بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Ibn Majah
6
27 hadith
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِي نَصْرٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَىٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ خَيْرُ الْكَفَنِ الْحُلَّةُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from ‘Ubadah bin Samit that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The best of shrouds is the Hullah (two-piecer).”
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین کفن جوڑا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو التَّقِيِّ، هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْحِمْصِيُّ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ: اكْتَحَلَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَهُوَ صَائِمٌ ‏.‏
It was narrated that ‘Aishah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) applied kohl to his eyes while he was fasting.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سرمہ لگایا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ أَبِي سَيَّارَةَ الْمُتَعِيِّ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي نَحْلاً ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ أَدِّ الْعُشْرَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ احْمِهَا لِي ‏.‏ فَحَمَاهَا لِي ‏.‏
It was narrated that:Abu Sayyarah Al-Muta said: “I said: 'O Messenger of Allah! I have bees.' He said: 'Give one-tenth.' I said: 'O Messenger of Allah!' Protect it for me.' And he protected it for me.”
ابوسیارہ متقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس شہد کی مکھیاں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا دسواں حصہ بطور زکاۃ ادا کرو ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ جگہ میرے لیے خاص کر دیجئیے، چنانچہ آپ نے وہ جگہ میرے لیے خاص کر دی ۱؎۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَاَ مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ لاَ شِغَارَ فِي الإِسْلاَمِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Anas bin Malik that:the Messenger of Allah said: “There is no Shighar in Islam.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں شغار نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ جَمِيلَةَ بِنْتَ سَلُولَ، أَتَتِ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَتْ وَاللَّهِ مَا أَعْتِبُ عَلَى ثَابِتٍ فِي دِينٍ وَلاَ خُلُقٍ ‏.‏ وَلَكِنِّي أَكْرَهُ الْكُفْرَ فِي الإِسْلاَمِ لاَ أُطِيقُهُ بُغْضًا ‏.‏ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ نَعَمْ ‏.‏ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ يَأْخُذَ مِنْهَا حَدِيقَتَهُ وَلاَ يَزْدَادَ ‏.‏
It was narrated from Ibn 'Abbas that:Jamilah bint Salul came to the Prophet (ﷺ) and said: "By Allah, I do not find any fault with Thabit regarding his religion nor his behavior, but I hate disbelief after becoming Muslim and I cannot stand him. "The Prophet (ﷺ) said to her: 'WiIl you give him back his garden?" She said: "Yes." So the Messenger of Allah (ﷺ) told him to take back his garden from her and no more than that
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جمیلہ بنت سلول رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کی قسم میں ( اپنے شوہر ) ثابت پر کسی دینی و اخلاقی خرابی سے غصہ نہیں کر رہی ہوں، لیکن میں مسلمان ہو کر کفر ( شوہر کی ناشکری ) کو ناپسند کرتی ہوں، میں ان کے ساتھ نہیں رہ پاؤں گی کیونکہ شکل و صورت سے وہ مجھے ناپسند ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا ان کا دیا ہوا باغ واپس لوٹا دو گی ؟ انہوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت کو حکم دیا کہ اپنی بیوی جمیلہ سے اپنا باغ لے لیں، اور زیادہ نہ لیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْجَوْهَرِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، أَنْبَأَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً، جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ بِبُوَانَةَ فَقَالَ ‏"‏ فِي نَفْسِكَ شَىْءٌ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَوْفِ بِنَذْرِكَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn Abbas that a man came to the Prophet (ﷺ) and said:"O Messenger of Allah, I vowed to offer a sacrifice at Buwanah." He said: "Do you intend any action of Ignorance period?" He said: "No." He said: "Then fulfill your vow
