حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " خَيْرُ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضُ فَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ وَالْبَسُوهَا " .
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The best of your garments are those which are white, so shroud your dead in them, and wear them.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے کپڑوں میں سب سے بہتر سفید کپڑا ہے، لہٰذا تم اپنے مردوں کو اسی میں کفناؤ، اور اسی کو پہنو ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْمُؤَدِّبُ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مِنْ خَيْرِ خِصَالِ الصَّائِمِ السِّوَاكُ " .
It was narrated from ‘Aishah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“One of the best actions of the fasting person is using the tooth stick.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روزے دار کی اچھی عادتوں میں سے مسواک کرنا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، فِي قَوْلِهِ سُبْحَانَهُ {وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الأَرْضِ وَلاَ تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ} . قَالَ نَزَلَتْ فِي الأَنْصَارِ كَانَتِ الأَنْصَارُ تُخْرِجُ إِذَا كَانَ جِدَادُ النَّخْلِ مِنْ حِيطَانِهَا أَقْنَاءَ الْبُسْرِ فَيُعَلِّقُونَهُ عَلَى حَبْلٍ بَيْنَ أُسْطُوَانَتَيْنِ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَيَأْكُلُ مِنْهُ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ فَيَعْمِدُ أَحَدُهُمْ فَيُدْخِلُ قِنْوَ الْحَشَفِ يَظُنُّ أَنَّهُ جَائِزٌ فِي كَثْرَةِ مَا يُوضَعُ مِنَ الأَقْنَاءِ فَنَزَلَ فِيمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ {وَلاَ تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ} . يَقُولُ لاَ تَعْمِدُوا لِلْحَشَفِ مِنْهُ تُنْفِقُونَ . {وَلَسْتُمْ بِآخِذِيهِ إِلاَّ أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ } يَقُولُ لَوْ أُهْدِيَ لَكُمْ مَا قَبِلْتُمُوهُ إِلاَّ عَلَى اسْتِحْيَاءٍ مِنْ صَاحِبِهِ غَيْظًا أَنَّهُ بَعَثَ إِلَيْكُمْ مَا لَمْ يَكُنْ لَكُمْ فِيهِ حَاجَةٌ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْ صَدَقَاتِكُمْ .
It was narrated that:Bara bin Azib said concerning the Verse: “And of that which We have priduced from the earth for you, and don not aim at that which is bad to spend from it. ” [Al-Baqarah 2:267] “This was revealed concerning the Ansar. At the time of the new date-palm harvest, they would take a bunch of dates that were beginning to ripen and hang it on a rope between two of the pillars in the mosque of the Messenger of Allah (ﷺ), and the poor emigrants would eat from it.” One of them deliberately mixed a bunch containing rotten and shriveled dates, and thought this was permissible because of the large number of dates that had been put there. So the following was revealed about the one who did that: '… and do not aim at that which is bad to spend from it'. Meaning do not seek out the rotten and shriveled dates to give in charity: '…(thought) you would not accept it save if you close your eyes and tolerate therein.' Meaning, if you were given this as a gift you would only accept it because you felt embarrassed, and you would get angry that he had sent something of which you have no need. And know that Allah has no need of your charity.”
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں آیت کریمہ: «ومما أخرجنا لكم من الأرض ولا تيمموا الخبيث منه تنفقون» ( سورة التوبة: 267 ) انصار کے بارے میں نازل ہوئی، جب باغات سے کھجور توڑنے کا وقت آتا تو وہ اپنے باغات سے کھجور کے چند خوشے ( صدقے کے طور پر ) نکالتے، اور مسجد نبوی میں دونوں ستونوں کے درمیان رسی باندھ کر لٹکا دیتے، پھر فقراء مہاجرین اس میں سے کھاتے، انصار میں سے کوئی یہ کرتا کہ ان خوشوں میں خراب کھجور کا خوشہ شامل کر دیتا، اور یہ سمجھتا کہ بہت سارے خوشوں میں ایک خراب خوشہ رکھ دینا جائز ہے، تو انہیں لوگوں کے سلسلہ میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: «ولا تيمموا الخبيث منه تنفقون» قصد نہ کرو خراب کا اس میں سے کہ اسے خرچ کرو اور تم اسے خود ہرگز لینے والے نہیں ہو، الا یہ کہ چشم پوشی سے کام لو، اگر تمہیں کوئی ایسے خراب مال سے تحفہ بھیجے تو تم کبھی بھی اس کو قبول نہ کرو گے مگر شرم کی وجہ سے، اور دل میں غصہ ہو کر کہ اس نے تمہارے پاس ایسی چیز بھیجی ہے جو تمہارے کام کی نہیں ہے، اور تم جان لو کہ اللہ تمہارے صدقات سے بے نیاز ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ الشِّغَارِ .
