حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا وَلِيَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُحْسِنْ كَفَنَهُ " .
It was narrated from Abu Qatadah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“If anyone of you is charged with taking care of his brother (after death), let him shroud him well.”
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی تجہیز و تکفین کا ذمہ دار ہو، تو اسے اچھا کفن دے ۔
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقِّيُّ، وَدَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بِشْرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:‘The cupper and the one for whom cupping is done both break their fast.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچھنا لگانے والے، اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهُ أَخَذَ مِنَ الْعَسَلِ الْعُشْرَ .
Abdullah bin 'Amr narrated that:the Prophet took one-tenth of honey (as Zakat)
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہد سے دسواں حصہ زکاۃ لی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَمْ كَانَ صَدَاقُ نِسَاءِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَتْ كَانَ صَدَاقُهُ فِي أَزْوَاجِهِ اثْنَتَىْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً وَنَشًّا هَلْ تَدْرِي مَا النَّشُّ هُوَ نِصْفُ أُوقِيَّةٍ وَذَلِكَ خَمْسُمِائَةِ دِرْهَمٍ .
It was narrated that:Abu Salamah said: “I asked Aishah: 'How much was the dowry of the wives of the Prophet?' She said: 'The dowry he gave to his wives was twelve Uqiyyah and a Nash (of silver). Do you know what a Nash is? It is one half of an Uqiyyah. And that is equal to to five hundred Dirham.' ”
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کا مہر کیا تھا؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کا مہر بارہ اوقیہ اور ایک نش تھا، تم جانتے ہو نش کیا ہے؟ یہ آدھا اوقیہ ہے، یہ کل پانچ سو درہم ہوئے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ كَانَتْ حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ وَكَانَ رَجُلاً دَمِيمًا . فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَوْلاَ مَخَافَةُ اللَّهِ إِذَا دَخَلَ عَلَىَّ لَبَصَقْتُ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ " . قَالَتْ نَعَمْ . قَالَ فَرَدَّتْ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ . قَالَ فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ .
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, that his grandfather said:"Habibah bint Sahl was married to Thabit bin Qais bin Shammas, who was an ugly man. She said: 'O Messenger of Allah, (ﷺ) by Allah, were it not for fear of Allah when he enters upon me I would spit in his face.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Will you give him back his garden?' She :said: 'Yes.' So she gave him back his garden and the Messenger of Allah (ﷺ) separated them
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہما کے نکاح میں تھیں، وہ ناٹے اور بدصورت آدمی تھے، حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! اگر اللہ کا ڈر نہ ہوتا تو ثابت جب میرے پاس آئے تو میں ان کے منہ پر تھوک دیتی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ان کا باغ واپس لوٹا دو گی ؟ کہا: ہاں، اور ان کا باغ انہیں واپس دے دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان جدائی کرا دی۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّائِفِيِّ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ كَرْدَمٍ الْيَسَارِيَّةِ، أَنَّ أَبَاهَا، لَقِيَ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَهِيَ رَدِيفَةٌ لَهُ فَقَالَ إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ بِبُوَانَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " هَلْ بِهَا وَثَنٌ " . قَالَ لاَ . قَالَ " أَوْفِ بِنَذْرِكَ " . حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ دُكَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ كَرْدَمٍ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِنَحْوِهِ .
