حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ بِلاَلِ بْنِ يَحْيَى، قَالَ كَانَ حُذَيْفَةُ إِذَا مَاتَ لَهُ الْمَيِّتُ قَالَ لاَ تُؤْذِنُوا بِهِ أَحَدًا إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ نَعْيًا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِأُذُنَىَّ هَاتَيْنِ يَنْهَى عَنِ النَّعْىِ .
It was narrated that Bilal bin Yahya said:“If one of the members of his family died, Hudhaifah would say: ‘Do not inform anyone of it, for I am afraid that that would be a public death announcement. I heard the Messenger of Allah (ﷺ) with these two ears of mine forbidding making public death announcements.’”
بلال بن یحییٰ کہتے ہیں کہ جب حذیفہ رضی اللہ عنہ کا کوئی رشتہ دار انتقال کر جاتا تو کہتے: کسی کو اس کے انتقال کی خبر مت دو، میں ڈرتا ہوں کہ کہیں یہ «نعی» ۱؎ نہ ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ان کانوں سے «نعی» سے منع فرماتے سنا ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ أَنْبَأَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ شَدَّادَ بْنَ أَوْسٍ بَيْنَمَا هُوَ يَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِالْبَقِيعِ. فَمَرَّ عَلَى رَجُلٍ يَحْتَجِمُ بَعْدَ مَا مَضَى مِنَ الشَّهْرِ ثَمَانِي عَشْرَةَ لَيْلَةً. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ " .
It was narrated from Abu Qilabah that when Shaddad bin Aws was walking with the Messenger of Allah (ﷺ) in Al-Baqi’, he passed by a man who was being cupped, after eighteen days of the month (of Ramadan) had passed. The Messenger of Allah (ﷺ) said:“The cupper and the one for whom cupping is done both break their fast.”
ابوقلابہ سے روایت ہے کہ شداد بن اوس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بقیع میں چل رہے تھے کہ اسی دوران آپ ایک شخص کے پاس سے گزرے جو چاند کی اٹھارہویں رات گزر جانے کے بعد پچھنا لگوا رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچھنا لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا ۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ صَدَقَةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ عَلَى كُلِّ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ .
It was narrated that:Umar said: “The Messenger of Allah enjoined Sadaqatul-Fitr, one Sa, of barley or one Sa of dates for every Muslim, free or slave, male or female.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر میں ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو مسلمانوں میں سے ہر ایک پر فرض کیا، خواہ وہ آزاد ہو یا غلام، مرد ہو یا عورت ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ بَنِي فَزَارَةَ تَزَوَّجَ عَلَى نَعْلَيْنِ فَأَجَازَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نِكَاحَهُ .
It was narrated from Abdullah bin Amir bin Rabiah from his father, that:A man among Banu Fazarah got married for a pair of sandals, and the Prophet permitted his marriage
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو فزارہ کے ایک شخص نے ( مہر میں ) دو جوتیوں کے بدلے شادی کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نکاح جائز رکھا۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أَقْسَمَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ لاَ يَدْخُلَ عَلَى نِسَائِهِ شَهْرًا فَمَكَثَ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ يَوْمًا حَتَّى إِذَا كَانَ مَسَاءَ ثَلاَثِينَ دَخَلَ عَلَىَّ فَقُلْتُ إِنَّكَ أَقْسَمْتَ أَنْ لاَ تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا . فَقَالَ " شَهْرٌ هَكَذَا " . يُرْسِلُ أَصَابِعَهُ فِيهَا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ " وَشَهْرٌ هَكَذَا " . وَأَرْسَلَ أَصَابِعَهُ كُلَّهَا وَأَمْسَكَ إِصْبَعًا وَاحِدًا فِي الثَّالِثَةِ .
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) swore that he would not enter upon his wives for a month, and he stayed for twenty-nine days until, on the eve of the thirtieth, he entered upon me. I said: 'You swore not to enter upon us for a month.' He said: 'The month may be like this,' and he held up his (ten) fingers three times; 'or the month may be like this,' and he held up his fingers three times, keeping one finger down on the third time
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی کہ ایک ماہ تک اپنی بیویوں کے پاس نہیں جائیں گے، آپ ۲۹ دن تک رکے رہے، جب تیسویں دن کی شام ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، میں نے کہا: آپ نے تو ایک ماہ تک ہمارے پاس نہ آنے کی قسم کھائی تھی؟! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہینہ اس طرح ہوتا ہے آپ نے دونوں ہاتھوں کی ساری انگلیوں کو کھلا رکھ کر تین بار فرمایا، اس طرح کل تیس دن ہوئے، پھر فرمایا: اور مہینہ اس طرح بھی ہوتا ہے اس بار دو دفعہ ساری انگلیوں کو کھلا رکھا، تیسری بار میں ایک انگلی بند کر لی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، . أَنَّ امْرَأَةً، أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَتْ إِنَّ أُمِّي تُوُفِّيَتْ وَعَلَيْهَا نَذْرُ صِيَامٍ فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لِيَصُمْ عَنْهَا الْوَلِيُّ " .
