حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ، يَقُولُ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مَاشِيًا وَأَبُو بَكْرٍ وَأَنَا فِي بَنِي سَلِمَةَ .
Jabir bin ‘Abdullah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) came walking to visit me (when I was sick), as did Abu Bakr, when I was with Banu Salimah
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ پیدل چل کر میری عیادت کے لیے آئے، اور میں ( مدینہ سے دور ) قبیلہ بنو سلمہ میں تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:‘Whoever fasts Ramadan out of faith and the hope of reward will be forgiven his previous sins.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے روزہ رکھا، اس کے اگلے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ، مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " تَأْتِي الإِبِلُ الَّتِي لَمْ تُعْطِ الْحَقَّ مِنْهَا تَطَأُ صَاحِبَهَا بِأَخْفَافِهَا وَتَأْتِي الْبَقَرُ وَالْغَنَمُ تَطَأُ صَاحِبَهَا بِأَظْلاَفِهَا وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَيَأْتِي الْكَنْزُ شُجَاعًا أَقْرَعَ فَيَلْقَى صَاحِبَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَفِرُّ مِنْهُ صَاحِبُهُ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ يَسْتَقْبِلُهُ فَيَفِرُّ صَاحِبُهُ فَيَقُولُ مَالِي وَلَكَ . فَيَقُولُ أَنَا كَنْزُكَ أَنَا كَنْزُكَ . فَيَتَّقِيهِ بِيَدِهِ فَيَلْقَمُهَا .
Abu Hurairah narrated that:the Messenger of Allah said: “The camels on which the dues (i.e. Zakat) were not paid will come, trampling their owners with their hooves. And cattle and sheep will come and trample at their owners with their hooves and butt them with their horns, And hoarded treasure will come in the form of a bald-headed snale, and will meet its owner on the Day of Resurrection. Its owner will flee from it two time, then it will come to him and he will flee again, and will say: 'What do I have to do with you?' and it will say: 'I am your hoarded treasure, I am your hoarded treasure.' He will try to shield himself with this hand and it will devour it.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جن اونٹوں کی زکاۃ نہیں دی گئی وہ آئیں گے اور اپنے مالک کو اپنے پاؤں سے روندیں گے، اور گائیں اور بکریاں آئیں گی وہ اپنے مالک کو اپنے کھروں سے روندیں گی اور اسے سینگوں سے ماریں گی، اور اس کا خزانہ ایک گنجا سانپ بن کر آئے گا، اور اپنے مالک سے قیامت کے دن ملے گا، اس کا مالک اس سے دور بھاگے گا، پھر وہ اس کے سامنے آئے گا تو وہ بھاگے گا، اور کہے گا: آخر تو میرے پیچھے کیوں پڑا ہے؟ وہ کہے گا: میں تیرا خزانہ ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں، آخر مالک اپنے ہاتھ کے ذریعہ اس سے اپنا بچاؤ کرے گا لیکن وہ اس کا ہاتھ ڈس لے گا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ، مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ لَقَدْ رَدَّ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ التَّبَتُّلَ وَلَوْ أَذِنَ لَهُ لاَخْتَصَيْنَا .
It was narrated that:Sa'd said: “The Messenger of Allah disapproved of Uthman bin Maz'un's desire to remain celibate; if he had given him permission, we would have gotten ourselves castrated.”
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی شادی کے بغیر زندگی گزارنے کی درخواست رد کر دی، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی ہوتی تو ہم خصی ہو جاتے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ طَلَّقْتُ امْرَأَتِي وَهِيَ حَائِضٌ فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ " مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ ثُمَّ تَطْهُرَ ثُمَّ إِنْ شَاءَ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يُجَامِعَهَا وَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا فَإِنَّهَا الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ " .
It was narrated that Ibn 'Umar said:"I divorced my wife when she was menstruating. 'Umar mentioned that to the Messenger of Allah and he said: 'Tell him to take her back until she becomes pure (i.e., her period ends), then she has her period (again), then she becomes pure (again), then if he wishes he may divorce her before having sexual relations with her, and if he wishes he may keep her. This is the waiting period that Allah has enjoined
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی، عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں حکم دو کہ اپنی بیوی سے رجوع کر لیں یہاں تک کہ وہ عورت حیض سے پاک ہو جائے پھر اسے حیض آئے، اور اس سے بھی پاک ہو جائے، پھر ابن عمر اگر چاہیں تو جماع سے پہلے اسے طلاق دے دیں، اور اگر چاہیں تو روکے رکھیں یہی عورتوں کی عدت ہے جس کا اللہ نے حکم دیا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ، ح وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، جَمِيعًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَتْ يَمِينُ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The swearing of the Messenger of Allah (ﷺ) was: 'No, and I ask Allah for forgiveness
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم یوں ہوتی تھی: «لا وأستغفر الله» ایسا نہیں ہے، اور میں اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہوں ۱؎۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " السَّاعِي عَلَى الأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَكَالَّذِي يَقُومُ اللَّيْلَ وَيَصُومُ النَّهَارَ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:'The one who strives to support the widow and the poor is like a Mujahid who fights in the cause of Allah, and like one who stands in the night (in voluntary prayer) and fasts by day
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیوہ عورتوں اور مسکینوں کے لیے محنت و کوشش کرنے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے مانند ہے، اور اس شخص کے مانند ہے جو رات بھر قیام کرتا، اور دن کو روزہ رکھتا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ حَاكِمٍ يَحْكُمُ بَيْنَ النَّاسِ إِلاَّ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَلَكٌ آخِذٌ بِقَفَاهُ ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَإِنْ قَالَ أَلْقِهِ أَلْقَاهُ فِي مَهْوَاةٍ أَرْبَعِينَ خَرِيفًا " .