It was narrated from Maimunah bint Kardam Al-Yasariyyah that :her father met the Prophet (ﷺ) when she was riding behind him. He said: "I vowed to offer a sacrifice at Buwanah." The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Is there any idol there?" He said: "No." He said: " Fulfill your vow." (Hasan)Another chain with similar wording
میمونہ بنت کردم یساریہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی، وہ اس وقت اپنے والد کے پیچھے ایک اونٹ پر بیٹھی تھیں، والد نے کہا: میں نے مقام بوانہ میں اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہاں کوئی بت ہے ؟ کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی نذر پوری کرو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " لاَ تَلَقَّوُا الأَجْلاَبَ فَمَنْ تَلَقَّى مِنْهُ شَيْئًا فَاشْتَرَى فَصَاحِبُهُ بِالْخِيَارِ إِذَا أَتَى السُّوقَ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:"Do not meet the traders on the way, and whoever meets any of them and buys from him, the vendor has the choice of annulling the transaction when he comes to the marketplace
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: باہر سے آنے والے سامان تجارت کو بازار میں پہنچنے سے پہلے نہ لیا کرو، اگر کوئی اس طرح خریداری کر لے، تو بازار میں آنے کے بعد صاحب مال کو اختیار ہو گا، چاہے تو اس بیع کو باقی رکھے اور چاہے تو فسخ ( منسوخ ) کر دے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ مَسْرُورًا وَهُوَ يَقُولُ " يَا عَائِشَةُ أَلَمْ تَرَىْ أَنَّ مُجَزِّزًا الْمُدْلِجِيَّ دَخَلَ عَلَىَّ فَرَأَى أُسَامَةَ وَزَيْدًا عَلَيْهِمَا قَطِيفَةٌ قَدْ غَطَّيَا رُءُوسَهُمَا وَقَدْ بَدَتْ أَقْدَامُهُمَا فَقَالَ " إِنَّ هَذِهِ الأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ " .
It was narrated that 'Aishah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) came in one day looking happy, and said: 'O 'Aishah, did you not see that Mujazziz Al-Mudliji entered upon me and saw Usamah and Zaid. There was a blanket over them and their faces were covered but their feet were exposed, and he said: 'These feet belong to one another'.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس خوش خوش تشریف لائے، آپ فرما رہے تھے: عائشہ! کیا تم نے دیکھا نہیں کہ مجزز مدلجی میرے پاس آیا، اس نے اسامہ اور زید بن حارثہ کو ایک چادر میں سویا ہوا دیکھا، وہ دونوں اپنے سر چھپائے ہوئے تھے، اور دونوں کے پیر کھلے تھے، تو کہا: یہ پاؤں ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، وَحَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ مَكْتُوبًا الصَّدَقَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَالْقَرْضُ بِثَمَانِيَةَ عَشَرَ . فَقُلْتُ يَا جِبْرِيلُ مَا بَالُ الْقَرْضِ أَفْضَلُ مِنَ الصَّدَقَةِ . قَالَ لأَنَّ السَّائِلَ يَسْأَلُ وَعِنْدَهُ وَالْمُسْتَقْرِضُ لاَ يَسْتَقْرِضُ إِلاَّ مِنْ حَاجَةٍ " .
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“On the night on which I was taken on the Night Journey (Isra), I saw written at the gate of Paradise: 'Charity brings a tenfold reward and a loan brings an eighteen fold reward.' I said: 'O Jibril! Why is a loan better than charity?' He said: 'Because the beggar asks when he has something, but the one who asks for loan does so only because he is in need.' ”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معراج کی رات میں نے جنت کے دروازے پر لکھا دیکھا کہ صدقہ کا ثواب دس گنا ہے، اور قرض کا اٹھارہ گنا، میں نے کہا: جبرائیل! کیا بات ہے؟ قرض صدقہ سے افضل کیسے ہے؟ تو کہا: اس لیے کہ سائل سوال کرتا ہے حالانکہ اس کے پاس کھانے کو ہوتا ہے، اور قرض لینے والا قرض اس وقت تک نہیں مانگتا جب تک اس کو واقعی ضرورت نہ ہو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، قَالَ كَانَ بَيْنَ أَبْيَاتِنَا رَجُلٌ مُخْدَجٌ ضَعِيفٌ فَلَمْ يُرَعْ إِلاَّ وَهُوَ عَلَى أَمَةٍ مِنْ إِمَاءِ الدَّارِ يَخْبُثُ بِهَا فَرَفَعَ شَأْنَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " اجْلِدُوهُ ضَرْبَ مِائَةِ سَوْطٍ " . قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ هُوَ أَضْعَفُ مِنْ ذَلِكَ لَوْ ضَرَبْنَاهُ مِائَةَ سَوْطٍ مَاتَ . قَالَ " فَخُذُوا لَهُ عِثْكَالاً فِيهِ مِائَةُ شِمْرَاخٍ فَاضْرِبُوهُ ضَرْبَةً وَاحِدَةً " . حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ .
