوسرے کو اختیار دے دیا پھر بھی ان دونوں نے بیع پکی کر لی تو بیع واجب ہو گئی، اس طرح بیع ہو جانے کے بعد اگر وہ دونوں مجلس سے جدا ہو گئے تب بھی بیع لازم ہو گئی ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عُثْمَانَ الْبَتِّيِّ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ أَبَوَيْهِ، اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَحَدُهُمَا كَافِرٌ وَالآخَرُ مُسْلِمٌ فَخَيَّرَهُ فَتَوَجَّهَ إِلَى الْكَافِرِ فَقَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ اهْدِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَتَوَجَّهَ إِلَى الْمُسْلِمِ فَقَضَى لَهُ بِهِ ‏.‏
It was narrated from 'Abdul-Hamid bin Salamah, from his father, from his grandfather, that :his parents referred their dispute to the Prophet (ﷺ), and one of them was a disbeliever. He (the Prophet (ﷺ)) said: “O Allah, guide him,” and he turned towards the Muslim, and he ruled that he should go with that parent
رافع بن سنان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کے ماں اور باپ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑا لے گئے، ان میں سے ایک کافر تھے اور ایک مسلمان، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( رافع ) کو اختیار دیا ( کہ جس کے ساتھ جانا چاہیں جا سکتے ہیں ) وہ کافر کی طرف متوجہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: اے اللہ! اس کو ہدایت دے ، پھر وہ مسلمان کی طرف متوجہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی ( مسلمان ) کے پاس ان کے رہنے کا فیصلہ فرما دیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَبَاهُ، تُوُفِّيَ وَتَرَكَ عَلَيْهِ ثَلاَثِينَ وَسْقًا لِرَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ فَاسْتَنْظَرَهُ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَأَبَى أَنْ يُنْظِرَهُ فَكَلَّمَ جَابِرٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِيَشْفَعَ لَهُ إِلَيْهِ فَجَاءَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَلَّمَ الْيَهُودِيَّ لِيَأْخُذَ ثَمَرَ نَخْلِهِ بِالَّذِي لَهُ عَلَيْهِ فَأَبَى عَلَيْهِ فَكَلَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَبَى أَنْ يُنْظِرَهُ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم النَّخْلَ فَمَشَى فِيهَا ثُمَّ قَالَ لِجَابِرٍ ‏"‏ جُدَّ لَهُ فَأَوْفِهِ الَّذِي لَهُ ‏"‏ ‏.‏ فَجَدَّ لَهُ بَعْدَ مَا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَلاَثِينَ وَسْقًا وَفَضَلَ لَهُ اثْنَا عَشَرَ وَسْقًا فَجَاءَ جَابِرٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِيُخْبِرَهُ بِالَّذِي كَانَ فَوَجَدَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَائِبًا فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَاءَهُ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَدْ أَوْفَاهُ وَأَخْبَرَهُ بِالْفَضْلِ الَّذِي فَضَلَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَخْبِرْ بِذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ‏"‏ ‏.‏ فَذَهَبَ جَابِرٌ إِلَى عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ لَقَدْ عَلِمْتُ حِينَ مَشَى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيُبَارِكَنَّ اللَّهُ فِيهَا ‏.‏
It was narrated from Jabir bin 'Abdullah that :his father died owing thirty Wasq to a Jewish man. Jabir bin Abdullah asked him for respite but he refused. Jabir asked the Messenger of Allah (ﷺ) to intercede for him with him, so the Messenger of Allah (ﷺ) went and spoke to the Jew, asking him to accept dates in lieu of what was owed, but he refused. The Messenger of Allah (ﷺ) spoke to him but he refused to give respite. Then the Messenger of Allah (ﷺ) went in among the date-palm trees and walked among them. Then he said to Jabir: “Pick (dates) for him and pay off what is owed to him in full.” So he picked thirty Wasq of dates after the Messenger of Allah (ﷺ) came back, and there were twelve Wasq more (than what was owed). Jabir came to the Messenger of Allah (ﷺ) to tell him what had happened, and he found that the Messenger of Allah (ﷺ) was absent. When the Messenger of Allah (ﷺ) came back he came to him and told him that he had paid off the debt in full, and he told him about the extra dates. The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Tell 'Umar bin Khattab about that.” So Jabir went to 'Umar said to him: “I knew when the Messenger of Allah (ﷺ) walked amongst them that Allah (SWT) would bless them for us.”