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے مقام بوانہ میں قربانی کرنے کی نذر مانی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے دل میں جاہلیت کا کوئی اعتقاد باقی ہے ؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی نذر پوری کرو ۱؎۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ ‏.‏ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ مَا قَوْلُهُ حَاضِرٌ لِبَادٍ قَالَ لاَ يَكُونُ لَهُ سِمْسَارًا ‏.‏
Ibn Tawus narrated from his father that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah (ﷺ) forbade a city-dweller to sell for a Bedouin." (Sahih)I (Tawus) said to Ibn 'Abbas: "What is meant by the words: 'A city-dweller selling for a Bedouin?' He said: "He should not be a broker for him
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہری کو دیہاتی کا مال بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ طاؤس کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول: «حاضر لباد» کا کیا مفہوم ہے؟ تو انہوں نے کہا: بستی والا باہر والے کا دلال نہ بنے
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ صَالِحٍ الْهَمْدَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ أُتِيَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَهُوَ بِالْيَمَنِ فِي ثَلاَثَةٍ قَدْ وَقَعُوا عَلَى امْرَأَةٍ فِي طُهْرٍ وَاحِدٍ فَسَأَلَ اثْنَيْنِ فَقَالَ أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ فَقَالاَ لاَ ‏.‏ ثُمَّ سَأَلَ اثْنَيْنِ فَقَالَ أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ فَقَالاَ لاَ ‏.‏ فَجَعَلَ كُلَّمَا سَأَلَ اثْنَيْنِ أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ قَالاَ لاَ ‏.‏ فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالَّذِي أَصَابَتْهُ الْقُرْعَةُ وَجَعَلَ عَلَيْهِ ثُلُثَىِ الدِّيَةِ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ‏.‏
It was narrated that Zaid bin Arqam said:“A case was brought to 'Ali bin Abu Talib when he was in Yemen, concerning three men who had intercourse with a woman during one period of being free from menses. He asked two of them: “Do you affirm that this child belongs to (the third man)?” And they said: “No.” He asked another two of them: “Do you affirm that this child belongs to (the third man)?” And they said: “No.” Every time he asked two of them whether they affirmed that the child belonged to the third, they would say no. So he cast lots between them, and attributed the child to the one whose name was chosen in this manner, and obliged him to pay two thirds of the Diyah. The Prophet (ﷺ) was told of this, and he smiled so broadly that his back teeth became visible
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جب یمن میں تھے، تو ان کے پاس یہ مقدمہ آیا کہ تین آدمیوں نے ایک عورت سے ایک ہی طہر میں صحبت کی تھی، تو انہوں نے پہلے دو آدمیوں سے پوچھا: کیا تم دونوں اس بات کا اقرار کرتے ہو کہ یہ لڑکا اس تیسرے شخص کا ہے؟ ان دونوں نے کہا: نہیں، پھر دو کو الگ کیا، اور ان سے پوچھا: کیا تم دونوں اقرار کرتے ہو کہ یہ لڑکا اس تیسرے شخص کا ہے؟ اس طرح جب وہ دو دو سے پوچھتے کہ تم اس لڑکے کو تیسرے کا کہتے ہو؟ تو وہ انکار کرتے، آخر انہوں نے قرعہ اندازی کی، اور جس کے نام قرعہ نکلا وہ لڑکا اس کو دلایا، اور دو تہائی کی دیت اس پر لازم کر دی، اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ ہنسے، یہاں تک کہ آپ کے سامنے کے دانت ظاہر ہو گئے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلاَنِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ يُسَيْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ رُومِيٍّ، قَالَ كَانَ سُلَيْمَانُ بْنُ أُذُنَانٍ يُقْرِضُ عَلْقَمَةَ أَلْفَ دِرْهَمٍ إِلَى عَطَائِهِ فَلَمَّا خَرَجَ عَطَاؤُهُ تَقَاضَاهَا مِنْهُ وَاشْتَدَّ عَلَيْهِ فَقَضَاهُ فَكَأَنَّ عَلْقَمَةَ غَضِبَ فَمَكَثَ أَشْهُرًا ثُمَّ أَتَاهُ فَقَالَ أَقْرِضْنِي أَلْفَ دِرْهَمٍ إِلَى عَطَائِي قَالَ نَعَمْ وَكَرَامَةً يَا أُمَّ عُتْبَةَ هَلُمِّي تِلْكَ الْخَرِيطَةَ الْمَخْتُومَةَ الَّتِي عِنْدَكِ ‏.‏ فَجَاءَتْ بِهَا فَقَالَ أَمَا وَاللَّهِ إِنَّهَا لَدَرَاهِمُكَ الَّتِي قَضَيْتَنِي مَا حَرَّكْتُ مِنْهَا دِرْهَمًا وَاحِدًا ‏.‏ قَالَ فَلِلَّهِ أَبُوكَ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ بِي ‏.‏ قَالَ مَا سَمِعْتُ مِنْكَ ‏.‏ قَالَ مَا سَمِعْتَ مِنِّي قَالَ سَمِعْتُكَ تَذْكُرُ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُقْرِضُ مُسْلِمًا قَرْضًا مَرَّتَيْنِ إِلاَّ كَانَ كَصَدَقَتِهَا مَرَّةً ‏"‏ ‏.‏ قَالَ كَذَلِكَ أَنْبَأَنِي ابْنُ مَسْعُودٍ ‏.‏
It was narrated that Qais bin Rumi said:“Sulaiman bin Udhunan lent 'Alqamah one thousand Dirham until he got his salary, When he got his salary, he demanded that he pay him back and treated him harshly. He paid him back, and it was as if 'Alqamah was angry. Several months passed then he came to him and said: 'Lend me one thousand Dirham until my salary comes.' He said 'Yes, it would be an honor. O Umm 'Utbah! Bring me that sealed leather bag that you have.' He said: 'By Allah(SWT), these are your Dirham that you paid back to me; I did not touch a single Dirham., ' What made you do what you did to me (i.e., treat me so harshly)?' He said: 'What I heard from you.' He said: 'What did you hear from me?' He said: 'I heard you narrated from Ibn Mas'ud that the Prophet (ﷺ) said: “There is no Muslim who lends something to another Muslim twice, but it will be like giving charity once.”He said: 'That is what Ibn Mas'ud told me.' ”
قیس بن رومی کہتے ہیں کہ سلیمان بن اذنان نے علقمہ کو ان کی تنخواہ ملنے تک کے لیے ایک ہزار درہم قرض دے رکھا تھا، جب ان کی تنخواہ ملی تو سلیمان نے ان سے اپنے قرض کا تقاضا کیا، اور ان پر سختی کی، تو علقمہ نے اسے ادا کر دیا، لیکن ایسا لگا کہ علقمہ ناراض ہیں، پھر کچھ مہینے گزرے تو پھر وہ سلیمان بن اذنان کے پاس آئے، اور کہا: میری تنخواہ ملنے تک مجھے ایک ہزار درہم کا پھر قرض دے دیجئیے، وہ بولے: ہاں، لے لو، یہ میرے لیے عزت کی بات ہے، اور ام عتبہ کو پکار کر کہا: وہ مہر بند تھیلی لے آؤ جو تمہارے پاس ہے، وہ اسے لے آئیں، تو انہوں نے کہا: دیکھو اللہ کی قسم! یہ تو وہی درہم ہیں جو تم نے مجھے ادا کئے تھے، میں نے اس میں سے ایک درہم بھی ادھر ادھر نہیں کیا ہے، علقمہ بولے: تمہارے باپ عظیم ہیں پھر تم نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا تھا؟ ۱؎ وہ بولے: اس حدیث کی وجہ سے جو میں نے آپ سے سنی تھی، انہوں نے پوچھا: تم نے مجھ سے کیا سنا تھا؟ وہ بولے: میں نے آپ سے سنا تھا، آپ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کر رہے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: کوئی مسلمان ایسا نہیں جو کسی مسلمان کو دوبار قرض دے، مگر اس کو ایک بار اتنے ہی مال کے صدقے کا ثواب ملے گا ، علقمہ نے کہا: ہاں، مجھے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایسے ہی خبر دی ہے۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ ذَكْوَانَ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا شَرِبُوا الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُمْ ثُمَّ إِذَا شَرِبُوا فَاجْلِدُوهُمْ ثُمَّ إِذَا شَرِبُوا فَاجْلِدُوهُمْ ثُمَّ إِذَا شَرِبُوا فَاقْتُلُوهُمْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Mu`awiyah bin Abu Sufyan that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“If they drink (again), then whip them. If they drink (again), then whip them. If they drink (again), then whip them. If they drink (again), then kill them.”