It was narrated that Sa'eed bin Sa'd bin `Ubadah said:“There was a man living among our dwellings who had a physical defect, and to our astonishment he was seen with one of the slave women of the dwellings, committing illegal sex with her. Sa'd bin 'Ubadah referred his case to the Messenger of Allah (ﷺ), who said: 'Give him one hundred lashes.' They said: 'O Prophet (ﷺ) of Allah (ﷺ), he is too weak to bear that. If we give him one hundred lashes he will die.' He said: “Then take a branch with a hundred twigs and hit him once.” Another chain reports a similar hadith
سعید بن سعد بن عبادہ کہتے ہیں کہ ہمارے گھروں میں ایک ناقص الخلقت ( لولا لنگڑا ) اور ضعیف و ناتواں شخص تھا، اس سے کسی شر کا اندیشہ نہیں تھا، البتہ ( ایک بار ) وہ گھر کی لونڈیوں میں سے ایک لونڈی کے ساتھ زنا کر رہا تھا، سعد رضی اللہ عنہ اس کے معاملے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے سو کوڑے مارو ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! وہ اس سے کہیں زیادہ کمزور ہے، اگر ہم اسے سو کوڑے ماریں گے تو مر جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا کھجور کا ایک خوشہ لو جس میں سو شاخیں ہوں، اور اس سے ایک بار مار دو ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَمَّيْهِ، يَعْلَى وَسَلَمَةَ ابْنَىْ أُمَيَّةَ قَالاَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَمَعَنَا صَاحِبٌ لَنَا فَاقْتَتَلَ هُوَ وَرَجُلٌ آخَرُ وَنَحْنُ بِالطَّرِيقِ . قَالَ فَعَضَّ الرَّجُلُ يَدَ صَاحِبِهِ فَجَذَبَ صَاحِبُهُ يَدَهُ مِنْ فِيهِ فَطَرَحَ ثَنِيَّتَهُ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَلْتَمِسُ عَقْلَ ثَنِيَّتِهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ إِلَى أَخِيهِ فَيَعَضُّهُ كَعِضَاضِ الْفَحْلِ ثُمَّ يَأْتِي يَلْتَمِسُ الْعَقْلَ لاَ عَقْلَ لَهَا " . قَالَ فَأَبْطَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
It was narrated from Ya'la and Salamah the sons of Ummayah said:“We went out with the Messenger of Allah (ﷺ) on the military expedition of Tabuk, and with us was a friend of ours. He fought with another man while we were on the road. The man bit the hand on his opponent, who pulled away his hand and the man's tooth fell out. He came to Messenger of Allah (ﷺ) demanding compensatory money for his tooth, and the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Would anyone of you go and bite his brother like a stallion, then come demanding compensatory money? There is no compensatory for this.'” Hence, The Messenger of Allah (ﷺ) invalidated it (i.e compensatory in such case)
یعلیٰ بن امیہ اور سلمہ بن امیہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ تبوک میں نکلے، ہمارے ساتھ ہمارا ایک ساتھی تھا، وہ اور ایک دوسرا شخص دونوں آپس میں لڑ پڑے، جب کہ ہم لوگ راستے میں تھے، ان میں سے ایک نے دوسرے کا ہاتھ کاٹ لیا اور جب اس نے اپنا ہاتھ اس کے منہ سے کھینچا تو اس کے سامنے کے دانت گر گئے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اپنے دانت کی دیت مانگنے لگا، آپ صلیاللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( عجیب ماجرا ہے ) تم میں سے کوئی ایک اپنے ساتھی کے ہاتھ کو اونٹ کی طرح چبانا چاہتا ہے اور پھر دیت مانگتا ہے، اس کی کوئی دیت نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو باطل قرار دیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ قَالَ " مَنْ أُهْرِيقَ دَمُهُ وَعُقِرَ جَوَادُهُ " .
It was narrated that ‘Amr bin ‘Abasah said:“I came to the Prophet (ﷺ) and said: ‘O Messenger of Allah, which Jihad is best?’ He said: ‘(That of a man) whose blood is shed and his horse is wounded.’”