It was narrated that:Abu Hurairah said: “The Messenger of Allah forbade Shighar.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا الطَّلاَقَ فِي غَيْرِ مَا بَأْسٍ فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ " .
It was narrated from Thawban that the Messenger of Allah (ﷺ) said:'Any woman who asks her husband for a divorce when it is not absolutely necessary, the fragrance of Paradise will be forbidden to her
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کسی عورت نے اپنے شوہر سے بغیر کسی ایسی تکلیف کے جو طلاق لینے پر مجبور کرے طلاق کا مطالبہ کیا، تو اس پہ جنت کی خوشبو حرام ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ نَذَرْتُ نَذْرًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بَعْدَ مَا أَسْلَمْتُ فَأَمَرَنِي أَنْ أُوفِيَ بِنَذْرِي .
It was narrated that 'Umar bin Khattab said:"I made a vow during the Ignorance period and I asked the Prophet (ﷺ) (about it) after I became Muslim. He told me to fulfill my vow
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے زمانہ جاہلیت میں نذر مانی، پھر اسلام قبول کرنے کے بعد میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی نذر پوری کرنے کا حکم دیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " لاَ يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقُ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ " .
It was narrated from Jabir bin 'Abdullah that the Prophet (ﷺ) said:"A city-dweller should not sell for a Bedouin. Leave people to (engage in trade) and Allah will grant them provision through one another
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شہری باہر سے آنے والے دیہاتی کا مال نہ بیچے، لوگوں کو چھوڑ دو، ( خود بیچیں ) اللہ تعالیٰ بعض کو بعض سے روزی دیتا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا سَافَرَ أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ .
It was narrated from 'Aishah that :when the Prophet (ﷺ) traveled, he would cast lots among his wives (to decide which one would accompany him)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر جاتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا لَهُ عَلَيْهِ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ فِي بَيْتِهِ فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا فَنَادَى كَعْبًا فَقَالَ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " دَعْ مِنْ دَيْنِكَ هَذَا " . وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الشَّطْرِ فَقَالَ قَدْ فَعَلْتُ . قَالَ " قُمْ فَاقْضِهِ " .
It was narrated from 'Abdullah bin Ka'b bin Malik from his father that :he demanded payment owed by Ibn Abi Hadrad in the mosque. Their voices became so loud that the Messenger of Allah (ﷺ) heard them when he was in his house. He came out and called Ka'b who said: “Here I am, O Messenger of Allah (ﷺ)!” He said: “Waive this much of your loan,” and gestured with his hand to indicate half. He said: “I will do that,” and he said: “Get up and repay it.”