It was narrated that 'Abdullah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: “There is no judge who judges between the people but on the Day of Resurrection an angel will come and take hold of the back of his head towards the sky and if it said: “Throw him, “he will throw into an abyss the depth of forty autumns (years).' ”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو حاکم بھی لوگوں کے درمیان فیصلے کرتا ہے، وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ ایک فرشتہ اس کی گدی پکڑے ہوئے ہو گا، پھر وہ فرشتہ اپنا سر آسمان کی طرف اٹھائے گا، اگر حکم ہو گا کہ اس کو پھینک دو، تو وہ اسے ایک ایسی کھائی میں پھینک دے گا جس میں وہ چالیس برس تک گرتا چلا جائے گا ۔
حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ عَامِرٍ الأَحْوَلِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَرْجِعْ أَحَدُكُمْ فِي هِبَتِهِ إِلاَّ الْوَالِدَ مِنْ وَلَدِهِ " .
It was narrated from Amr bin Shu'aib, from his father, from, his Grandfather, that the Prophet (ﷺ) of Allah (SWT) said:“None of you should take back his gift, except a father (taking it back) from his son.”
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہبہ کر کے کوئی واپس نہ لے سوائے باپ کے جو وہ اپنی اولاد کو کرے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، أَنَّهُ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ يُقَالُ لَهُ غَمْرٌ أَوْ غَمْرَةٌ فَرَأَى مُهْرًا أَوْ مُهْرَةً مِنْ أَفْلاَئِهَا يُبَاعُ يُنْسَبُ إِلَى فَرَسِهِ فَنَهَى عَنْهَا .
It was narrated from Zubair bin 'Awwam that :he gave a horse called Ghamr or Ghamrah to someone, then he saw one of its colts or fillies attributed to his horse being sold, but he refrained from (buging) it
زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک گھوڑی صدقہ میں دی جس کو غمر یا غمرۃ کہا جاتا تھا، پھر اسی کے بچوں میں ایک بچھیرا یا بچھیری کو بکتا دیکھا، جو ان کی گھوڑی کی نسل سے تعلق رکھتا تھا، تو اس کو خریدنے سے روک دیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا هِلاَلُ بْنُ خَبَّابٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَاتَ وَدِرْعُهُ رَهْنٌ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِثَلاَثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ .
It was narrated from Ibn 'Abbas that:the Messenger of Allah (ﷺ) died while his armor was pawned to a Jew for thirty Sa’s of barley.' ”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، اور آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس تیس صاع جو کے عوض گروی رکھی ہوئی تھی۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ " .
It was narrated from Abu Rafi' that the Prophet (ﷺ) said:“The neighbor has more right to property that is near.”
ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پڑوسی اپنے نزدیکی مکان کا زیادہ حقدار ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي الْعَلاَءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ وَجَدَ لُقَطَةً فَلْيُشْهِدْ ذَا عَدْلٍ أَوْ ذَوَىْ عَدْلٍ ثُمَّ لاَ يُغَيِّرْهُ وَلاَ يَكْتُمْ فَإِنْ جَاءَ رَبُّهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا وَإِلاَّ فَهُوَ مَالُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ " .
It was narrated from 'Iyad bin Himar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever finds lost property, let him ask one or two men of good character to witness it, then he should not alter it nor conceal it. If its owner comes along, then he has more right to it, otherwise it belongs to Allah (SWT), Who gives it to whomsoever He wills.”
عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کو کوئی گری پڑی چیز ملے تو وہ ایک یا دو معتبر شخص کو اس پر گواہ بنا لے، پھر وہ نہ اس میں تبدیلی کرے اور نہ چھپائے، اگر اس کا مالک آ جائے تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے، ورنہ وہ اللہ کا مال ہے جس کو چاہتا ہے دے دیتا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَيُّمَا رَجُلٍ وَلَدَتْ أَمَتُهُ مِنْهُ فَهِيَ مُعْتَقَةٌ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ " .
It was narrated from Ibn`Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Any man whose slave won an bears him a child, she will be free after he dies.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لونڈی اپنے مالک کا بچہ جنے، تو وہ مالک کے مر جانے کے بعد آزاد ہو جائے گی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْ مُشْرِكٍ أَشْرَكَ بَعْدَ مَا أَسْلَمَ عَمَلاً حَتَّى يُفَارِقَ الْمُشْرِكِينَ إِلَى الْمُسْلِمِينَ " .
