حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَمُرَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا أَبُو شَيْبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ لَمَّا قُبِضَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ تُدْرِجُوهُ فِي أَكْفَانِهِ حَتَّى أَنْظُرَ إِلَيْهِ " . فَأَتَاهُ فَانْكَبَّ عَلَيْهِ وَبَكَى .
It was narrated that Anas bin Malik said:“When Ibrahim the son of the Prophet (ﷺ) died, the Prophet (ﷺ) said to them: ‘Do not wrap him in his shroud until I look at him.’ He came to him, bent over and wept.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کا انتقال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: انہیں کفن میں داخل نہ کرنا جب تک کہ میں دیکھ نہ لوں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے، اور ان کے اوپر جھک کر روئے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، أَنْبَأَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو قِلاَبَةَ، أَنَّ أَبَا أَسْمَاءَ، حَدَّثَهُ عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ: " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ " .
It was narrated that Thawban said:“I heard the Prophet (ﷺ) say: ‘The cupper and the one for whom cupping is done both break their fast.’”
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: پچھنا لگانے والے، اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَمَرَ بِزَكَاةِ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَجَعَلَ النَّاسُ عِدْلَهُ مُدَّيْنِ مِنْ حِنْطَةٍ .
Ibn Umar narrated that:the Messenger of Allah enjoined Zakatul-Fitr, one Sa of dates or one Sa of barley.Abdullah said: The people made two Mudd (equal to half of a Sa) of wheat as its equivalent
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور اور جو سے ایک ایک صاع صدقہ فطر ادا کرنے کا حکم دیا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: پھر لوگوں نے دو مد گیہوں کو ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو کے برابر کر لیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، ح وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِيِّ، قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لاَ تُغَالُوا صَدَاقَ النِّسَاءِ فَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ مَكْرُمَةً فِي الدُّنْيَا أَوْ تَقْوًى عِنْدَ اللَّهِ كَانَ أَوْلاَكُمْ وَأَحَقَّكُمْ بِهَا مُحَمَّدٌ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مَا أَصْدَقَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ وَلاَ أُصْدِقَتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنَاتِهِ أَكْثَرَ مِنِ اثْنَتَىْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيُثَقِّلُ صَدَقَةَ امْرَأَتِهِ حَتَّى يَكُونَ لَهَا عَدَاوَةٌ فِي نَفْسِهِ وَيَقُولُ قَدْ كَلِفْتُ إِلَيْكِ عَلَقَ الْقِرْبَةِ أَوْ عَرَقَ الْقِرْبَةِ . وَكُنْتُ رَجُلاً عَرَبِيًّا مُوَلَّدًا مَا أَدْرِي مَا عَلَقُ الْقِرْبَةِ أَوْ عَرَقُ الْقِرْبَةِ .
It was narrated that:Abu Ajfa As-Sulami said: “Umar bin Khattab said: 'Do not go to extremes with regard to the dowries of women, for if that were a sign of honor and dignity in this world or a sign of Taqwa before Allah, then Muhammad (ﷺ) would have done that before you. But he did not give any of his wives and none of his daughters were given more than twelve uqiyyah. A man may increase dowry until he feels resentment against her and says: “You cost me everything I own,” or, “You caused me a great deal of hardship.”'” (Hassan)
ابوعجفاء سلمی کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: عورتوں کے مہر مہنگے نہ کرو، اس لیے کہ اگر یہ دنیا میں عزت کی بات ہوتی یا اللہ تعالیٰ کے یہاں تقویٰ کی چیز ہوتی تو اس کے زیادہ حقدار محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں اور بیٹیوں میں سے کسی کا مہر بارہ اوقیہ سے زیادہ مقرر نہیں فرمایا، اور مرد اپنی بیوی کے بھاری مہر سے بوجھل رہتا ہے یہاں تک کہ وہ مہر اس کے دل میں بیوی سے دشمنی کا سبب بن جاتا ہے، وہ کہتا ہے کہ میں نے تیرے لیے تکلیف اٹھائی یہاں تک کہ مشک کی رسی بھی اٹھائی، یا مجھے مشک کے پانی کی طرح پسینہ آیا۔ ابوعجفاء کہتے ہیں: میں پیدائش کے اعتبار سے عربی تھا ۱؎، عمر رضی اللہ عنہ نے جو لفظ«علق القربۃ» یا «عرق القربۃ» کہا: میں اسے نہیں سمجھ سکا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَلَمَةَ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنِي عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ، قَالَ قُلْتُ لَهَا حَدِّثِينِي حَدِيثَكِ، . قَالَتِ اخْتَلَعْتُ مِنْ زَوْجِي ثُمَّ جِئْتُ عُثْمَانَ . فَسَأَلْتُ مَاذَا عَلَىَّ مِنَ الْعِدَّةِ فَقَالَ لاَ عِدَّةَ عَلَيْكِ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِكِ فَتَمْكُثِينَ عِنْدَهُ حَتَّى تَحِيضِينَ حَيْضَةً . قَالَتْ وَإِنَّمَا تَبِعَ فِي ذَلِكَ قَضَاءَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي مَرْيَمَ الْمَغَالِيَّةِ . وَكَانَتْ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ فَاخْتَلَعَتْ مِنْهُ .