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے والد وفات پا گئے، اور اپنے اوپر ایک یہودی کے تیس وسق کھجور قرض چھوڑ گئے، جابر رضی اللہ عنہ نے اس یہودی سے مہلت مانگی لیکن اس نے انہیں مہلت دینے سے انکار کر دیا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ اس سے اس کی سفارش کر دیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس گئے اور آپ نے اس سے بات کی کہ وہ ان کھجوروں کو جو ان کے درخت پر ہیں اپنے قرض کے بدلہ لے لے، لیکن وہ نہیں مانا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے مہلت مانگی، لیکن وہ انہیں مہلت دینے پر بھی راضی نہ ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان درختوں کے پاس تشریف لے گئے، اور ان کے درمیان چلے پھر جابر رضی اللہ عنہ سے کہا: ان کھجوروں کو توڑ کر اس کا جو قرض ہے اسے پورا پورا ادا کر دو ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے واپس چلے جانے کے بعد جابر رضی اللہ عنہ نے تیس وسق کھجور توڑی ( جس سے جابر رضی اللہ عنہ نے اس کا قرض چکایا ) اور بارہ وسق کھجور بچ بھی گئی، جابر رضی اللہ عنہ نے یہ صورت حال دیکھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتانے آئے، لیکن آپ کو موجود نہیں پایا، جب آپ واپس تشریف لائے تو وہ پھر دوبارہ حاضر ہوئے، اور آپ کو بتایا کہ اس کا قرض پورا پورا ادا کر دیا ہے، اور جو زائد کھجور بچ گئی تھی اس کی بھی خبر دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اسے عمر بن خطاب کو بھی بتا دو ، چنانچہ جابر رضی اللہ عنہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، اور انہیں بھی اس کی خبر دی، یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ بولے: میں اسی وقت سمجھ گیا تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان درختوں کے درمیان چلے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان میں ضرور برکت دے گا ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَيْرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا النَّخْلَ فَقَالَ الأَنْصَارِيُّ سَرِّحِ الْمَاءَ يَمُرَّ ‏.‏ فَأَبَى عَلَيْهِ فَاخْتَصَمَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ ‏"‏ ‏.‏ فَغَضِبَ الأَنْصَارِيُّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ ‏"‏ يَا زُبَيْرُ اسْقِ ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقَالَ الزُّبَيْرُ وَاللَّهِ إِنِّي لأَحْسَبُ هَذِهِ الآيَةَ أُنْزِلَتْ فِي ذَلِكَ ‏{‏فَلاَ وَرَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لاَ يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا‏}‏‏.‏
It was narrated from 'Abdullah bin Zubair that :a man from among the Ansar had a dispute with Zubair in the presence of the Messenger of Allah (ﷺ) concerning the streams of the Harrah with which he irrigated his palm trees. The Ansari said: “Let the water flow,” but he refused. So they referred their dispute to the Messenger of Allah (ﷺ). The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Irrigate (your trees) O Zubair, then let the water flow to your neighbor.” The Ansari became angry and said: “O Messenger of Allah (ﷺ), is it because he is your cousin (son of your paternal aunt)?” The expression of the Messenger of Allah (ﷺ) changed, then he said: “O Zubair, irrigate (your trees) then retain the water until it reaches the walls.” Zubair said: “I think this Verse was revealed concerning that: “But no, by your Lord, they make you (O Muhammad) judge in all disputes between them, and find in themselves no resistance against your decisions, and accept (them) with full submission [1].'” (Sahih) [1] An-Nisa
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک انصاری ۱؎ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حرہ کے نالے کے سلسلے میں جس سے لوگ کھجور کے درخت سیراب کرتے تھے، ( ان کے والد ) زبیر رضی اللہ عنہ سے جھگڑا کیا، انصاری کہہ رہا تھا: پانی کو چھوڑ دو کہ آگے بہتا رہے، زبیر رضی اللہ عنہ نہیں مانے ۲؎بالآخر دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس معاملہ لے گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زبیر ( پانی روک کر ) اپنے درختوں کو سینچ لو پھر اپنے پڑوسی کے لیے پانی چھوڑ دو، انصاری نے یہ سنا تو ناراض ہو گیا اور بولا: اللہ کے رسول! وہ آپ کی پھوپھی کے بیٹے ہیں نا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنا تو آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زبیر! اپنے درختوں کو سینچ لو اور پانی روک لو یہاں تک کہ وہ مینڈوں تک بھر جائے ۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم، میں سمجھتا ہوں کہ آیت کریمہ: «فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم ثم لا يجدوا في أنفسهم حرجا مما قضيت ويسلموا تسليما» ( سورة النساء: 65 ) سو قسم ہے تیرے رب کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے، جب تک کہ تمام آپس کے اختلافات میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوش نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں ، اسی معاملہ میں اتری ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْبَرَّادِ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ شَهَرَ عَلَيْنَا السِّلاَحَ فَلَيْسَ مِنَّا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Musa Al-Ash'ari that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever brandishes weapons against us is not one of us.'”