It was narrated from Bahz bin Hakim, from his father, from his grandfather that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Allah (SWT) will not accept any good deed from a polytheist who committed polytheism after having become Muslim, until he leaves the polytheists and joins the Muslims.”
معاویہ بن حیدۃ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کسی ایسے مشرک کا کوئی عمل قبول نہیں کرے گا جو اسلام لانے کے بعد شرک کرے، الا یہ کہ وہ پھر مشرکین کو چھوڑ کر مسلمانوں سے مل جائے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لاَ يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا لَمْ يَتَنَدَّ بِدَمٍ حَرَامٍ دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
It was narrated from Uqbah bin Amir Al-Juhani that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever meets Allah (SWT) not associating anything in worship with him, and not having shed any blood unlawfully, will enter Paradise.”
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے کہ وہ نہ تو شرک کرتا ہو اور نہ ہی اس نے خون ناحق کیا ہو تو وہ جنت میں جائے گا ۔
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ أُمِّ مُوسَى، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ كَانَ آخِرُ كَلاَمِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " الصَّلاَةَ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ " .
It was narrated that 'Ali bin Abu Talib said:“The last words of the Prophet (ﷺ) were: The prayer; and those whom your right hands prossess.”
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری بات یہ تھی: نماز کا اور اپنے غلام و لونڈی کا خیال رکھنا ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الصَّبَّاحِ، وَعَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالاَ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زَبَّانَ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " يُجْزِئُ مِنَ الْوُضُوءِ مُدٌّ وَمِنَ الْغُسْلِ صَاعٌ " . فَقَالَ رَجُلٌ لاَ يُجْزِئُنَا . فَقَالَ قَدْ كَانَ يُجْزِئُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ وَأَكْثَرُ شَعَرًا . يَعْنِي النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ .
Abdullah bin Muhammed bin 'Aqil bin Abu Talib narrated from his father that his grandfather said:"The Messenger of Allah said: 'A Mudd is sufficient for the ablution and a Sa' is sufficient for the bath.' A man said: 'It is not sufficient for us.'" He (the narrator) said: "It was sufficient for one who is better than you and had more hair" meaning the Prophet
عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضو میں ایک مد اور غسل میں ایک صاع پانی کافی ہے ، اس پر ایک شخص نے کہا: ہمیں اتنا پانی کافی نہیں ہوتا، تو انہوں نے کہا: تم سے بہتر ذات کو، اور تم سے زیادہ بالوں والے ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) کو کافی ہو جاتا تھا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ الْمُزَنِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِفَرِيضَةٍ فِيهَا جَدٌّ فَأَعْطَاهُ ثُلُثًا أَوْ سُدُسًا .
It was narrated that Ma’qil bin Yasar Al-Muzani said:“I heard the Prophet (ﷺ) when a case was brought to him which involved the share of a grandfather. He gave him one third, or one sixth.”
معقل بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ کے پاس ترکے کا ایک ایسا مقدمہ لایا گیا جس میں دادا بھی ( وراثت کا حقدار ) تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک تہائی یا چھٹا حصہ دیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ مَنْظُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " غَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " .
It was narrated from Sahl bin Sa’d As-Sa’idi that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Going out in the morning in the cause of Allah, or in the evening, is better than the world and what is in it.”
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام ( کا وقت گزارنا ) دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ الْحَجُّ فِي كُلِّ عَامٍ قَالَ " لَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ وَلَوْ وَجَبَتْ لَمْ تَقُومُوا بِهَا وَلَوْ لَمْ تَقُومُوا بِهَا عُذِّبْتُمْ " .
It was narrated that Anas bin Malik said:“They said: ‘O Messenger of Allah, is Hajj (required) every year?’ He said: ‘If I were to say yes, it would have become obligatory, and if it were to become obligatory, you would not (be able to) do it, and if you did not do it you would be punished.’”
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا حج ہر سال واجب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: اگر میں ہاں کہہ دوں تو وہ ( ہر سال ) واجب ہو جائے گا، اور اگر ( ہر سال ) واجب ہو گیا تو تم اسے انجام نہ دے سکو گے، اور اگر انجام نہ دے سکے تو تمہیں عذاب دیا جائے گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ وَلَمْ يُضَحِّ فَلاَ يَقْرَبَنَّ مُصَلاَّنَا " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever can afford it, but does not offer a sacrifice, let him not come near our prayer place.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو ( قربانی کی ) وسعت ہو اور وہ قربانی نہ کرے، تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ پھٹکے ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " كُلُّ غُلاَمٍ مُرْتَهَنٌ بِعَقِيقَتِهِ تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ السَّابِعِ وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ وَيُسَمَّى " .
It was narrated from Samurah that the Prophet (ﷺ) said:“Every boy is mortgaged by his ‘Aqiqah, so slaughter for him on the seventh day, and shave his head, and name him.”
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر لڑکا اپنے عقیقہ میں گروی ہے، اس کی طرف سے ساتویں دن عقیقہ کیا جائے، اس کا سر مونڈا جائے، اور نام رکھا جائے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو طَاهِرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَافِعًا صَوْتَهُ يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْكِلاَبِ وَكَانَتِ الْكِلاَبُ تُقْتَلُ إِلاَّ كَلْبَ صَيْدٍ أَوْ مَاشِيَةٍ .