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے مسجد نبوی میں ابن ابی حدرد سے اپنے قرض کا مطالبہ کیا یہاں تک کہ ان دونوں کی آوازیں اونچی ہو گئیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے گھر میں سے سنا تو آپ گھر سے نکل کر ان کے پاس آئے، اور کعب رضی اللہ عنہ کو آواز دی، تو وہ بولے: حاضر ہوں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے قرض میں سے اتنا چھوڑ دو ، اور اپنے ہاتھ سے آدھے کا اشارہ کیا، تو وہ بولے: میں نے چھوڑ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اٹھو، جاؤ ان کا قرض ادا کرو ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا فَرَجُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَلْقَمَةَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ، حَدَّثَنِي عَمِّي، ثَابِتُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ عَنْ أَبِيهِ، سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ، أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ . أَنَّهُ اسْتَقْطَعَ الْمِلْحَ الَّذِي يُقَالُ لَهُ مِلْحُ سَدِّ مَأْرِبٍ . فَأَقْطَعَهُ لَهُ ثُمَّ إِنَّ الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ التَّمِيمِيَّ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ وَرَدْتُ الْمِلْحَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَهُوَ بِأَرْضٍ لَيْسَ بِهَا مَاءٌ وَمَنْ وَرَدَهُ أَخَذَهُ وَهُوَ مِثْلُ الْمَاءِ الْعِدِّ . فَاسْتَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبْيَضَ بْنَ حَمَّالٍ فِي قَطِيعَتِهِ فِي الْمِلْحِ . فَقَالَ قَدْ أَقَلْتُكَ مِنْهُ عَلَى أَنْ تَجْعَلَهُ مِنِّي صَدَقَةً . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هُوَ مِنْكَ صَدَقَةٌ وَهُوَ مِثْلُ الْمَاءِ الْعِدِّ مَنْ وَرَدَهُ أَخَذَهُ " . قَالَ فَرَجٌ وَهُوَ الْيَوْمَ عَلَى ذَلِكَ مَنْ وَرَدَهُ أَخَذَهُ . قَالَ فَقَطَعَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَرْضًا وَنَخْلاً بِالْجُرْفِ جُرْفِ مُرَادٍ مَكَانَهُ حِينَ أَقَالَهُ مِنْهُ .
It was narrated from Abyad bin Hammal:That he asked for a salt flat called the Ma'rib Dam to be given to him, and it was given to him. Then Aqra bin Habis At-Tamimi came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: “O Messenger of Allah (ﷺ), I used to come to the salt flat during the Ignorance period and it was in a land in which there was no water, and whoever came to it took from it. It was (plentiful) like flowing water.” So the Messenger of Allah (ﷺ) asked Abyad bin Hammal to give back his share of the salt flat. He said: “I give it to you on the basis that you make it charity given by me.” The Messenger of Allah said: “It is a charity from you, and it is like flowing water, whoever comes to it may take from it.”(One of the narrators) Faraj said: “That is how it is today, whoever comes to it takes from it.” He said: “The Prophet (ﷺ) gave him land and palm trees in Jurf Murad instead, when he took back the salt flat from him.”
ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اس نمک کو جو نمک سدمآرب کے نام سے جانا جاتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بطور جاگیر طلب کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے انہیں جاگیر میں دے دیا، پھر اقرع بن حابس تمیمی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور عرض کیا: میں زمانہ جاہلیت میں اس نمک کی کان پر سے گزر چکا ہوں، وہ ایسی زمین میں ہے جہاں پانی نہیں ہے، جو وہاں جاتا ہے، وہاں سے نمک لے جاتا ہے، وہ بہتے پانی کی طرح ہے، جس کا سلسلہ کبھی بند نہیں ہوتا، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابیض بن حمال سے نمک کی اس جاگیر کو فسخ کر دینے کو کہا، ابیض رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں اس کو اس شرط پر فسخ کرتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے میری طرف سے صدقہ کر دیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا وہ تمہاری طرف سے صدقہ ہے اور وہ جاری پانی کے مثل ہے، جو آئے اس سے لے جائے ۔ فرج بن سعید کہتے ہیں: اور وہ آج تک ویسے ہی ہے، جو وہاں جاتا ہے اس میں سے نمک لے جاتاہے۔ ابیض رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس جاگیر کے عوض جو آپ نے فسخ کر دی تھی «جرف» یعنی «جرف» مراد ( ایک مقام کا نام ہے ) میں زمین اور کھجور کے کچھ درخت جاگیر کے طور پر دیے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا سَكِرَ فَاجْلِدُوهُ فَإِنْ عَادَ فَاجْلِدُوهُ فَإِنْ عَادَ فَاجْلِدُوهُ " . ثُمَّ قَالَ فِي الرَّابِعَةِ " فَإِنْ عَادَ فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“If he gets drunk, then whip him. If he does it again, then whip him. If he does it again, then whip him.' And he said concerning the fourth time: 'If he does it again, then strike his neck (i.e., execute him).' ”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی نشے میں آ جائے تو اسے کوڑے لگاؤ، اور اگر پھر ایسا کرے تو پھر کوڑے مارو، اور پھر بھی ایسا کرے تو پھر کوڑے مارو ، پھر چوتھی بار کے لیے فرمایا: اس کے بعد بھی ایسا کرے تو اس کی گردن اڑا دو ۱؎۔
حَدَّثَنَا رَجَاءُ بْنُ الْمُرَجَّى السَّمَرْقَنْدِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ غَالِبٍ التَّمَّارِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الأَصَابِعُ سَوَاءٌ " .