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب لوگ شراب پئیں تو انہیں کوڑے لگاؤ، پھر پئیں تو کوڑے لگاؤ، اس کے بعد بھی پئیں تب بھی کوڑے لگاؤ، اس کے بعد پئیں تو انہیں قتل کر دو ۱؎۔
حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ فِي الْمَوَاضِحِ خَمْسٌ خَمْسٌ مِنَ الإِبِلِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, from his grandfather, that the Prophet (ﷺ) of said:“For a wound that exposes a bone, is five; (the compensation) is five camels.”
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہڈی ظاہر کر دینے والے زخم میں دیت پانچ پانچ اونٹ ہیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا دَيْلَمُ بْنُ غَزْوَانَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ حَضَرْتُ حَرْبًا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ يَا نَفْسِ أَلاَ أَرَاكِ تَكْرَهِينَ الْجَنَّهْ أَحْلِفُ بِاللَّهِ لَتَنْزِلِنَّهْ طَائِعَةً أَوْ لَتُكْرَهِنَّهْ
It was narrated that Anas bin Malik said:“I was present in a war, and ‘Abdullah bin Rawahah said: O soul of mine! I see that you do Not want to go to Paradise. I swear by Allah that you surely Will enter it, willingly or Unwillingly.’”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک لڑائی میں حاضر ہوا، تو عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے میرے نفس! میرا خیال ہے کہ تجھے جنت میں جانا ناپسند ہے، میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تجھے جنت میں خوشی یا ناخوشی سے جانا ہی پڑے گا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، حَدَّثَهُ عَنْ خَلاَّدِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَمَرَنِي أَنْ آمُرَ أَصْحَابِي أَنْ يَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالإِهْلاَلِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Khallad bin Sa’ib, from his father, that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Jibra’il came to me and told me to command my Companions to raise their voices when reciting the Talbiyah.”
سائب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل ( علیہ السلام ) آئے اور مجھے حکم دیا کہ میں اپنے صحابہ سے کہوں کہ تلبیہ بلند آواز سے پکاریں ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى السُّدِّيُّ، قَالُوا حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بَالَ قَائِمًا فَلاَ تُصَدِّقْهُ أَنَا رَأَيْتُهُ يَبُولُ قَاعِدًا ‏.‏
It was narrated that 'Aishah said:"If anyone tells you that the Messenger of Allah urinated while standing, do not believe him, for I (always) saw him urinating while sitting down
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جو تم سے بیان کرے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا تو تم اس کی تصدیق نہ کرو، میں نے دیکھا ہے کہ آپ بیٹھ کر پیشاب کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ نُبَيْشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ فَكُلُوا وَادَّخِرُوا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Nubaishah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“I used to forbid you to store the meat of the sacrifices for more than three days, but (now) eat some and store some.”
نبیشہ (نبیشہ بن عبداللہ الہذلی) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ رکھنے سے منع کیا تھا، لیکن اب اسے کھاؤ اور ذخیرہ اندوزی کرو ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ نَادَى رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ حِينَ انْصَرَفَ مِنَ الصَّلاَةِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ مَضَبَّةٌ فَمَا تَرَى فِي الضِّبَابِ قَالَ ‏ "‏ بَلَغَنِي أَنَّهُ أُمَّةٌ مُسِخَتْ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمْ يَأْمُرْ بِهِ وَلَمْ يَنْهَ عَنْهُ ‏.‏
It was narrated that Abu Sa’eed Al-Khudri said:“A man from among Ahlus-Suffah called the Messenger of Allah (ﷺ) when he had finished the prayer, saying: ‘O Messenger of Allah! Our land is a land infested with mastigures. What do you think of (eating) mastigures?’ He said: ‘I have heard that a nation was transformed.’ He did not tell us to eat them, and he did not forbid that.”