It was narrated from Salim that his father said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) raising his voice and commanding that dogs be killed, and dogs were killed, except for hunting dogs or dogs kept for herding livestock.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلند آواز سے کتوں کے قتل کا حکم فرماتے ہوئے سنا: اور کتے قتل کئیے جاتے تھے بجز شکاری اور ریوڑ کے کتوں کے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زِيَادٍ الأَسَدِيُّ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَنْبَأَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الاِثْنَيْنِ وَطَعَامُ الاِثْنَيْنِ يَكْفِي الأَرْبَعَةَ وَطَعَامُ الأَرْبَعَةِ يَكْفِي الثَّمَانِيَةَ " .
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The food of one person is sufficient for two, the food of two is sufficient for four, and the food for four is sufficient for eight.”
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک شخص کا کھانا دو کے لیے کافی ہوتا ہے اور دو کا کھانا چار کے لیے کافی ہوتا ہے، اور چار کا کھانا آٹھ افراد کے لیے کافی ہوتا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُسَيْنٍ، حَدَّثَهُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الآخِرَةِ " .
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever drinks wine in this world, he will not drink it in the Hereafter.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو دنیا میں شراب پئے گا، وہ آخرت میں اس سے محروم رہے گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَا أَنْزَلَ اللَّهُ دَاءً إِلاَّ أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Allah does not send down any disease, but He also sends down the cure.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ایسی کوئی بیماری نہیں اتاری جس کا علاج نہ اتارا ہو ۱؎۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَعَلَيْهِ رِدَاءٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الْحَاشِيَةِ .
It was narrated that Anas bin Malik said:“I was with the Messenger of Allah (ﷺ) and over him was a Najrani upper wrap with a thick border.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ کے جسم پر موٹے کنارے والی نجرانی چادر تھی۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " الْقِنْطَارُ اثْنَا عَشَرَ أَلْفَ أُوقِيَّةٍ كُلُّ أُوقِيَّةٍ خَيْرٌ مِمَّا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ " . وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ الرَّجُلَ لَتُرْفَعُ دَرَجَتُهُ فِي الْجَنَّةِ فَيَقُولُ أَنَّى هَذَا فَيُقَالُ بِاسْتِغْفَارِ وَلَدِكَ لَكَ " .
Abu Hurairah, may Allah be pleased with them, narrated that:Allah's Messenger said: "Qintar is twelve thousand 'Uqiyah, each 'Uqiyah of which is better than what is between heaven and earth." And the Messenger of Allah(ﷺ) said: "A man will be raised in status in Paradise and will say: 'Where did this come from?' And it will be said:'From your son's praying for forgiveness for you
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «قنطار» بارہ ہزار «اوقیہ» کا ہوتا ہے، اور ہر «اوقیہ» آسمان و زمین کے درمیان پائی جانے والی چیزوں سے بہتر ہے ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی فرمان ہے: آدمی کا درجہ جنت میں بلند کیا جائے گا، پھر وہ کہتا ہے کہ میرا درجہ کیسے بلند ہو گیا ( حالانکہ ہمیں عمل کا کوئی موقع نہیں رہا ) اس کو جواب دیا جائے گا: تیرے لیے تیری اولاد کے دعا و استغفار کرنے کے سبب سے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، سَنَةَ إِحْدَى وَثَلاَثِينَ وَمِائَتَيْنِ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، فِي سَنَةِ خَمْسٍ وَتِسْعِينَ وَمِائَةٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ فِي مَجْلِسِ الأَعْمَشِ مُنْذُ خَمْسِينَ سَنَةً حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ الْجَمَلِيُّ فِي زَمَنِ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُكْتِبِ عَنْ طَلِيقِ بْنِ قَيْسٍ الْحَنَفِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ " رَبِّ أَعِنِّي وَلاَ تُعِنْ عَلَىَّ وَانْصُرْنِي وَلاَ تَنْصُرْ عَلَىَّ وَامْكُرْ لِي وَلاَ تَمْكُرْ عَلَىَّ وَاهْدِنِي وَيَسِّرِ الْهُدَى لِي وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ بَغَى عَلَىَّ رَبِّ اجْعَلْنِي لَكَ شَكَّارًا لَكَ ذَكَّارًا لَكَ رَهَّابًا لَكَ مُطِيعًا إِلَيْكَ مُخْبِتًا إِلَيْكَ أَوَّاهًا مُنِيبًا رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِي وَاغْسِلْ حَوْبَتِي وَأَجِبْ دَعْوَتِي وَاهْدِ قَلْبِي وَسَدِّدْ لِسَانِي وَثَبِّتْ حُجَّتِي وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ قَلْبِي " . قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الطَّنَافِسِيُّ قُلْتُ لِوَكِيعٍ أَقُولُهُ فِي قُنُوتِ الْوِتْرِ قَالَ نَعَمْ .