It was narrated from Jabir bin 'Abdullsh that :a woman came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: "My mother has died, and she had made a vow to fast, but she died before she could fulfill it. The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Let her guardian fast on her behalf
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اور اس نے کہا: میری ماں کا انتقال ہو گیا، اور ان کے ذمہ روزوں کی نذر تھی، اور وہ اس کی ادائیگی سے پہلے وفات پا گئیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کا ولی ان کی جانب سے روزے رکھے ۱؎۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَحَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنْ تَلَقِّي الْبُيُوعِ .
It was narrated that 'Abdullah bin Mas'ud said:"The Messenger of Allah (ﷺ) forbade. meeting the owners of goods (away from the market)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال بیچنے والوں سے بازار میں پہنچنے سے پہلے آگے جا کر ملنے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَيَّرَ غُلاَمًا بَيْنَ أَبِيهِ وَأُمِّهِ وَقَالَ " يَا غُلاَمُ هَذِهِ أُمُّكَ وَهَذَا أَبُوكَ " .
It was narrated from Abu Hurairah that :the Prophet (ﷺ) gave a child the choice between his father and his mother (i.e., which parent to live with). He said: “O boy, this is your mother and this is your father.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لڑکے کو اختیار دیا کہ وہ اپنے باپ کے پاس رہے یا ماں کے پاس اور فرمایا: بچے! یہ تیری ماں ہے اور یہ تیرا باپ ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ أَبُو جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ الأَطْوَلِ، أَنَّ أَخَاهُ، مَاتَ وَتَرَكَ ثَلاَثَمِائَةِ دِرْهَمٍ وَتَرَكَ عِيَالاً فَأَرَدْتُ أَنْ أُنْفِقَهَا عَلَى عِيَالِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أَخَاكَ مُحْتَبَسٌ بِدَيْنِهِ فَاقْضِ عَنْهُ " . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ أَدَّيْتُ عَنْهُ إِلاَّ دِينَارَيْنِ ادَّعَتْهُمَا امْرَأَةٌ وَلَيْسَ لَهَا بَيِّنَةٌ . قَالَ " فَأَعْطِهَا فَإِنَّهَا مُحِقَّةٌ " .
It was narrated from Sa'd bin Atwal that :his brother died, leaving behind three hundred Dirham and dependents. “I wanted to spend (his money) on his dependents, but the Prophet (ﷺ) said: 'Your brother is being detained by his debt, so pay it off for him.'” He said “O Messenger of Allah (ﷺ), I have paid it off apart from two Dinar, which a woman is claiming but she has no proof.” He said: “Give them to her for she is telling the truth.”
سعد بن اطول رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کے بھائی وفات پا گئے، اور ( ترکہ میں ) تین سو درہم اور بال بچے چھوڑے، میں نے چاہا کہ ان درہموں کو ان کے بال بچوں پر صرف کروں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا بھائی اپنے قرض کے بدلے قید ہے، اس کا قرض ادا کرو ، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے ان کی طرف سے سارے قرض ادا کر دئیے ہیں، سوائے ان دو درہموں کے جن کا دعویٰ ایک عورت نے کیا ہے، اور اس کے پاس کوئی گواہ نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو بھی ادا کر دو اس لیے کہ وہ اپنے دعویٰ میں سچی ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ حَارِثَةَ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ وَلاَ يُمْنَعُ نَقْعُ الْبِئْرِ " .
It was narrated from Aishah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Surplus water should not be withheld, and neither should surplus water from a well
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ضرورت سے زائد پانی سے اور کنوئیں میں بچے ہوئے پانی سے کسی کو نہ روکا جائے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ الْبَرَّادِ بْنِ يُوسُفَ بْنِ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلاَحَ فَلَيْسَ مِنَّا " .
It was narrated from Ibn `Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever bears weapons against us is not one of us.'”