It was narrated from 'Ubadah bin Samit from Rubai' bint Mu'awwidh bin 'Afra'.:He said: "I said to her: 'Tell me your Hadith.' She said: 'I got Khul' from my husband, then I came to 'Uthman and asked him: "What waiting period do I have to observe?" He said: "You do not have to observe any waiting period, unless you had intercourse with him recently, in which case you should stay with him until you have menstruated." In that he was following the ruling of the Messenger of Allah (ﷺ) concerning Maryam Maghaliyyah, who was married to Thabit bin Qais and she got Khul' from him
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا سے کہا: تم مجھ سے اپنا واقعہ بیان کرو، انہوں نے کہا: میں نے اپنے شوہر سے خلع کرا لیا، پھر میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر پوچھا: مجھ پر کتنی عدت ہے؟ انہوں نے کہا: تم پر کوئی عدت نہیں مگر یہ کہ تمہارے شوہر نے حال ہی میں تم سے صحبت کی ہو، تو تم اس کے پاس رکی رہو یہاں تک کہ تمہیں ایک حیض آ جائے، ربیع رضی اللہ عنہا نے کہا: عثمان رضی اللہ عنہ نے اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کی پیروی کی، جو آپ نے بنی مغالہ کی خاتون مریم رضی اللہ عنہا کے سلسلے میں کیا تھا، جو ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں تھیں اور ان سے خلع کر لیا تھا ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، اسْتَفْتَى رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ تُوُفِّيَتْ وَلَمْ تَقْضِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " اقْضِهِ عَنْهَا " .
It was narrated from Ibn 'Abbas' that :Sa'd bin 'Ubadah asked the Messenger of Allah (ﷺ) about a vow which his mother had made, but she had died without fulfilling it. The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Fulfill it on her behalf
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ پوچھا کہ میری ماں کے ذمہ ایک نذر تھی وہ مر گئیں، اور اس کو ادا نہ کر سکیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان کی جانب سے اسے پوری کر دو ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنْ تَلَقِّي الْجَلَبِ .
It was narrated that Ibn 'Umar said:"The Messenger of Allah (ﷺ) forbade meeting traders on the way
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باہر سے آنے والے سامان تجارت کو بازار میں پہنچنے سے پہلے آگے جا کر خرید لینے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ قُرَيْشًا، أَتَوُا امْرَأَةً كَاهِنَةً فَقَالُوا لَهَا أَخْبِرِينَا أَشْبَهَنَا أَثَرًا بِصَاحِبِ الْمَقَامِ . فَقَالَتْ إِنْ أَنْتُمْ جَرَرْتُمْ كِسَاءً عَلَى هَذِهِ السِّهْلَةِ ثُمَّ مَشَيْتُمْ عَلَيْهَا أَنْبَأْتُكُمْ . قَالَ فَجَرُّوا كِسَاءً ثُمَّ مَشَى النَّاسُ عَلَيْهَا فَأَبْصَرَتْ أَثَرَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَقَالَتْ هَذَا أَقْرَبُكُمْ إِلَيْهِ شَبَهًا . ثُمَّ مَكَثُوا بَعْدَ ذَلِكَ عِشْرِينَ سَنَةً أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ بَعَثَ اللَّهُ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم .
It was narrated from Ibn 'Abbas that :the Quraish went to a sorceress and they said to her: “Tell us whose footprints most resemble those of the owner of Al-Maqam (the station of Ibrahim).” She said: “If you spread a piece of cloth over this soft earth and walk over it, I will tell you.” So they spread out a piece of cloth and the people walked over it. She saw the footprints of the Messenger of Allah (ﷺ) and said: “This one most closely resembles him among you.” After that twenty years passed, of as long as Allah willed, then Allah sent Muhammad (ﷺ) (i.e., missioned him as the Prophet)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قریش کے لوگوں نے ایک کاہنہ کے پاس آ کرکہا: ہمیں بتاؤ کہ ہم میں سے کون مقام ابراہیم کے صاحب ( ابراہیم علیہ السلام ) سے زیادہ مشابہ ہے؟، وہ بولی: اگر تم ایک کمبل لے کر اسے اس نرم اور ہموار زمین پر گھسیٹو پھر اس پر چلو تو میں بتاؤں، ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے کمبل کو زمین پر پھیرا ( تاکہ زمین کے نشانات مٹ جائیں ) پھر لوگ اس پر چلے، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کے نشانات دیکھے، تو بولی: یہ شخص تم میں سب سے زیادہ ان کے مشابہ ہے، پھر اس واقعہ پر بیس سال یا جتنا اللہ تعالیٰ نے چاہا گزرے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت عطا کی
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي عُتْبَةُ بْنُ حُمَيْدٍ الضَّبِّيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ الْهُنَائِيِّ، قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ الرَّجُلُ مِنَّا يُقْرِضُ أَخَاهُ الْمَالَ فَيُهْدِي لَهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا أَقْرَضَ أَحَدُكُمْ قَرْضًا فَأَهْدَى لَهُ أَوْ حَمَلَهُ عَلَى الدَّابَّةِ فَلاَ يَرْكَبْهَا وَلاَ يَقْبَلْهُ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ جَرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ قَبْلَ ذَلِكَ " .
It was narrated that Yahya bin Abu Ishaq Al-Huna'i said:“I asked Anas bin Malik: 'What if a man gives his brother a loan, then (the borrower) give him a gift?’ The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘If anyone of you borrow something then he gives (the lender) a gift or gives him a ride on his riding-beast, he should not accept the gift or the ride, unless they used to treat each other in that manner beforehand.'”
یحییٰ بن ابی اسحاق ہنائی کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ہم میں سے ایک شخص اپنے مسلمان بھائی کو مال قرض دیتا ہے، پھر قرض لینے والا اس کو تحفہ بھیجتا ہے تو یہ عمل کیسا ہے؟ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: تم میں سے جب کوئی کسی کو قرض دے، پھر وہ اس کو تحفہ دے یا اسے اپنے جانور پر سوار کرے، تو وہ سوار نہ ہو اور نہ تحفہ قبول کرے، ہاں، اگر ان کے درمیان پہلے سے ایسا ہوتا رہا ہو تو ٹھیک ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَمْنَعْ أَحَدُكُمْ فَضْلَ مَاءٍ لِيَمْنَعَ بِهِ الْكَلأَ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:“No one of you should withhold surplus water from common pastureland.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ضرورت سے زائد پانی اس مقصد سے نہ روکے کہ وہاں کی گھاس بھی روکے رکھے ۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ وَحَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ وَحَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، وَمُوسَى بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلاَحَ فَلَيْسَ مِنَّا " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever bears weapons against us is not one of us.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو ہم مسلمانوں پر ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلاً، عَضَّ رَجُلاً عَلَى ذِرَاعِهِ فَنَزَعَ يَدَهُ فَوَقَعَتْ ثَنِيَّتُهُ فَرُفِعَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَبْطَلَهَا . وَقَالَ " يَقْضَمُ أَحَدُكُمْ كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ " .
It was narrated from 'Imran bin Husain that a :man bit another man on his forearm; he pulled away his arm away and the man’s tooth fell out. The matter was referred to Prophet (ﷺ) who invalidated it and said: 'Would one of you bite (another) like a stallion?'”