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو ہم پر ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“A Muslim should not be killed in retaliation for the murder of a disbeliever.”
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کو کافر کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا ۔
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيَّانِ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي أَبُو شُرَيْحٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الشَّهَادَةَ بِصِدْقٍ مِنْ قَلْبِهِ بَلَّغَهُ اللَّهُ مَنَازِلَ الشُّهَدَاءِ وَإِنْ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ ‏"‏ ‏.‏
Sahl bin Abu Umamah bin Sahl bin Hunaif narrated from his father, from his grandfather that the Prophet (ﷺ) said:“Whoever asks Allah for martyrdom, sincerely from his heart, Allah will cause him to reach the status of the martyrs even if he dies in his bed.”
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص سچے دل سے اللہ تعالیٰ سے شہادت کا طالب ہو، اللہ تعالیٰ اسے شہیدوں کے مرتبے پر پہنچا دے گا، گرچہ وہ اپنے بستر ہی پر فوت ہوا ہو ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لإِحْرَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ - قَالَ سُفْيَانُ - بِيَدَىَّ هَاتَيْنِ ‏.‏
It was narrated that ‘Aishah said:“I put perfume on the Messenger of Allah (ﷺ) for his Ihram before he entered into it, and when he exited Ihram before he returned.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام کے وقت احرام باندھنے سے قبل خوشبو لگائی، اور احرام کھولنے کے وقت بھی طواف افاضہ کرنے سے پہلے۔ سفیان کی روایت میں یہ بھی ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: خوشبو میں نے اپنے انہی دونوں ہاتھوں سے لگائی۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ صُهْبَانَ، قَالَ سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، يَقُولُ مَا تَغَنَّيْتُ وَلاَ تَمَنَّيْتُ وَلاَ مَسِسْتُ ذَكَرِي بِيَمِينِي مُنْذُ بَايَعْتُ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏.‏
It was narrated that 'Uqbah bin Suhban said:"I heard 'Uthman bin 'Affan say: 'I never sang a song or told a lie or touched my penis with my right hand after I swore on oath of allegiance to the Messenger of Allah to that effect
عقبہ بن صہبان کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے اس ہاتھ کے ذریعہ بیعت کی نہ تو میں نے گانا گایا، اور نہ جھوٹ بولا، اور نہ اپنی شرمگاہ کو داہنے ہاتھ سے چھوا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَفْوَانَ، أَنَّهُ مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِأَرْنَبَيْنِ مُعَلِّقَهُمَا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ هَذَيْنِ الأَرْنَبَيْنِ فَلَمْ أَجِدْ حَدِيدَةً أُذَكِّيهِمَا بِهَا فَذَكَّيْتُهُمَا بِمَرْوَةٍ أَفَآكُلُ قَالَ ‏ "‏ كُلْ ‏"‏ ‏.‏
it was narrated from Muhammad bin Safwan that he passed by the Prophet (ﷺ) with two rabbits hanging down. He said:“O Messenger of Allah, I caught these two rabbits but I cannot find any iron* with which to slaughter them with Marwah** and eat them?” He said: “Eat.”