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھ کر لوٹے تو اہل صفہ میں سے ایک شخص نے آپ کو آواز دی، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے ملک میں ضب ( گوہ ) بہت ہوتی ہے، آپ اس سلسلے میں کیا فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ یہ کوئی امت ہے جو مسخ کر دی گئی ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ اس کے کھانے کا حکم دیا، اور نہ ہی منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ الْهَجَرِيُّ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِذَا جَاءَ خَادِمُ أَحَدِكُمْ بِطَعَامِهِ فَلْيُقْعِدْهُ مَعَهُ أَوْ لِيُنَاوِلْهُ مِنْهُ فَإِنَّهُ هُوَ الَّذِي وَلِيَ حَرَّهُ وَدُخَانَهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from ‘Abdullah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“When the servant of anyone of you brings his food, let him make him sit down with him or give him some of it, for he is the one who put up with its heat and smoke.”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کا غلام کھانا لے کر آئے تو اسے چاہیئے کہ وہ غلام کو اپنے ساتھ بٹھائے، یا یہ کہ اس میں سے اسے بھی دے، اس لیے کہ وہی تو ہے جس نے اس کی گرمی اور اس کے دھوئیں کی تکلیف اٹھائی ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ بِتَغْطِيَةِ الإِنَاءِ وَإِيكَاءِ السِّقَاءِ وَإِكْفَاءِ الإِنَاءِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) commanded us to cover our vessels, tie up our water skins and turn over our vessels.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں برتن ڈھانکنے، مشک کا منہ بند کر دینے، اور برتن کو الٹ کر رکھنے کا حکم دیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ إِنْ كَانَ فِي شَىْءٍ مِمَّا تَدَاوَوْنَ بِهِ خَيْرٌ فَالْحِجَامَةُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:“If there is any good in any of the remedies you use, it is in cupping.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جن چیزوں سے تم علاج کرتے ہو اگر ان میں سے کسی میں خیر ہے تو پچھنے میں ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ وَالذَّهَبِ وَقَالَ ‏ "‏ هُوَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَنَا فِي الآخِرَةِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Hudhaifah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade wearing silk and gold. He said: ‘They are for them in this world and for us in the Hereafter.’”
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مردوں کے لیے ) ریشم اور سونا پہننے سے منع کیا، اور فرمایا: یہ ان ( کافروں ) کے لیے دنیا میں ہے اور ہمارے لیے آخرت میں ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Anas bin Malik said "the Messenger of Allah(ﷺ) said":"When any of the People of the Book greets you with Salam (peace), then say, Wa 'alaikum(and also upon you)
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اہل کتاب ( یہود و نصاریٰ ) میں سے کوئی تمہیں سلام کرے تو تم ( جواب میں صرف ) «وعليكم» کہو ( یعنی تم پر بھی تمہاری نیت کے مطابق ) ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ - كَانَ لَهُ عَدْلَ رَقَبَةٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ وَحُطَّ عَنْهُ عَشْرُ خَطِيئَاتٍ وَرُفِعَ لَهُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ وَكَانَ فِي حِرْزٍ مِنَ الشَّيْطَانِ حَتَّى يُمْسِيَ وَإِذَا أَمْسَى فَمِثْلُ ذَلِكَ حَتَّى يُصْبِحَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَرَأَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا عَيَّاشٍ يَرْوِي عَنْكَ كَذَا وَكَذَا ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ صَدَقَ أَبُو عَيَّاشٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu 'Ayyash Az-Zuraqi that :the Messenger of Allah (saas) said: "Whoever says in the morning: 'La illaha illalahu wahdahu la sharika lahu, lahul-mulku wa lahul-hamdu, wa Huwa 'ala kulli shay'in Qadir (None has the right to be worshipped but Allah alone, with no partner or associate. His is the dominion and all praise is to Him, and He is Able to all things)' - he will have (a reward) equal to freeing a slave among the sons of Isma'il, ten bad deeds will be erased from (his record), he will be raised (in status) ten degrees, and he will have protection against Satan until evening comes. When evening comes, (if he says likewise) he will have the same until morning comes.'" (Sahih)He (one of the narrators) said: "A man saw the Messenger of Allah (saas) in a dream and said: 'O Messenger of Allah, Abu 'Ayyash narrated such and such from you.' He said: 'Abu 'Ayyash spoke the truth