It was narrated from Abu Musa Al-Ash'ari that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The fingers are the same.”
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( دیت کے معاملہ میں ) سب انگلیاں برابر ہیں ۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ يُخَامِرَ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ فُوَاقَ نَاقَةٍ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " .
Mu’adh bin Jabal narrated that he heard the Prophet (ﷺ) say:“Any Muslim who fights in the cause of Allah for the time between two milkings of a she-camel, he will be guaranteed Paradise.”
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہو ے سنا: جو مسلمان شخص اللہ کے راستے میں اونٹنی کا دودھ دوھنے کے درمیانی وقفہ کے برابر لڑا، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی ۱؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ الأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " مَا مِنْ مُلَبٍّ يُلَبِّي إِلاَّ لَبَّى مَا عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ مِنْ حَجَرٍ أَوْ شَجَرٍ أَوْ مَدَرٍ حَتَّى تَنْقَطِعَ الأَرْضُ مِنْ هَا هُنَا وَهَا هُنَا " .
It was narrated from Sahl bin Sa’d As-Sa’idi that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“There is no (pilgrim) who recites the Talbiyah but that which is to his right and left also recites it, rocks and trees and hills, to the farthest ends of the earth in each direction, from here and from there.”
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی تلبیہ کہنے والا تلبیہ کہتا ہے، تو اس کے دائیں اور بائیں دونوں جانب سے درخت، پتھر اور ڈھیلے سبھی تلبیہ کہتے ہیں، دونوں جانب کی زمین کے آخری سروں تک ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا . قَالَ شُعْبَةُ قَالَ عَاصِمٌ يَوْمَئِذٍ وَهَذَا الأَعْمَشُ يَرْوِيهِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ وَمَا حَفِظَهُ . فَسَأَلْتُ عَنْهُ مَنْصُورًا فَحَدَّثَنِيهِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا .
Shu'bah narrated from 'Asim from Abu Wa'il from Mughirah bin Shu'bah that:The Messenger of Allah came to the garbage dump of some people and urinated while standing up. (Hasan) Shu'bah said: "That day, 'Asim said: 'Amash reported this from Abu Wa'il, from Hudhaifah, but he did not remember it (correctly). So I asked Mansur about it, and he narrated it to me from Abu Wa'il, from Hudhaifah, that the Prophet came to a dump of some people and urinated while standing
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کے کوڑا خانہ پر آئے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنْ لُحُومِ الأَضَاحِيِّ لِجَهْدِ النَّاسِ ثُمَّ رَخَّصَ فِيهَا .
It was narrated that ‘Aishah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) only forbade storing the meat of the sacrifices because the people were facing hardship. Then later he permitted that.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی محتاجی اور فقر کی وجہ سے قربانی کے گوشت کی ذخیرہ اندوزی سے منع فرما دیا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دے دی۔
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْهَرَوِيُّ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لَمْ يُحَرِّمِ الضَّبَّ وَلَكِنْ قَذِرَهُ وَإِنَّهُ لَطَعَامُ عَامَّةِ الرِّعَاءِ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَنْفَعُ بِهِ غَيْرَ وَاحِدٍ وَلَوْ كَانَ عِنْدِي لأَكَلْتُهُ . حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَحْوَهُ .
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah:“The Prophet (ﷺ) did not forbid (eating) mastigures, but he found that distasteful. It is the food of most shepherds, and Allah, the Mighty and Sublime, has benefited more than one person thereby. If I had some I would eat it.” Another chain reports a similar hadith
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ضب ( گوہ ) کو حرام نہیں کیا، لیکن آپ نے اسے ناپسند فرمایا، اور وہ عام چرواہوں کا کھانا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ متعدد بہت سارے لوگوں کو فائدہ دیتا ہے، اور وہ اگر میرے پاس ہوتی تو اسے میں ضرور کھاتا۔
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا أَحَدُكُمْ قَرَّبَ إِلَيْهِ مَمْلُوكُهُ طَعَامًا قَدْ كَفَاهُ عَنَاءَهُ وَحَرَّهُ فَلْيَدْعُهُ فَلْيَأْكُلْ مَعَهُ فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ فَلْيَأْخُذْ لُقْمَةً فَلْيَجْعَلْهَا فِي يَدِهِ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“When the slave of anyone of you brings his food to him, for which he (the slave) has worked hard and endured heat, let him invite him to eat with him, and if he does not do that then let him take a morsel and put it in his hand.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کا غلام جب اس کے سامنے کھانا پیش کرے جس کو تیار کرنے میں اس نے اس کی طرف سے تکلیف اور گرمی برداشت کی ہے، تو اسے چاہیئے کہ اسے بھی بلائے تاکہ وہ بھی اس کے ساتھ کھائے، اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس کو چاہیئے کہ ایک لقمہ لے کر اس کے ہاتھ پر رکھ دے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهُ قَالَ " غَطُّوا الإِنَاءَ وَأَوْكُوا السِّقَاءَ وَأَطْفِئُوا السِّرَاجَ وَأَغْلِقُوا الْبَابَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لاَ يَحُلُّ سِقَاءً وَلاَ يَفْتَحُ بَابًا وَلاَ يَكْشِفُ إِنَاءً فَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلاَّ أَنْ يَعْرُضَ عَلَى إِنَائِهِ عُودًا وَيَذْكُرَ اسْمَ اللَّهِ فَلْيَفْعَلْ فَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ بَيْتَهُمْ " .
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Cover your vessels, tie your water skins, extinguish your lamps and lock your doors, for Satan does not untie a water skin, open a door or uncover a vessel. If a person cannot find anything but a stick with which to cover his vessel and mention the Name of Allah, then let him do so. And the mouse could set fire to the house with its people inside.”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: برتن کو ڈھانک کر رکھو، مشک کا منہ بند کر کے رکھو، چراغ بجھا دو، اور دروازہ بند کر لو، اس لیے کہ شیطان نہ ایسی مشک کو کھولتا ہے، اور نہ ایسے دروازے کو اور نہ ہی ایسے برتن کو جو بند کر دیا گیا ہو، اب اگر تم میں سے کسی کو ڈھانکنے کے لیے لکڑی کے علاوہ کوئی چیز نہ ہو تو اسی کو «بسم الله» کہہ کر برتن پر آڑا رکھ دے، اس لیے کہ چوہیا لوگوں کے گھر جلا دیتی ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " الْحُمَّى كِيرٌ مِنْ كِيرِ جَهَنَّمَ فَنَحُّوهَا عَنْكُمْ بِالْمَاءِ الْبَارِدِ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Fever is one of the bellows of Hell, so avert it from yourselves with cold water.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بخار جہنم کی بھٹیوں میں سے ایک بھٹی ہے لہٰذا اسے ٹھنڈے پانی سے دور کرو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ الدِّيبَاجِ وَالْحَرِيرِ وَالإِسْتَبْرَقِ .
It was narrated that Bara’ bin ‘Azib said:“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade brocade, silk, and embroidered brocade.”
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مردوں کے لیے ) دیباج، حریر اور استبرق ( موٹا ریشمی کپڑا ) پہننے سے منع کیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ لَهَا " إِنَّ جِبْرَائِيلَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلاَمَ " . قَالَتْ وَعَلَيْهِ السَّلاَمُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ .
It was narrated from Abu Salamah that 'Aishah told him that the Messenger of Allah(ﷺ) said to her:"Jibrail send (greetings of) Salam to you." She said: "Wa 'alahisalam wa rahmatullah (and upon him be peace and mercy of Allah)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: جبرائیل علیہ السلام تمہیں سلام کہتے ہیں ( یہ سن کر ) انہوں نے جواب میں کہا: «وعليه السلام ورحمة الله» ( اور ان پر بھی سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو ) ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا عَائِذُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا دَعَوْتَ اللَّهَ فَادْعُ بِبُطُونِ كَفَّيْكَ وَلاَ تَدْعُ بِظُهُورِهِمَا فَإِذَا فَرَغْتَ فَامْسَحْ بِهِمَا وَجْهَكَ " .