محمد بن صفوان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے دو خرگوش لٹکائے ہوئے گزرے، اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے یہ دونوں خرگوش ملے، اور مجھے کوئی لوہا نہیں ملا، جس سے میں انہیں ذبح کرتا، اس لیے میں نے ایک ( تیز ) پتھر سے انہیں ذبح کر دیا، کیا میں انہیں کھاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلاَنِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِذَا وُضِعَتِ الْمَائِدَةُ فَلاَ يَقُومُ رَجُلٌ حَتَّى تُرْفَعَ الْمَائِدَةُ وَلاَ يَرْفَعُ يَدَهُ وَإِنْ شَبِعَ حَتَّى يَفْرُغَ الْقَوْمُ وَلْيُعْذِرْ فَإِنَّ الرَّجُلَ يُخْجِلُ جَلِيسَهُ فَيَقْبِضُ يَدَهُ وَعَسَى أَنْ يَكُونَ لَهُ فِي الطَّعَامِ حَاجَةٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“When a meal is served, a man should not stand up until it is removed, and he should not take his hand away, even if he is full, until the people have finished. And let him continue eating.* For a man may make his companion shy, causing him to withhold his hand, and perhaps he has a need for the food.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دستر خوان لگا دیا جائے تو کوئی شخص اس کے اٹھائے جانے سے پہلے نہ اٹھے، اور نہ ہی اپنا ہاتھ کھینچے گرچہ وہ آسودہ ہو چکا ہو جب تک کہ دوسرے لوگ بھی کھانے سے فارغ نہ ہو جائیں، ( اور اگر ایسا کرنا ضروری ہو ) تو عذر پیش کر دے، اس لیے کہ آدمی اپنے ساتھی سے شرماتا ہے تو اپنا ہاتھ کھینچ لیتا ہے اور ہو سکتا ہے کہ ابھی اس کو کھانے کی حاجت ہو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ امْرَأَةِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ مَنْ شَرِبَ فِي إِنَاءِ فِضَّةٍ فَكَأَنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from ‘Aishah that the Prophet (ﷺ) said:“Whoever drinks from a silver vessel, it is as if he is swallowing Hell-fire into his belly.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص چاندی کے برتن میں پیتا ہے گویا وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ غٹ غٹ اتارتا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ اسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي الْحِجَامَةِ فَأَمَرَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَبَا طَيْبَةَ أَنْ يَحْجُمَهَا ‏.‏ وَقَالَ حَسِبْتُ أَنَّهُ كَانَ أَخَاهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ أَوْ غُلاَمًا لَمْ يَحْتَلِمْ ‏.‏
It was narrated from Jabir that Umm Salamah, the wife of the Prophet (ﷺ), asked the Messenger of Allah (ﷺ) for permission to be cupped, and the Prophet (ﷺ) told Abu Taibah to cup her
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پچھنا لگانے کی اجازت طلب کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطیبہ کو حکم دیا کہ وہ انہیں پچھنا لگائے، جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ ابوطیبہ یا تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی بھائی تھے یا پھر نابالغ لڑکے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي عُمَرَ، مَوْلَى أَسْمَاءَ قَالَ رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ اشْتَرَى عِمَامَةً لَهَا عَلَمٌ فَدَعَا بِالْجَلَمَيْنِ فَقَصَّهُ فَدَخَلْتُ عَلَى أَسْمَاءَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهَا فَقَالَتْ بُؤْسًا لِعَبْدِ اللَّهِ يَا جَارِيَةُ هَاتِي جُبَّةَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏.‏ فَجَاءَتْ بِجُبَّةٍ مَكْفُوفَةِ الْكُمَّيْنِ وَالْجَيْبِ وَالْفَرْجَيْنِ بِالدِّيبَاجِ ‏.‏
It was narrated that Abu ‘Umar, the freed slave of Asma’, said:“I saw Ibn ‘Umar buying a turban that had some markings, then he called for a pair of scissors and cut that off. I entered upon Asma’ and mentioned that to her, and she said: ‘May ‘Abdullah perish, O girl! Give me the garment of the Messenger of Allah (ﷺ).’ A garment was brought that was hemmed with brocade on the sleeves, necklines and openings (at the front and back).”