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ الْبَرَّادِ بْنِ يُوسُفَ بْنِ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو ہمارے اوپر ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ عَمْرٍو الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ قُلْتُ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ هَلْ عِنْدَكُمْ شَىْءٌ مِنَ الْعِلْمِ لَيْسَ عِنْدَ النَّاسِ قَالَ لاَ وَاللَّهِ مَا عِنْدَنَا إِلاَّ مَا عِنْدَ النَّاسِ إِلاَّ أَنْ يَرْزُقَ اللَّهُ رَجُلاً فَهْمًا فِي الْقُرْآنِ أَوْ مَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ فِيهَا الدِّيَاتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنْ لاَ يُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ .
It was narrated that Abu Juhaifah said:“I said to 'Ali bin Abu Talib: 'Do you have any knowledge that the people do not have?' He said: 'No, by Allah, we only know what the people know, except that Allah may bless a man with understanding of Qur'an or what is in this sheet, in which are mentioned the rulings on blood money from the Messenger of Allah (ﷺ) and it says that a Muslim should not be killed in retaliation for the murder of disbeliever.'”
ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا تمہارے پاس کوئی ایسا علم ہے جو دیگر لوگوں کے پاس نہ ہو؟ وہ بولے: نہیں، اللہ کی قسم! ہمارے پاس وہی ہے جو لوگوں کے پاس ہے، ہاں مگر قرآن کی سمجھ جس کی اللہ تعالیٰ کسی کو توفیق بخشتا ہے یا وہ جو اس صحیفے میں ہے اس ( صحیفے ) میں ان دیتوں کا بیان ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں، اور آپ کا یہ فرمان بھی ہے کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔ ۱؎
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى، يَقُولُ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الأَحْزَابِ فَقَالَ " اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ سَرِيعَ الْحِسَابِ اهْزِمِ الأَحْزَابَ اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ " .
Isma’il bin Abu Khalid said:“I heard ‘Abdullah bin Abu Awfa say: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) supplicated to Allah against the Confederates (Al-Ahzab) and said: ‘O Allah, Who has sent down the Book and is Swift in bringing to account, destroy the Confederates. O Allah, destroy them and shake them.’”
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کفار کے ) گروہوں پر بد دعا کی، اور یوں فرمایا: اے اللہ! کتاب کے نازل فرمانے والے، جلد حساب لینے والے، گروہوں کو شکست دے، اے اللہ! انہیں شکست دے، اور جھنجوڑ کر رکھ دے ( کہ وہ پریشان و بے قرار ہو کر بھاگ کھڑے ہوں ) ۱؎۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَا مِنْ مُحْرِمٍ يَضْحَى لِلَّهِ يَوْمَهُ يُلَبِّي حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ إِلاَّ غَابَتْ بِذُنُوبِهِ فَعَادَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " .
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“There is no Muhrim (pilgrim in Ihram) who exposes himself to the sun all day for the sake of Allah, reciting the Talbiyah until the sun goes down, but his sins will disappear and he will go back like on the day his mother bore him.”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: محرم ( احرام باندھنے والا ) جو چاشت کے وقت سے سورج ڈوبنے تک سارے دن اللہ کے لیے ( دھوپ میں ) لبیک کہتا رہے، تو سورج اس کے گناہوں کو ساتھ لے کر ڈوبے گا، اور وہ ایسا ( بےگناہ ) ہو جائے گا گویا اس کی ماں نے جنم دیا ہو ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ حَبِيبِ بْنِ أَبِي الْعِشْرِينَ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ، أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّهُ، سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " إِذَا بَالَ أَحَدُكُمْ فَلاَ يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ وَلاَ يَسْتَنْجِ بِيَمِينِهِ " . حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ .
Abdullah bin Abu Qatadah said:"My father told me that he heard the Messenger of Allah say: 'When anyone of you urinates, let him not touch his penis with his right hand nor clean himself with his right hand.'" Another chain with similar wording
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی پیشاب کرے تو اپنی شرمگاہ اپنے داہنے ہاتھ سے نہ چھوئے، اور نہ اپنے داہنے ہاتھ سے استنجاء کرے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ مَرَرْنَا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ فَأَنْفَجْنَا أَرْنَبًا فَسَعَوْا عَلَيْهَا فَلَغَبُوا فَسَعَيْتُ حَتَّى أَدْرَكْتُهَا فَأَتَيْتُ بِهَا أَبَا طَلْحَةَ فَذَبَحَهَا فَبَعَثَ بِعَجُزِهَا وَوَرِكِهَا إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَبِلَهَا .
It was narrated that Anas bin Malik said:We passed by Marr Az-Zahran and startled a rabbit. They chased it but got tired, so I chased it and caught it. I brought it to Abu Talhah who slaughtered it and sent its rump and thigh to the Prophet (ﷺ), who accepted it
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ مرالظہران سے گزرے، تو ہم نے ایک خرگوش کو چھیڑا ( اس کو اس کی پناہ گاہ سے نکالا ) ، لوگ اس پر دوڑے اور تھک گئے، پھر میں نے بھی دوڑ لگائی یہاں تک کہ میں نے اسے پا لیا، اور اسے لے کر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے اس کو ذبح کیا، اور اس کی پٹھ اور دم گزا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول فرمایا ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَشِيرِ بْنِ ذَكْوَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مُنِيرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَهَى أَنْ يُقَامَ عَنِ الطَّعَامِ حَتَّى يُرْفَعَ .
It was narrated from ‘Aishah that the Messenger of Allah (ﷺ) forbade standing up before the food had been cleared away
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ لوگ کھانا اٹھائے جانے سے پہلے اٹھ جائیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَقَالَ " هِيَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَهِيَ لَكُمْ فِي الآخِرَةِ " .
It was narrated that Hudhaifah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade drinking from vessels of gold and silver. He said: “They are for them in this world and for you in the Hereafter.’”
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے چاندی کے برتن میں پینے سے منع فرمایا ہے، آپ کا ارشاد ہے: یہ ان ( کافروں ) کے لیے دنیا میں ہیں اور تمہارے لیے آخرت میں ہیں ۔
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ سُلَيْمٍ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَا مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي بِمَلإٍ إِلاَّ قَالُوا يَا مُحَمَّدُ مُرْ أُمَّتَكَ بِالْحِجَامَةِ " .
Anas bin Malik said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘On the night on which I was taken on the Night Journey (Isra’), I did not pass by any group (of angels) but they said to me: “O Muhammad, tell your nation to use cupping.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس رات معراج ہوئی میرا گزر فرشتوں کی جس جماعت پر ہوا اس نے کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اپنی امت کو پچھنا لگانے کا حکم دیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَنْهَى عَنِ الْحَرِيرِ، وَالدِّيبَاجِ، إِلاَّ مَا كَانَ هَكَذَا ثُمَّ أَشَارَ بِإِصْبَعِهِ ثُمَّ الثَّانِيَةِ ثُمَّ الثَّالِثَةِ ثُمَّ الرَّابِعَةِ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَنْهَانَا عَنْهُ .
It was narrated from ‘Umar that he used to forbid silk and brocade, except for what was like this:Then he gestured with his finger, then a second, and a third, and a fourth (i.e., the width of four fingers), and he said: “The Messenger of Allah (ﷺ) used to forbid it.”
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ خالص ریشمی کپڑے ( حریر و دیباج ) کے استعمال سے منع فرماتے تھے سوائے اس کے جو اس قدر ریشمی ہوتا، پھر انہوں نے اپنی ایک انگلی، پھر دوسری پھر تیسری پھر چوتھی انگلی سے اشارہ کیا ۱؎ پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس سے منع کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَنَحْنُ صِبْيَانٌ فَسَلَّمَ عَلَيْنَا .