It was narrated from Ibn 'Abbas that :the Prophet (saas) used to say in his supplication: "Rabbi! A'inni wa la tu'in 'alayya, wansurni wa la tansur 'alayya, wamkurli wa la tamkur 'alayya, wahdini wa yassiril-huda li, wansurni 'ala man bagha 'alayya. Rabbij'alni laka shakkaran laka dhakkaran, laka rahhaban, laka muti'an, 'ilayka mukhbitan, 'ilayka awwahan muniba. Rabbi! Taqabbal tawbati, waghsil hawbati wa ajib da'wati, wahdi qalbi, wa saddid lisani, wa thabbit hujjati, waslul sakhimata qalbi (O Lord! Help me and do not help others against me, support me and do not support others against me, plan for me and do not plan against me, guide me and make guidance easy for me, and help me against those who wrong me. O Lord! Make me grateful to You, make me remember You much, make me fearful of You, obedient to You, humble before You and turning to You. O Lord! Accept my repentance and wash away my sins, answer my supplication, guide my heart, make my tongue speak the truth, make my proof firm and remove resentment from my heard)." (Sahih)(One of the narrators) Abul-Hasan At-Tanafisi said: "I said to Waki': 'Shall I say it in the Qunut of Witr?' He said: 'Yes
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں یہ پڑھا کرتے تھے: «رب أعني ولا تعن علي وانصرني ولا تنصر علي وامكر لي ولا تمكر علي واهدني ويسر الهدى لي وانصرني على من بغى علي رب اجعلني لك شكارا لك ذكارا لك رهابا لك مطيعا إليك مخبتا إليك أواها منيبا رب تقبل توبتي واغسل حوبتي وأجب دعوتي واهد قلبي وسدد لساني وثبت حجتي واسلل سخيمة قلبي» اے میرے رب! میری مدد فرما، اور میرے مخالف کی مدد مت کر، اور میری تائید فرما، اور میرے مخالف کی تائید مت کر، اور میرے لیے تدبیر فرما، میرے خلاف کسی کی سازش کامیاب نہ ہونے دے، اور مجھے ہدایت فرما، اور ہدایت کو میرے لیے آسان کر دے، اور اس شخص کے مقابلہ میں میری مدد فرما جو مجھ پر ظلم کرے، اے اللہ! مجھے اپنا شکر گزار اور ذکر کرنے والا، ڈرنے والا، اور اپنا مطیع فرماں بردار، رونے اور گڑگڑانے والا، رجوع کرنے والا بندہ بنا لے، اے اللہ میری توبہ قبول فرما، میرے گناہ دھو دے، میری دعا قبول فرما، میرے دل کو صحیح راستے پر لگا، میری زبان کو مضبوط اور درست کر دے، میری دلیل و حجت کو مضبوط فرما، اور میرے دل سے بغض و عناد ختم کر دے ۔ ابوالحسن طنافسی کہتے ہیں کہ میں نے وکیع سے کہا: کیا میں یہ دعا قنوت وتر میں پڑھ لیا کروں؟ تو انہوں نے کہا: ہاں پڑھ لیا کرو۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ الْكَعْبِيَّةِ، قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " ذَهَبَتِ النُّبُوَّةُ وَبَقِيَتِ الْمُبَشِّرَاتُ " .
It was narrated that Umm Kurz Al-Ka’biyyah said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘Prophecy is gone, but good dreams remain.’”
ام کرز کعبیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: نبوت ختم ہو گئی لیکن مبشرات ( اچھے خواب ) باقی ہیں ۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ السُّمَيْطِ بْنِ السُّمَيْرِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ، قَالَ أَتَى نَافِعُ بْنُ الأَزْرَقِ وَأَصْحَابُهُ فَقَالُوا هَلَكْتَ يَا عِمْرَانُ . قَالَ مَا هَلَكْتُ . قَالُوا بَلَى . قَالَ مَا الَّذِي أَهْلَكَنِي قَالُوا قَالَ اللَّهُ {وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لاَ تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ} . قَالَ قَدْ قَاتَلْنَاهُمْ حَتَّى نَفَيْنَاهُمْ فَكَانَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ إِنْ شِئْتُمْ حَدَّثْتُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ . قَالُوا وَأَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ . قَالَ نَعَمْ شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَقَدْ بَعَثَ جَيْشًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ فَلَمَّا لَقُوهُمْ قَاتَلُوهُمْ قِتَالاً شَدِيدًا فَمَنَحُوهُمْ أَكْتَافَهُمْ فَحَمَلَ رَجُلٌ مِنْ لُحْمَتِي عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ بِالرُّمْحِ فَلَمَّا غَشِيَهُ قَالَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ إِنِّي مُسْلِمٌ فَطَعَنَهُ فَقَتَلَهُ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْتُ قَالَ " وَمَا الَّذِي صَنَعْتَ " . مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي صَنَعَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " فَهَلاَّ شَقَقْتَ عَنْ بَطْنِهِ فَعَلِمْتَ مَا فِي قَلْبِهِ " . قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ شَقَقْتُ بَطْنَهُ أَكُنْتُ أَعْلَمُ مَا فِي قَلْبِهِ قَالَ " فَلاَ أَنْتَ قَبِلْتَ مَا تَكَلَّمَ بِهِ وَلاَ أَنْتَ تَعْلَمُ مَا فِي قَلْبِهِ " . قَالَ فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَلَمْ يَلْبَثْ إِلاَّ يَسِيرًا حَتَّى مَاتَ فَدَفَنَّاهُ فَأَصْبَحَ عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ فَقَالُوا لَعَلَّ عَدُوًّا نَبَشَهُ فَدَفَنَّاهُ ثُمَّ أَمَرْنَا غِلْمَانَنَا يَحْرُسُونَهُ فَأَصْبَحَ عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ فَقُلْنَا لَعَلَّ الْغِلْمَانَ نَعَسُوا فَدَفَنَّاهُ ثُمَّ حَرَسْنَاهُ بِأَنْفُسِنَا فَأَصْبَحَ عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ فَأَلْقَيْنَاهُ فِي بَعْضِ تِلْكَ الشِّعَابِ .