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول! کون سا جہاد افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس میں مجاہد کا خون بہا دیا جائے، اور جس کے گھوڑے کو بھی زخمی کر دیا جائے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، عَنْ خَلاَّدِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " جَاءَنِي جِبْرِيلُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ مُرْ أَصْحَابَكَ فَلْيَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالتَّلْبِيَةِ فَإِنَّهَا مِنْ شِعَارِ الْحَجِّ " .
It was narrated from Zaid bin Khalid Al-Juhani that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Jibril came to me and said: ‘O Muhammad! Tell your Companions to raise their voices when reciting the Talbiyah, for it is one of the symbols of Hajj.’”
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل آئے اور بولے: اے محمد! اپنے صحابہ سے کہو کہ وہ تلبیہ باآواز بلند پکاریں، اس لیے کہ یہ حج کا شعار ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَأَنَا أَبُولُ قَائِمًا فَقَالَ " يَا عُمَرُ لاَ تَبُلْ قَائِمًا " . فَمَا بُلْتُ قَائِمًا بَعْدُ .
It was narrated that 'Umar said:"The Messenger of Allah saw me urinating while standing, and he said: 'O 'Umar, do not urinate standing up.' So I never urinated whilst standing after that
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کھڑے ہو کر پیشاب کرتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر! کھڑے ہو کر پیشاب نہ کرو ۔ عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے کبھی بھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهُ كَانَ يَذْبَحُ بِالْمُصَلَّى .
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Prophet (ﷺ) used to slaughter at the prayer place (of the ‘Eid congregation)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ میں ذبح کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أُتِيَ بِضَبٍّ مَشْوِيٍّ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ فَأَهْوَى بِيَدِهِ لِيَأْكُلَ مِنْهُ فَقَالَ لَهُ مَنْ حَضَرَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ . فَرَفَعَ يَدَهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ خَالِدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَرَامٌ الضَّبُّ قَالَ " لاَ وَلَكِنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ " . قَالَ فَأَهْوَى خَالِدٌ إِلَى الضَّبِّ فَأَكَلَ مِنْهُ وَرَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَنْظُرُ إِلَيْهِ .
It was narrated from Khalid bin Walid that a grilled mastigure was brought to the Messenger of Allah (ﷺ) and placed near him. He stretched out his hand to eat (some of it), then those who were present said:“O Messenger of Allah, it is the flesh of a mastigure.” He took his hand away, and Khalid said to him: “O Messenger of Allah, is a mastigure unlawful?” He said: “No, but it is not found in my land and I find it distasteful.” He said: “Then Khalid bent over the mastigure and ate some of it, and the Messenger of Allah (ﷺ) was looking at him.”
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بھنی ہوئی ضب ( گوہ ) لائی گئی، اور آپ کو پیش کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے کے لیے اس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا ۱؎، تو وہاں موجود ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ ضب ( گوہ ) کا گوشت ہے ( یہ سن کر ) آپ نے اس سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا، خالد رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ضب ( گوہ ) حرام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، لیکن وہ میرے علاقہ میں نہیں ہوتی اس لیے میں اس سے گھن محسوس کرتا ہوں ، ( یہ سن کر ) خالد رضی اللہ عنہ نے ضب ( گوہ ) کی طرف ہاتھ بڑھا کر اس کو کھایا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دیکھ رہے تھے ۲؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ الإِسْكَافِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ مَا أَكَلَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَلَى خِوَانٍ وَلاَ فِي سُكُرُّجَةٍ . قَالَ فَعَلاَمَ كَانُوا يَأْكُلُونَ قَالَ عَلَى السُّفَرِ .
It was narrated from Qatadah, that Anas bin Malik said:“The Prophet (ﷺ) never ate from a dish or from an individual plate.” He said: “From where did he eat?” He said: “From the dining sheet.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خوان ( میز ) پر کبھی نہیں کھایا، اور نہ «سکرجہ» ( چھوٹی طشتری ) ۱؎ میں کھایا۔ قتادہ نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس چیز پر کھاتے تھے؟ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: دستر خوان پر۔
حَدَّثَنَا عِصْمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، حَدَّثَنَا حَرِيشُ بْنُ خِرِّيتٍ، أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنْتُ أَصْنَعُ لِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ثَلاَثَةَ آنِيَةٍ مِنَ اللَّيْلِ مُخَمَّرَةً إِنَاءً لِطَهُورِهِ وَإِنَاءً لِسِوَاكِهِ وَإِنَاءً لِشَرَابِهِ .