اسماء رضی اللہ عنہا کے غلام ابوعمر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے ایک عمامہ خریدا جس میں گوٹے بنے تھے، پھر قینچی منگا کر انہیں کتر دیا ۱؎، میں اسماء رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، اور اس کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے کہا: تعجب ہے عبداللہ پر، ( ایک اپنی خادمہ کو پکار کر کہا: ) اے لڑکی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جبہ لے آ، چنانچہ وہ ایک ایسا جبہ لے کر آئی جس کی دونوں آستینوں، گریبان اور کلیوں کے دامن پر ریشمی گوٹے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، سَمِعَهُ مِنْ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ يَقُولُ أَخْبَرَتْهُ أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ، قَالَتْ مَرَّ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي نِسْوَةٍ فَسَلَّمَ عَلَيْنَا ‏.‏
Asma bint Yazid said:"The Messenger of Allah(ﷺ) passed by us, among (a group of) women, and he greeted us with (the greeting of) peace
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم عورتوں کے پاس گزرے تو آپ نے ہمیں سلام کیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا عُبَادَةُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا جُبَيْرُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَدَعُ هَؤُلاَءِ الدَّعَوَاتِ حِينَ يُمْسِي وَحِينَ يُصْبِحُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَاىَ وَأَهْلِي وَمَالِي اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي وَآمِنْ رَوْعَاتِي وَاحْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَىَّ وَمِنْ خَلْفِي وَعَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي وَمِنْ فَوْقِي وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَكِيعٌ يَعْنِي الْخَسْفَ ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Umar said:"The Messenger of Allah (saas) never abandoned these supplications, every morning and evening: Allahumma inni as'alukal-'afwa wal-'afiyah fid-dunya wal-akhirah. Allahumma inni as'alukal-'afwa wal-'afiyah fi dini wa dunyaya wa ahli wa mali. Allahum-mastur 'awrati, wa amin raw'ati wahfazni min bayni yadayya, wa min khalfi, wa 'an yamini wa 'an shimali, wa min fawqi, wa 'audhu bika an ughtala min tahti (O Allah, I ask You for forgiveness and well-being in this world and in the Hereafter. O Allah, I ask You for forgiveness and well-being in my religious and my worldly affairs. O Allah, conceal my faults, calm my fears, and protect me from before me and behind me, from my right and my left, and from above me, and I seek refuge in You from being taken unaware from beneath me)." Waki' (one of the narrators, explaining) said: "Meaning Al-Khasf (disgrace)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح و شام ان دعاؤں کو نہیں چھوڑتے تھے: «اللهم إني أسألك العفو والعافية في الدنيا والآخرة اللهم إني أسألك العفو والعافية في ديني ودنياي وأهلي ومالي اللهم استر عوراتي وآمن روعاتي واحفظني من بين يدي ومن خلفي وعن يميني وعن شمالي ومن فوقي وأعوذ بك أن أغتال من تحتي» اے اللہ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں عفو اور عافیت کا طالب ہوں، اے اللہ! میں تجھ سے اپنے دین و دنیا اور اپنے اہل و مال میں معافی اور عافیت کا طالب ہوں، اے اللہ! میرے عیوب چھپا دے، میرے دل کو مامون کر دے، اور میرے آگے پیچھے، دائیں بائیں، اور اوپر سے میری حفاظت فرما، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں نیچے سے ہلاک کئے جانے سے ۔ وکیع کہتے ہیں:«أغتال من تحتي» کے معنی دھنسا دئیے جانے کے ہیں
حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ الصَّيْدَلاَنِيُّ، مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الرَّقِّيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللَّهِ لاَ يَرَى بِهَا بَأْسًا فَيَهْوِي بِهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ سَبْعِينَ خَرِيفًا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“A man may speak a word that angers Allah and not see anything wrong with it, but it will cause him to sink down in Hell the depth of seventy autumns.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی اپنی زبان سے اللہ کی ناراضگی کی بات کہتا ہے، اور وہ اس میں کوئی حرج نہیں محسوس کرتا، حالانکہ اس بات کی وجہ سے وہ ستر برس تک جہنم کی آگ میں گرتا چلا جاتا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ إِنْ كُنَّا آلَ مُحَمَّدٍ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لَنَمْكُثُ شَهْرًا مَا نُوقِدُ فِيهِ بِنَارٍ مَا هُوَ إِلاَّ التَّمْرُ وَالْمَاءُ ‏.‏ إِلاَّ أَنَّ ابْنَ نُمَيْرٍ قَالَ نَلْبَثُ شَهْرًا ‏.‏