It was narrated from Sumait bin Sumair, that ‘Imran bin Husain said:“Nafi’ bin Azraq and his companions came and said: ‘You are doomed, O ‘Imran!’ He (‘Imran) said: ‘I am not doomed.’ They said: ‘Yes you are.’ I said: ‘Why am I doomed?’ They said: ‘Allah says: “And fight them until there is no more Fitnah (disbelief and polytheism, i.e., worshipping others besides Allah), and the religion (worship) will be all for Allah Alone.”[8:39] He said: ‘We fought them until they were defeated and the religion was all for Allah Alone. If you wish, I will tell you a Hadith that I heard from the Messenger of Allah (ﷺ).’ They said: ‘Did you (really) hear it from the Messenger of Allah (ﷺ)?’ He said: ‘Yes. I was with the Messenger of Allah (ﷺ) and he had sent an army of the Muslims to the idolaters. When they met them they fought them fiercely, and they (the idolaters) gave them their shoulders (i.e., turned and fled). A man among my kin attacked an idolator man with a spear, and when he was defeated he said: “I bear witness that none has the right to be worshipped but Allah, I am a Muslim.” But he stabbed him and killed him. He came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: “O Messenger of Allah, I am doomed.” He said “What is it that you have done?” one or two times. He told him what he had done and the Messenger of Allah (ﷺ) said to him: “Why didn’t you cut open his belly and find out what was in his heart?” He said: “O Messenger of Allah, I wish I had cut open his belly and could have known what was in his heart.” He said: “You did not accept what he said, and you could not have known what was in his heart!” The Messenger of Allah (ﷺ) remained silent concerning him (that man), and a short while later he died. We buried him, but the following morning he was on the surface of the earth. They said: “Perhaps an enemy of his disinterred him.” So we buried him (again) and told our slaves to stand guard. But the following morning he was on the surface of the earth again then we said: ‘Perhaps the slaves dozed off.’ So we buried him (again) and stood guard ourselves, but the following morning he was on the surface of the earth (again). So we threw him into one of these mountain passes.’”
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نافع بن ازرق اور ان کے اصحاب ( و تلامیذ ) آئے، اور کہنے لگے: عمران! آپ ہلاک و برباد ہو گئے! عمران رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ہلاک نہیں ہوا، انہوں نے کہا: کیوں نہیں، آپ ضرور ہلاک ہو گئے، تو انہوں نے کہا: آخر کس چیز نے مجھے ہلاک کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة ويكون الدين كله لله» کافروں و مشرکوں سے قتال کرو یہاں تک کہ فتنہ ( یعنی شرک ) باقی نہ رہے، اور دین پورا کا پورا اللہ کا ہو جائے ( سورة الأنفال: 39 ) ، عمران رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نے کفار سے اسی طرح لڑائی کی یہاں تک کہ ہم نے ان کو وطن سے باہر نکال دیا، اور دین پورا کا پورا اللہ کا ہو گیا، اگر تم چاہو تو میں تم سے ایک حدیث بیان کروں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، ان لوگوں نے کہا: کیا آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ کہا: ہاں، میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، میں آپ کے ساتھ موجود تھا، اور آپ نے مسلمانوں کا ایک لشکر مشرکین کے مقابلے کے لیے بھیجا تھا، جب ان کی مڈبھیڑ مشرکوں سے ہوئی، تو انہوں نے ان سے ڈٹ کر جنگ کی، آخر کار مشرکین نے اپنے کندھے ہماری جانب کر دئیے ( یعنی ہار کر بھاگ نکلے ) ، میرے ایک رشتہ دار نے مشرکین کا تعاقب کر کے ایک مشرک پر نیزے سے حملہ کیا، جب اس کو پکڑ لیا، ( اور کافر نے اپنے آپ کو خطرہ میں دیکھا ) تو اس نے «أشهد أن لا إله إلا الله» کہہ کر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا، لیکن اس نے اسے برچھی سے مار کر قتل کر دیا، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں ہلاک اور برباد ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے کیا کیا ؟، ایک بار یا دو بار کہا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا وہ واقعہ بتایا جو اس نے کیا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کا پیٹ کیوں نہیں پھاڑا کہ جان لیتے اس کے دل میں کیا ہے ؟، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر میں اس کا پیٹ پھاڑ دیتا تو کیا میں جان لیتا کہ اس کے دل میں کیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے نہ تو اس کی بات قبول کی، اور نہ تمہیں اس کی دلی حالت معلوم تھی ۱؎۔ عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے متعلق خاموش رہے، پھر وہ کچھ ہی دن زندہ رہ کر مر گیا، ہم نے اسے دفن کیا، لیکن صبح کو اس کی لاش قبر کے باہر پڑی تھی، لوگوں نے خیال ظاہر کیا کہ کسی دشمن نے اس کی لاش نکال پھینکی ہے، خیر پھر ہم نے اس کو دفن کیا، اس کے بعد ہم نے اپنے غلاموں کو حکم دیا کہ اس کی قبر کی حفاظت کریں، لیکن پھر صبح اس کی لاش قبر سے باہر پڑی تھی، ہم نے سمجھا کہ شاید غلام سو گئے ( اور کسی دشمن نے آ کر پھر اس کی لاش نکال کر باہر پھینک دی ) ، آخر ہم نے اس کو دفن کیا، اور رات بھر خود پہرا دیا لیکن پھر اس کی لاش صبح کے وقت قبر کے باہر تھی، پھر ہم نے اس کی لاش ان گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی میں ڈال دی ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا سَمِعَ مِنْ، رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ حَدِيثًا لَمْ يَعْدُهُ وَلَمْ يُقَصِّرْ دُونَهُ .