It was narrated that Anas said:"The Messenger of Allah(ﷺ) came to us, and we were young boys, and he greeted us with (the greeting of) peace
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ( اس وقت ) ہم بچے تھے تو آپ نے ہمیں سلام کیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ، عَنْ سَابِقٍ، عَنْ أَبِي سَلاَّمٍ، خَادِمِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " مَا مِنْ مُسْلِمٍ أَوْ إِنْسَانٍ أَوْ عَبْدٍ يَقُولُ حِينَ يُمْسِي وَحِينَ يُصْبِحُ رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا - إِلاَّ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُرْضِيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
It was narrated from Abu Salam, the servant of the Prophet (saas), that :the Prophet (saas) said: "There is no Muslim - or no person, or slave (of Allah) - who says, in the morning and evening: 'Radaytu billahi Rabban wa bil-Islami dinan wa bi Muhammadin nabiyyan (I am content with Allah as my Lord, Islam as my religion and Muhammad as my Prophet),' but he will have a promise from Allah to make him pleased on the Day of Resurrection
خادم رسول ابوسلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی مسلمان یا کوئی آدمی یا کوئی بندہ ( یہ راوی کا شک ہے کہ کون سا کلمہ ارشاد فرمایا ) صبح و شام یہ کہتا ہے: «رضيت بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد نبيا» ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے سے راضی و خوش ہیں ) تو اللہ تعالیٰ پر اس کا یہ حق بن گیا کہ وہ قیامت کے دن اسے خوش کرے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ قَالَ مَرَّ بِهِ رَجُلٌ لَهُ شَرَفٌ فَقَالَ لَهُ عَلْقَمَةُ إِنَّ لَكَ رَحِمًا وَإِنَّ لَكَ حَقًّا وَإِنِّي رَأَيْتُكَ تَدْخُلُ عَلَى هَؤُلاَءِ الأُمَرَاءِ وَتَتَكَلَّمُ عِنْدَهُمْ بِمَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَتَكَلَّمَ بِهِ وَإِنِّي سَمِعْتُ بِلاَلَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللَّهِ مَا يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ فَيَكْتُبُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بِهَا رِضْوَانَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللَّهِ مَا يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ فَيَكْتُبُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ بِهَا سَخَطَهُ إِلَى يَوْمِ يَلْقَاهُ " . قَالَ عَلْقَمَةُ فَانْظُرْ وَيْحَكَ مَاذَا تَقُولُ وَمَاذَا تَكَلَّمُ بِهِ فَرُبَّ كَلاَمٍ - قَدْ - مَنَعَنِي أَنْ أَتَكَلَّمَ بِهِ مَا سَمِعْتُ مِنْ بِلاَلِ بْنِ الْحَارِثِ .
It was narrated that ‘Alqamah bin Waqqas said that a man passed by him, who held a prominent position, and ‘Alqamah said to him:“You have kinship and rights, and I see you entering upon these rulers and speaking to them as Allah wills you should speak. But i heard Bilal bin Harith Al-Muzani, the Companion of the Messenger of Allah (ﷺ), say that the Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘One of you may speak a word that pleases Allah, and not know how far it reaches, but Allah will record for him as pleasure, until the Day of Resurrection due to that word. And one of you may speak a word that angers Allah, and not know how far it reaches, but Allah will record against him his anger, until the Day he meets Him due to that word.” 'Alqamah said: "So look, woe to you, at what you say and what you speak about, for there is something that I wanted to say but I refrained because of what I heard from Bilal bin Harith
علقمہ بن وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کے سامنے سے ایک معزز شخص کا گزر ہوا، تو انہوں نے اس سے عرض کیا: آپ کا مجھ سے ( دہرا رشتہ ہے ) ایک تو قرابت کا، دوسرے مسلمان ہونے کا، میں آپ کو دیکھتا ہوں کہ آپ ان امراء کے پاس آتے جاتے اور ان سے حسب منشا باتیں کرتے ہیں، میں نے صحابی رسول بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایسی بات بولتا ہے جس سے اللہ خوش ہوتا ہے، اور اس کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس بات کا اثر کیا ہو گا، لیکن اس بات کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے حق میں قیامت تک کے لیے اپنی خوشنودی اور رضا مندی لکھ دیتا ہے، اور تم میں سے کوئی ایسی بات بولتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب ہوتی ہے، اور اس کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس کا کیا اثر ہو گا، لیکن اللہ تعالیٰ اس کے حق میں اپنی ناراضگی اس دن تک کے لیے لکھ دیتا ہے جس دن وہ اس سے ملے گا ۔ علقمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: دیکھو افسوس ہے تم پر! تم کیا کہتے اور کیا بولتے ہو، بلال بن حارث رضی اللہ عنہ کی حدیث نے بعض باتوں کے کہنے سے مجھے روک دیا ہے، خاموش ہو جاتا ہوں ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " إِنَّ اللَّهَ لاَ يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ وَلَكِنْ إِنَّمَا يَنْظُرُ إِلَى أَعْمَالِكُمْ وَقُلُوبِكُمْ " .