It was narrated that ‘Aishah said:“We, the family of Muhammad (ﷺ), would stay for a month during which no fire would be lit (for cooking) and we had only dates and water.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم مہینہ ایسے گزارتے تھے کہ ہمارے گھر میں آگ نہیں جلتی تھی، سوائے کھجور اور پانی کے کچھ نہیں ہوتا تھا۔ ابن نمیر نے «نمكث شهرا» کے بجائے «نلبث شهرا» کہا ہے۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِذَا خَطَبَ احْمَرَّتْ عَيْنَاهُ وَعَلاَ صَوْتُهُ وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ يَقُولُ ‏"‏ صَبَّحَكُمْ مَسَّاكُمْ ‏"‏ ‏.‏ وَيَقُولُ ‏"‏ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَاتَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ وَيَقْرِنُ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى ثُمَّ يَقُولُ ‏"‏ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ خَيْرَ الأُمُورِ كِتَابُ اللَّهِ وَخَيْرَ الْهَدْىِ هَدْىُ مُحَمَّدٍ وَشَرَّ الأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلاَلَةٌ ‏"‏ ‏.‏ وَكَانَ يَقُولُ ‏"‏ مَنْ تَرَكَ مَالاً فَلأَهْلِهِ وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَعَلَىَّ وَإِلَىَّ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said:"When the Messenger of Allah (ﷺ) delivered a sermon, his eyes would turn red, he would raise his voice and he would speak with intensity, as if he were warning of an (enemy) army, saying, 'They will surely attack you in the morning, or they will surely attack you in the evening!' He would say: 'I and the Hour have been sent like these two,' and he would hold his index and middle finger. Then he would say: 'The best of guidance is the guidance of Muhammad. The most evil matters are those that are newly-invented, and every innovation (Bid'ah) is a going astray.' And he used to say: 'Whoever dies and leaves behind some wealth, it is for his family, and whoever leaves behind a debt or dependent children, then they are both my responsibility
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ دیتے تو آپ کی آنکھیں سرخ، آواز بلند اور غصہ سخت ہو جاتا، گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی ( حملہ آور ) لشکر سے ڈرانے والے اس شخص کی طرح ہیں جو کہہ رہا ہے کہ لشکر تمہارے اوپر صبح کو حملہ کرنے والا ہے، شام کو حملہ کرنے والا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: میں اور قیامت دونوں اس طرح قریب بھیجے گئے ہیں ، اور ( سمجھانے کے لیے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی شہادت والی اور بیچ والی انگلی ملاتے پھر فرماتے: حمد و صلاۃ کے بعد! جان لو کہ سارے امور میں سے بہتر اللہ کی کتاب ( قرآن ) ہے، اور راستوں میں سے سب سے بہتر محمد کا راستہ ( سنت ) ہے، اور سب سے بری چیز دین میں نئی چیزیں ( بدعات ) ہیں ۱؎، اور ہر بدعت ( نئی چیز ) گمراہی ہے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: جو مرنے والا مال و اسباب چھوڑے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے، اور جو قرض یا اہل و عیال چھوڑے تو قرض کی ادائیگی، اور بچوں کی پرورش میرے ذمہ ہے ۔
حَدَّثَنَا رَاشِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ رَاشِدٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَافِعٍ عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ الْمَشَّاءُونَ إِلَى الْمَسَاجِدِ فِي الظُّلَمِ أُولَئِكَ الْخَوَّاضُونَ فِي رَحْمَةِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'Those who walk to the mosque in the dark are those who are diving into the mercy of Allah
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تاریکیوں میں مسجدوں کی جانب چل کر جانے والے ہی ( قیامت کے دن ) اللہ تعالیٰ کی رحمت میں غوطہٰ مارنے والے ہیں ۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي غَلاَّبٍ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِذَا قَرَأَ الإِمَامُ فَأَنْصِتُوا فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ فَلْيَكُنْ أَوَّلَ ذِكْرِ أَحَدِكُمُ التَّشَهُّدُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Musa Al-Ash’ari said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘When the Imam recites, then listen attentively, and if he is sitting (in the prayer) then the first remembrance that anyone of you recites should be the Tashahhud.’”
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام جہری قراءت کرے تو تم خاموش رہو، اور جب وہ قعدہ میں ہو تو تم میں سے ہر ایک پہلے «التحيات» پڑھے ۱؎۔