Abu Ja'far said:"Whenever Ibn 'Umar heard a Hadith from the Messanger of Allah (ﷺ), he would not do more than it said, and he would not do less
ابو جعفر کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث سنتے تو نہ اس میں کچھ بڑھاتے، اور نہ ہی کچھ گھٹاتے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ سَهْمٍ، - رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ - قَالَ نَزَلْتُ عَلَى أَبِي هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ وَهُوَ طَعِينٌ فَأَتَاهُ مُعَاوِيَةُ يَعُودُهُ فَبَكَى أَبُو هَاشِمٍ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ مَا يُبْكِيكَ أَىْ خَالِ أَوَجَعٌ يُشْئِزُكَ أَمْ عَلَى الدُّنْيَا فَقَدْ ذَهَبَ صَفْوُهَا قَالَ عَلَى كُلٍّ لاَ وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَهِدَ إِلَىَّ عَهْدًا وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ تَبِعْتُهُ قَالَ " إِنَّكَ لَعَلَّكَ تُدْرِكُ أَمْوَالاً تُقْسَمُ بَيْنَ أَقْوَامٍ وَإِنَّمَا يَكْفِيكَ مِنْ ذَلِكَ خَادِمٌ وَمَرْكَبٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . فَأَدْرَكْتُ فَجَمَعْتُ .
It was narrated from Abu Wa’il that a man from his people – Samurah bin Sahm – said:“We stopped with Abu Hashim bin ‘Utbah, who had been stabbed, and Mu’awiyah came to visit him. Abu Hashim wept and Mu’awiyah said to him: ‘Why are you weeping, O maternal uncle? Is there some pain bothering you, or is it because of this world, the best of which has already passed?’ He said: ‘It is not for any of these reasons. But the Messenger of Allah (ﷺ) gave me some advice and I wish that I had followed it. He (ﷺ) said: “There may come a time when you will see wealth divided among the people, and all you will need of that is a servant and a mount to ride in the cause of Allah.” That time came, but I accumulated wealth.’”
سمرہ بن سہم کہتے ہیں کہ میں ابوہاشم بن عتبہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، وہ برچھی لگنے سے زخمی ہو گئے تھے، معاویہ رضی اللہ عنہ ان کی عیادت کو آئے تو ابوہاشم رضی اللہ عنہ رونے لگے، معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ماموں جان! آپ کیوں رو رہے ہیں؟ کیا درد کی شدت سے رو رہے ہیں یا دنیا کی کسی اور وجہ سے؟ دنیا کا تو بہترین حصہ گزر چکا ہے، ابوہاشم رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان میں سے کسی بھی وجہ سے نہیں رو رہا، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک نصیحت کی تھی، کاش! میں اس پر عمل کئے ہوتا! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: شاید تم ایسا زمانہ پاؤ، جب لوگوں کے درمیان مال تقسیم کیا جائے، تو تمہارے لیے اس میں سے ایک خادم اور راہ جہاد کے لیے ایک سواری کافی ہے، لیکن میں نے مال پایا، اور جمع کیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَسْبَاطِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَالأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ {وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا} قَالَ " تَشْهَدُهُ مَلاَئِكَةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ " .
It was narrated from Abu Hurairah that:The Messenger of Allah recited: And recite the Qur'an during the Fajr. Verily, the recitation of the Qur'an during Fajr is ever witnessed." He said: "It is witnessed by the angels of the night and the day
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کریمہ: «وقرآن الفجر إن قرآن الفجر كان مشهودا» ( سورة الإسراء: 78 ) کی تفسیر میں فرمایا: اس میں رات اور دن کے فرشتے حاضر رہتے ہیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ عَامِرٍ الأَحْوَلِ، أَنَّ مَكْحُولاً، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَيْرِيزٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا مَحْذُورَةَ حَدَّثَهُ قَالَ عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ الأَذَانَ تِسْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً وَالإِقَامَةَ سَبْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً الأَذَانُ " اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ حَىَّ عَلَى الْفَلاَحِ حَىَّ عَلَى الْفَلاَحِ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ " . وَالإِقَامَةُ سَبْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً " اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ حَىَّ عَلَى الْفَلاَحِ حَىَّ عَلَى الْفَلاَحِ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَةُ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَةُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ " .
It was narrated that Abu Mahdhurah said:"The Messenger of Allah taught me the Adhan with nineteen phrases and the Iqamah with seventeen. The Adhan is: Allahu Akbar Allahu Akbar, Allahu Akbar Allahu Akbar; Ash-hadu an la ilaha illallah, Ash-hadu an la ilaha illallah; Ash-hadu anna Muhammadan Rasulullah, Ash-hadu anna Muhammadan Rasulullah; Ash-hadu an la ilaha illallah, Ash-hadu an la ilaha illallah; Ash-hadu anna Muhammadan Rasulullah, Ash-hadu anna Muhammadan Rasulullah; Hayya 'alal-salah, Hayya 'alal-salah; Hayya 'alal-falah, Hayya 'alal-falah; Allahu Akbar Allahu Akbar; La ilaha illallah (Allah is the Most great, Allah is the most Great, Allah is the most Great, Allah is the most Great; I bear witness that none has the right to be worshipped but Allah, I bear witness that none has the right to be worshipped but Allah; I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah, I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah; I bear witness that none has the right to be worshipped but Allah, I bear witness that none has the right to be worshipped but Allah; I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah, I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah; Come to the Prayer, Come to the Prayer; Come to the prosperity, Come to the prosperity; Allah is the Most great, Allah is the Most Great; None has the right to be worshipped but Allah). And the Iqamah is seventeen phrases: Allahu Akbar Allahu Akbar, Allahu Akbar Allahu Akbar; Ash-hadu an la ilaha illallah, Ash-hadu an la ilaha illallah; Ash-hadu anna Muhammadan Rasulullah, Ash-hadu anna Muhammadan Rasulullah; Hayya 'alal-salah, Hayya 'alal-salah; Hayya 'alal-falah, Hayya 'alal-falah; Qad qamatis-salah, qad qamatis-salah; Allahu Akbar Allahu Akbar; La ilaha illallah (Allah is the Most great, Allah is the most Great, Allah is the most Great, Allah is the most Great; I bear witness that none has the right to be worshipped but Allah, I bear witness that none has the right to be worshipped but Allah; I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah, I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah; Come to the Prayer, Come to the Prayer; Come to the prosperity, Come to the prosperity; The prayer is about to begin, the prayer is about to begin; Allah is the Most great, Allah is the Most Great; None has the right to be worshipped but Allah)
ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اذان کے لیے انیس کلمات اور اقامت کے لیے سترہ کلمات سکھائے، اذان کے کلمات یہ ہیں:«الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله حي على الصلاة حي على الصلاة حي على الفلاح حي على الفلاح الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله»۔ اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، آؤ نماز کے لیے، آؤ نماز کے لیے، آؤ کامیابی کی طرف، آؤ کامیابی کی طرف، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔ اور اقامت کے لیے سترہ کلمات یہ ہیں: «الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله حي على الصلاة حي على الصلاة حي على الفلاح حي على الفلاح قد قامت الصلاة قد قامت الصلاة الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله» اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، آؤ نماز کے لیے، آؤ نماز کے لیے، آؤ کامیابی کی طرف، آؤ کامیابی کی طرف، نماز قائم ہو گئی، نماز قائم ہو گئی، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۱؎
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَشِيطٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ النَّوْفَلِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " مَنْ بَنَى مَسْجِدًا لِلَّهِ كَمَفْحَصِ قَطَاةٍ أَوْ أَصْغَرَ بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ " .
It was narrated from Jabir bin 'Abdullah that:The Messenger of Allah said: "Whoever builds a mosque for the sake of Allah, like a sparrow's nest for Allah or even smaller, Allah will build for him a house in Paradise
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے پرندے کے گھونسلے کے برابر یا اس سے بھی چھوٹی مسجد اللہ کے لیے بنوائی، تو اللہ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا حَارِثَةُ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَةَ قَالَ " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ تَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلاَ إِلَهَ غَيْرُكَ " .
It was narrated from ‘Aishah that when the Prophet (ﷺ) started Salat he would say:“Subhanak Allahumma wa bi hamdika, wa tabarakas- muka wa ta’ala jadduka, wa la ilaha ghayruk (Glory and praise is to You, O Allah, blessed is Your Name and exalted is Your majesty, none has the right to be worshipped but You).”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو یہ دعا پڑھتے: «سبحانك اللهم وبحمدك تبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» اے اللہ! تو پاک ہے اور ساری تعریفیں تیرے لیے ہیں، تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان بلند ہے، اور تیرے علاوہ کوئی مستحق عبادت نہیں ۔