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے دوسرے کے بازو کو کاٹا، اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کا سامنے کا دانت گر گیا، مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو باطل قرار دیا، اور فرمایا: تم میں سے ایک ( دوسرے کے ہاتھ کو ) ایسے چباتا ہے جیسے اونٹ ۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ، وَأَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ مَجْرُوحٍ يُجْرَحُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ - وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُجْرَحُ فِي سَبِيلِهِ - إِلاَّ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَجُرْحُهُ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ جُرِحَ وَاللَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ وَالرِّيحُ رِيحُ مِسْكٍ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“There is no one who is wounded in the cause of Allah – and Allah knows best of who is wounded in His cause – but he will come on the Day of Resurrection with his wounds looking as they did on the day he was wounded; their color will be the color of blood but their smell will be the fragrance of musk.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے راستے میں زخمی ہونے والا شخص ( اور اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کے راستے میں کون زخمی ہو رہا ہے ) قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا زخم بالکل اسی دن کی طرح تازہ ہو گا جس دن وہ زخمی ہوا تھا، رنگ تو خون ہی کا ہو گا، لیکن خوشبو مشک کی سی ہو گی۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، وَيَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَرْبُوعٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ سُئِلَ أَىُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ " الْعَجُّ وَالثَّجُّ " .
It was narrated from Abu Bakr As-Siddiq that the Messenger of Allah (ﷺ) was asked:“Which actions are best?” He said: “Raising one’s voice and slaughtering the sacrificial animal.”
ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: سب سے بہتر عمل کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «عج» اور«ثج» ، یعنی باآواز بلند تلبیہ پکارنا، اور خون بہانا ( یعنی قربانی کرنا ) ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ يَبُولَ قَائِمًا . سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَزِيدَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيَّ يَقُولُ قَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ - فِي حَدِيثِ عَائِشَةَ أَنَا رَأَيْتُهُ يَبُولُ قَاعِدًا - قَالَ الرَّجُلُ أَعْلَمُ بِهَذَا مِنْهَا . قَالَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَانَ مِنْ شَأْنِ الْعَرَبِ الْبَوْلُ قَائِمًا أَلاَ تَرَاهُ فِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ يَقُولُ قَعَدَ يَبُولُ كَمَا تَبُولُ الْمَرْأَةُ .
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said:"The Messenger of Allah forbade us to urinate while standing." (Da'if) I heard Muhammed bin Yazid, Abu 'Abdullah, say: "I heard Ahmad bin 'Abdur-Rahman Al-Makhzumi say: 'Sufyan Ath-Thawri said concerning the Hadith of 'Aisha- 'I (always) saw him urinating whilst sitting down' - a man knows more about that (about such matters) than she.' Ahmad bin 'Abdur-Rahman said: 'It was the custom of the Arabs to urinate standing up. Do you not see that in the Hadith of 'Abdur-Rahman bin Hasanah it was said: 'He sits down to urinate as a woman does
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کرنے سے منع فرمایا ۱؎۔ ابوالحسن القطان کہتے ہیں: میں نے ابوعبداللہ محمد بن یزید ( یعنی: ابن ماجہ ) سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے احمد بن عبدالرحمٰن مخزومی سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ سفیان ثوری نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث: «أنا رأيته يبول قاعدا» کے بارے میں کہا کہ: مرد اس بات کو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ جانتے ہیں، ( احمد بن عبدالرحمٰن مخزومی کی سفیان ثوری سے ملاقات نہیں ) ۔ احمد بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں: عربوں کی عادت کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی تھی، کیا تم اسے عبدالرحمٰن بن حسنہ کی حدیث میں دیکھتے نہیں ہو؟ اس میں ہے: دیکھو! وہ عورتوں کی طرح بیٹھ کر پیشاب کرتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ أُحَرِّمُ " . يَعْنِي الضَّبَّ .
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“I do not forbid it,” meaning mastigure
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں حرام نہیں کرتا یعنی ضب ( گوہ ) کو ۱؎۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْجُبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَحْرٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَكَلَ عَلَى خِوَانٍ حَتَّى مَاتَ .
It was narrated that Anas said:“I never saw the Messenger of Allah (ﷺ) eat from a dish until he died.”