ابوعیاش زرقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص صبح کے وقت یہ دعا پڑھے: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير» اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اور اسی کے لیے حمد و ثنا، وہی ہر چیز پر قادر ہے تو اسے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ملتا ہے، اور اس کے دس گناہ مٹا دئیے جاتے ہیں، اور اس کے دس درجے بڑھا دئیے جاتے ہیں، اور وہ شام تک شیطان سے محفوظ رہتا ہے، اور اگر شام کے وقت یہ پڑھے تو وہ صبح تک ایسے ہی رہتا ہے تو ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ابوعیاش آپ سے ایسی اور ایسی حدیث بیان کرتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوعیاش سچ کہتا ہے ۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَكَمِ السَّدُوسِيِّ، حَدَّثَنَا شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ مِنْ شَرِّ النَّاسِ مَنْزِلَةً عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَبْدٌ أَذْهَبَ آخِرَتَهُ بِدُنْيَا غَيْرِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Umamah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Among the worst people in status before Allah on the Day of Resurrection will be a person who loses his Hereafter for the sake of this world.”
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے برباد اور خراب مقام اس شخص کا ہو گا جس نے اپنی آخرت دوسرے کی دنیا کے لیے برباد کی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ مَنْ حَدَّثَ عَنِّي بِحَدِيثٍ وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبَيْنِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Mughirah bin Shu'bah said:The Messenger of Allah (ﷺ) said: '"Whoever narrates a Hadith from me thinking it to be false, then he is one of the two liars
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کوئی حدیث یہ جانتے ہوئے بیان کرے کہ وہ جھوٹ ہے تو وہ دو جھوٹوں میں سے ایک ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي وَيَعْلَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ نُفَيْعٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ مَا مِنْ غَنِيٍّ وَلاَ فَقِيرٍ إِلاَّ وَدَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَّهُ أُتِيَ مِنَ الدُّنْيَا قُوتًا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Anas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“There is no rich man or poor man but he will wish on the Day of Resurrection that he had been given the bare minimum of provision.”
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن کوئی مالدار یا فقیر ایسا نہ ہو گا جو یہ تمنا نہ کرے کہ اس کو دنیا میں بہ قدر ضرورت روزی ملی ہوتی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ، مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي، سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَلاَ تَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ وَأْتُوهَا تَمْشُونَ وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that:The Messenger of Allah said: "When the Iqamah is called for the prayer, do not come running. Come walking with tranquility. Whatever you catch up with, pray, and whatever you miss, complete it
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو دوڑتے ہوئے نہ آؤ، بلکہ اطمینان سے چل کر آؤ، امام کے ساتھ جتنی نماز ملے پڑھ لو، اور جو چھوٹ جائے اسے پوری کر لو ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا نَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ خَلْفَ الإِمَامِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ وَفِي الأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ‏.‏
It was narrated that Jabir bin ‘Abdullah said:“We used to recite the Opening of the Book and a Surah behind the Imam in the first two Rak’ah of the Zuhr and the ‘Asr, and in the last wo Rak’ah (we would recite) the Opening of the Book.”
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم ظہر و عصر میں امام کے پیچھے پہلی دونوں رکعتوں میں سورۃ فاتحہ اور کوئی ایک سورۃ پڑھتے تھے، اور آخری دونوں رکعتوں میں صرف سورۃ فاتحہ پڑھتے تھے ۱؎۔