It was narrated from Ibn 'Abbas that :the Messenger of Allah (saas) said: "When you supplicate to Allah, supplicate with your palms uppermost, not with the backs of your hands uppermost, and when you finish, wipe your face with them
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اللہ تعالیٰ سے دعا کرو تو اپنے ہاتھ کی اندرونی ہتھیلیوں سے دعا کیا کرو، ان کی پشت اپنی طرف کر کے دعا نہ کرو، پھر جب دعا سے فارغ ہو جاؤ تو اپنے ہاتھ اپنے منہ پر پھیرو ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " إِذَا الْمُسْلِمَانِ حَمَلَ أَحَدُهُمَا عَلَى أَخِيهِ السِّلاَحَ فَهُمَا عَلَى جُرُفِ جَهَنَّمَ فَإِذَا قَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ دَخَلاَهَا جَمِيعًا " .
It was narrated from Abu Bakrah that the Prophet (ﷺ) said:“When one Muslim wields his weapon against his brother, both of them are at the edge of Hell, and if one of them kills the other, they will both enter it.”
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو مسلمان ایک دوسرے پر ہتھیار اٹھاتے ہیں تو وہ جہنم کے کنارے پر ہوتے ہیں، پھر جب ان میں سے کوئی ایک دوسرے کو قتل کر دے تو قاتل اور مقتول دونوں ایک ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " مَنْ رَوَى عَنِّي حَدِيثًا وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبَيْنِ " . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنْبَأَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الأَشْيَبُ، عَنْ شُعْبَةَ، مِثْلَ حَدِيثِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ .
It was narrated from `Ali that:The Prophet (ﷺ) said: "Whoever narrates a Hadith from me thinking it to be false, then he is one of the two liars." Another chain similar to the narration of Samurah bin Jundub
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے مجھ سے کوئی حدیث یہ جانتے ہوئے بیان کی کہ وہ جھوٹ ہے تو وہ دو جھوٹوں میں سے ایک ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا " .
It was narrated from Abu Hurairah hat the Messenger of Allah (ﷺ) said:“O Allah, make the provision of the family of Muhammad sufficient for them.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم اجعل رزق آل محمد قوتا» اے اللہ! آل محمد کو بہ قدر ضرورت روزی دے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ لاَ يَنْهَزُهُ إِلاَّ الصَّلاَةُ لاَ يُرِيدُ إِلاَّ الصَّلاَةَ لَمْ يَخْطُ خَطْوَةً إِلاَّ رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً حَتَّى يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ فَإِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ كَانَ فِي صَلاَةٍ مَا كَانَتِ الصَّلاَةُ تَحْبِسُهُ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'When one of you performs ablution and does it well, then he comes to the mosque with no other motive but prayer and not seeking anything other than the prayer, he does not take one step but Allah raises him in status one degree thereby, and takes away one of his sins, until he enters the mosque. When he enters the mosque he is in a state of prayer so long as he is waiting for the prayer
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص اچھی طرح وضو کرے، پھر مسجد آئے، اور نماز ہی اس کے گھر سے نکلنے کا سبب ہو، اور وہ نماز کے علاوہ کوئی اور ارادہ نہ رکھتا ہو، تو ہر قدم پہ اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے اور ایک گناہ مٹاتا ہے، یہاں تک کہ مسجد میں داخل ہو جائے، پھر مسجد میں داخل ہو گیا تو جب تک نماز اسے روکے رکھے نماز ہی میں رہتا ہے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ سَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ أَقْرَأُ وَالإِمَامُ يَقْرَأُ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَفِي كُلِّ صَلاَةٍ قِرَاءَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " نَعَمْ " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ وَجَبَ هَذَا .
Abu Idris Al-Khawlani narrated that a man asked Abu Darda’:“Should I recite when the Imam is reciting?” He said: “A man asked the Prophet (ﷺ) whether there was recitation in every prayer. The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Yes.’ A man among the people said: ‘It has become obligatory.’”
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے ان سے پوچھا اور کہا: جس وقت امام قراءت کر رہا ہو کیا میں امام کے پیچھے قراءت کروں؟ تو انہوں نے کہا کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا ہر نماز میں قراءت ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ، یہ سن کر لوگوں میں سے ایک شخص بولا: اب تو قراءت واجب ہو گئی۔