It was narrated that ‘Aishah said:“I used to prepare three covered vessels for the Messenger of Allah (ﷺ) at night: A vessel for his water for purification, a vessel for his tooth stick and a vessel for his drink.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رات کو تین ڈھکے ہوئے پانی کے برتن رکھتی: ایک آپ کے استنجاء کے لیے، دوسرا آپ کے مسواک یعنی وضو کے لیے، اور تیسرا آپ کے پینے کے لیے۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " مَا مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي بِمَلإٍ مِنَ الْمَلاَئِكَةِ إِلاَّ كُلُّهُمْ يَقُولُ لِي عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ بِالْحِجَامَةِ " .
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“On the night on which I was taken on the Night Journey (Isra’), I did not pass by any group of angels but all of them said to me: ‘O Muhammad, you should use cupping.’”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معراج کی رات میرا گزر فرشتوں کی جس جماعت پر بھی ہوا اس نے یہی کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ پچھنے کو لازم کر لیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى حُلَّةً سِيَرَاءَ مِنْ حَرِيرٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوِ ابْتَعْتَ هَذِهِ الْحُلَّةَ لِلْوَفْدِ وَلِيَوْمِ الْجُمُعَةِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذَا مَنْ لاَ خَلاَقَ لَهُ فِي الآخِرَةِ " .
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Umar that ‘Umar bin Khattab saw a silken two piece suit (being offered for sale). He said:“O Messenger of Allah, why don’t you buy this two piece suit (to wear for meeting) the delegations, and on Fridays?” The Messenger of Allah (ﷺ) said: “This is only worn by one who has no share in the Hereafter.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ریشم کا ایک سرخ جوڑا دیکھا تو کہا: اللہ کے رسول! اگر آپ اس جوڑے کو وفود سے ملنے کے لیے اور جمعہ کے دن پہننے کے لیے خرید لیتے تو اچھا ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے وہ لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَاسٌ مِنَ الْيَهُودِ فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ . فَقَالَ " وَعَلَيْكُمْ " .
It was narrated from Aishah that some of the Jews came to the Prophet(ﷺ) and said:"Assam o alaika (death be upon you), O Abul-Qasim!" He said: "Wa 'alayikum (and also upon you)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ یہودی آئے، اور کہا: «السام عليك يا أبا القاسم» اے ابوالقاسم تم پر موت ہو ، تو آپ نے ( جواب میں صرف ) فرمایا: «وعليكم» اور تم پر بھی ہو۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا أَصْبَحْتُمْ فَقُولُوا اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا وَبِكَ أَمْسَيْنَا وَبِكَ نَحْيَى وَبِكَ نَمُوتُ وَإِذَا أَمْسَيْتُمْ فَقُولُوا اللَّهُمَّ بِكَ أَمْسَيْنَا وَبِكَ أَصْبَحْنَا وَبِكَ نَحْيَى وَبِكَ نَمُوتُ وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ " .
It was narrated from Abu Hurairah that :the Messenger of Allah (saas) said: "In the morning say: 'Allahumma bika asbahna, wa bika amsayna, wa bika nahya, wa bika namut (O Allah, by Your leave we have reached the morning and by Your leave we reach the evening, and by Your leave we live and by Your leave we die). And when evening comes, say: Allahumma bika amsayna, wa bika asbahna, wa bika nahya, wa bika namut, wa ilaykal-masir (O Allah, by Your leave we have reached the evening and by Your leave we reach the morning, and by Your leave we live and by Your leave we die, and unto You is our return)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب صبح کرو تو یہ کہا کرو، «اللهم بك أصبحنا وبك أمسينا وبك نحيى وبك نموت وإذا أمسيتم فقولوا اللهم بك أمسينا وبك أصبحنا وبك نحيى وبك نموت وإليك المصير» اے اللہ ہم نے تیرے ہی نام پر صبح کی، اور تیرے ہی نام پر شام کی، اور تیرے ہی نام پر ہم جیتے ہیں، اور تیرے ہی نام پر مریں گے ، اور شام کرو تو یہ کہا کرو، «اللهم بك أمسينا وبك أصبحنا وبك نحيى وبك نموت وإليك المصير» اے اللہ! ہم نے تیرے ہی نام پر شام کی، اور تیرے ہی نام پر صبح کی، اور تیرے ہی نام پر جیتے ہیں، تیرے ہی نام پر مریں گے، اور تیری ہی طرف پلٹ کر جانا ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ زِيَادٍ، سِيمِينْ كُوشْ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " تَكُونُ فِتْنَةٌ تَسْتَنْظِفُ الْعَرَبَ قَتْلاَهَا فِي النَّارِ اللِّسَانُ فِيهَا أَشَدُّ مِنْ وَقْعِ السَّيْفِ " .
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Amr that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“There will be a tribulation which will utterly destroy the Arabs, and those who are slain will be in Hell. At that time the tongue will be worse than a blow of the sword.”
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک فتنہ ایسا ہو گا جو سارے عرب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا، اس میں قتل ہونے والے سب جہنمی ہوں گے، اس فتنہ میں زبان تلوار کی کاٹ سے زیادہ موثر ہو گی ۱؎۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، قَالاَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُمَيْلَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِحْصَنٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمْ مُعَافًى فِي جَسَدِهِ آمِنًا فِي سِرْبِهِ عِنْدَهُ قُوتُ يَوْمِهِ فَكَأَنَّمَا حِيزَتْ لَهُ الدُّنْيَا " .
It was narrated from Salamah bin ‘Ubaidullah bin Mihsan Al-Ansari that his father said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever among you wakes up physically healthy, feeling safe and secure within himself, with food for the day, it is as if he acquired the whole world.’”
عبیداللہ بن محصن انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جس نے اس حال میں صبح کی کہ اس کا جسم صحیح سلامت ہو، اس کی جان امن و امان میں ہو اور اس دن کا کھانا بھی اس کے پاس ہو تو گویا اس کے لیے دنیا اکٹھی ہو گئی ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَشِيرِ بْنِ ذَكْوَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلاَءِ، - يَعْنِي ابْنَ زَبْرٍ - حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي الْمُطَاعِ، قَالَ سَمِعْتُ الْعِرْبَاضَ بْنَ سَارِيَةَ، يَقُولُ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ذَاتَ يَوْمٍ فَوَعَظَنَا مَوْعِظَةً بَلِيغَةً وَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ وَذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَعَظْتَنَا مَوْعِظَةَ مُوَدِّعٍ فَاعْهَدْ إِلَيْنَا بِعَهْدٍ فَقَالَ " عَلَيْكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَإِنْ عَبْدًا حَبَشِيًّا وَسَتَرَوْنَ مِنْ بَعْدِي اخْتِلاَفًا شَدِيدًا فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ وَإِيَّاكُمْ وَالأُمُورَ الْمُحْدَثَاتِ فَإِنَّ كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلاَلَةٌ " .
Yahya bin Abu Muta' said:I heard 'Irbad bin Sariyah say: 'One day, the Messenger of Allah (ﷺ) stood up among us and delivered a deeply moving speech to us that melted our hearts and caused our eyes to overflow with tears. It was said to him: 'O Messenger of Allah, you have delivered a speech of farewell, so enjoin something upon us.' He said: 'I urge you to fear Allah, and to listen and obey, even if (your leader) is an Abyssinian slave. After I am gone, you will see great conflict. I urge you to adhere to my Sunnah and the path of the Rightly-Guided Caliphs, and cling stubbornly to it. And beware of newly-invented matters, for every innovation is a going astray
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے، آپ نے ہمیں ایک مؤثر نصیحت فرمائی، جس سے دل لرز گئے اور آنکھیں ڈبڈبا گئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! آپ نے تو رخصت ہونے والے شخص جیسی نصیحت کی ہے، لہٰذا آپ ہمیں کچھ وصیت فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ سے ڈرو، اور امیر ( سربراہ ) کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو، گرچہ تمہارا امیر ایک حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، عنقریب تم لوگ میرے بعد سخت اختلاف دیکھو گے، تو تم میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت کو لازم پکڑنا، اس کو اپنے دانتوں سے مضبوطی سے تھامے رہنا، اور دین میں نئی باتوں ( بدعتوں ) سے اپنے آپ کو بچانا، اس لیے کہ ہر بدعت گمراہی ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " أَلاَ أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يُكَفِّرُ اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَزِيدُ بِهِ فِي الْحَسَنَاتِ " . قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عِنْدَ الْمَكَارِهِ وَكَثْرَةُ الْخُطَى إِلَى الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارُ الصَّلاَةِ بَعْدَ الصَّلاَةِ " .
It was narrated from Abu Sa'eed Al-Khudri that :He heard the Messenger of Allah say: 'Shall I not tell you of something by means of which Allah expiates for sins and increases good deeds?' They said: 'Yes, O Messenger of Allah.' He said: 'Performing ablution properly despite difficulties, increasing the number of steps one takes towards the mosque and waiting for the next prayer after prayer
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جس سے اللہ گناہوں کو معاف کرتا اور نیکیوں میں اضافہ کرتا ہے؟ ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: جی ہاں، ضرور بتائیے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دشواری و ناپسندیدگی کے باوجود پورا وضو کرنا، مسجدوں کی جانب دور سے چل کر جانا، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ۱؎۔
حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ جَمِيلٍ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ سَكْتَتَانِ حَفِظْتُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ . فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عِمْرَانُ بْنُ الْحُصَيْنِ فَكَتَبْنَا إِلَى أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ بِالْمَدِينَةِ فَكَتَبَ أَنَّ سَمُرَةَ قَدْ حَفِظَ . قَالَ سَعِيدٌ فَقُلْنَا لِقَتَادَةَ مَا هَاتَانِ السَّكْتَتَانِ قَالَ إِذَا دَخَلَ فِي صَلاَتِهِ وَإِذَا فَرَغَ مِنَ الْقِرَاءَةِ . ثُمَّ قَالَ بَعْدُ وَإِذَا قَرَأَ {غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ} . قَالَ وَكَانَ يُعْجِبُهُمْ إِذَا فَرَغَ مِنَ الْقِرَاءَةِ أَنْ يَسْكُتَ حَتَّى يَتَرَادَّ إِلَيْهِ نَفَسُهُ .
It was narrated that Samurah bin Jundab said:“There are two pauses which I memorized from the Messenger of Allah (ﷺ), but `Imran bin Husain denied that. We wrote to Ubayy bin Ka`b in Al-Madinah, and he wrote that Samurah had indeed memorized them.” (One of the narrators) Sa`eed said: "We said to Qatadah: 'What are these two pauses?' He said: 'When he started his prayer, and when he finished reciting.' Then later he said: 'And when he recited: 'Not (the way) of those who earned your anger, nor of those who went astray.' They used to like (for the Imam) when he had finished reciting to remain silent until he had caught his breath
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو سکتے یاد رکھے ہیں، عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے اس کا انکار کیا، اس پر ہم نے مدینہ میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو لکھا، تو انہوں نے لکھا کہ سمرہ رضی اللہ عنہ نے ٹھیک یاد رکھا ہے۔ سعید نے کہا: ہم نے قتادہ سے پوچھا: وہ دو سکتے کون کون سے ہیں؟ انہوں نے کہا: ایک تو وہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے اور دوسرا جب قراءت فاتحہ سے فارغ ہوتے۔ پھر بعد میں قتادہ نے کہا: دوسرا سکتہ اس وقت ہوتا جب «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہہ لیتے، قتادہ نے کہا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ پسند تھا کہ جب امام قراءت سے فارغ ہو جائے تو تھوڑی دیر خاموش رہے، تاکہ اس کا سانس ٹھکانے آ جائے۔