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کبھی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دستر خوان پر کھاتے نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ کا انتقال ہو گیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " إِنَّ الَّذِي يَشْرَبُ فِي إِنَاءِ الْفِضَّةِ إِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ " .
It was narrated from Umm Salamah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The one who drinks from a silver vessel is swallowing Hell-fire into his belly.”
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص چاندی کے برتن میں پیتا ہے، وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ غٹ غٹ اتارتا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " نِعْمَ الْعَبْدُ الْحَجَّامُ يَذْهَبُ بِالدَّمِ وَيُخِفُّ الصُّلْبَ وَيَجْلُو الْبَصَرَ " .
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘What a good slave is the cupper. He takes away the blood, reduces pressure on the spine, and improves the eyesight.’”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچھنا لگانے والا بہت بہتر شخص ہے کہ وہ خون نکال دیتا ہے، کمر کو ہلکا اور نگاہ کو تیز کرتا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، . أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، نَبَّأَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَخَّصَ لِلزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ وَلِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فِي قَمِيصَيْنِ مِنْ حَرِيرٍ مِنْ وَجَعٍ كَانَ بِهِمَا حِكَّةٍ .
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) granted a concession to Zubair bin ‘Awwam and ‘Abdur-Rahman bin ‘Auf, allowing them to wear silk shirts, because of a rash they were suffering from
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر بن عوام اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما کو اس تکلیف کی وجہ سے جو انہیں کھجلی کی وجہ سے تھی، ریشم کے کرتے پہننے کی اجازت دی۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُهَنِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنِّي رَاكِبٌ غَدًا إِلَى الْيَهُودِ فَلاَ تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلاَمِ فَإِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ " .
It was narrated from Abu 'Abdur-Rahman Al Juhani that the Messenger of Allah(ﷺ) said:"I am riding to the Jews tomorrow. Do not initiate the greeting with them, and if they greet you, then say: Wa 'alaikum (and also upon you)
ابوعبدالرحمٰن جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کل سوار ہو کر یہودیوں کے پاس جاؤں گا، تو تم خود انہیں پہلے سلام نہ کرنا، اور جب وہ تمہیں سلام کریں تو تم جواب میں «وعليكم» کہو ( یعنی تم پر بھی تمہاری نیت کے مطابق ) ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " مَا مِنْ عَبْدٍ يَقُولُ فِي صَبَاحِ كُلِّ يَوْمٍ وَمَسَاءِ كَلِّ لَيْلَةٍ بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لاَ يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَىْءٌ فِي الأَرْضِ وَلاَ فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ - فَيَضُرَّهُ شَىْءٌ " . قَالَ وَكَانَ أَبَانُ قَدْ أَصَابَهُ طَرَفٌ مِنَ الْفَالِجِ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَنْظُرُ إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُ أَبَانُ مَا تَنْظُرُ إِلَىَّ أَمَا إِنَّ الْحَدِيثَ كَمَا قَدْ حَدَّثْتُكَ وَلَكِنِّي لَمْ أَقُلْهُ يَوْمَئِذٍ لِيُمْضِيَ اللَّهُ عَلَىَّ قَدَرَهُ .
Uthman bin 'Affan said:"I heard the Messenger of Allah (saas) say: "There is no person who says, in the morning and evening of every day: Bismillahil-ladhi la yadurru ma'a ismihi shay'un fil-ardi wa la fis-sama'i wa Huwas-Sami'ul-'Alim (In the name of Allah with Whose Name nothing on earth or in heaven harms, and He is the All-Seeing, All-Knowing), three times, and is then harmed by anything.'" (Hasan)He (one of the narrators) said: "Aban had been stricken with paralysis on one side of his body, and a man started looking at him. Aban said: 'Why are you looking at me? The Hadith is as I have narrated it to you, but I did not say it that day, so that the decree of Allah might be implemented
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو کوئی بندہ ہر دن صبح اور شام تین بار یہ کہے: «بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الأرض ولا في السماء وهو السميع العليم» اس اللہ کے نام سے جس کے نام لینے سے زمین اور آسمان کی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی ہے، وہ سمیع و علیم ( یعنی سننے اور جاننے والا ہے ) تو اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی ۔ راوی کہتے ہیں: ابان کچھ فالج سے متاثر ہو گئے تو وہ شخص انہیں دیکھنے لگا، ابان نے اس سے کہا: مجھے کیا دیکھتے ہو؟ سنو! حدیث ویسے ہی ہے جیسے میں نے تم سے بیان کی، لیکن میں اس دن یہ دعا نہیں پڑھ سکا تھا تاکہ اللہ تعالیٰ اپنی تقدیر مجھ پر نافذ کر دے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِيَّاكُمْ وَالْفِتَنَ فَإِنَّ اللِّسَانَ فِيهَا مِثْلُ وَقْعِ السَّيْفِ " .