It was narrated that Abu Hurairah, who attributed it to the Prophet (ﷺ), said:“Allah does not look at your forms or your wealth, rather He looks at your deeds and your hearts.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے اعمال اور دلوں کو دیکھتا ہے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ صَلاَةَ الصُّبْحِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَوَعَظَنَا مَوْعِظَةً بَلِيغَةً . فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
It was narrated from 'Irbad bin Sariyah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) led us in Fajr (morning) prayer, then he turned to us and delivered an eloquent speech". And he mentioned something similar (as no)
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز فجر پڑھائی، پھر ہماری جانب متوجہ ہوئے، اور ہمیں ایک مؤثر نصیحت کی، پھر راوی نے سابقہ حدیث جیسی حدیث ذکر کی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيُّ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْمُوَفَّقِ أَبُو الْجَهْمِ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَنْ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ إِلَى الصَّلاَةِ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِحَقِّ السَّائِلِينَ عَلَيْكَ وَأَسْأَلُكَ بِحَقِّ مَمْشَاىَ هَذَا فَإِنِّي لَمْ أَخْرُجْ أَشَرًا وَلاَ بَطَرًا وَلاَ رِيَاءً وَلاَ سُمْعَةً وَخَرَجْتُ اتِّقَاءَ سُخْطِكَ وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِكَ فَأَسْأَلُكَ أَنْ تُعِيذَنِي مِنَ النَّارِ وَأَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي إِنَّهُ لاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ - أَقْبَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ وَاسْتَغْفَرَ لَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ " .
It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri said:"The Messenger of Allah said: 'Whoever leaves his house for the prayer and says: 'Allahumma inni asa'luka bi-haqqis-sa'ilina 'alaika, wa as'aluka bi-haqqi mamshaya hadha, fa inni lam akhruj asharan wa la batran, wa la riya'an, wa la sum'atan, wa kharajtu-ttiqa'a sukhtika wabtigha'a mardatika, fa as'aluka an tu'idhani minan-nari wa an taghfira li dhunubi, Innahu la yaghfirudh-dhunuba illa Anta. (O Allah, I ask You by the right that those who ask of You have over You, and I ask by virtue of this walking of mine, for I am not going out because of pride or vanity, or to show off or make a reputation, rather I am going out because I fear Your wrath and seek Your pleasure. So I ask You to protect me from the Fire and to forgive me my sins, for no one can forgive sins except You),' Allah will turn His Face towards him and seventy thousand angels will pray for his forgiveness
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے گھر سے نماز کے لیے نکلے اور یہ دعا پڑھے: «اللهم إني أسألك بحق السائلين عليك وأسألك بحق ممشاي هذا فإني لم أخرج أشرا ولا بطرا ولا رياء ولا سمعة وخرجت اتقاء سخطك وابتغاء مرضاتك فأسألك أن تعيذني من النار وأن تغفر لي ذنوبي إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت» اے اللہ! میں تجھ سے اس حق ۱؎ کی وجہ سے مانگتا ہوں جو مانگنے والوں کا تجھ پر ہے، اور اپنے اس چلنے کے حق کی وجہ سے، کیونکہ میں غرور، تکبر، ریا اور شہرت کی نیت سے نہیں نکلا، بلکہ تیرے غصے سے بچنے اور تیری رضا چاہنے کے لیے نکلا، میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے جہنم سے پناہ دیدے، اور میرے گناہوں کو معاف کر دے، اس لیے کہ گناہوں کو تیرے علاوہ کوئی نہیں معاف کر سکتا تو اللہ تعالیٰ اس کی جانب متوجہ ہو گا، اور ستر ہزار فرشتے اس کے لیے دعائے مغفرت کریں گے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا وَإِذَا قَالَ {غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ} فَقُولُوا آمِينَ وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ . فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعِينَ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The Imam has been appointed to be followed, so when he says Allahu Akbar, then say Allahu Akbar, when he recites, then listen attentively; when he says: Not (the way) of those who earned Your anger, nor of those who went astray,[1:7] then say Amin; when he bows then bow; when he says Sami’ Allahu liman hamidah (Allah hears those who praise Him), then say Allahumma Rabbana wa lakal-hamd (O Allah, our Lord, to You is the praise);” when he prostrates then prostrate; and if he prays sitting down then all of you pray sitting down.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امام اس لیے ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، لہٰذا جب وہ «ألله أكبر» کہے تو تم بھی«ألله أكبر» کہو، اور جب قراءت کرے تو خاموشی سے اس کو سنو ۱؎، اور «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہے تو آمین کہو، اور جب رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب «سمع الله لمن حمده» کہے تو «اللهم ربنا ولك الحمد» کہو، اور جب سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو، اور جب بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم سب بھی بیٹھ کر پڑھو ۲؎۔