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Beware of tribulations, for at that time the tongue will be like the blow of a sword.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم فتنوں سے بچے رہنا کیونکہ اس میں زبان ہلانا تلوار چلانے کے برابر ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " انْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَلاَ تَنْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَكُمْ فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ لاَ تَزْدَرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ " . قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ " عَلَيْكُمْ " .
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Look at those who are beneath you and do not look at those who are above you, for it is more suitable that you should not consider as less the blessing of Allah.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو دیکھو جو تم سے کم تر ہو، اس کو مت دیکھو جو تم سے برتر ہو، اس طرح امید ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی نعمت کو حقیر نہ جانو گے ۔ ابومعاویہ نے «فوقكم» کی جگہ «عليكم» کا لفظ استعمال کیا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَنْصُورٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ السَّوَّاقُ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو السَّلَمِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ الْعِرْبَاضَ بْنَ سَارِيَةَ، يَقُولُ وَعَظَنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مَوْعِظَةً ذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ وَوَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذِهِ لَمَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ فَمَاذَا تَعْهَدُ إِلَيْنَا قَالَ " قَدْ تَرَكْتُكُمْ عَلَى الْبَيْضَاءِ لَيْلُهَا كَنَهَارِهَا لاَ يَزِيغُ عَنْهَا بَعْدِي إِلاَّ هَالِكٌ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ فَسَيَرَى اخْتِلاَفًا كَثِيرًا فَعَلَيْكُمْ بِمَا عَرَفْتُمْ مِنْ سُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ وَعَلَيْكُمْ بِالطَّاعَةِ وَإِنْ عَبْدًا حَبَشِيًّا فَإِنَّمَا الْمُؤْمِنُ كَالْجَمَلِ الأَنِفِ حَيْثُمَا قِيدَ انْقَادَ " .
It was narrated from 'Abdur-Rahman bin 'Amr As-Sulami that:He heard Al-'Irbad bin Sariyah say: "The Messenger of Allah (ﷺ) delivered a moving speech to us which made our eyes flow with tears and made our hearts melt. We said: 'O Messenger of Allah. This is a speech of farewell. What did you enjoin upon us?' He said: 'I am leaving you upon a (path of) brightness whose night is like its day. No one will deviate from it after I am gone but one who is doomed. Whoever among you lives will see great conflict. I urge you to adhere to what you know of my Sunnah and the path of the Rightly-Guided Caliphs, and cling stubbornly to it. And you must obey, even if (your leader is) an Abyssinian leader. For the true believer is like a camel with a ring in its nose; wherever it is driven, it complies
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسی نصیحت فرمائی جس سے ہماری آنکھیں ڈبدبا گئیں، اور دل لرز گئے، ہم نے کہا: اللہ کے رسول! یہ تو رخصت ہونے والے کی نصیحت معلوم ہوتی ہے، تو آپ ہمیں کیا نصیحت کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تم کو ایک ایسے صاف اور روشن راستہ پر چھوڑا ہے جس کی رات بھی دن کی طرح روشن ہے، اس راستہ سے میرے بعد صرف ہلاک ہونے والا ہی انحراف کرے گا، تم میں سے جو شخص میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت سارے اختلافات دیکھے گا، لہٰذا میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین ۱؎ کی سنت سے جو کچھ تمہیں معلوم ہے اس کی پابندی کرنا، اس کو اپنے دانتوں سے مضبوطی سے تھامے رکھنا، اور امیر کی اطاعت کرنا، چاہے وہ کوئی حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، اس لیے کہ مومن نکیل لگے ہوئے اونٹ کی طرح ہے، جدھر اسے لے جایا جائے ادھر ہی چل پڑتا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيِّ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَلْقَى اللَّهَ غَدًا مُسْلِمًا فَلْيُحَافِظْ عَلَى هَؤُلاَءِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ فَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى وَإِنَّ اللَّهَ شَرَعَ لِنَبِيِّكُمْ ـ صلى الله عليه وسلم ـ سُنَنَ الْهُدَى وَلَعَمْرِي لَوْ أَنَّ كُلَّكُمْ صَلَّى فِي بَيْتِهِ لَتَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ لَضَلَلْتُمْ وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلاَّ مُنَافِقٌ مَعْلُومُ النِّفَاقِ وَلَقَدْ رَأَيْتُ الرَّجُلَ يُهَادَى بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ حَتَّى يَدْخُلَ فِي الصَّفِّ وَمَا مِنْ رَجُلٍ يَتَطَهَّرُ فَيُحْسِنُ الطُّهُورَ فَيَعْمِدُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَيُصَلِّي فِيهِ فَمَا يَخْطُو خَطْوَةً إِلاَّ رَفَعَ اللَّهُ لَهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً .
It was narrated that 'Abdullah said:"Whoever would like to meet Allah tomorrow (i.e. on the Day of Judgment) as a Muslim, let him preserve these five (daily) prayer when the call for them is given, for they are part of the ways of guidance, and Allah prescribed the ways of guidance to your Prophet. By Allah, if each of you prays in his house, you will have abandoned the Sunnah of your Prophet, and if you abandon the Sunnah of your Prophet you will go astray. I remember when no one stayed behind from the prayer except a hypocrite who was known for his hypocrisy. I have a man coming supported by two others, until he joined the row (of worshippers). There is no man who purifies himself and does it well, and comes to the mosque and prays there, but for every step that he takes, Allah raises him in status one degree thereby, and takes away one of his sins
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو خوشی ہو کہ وہ کل اللہ تعالیٰ سے اسلام کی حالت میں ملاقات کرے تو جب اور جہاں اذان دی جائے ان پانچوں نمازوں کی پابندی کرے، کیونکہ یہ ہدایت کی راہیں ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کے لیے ہدایت کے راستے مقرر کئے ہیں، قسم ہے اگر تم میں سے ہر ایک اپنے گھر میں نماز پڑھ لے، تو تم نے اپنے نبی کا راستہ چھوڑ دیا، اور جب تم نے اپنے نبی کا راستہ چھوڑ دیا تو گمراہ ہو گئے، ہم یقینی طور پر دیکھتے تھے کہ نماز سے پیچھے صرف وہی رہتا جو کھلا منافق ہوتا، اور واقعی طور پر ( عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ) ایک شخص دو آدمیوں پر ٹیک دے کر مسجد میں لایا جاتا، اور وہ صف میں شامل ہوتا، اور جو شخص اچھی طرح وضو کرے اور مسجد کا ارادہ کر کے نکلے، پھر اس حالت میں نماز پڑھے، تو وہ جو قدم بھی چلے گا ہر قدم پر اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند فرمائے گا، اور ایک گناہ مٹا دے گا ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خِدَاشٍ، وَعَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِشْكَابَ، قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ قَالَ سَمُرَةُ حَفِظْتُ سَكْتَتَيْنِ فِي الصَّلاَةِ سَكْتَةً قَبْلَ الْقِرَاءَةِ وَسَكْتَةً عِنْدَ الرُّكُوعِ . فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ عِمْرَانُ بْنُ الْحُصَيْنِ فَكَتَبُوا إِلَى الْمَدِينَةِ إِلَى أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ فَصَدَّقَ سَمُرَةَ .
Samurah said:“I memorized two pauses in the prayer, a pause before reciting and a pause when bowing. ‘Imran bin Husain denied that, so they wrote to Al-Madinah, to Ubayy bin Ka’b, and he said that Samurah was speaking the truth.”
حسن بصری کہتے ہیں کہ سمرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے نماز میں دو سکتے یاد کئے، ایک سکتہ قراءت سے پہلے اور ایک سکتہ رکوع کے وقت، اس پر عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے ان کا انکار کیا تو لوگوں نے مدینہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو لکھا تو انہوں نے سمرہ رضی اللہ عنہ کی تصدیق کی۔