حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي ثَلاَثَةِ أَثْوَابٍ قَمِيصُهُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ وَحُلَّةٌ نَجْرَانِيَّةٌ .
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“The Messenger of Allah (ﷺ) was shrouded in three garments: The shirt in which he died, and a Najrani Hullah
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین کپڑوں میں کفنائے گئے، ایک اپنی قمیص میں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تھی، اور دوسرے نجرانی ۱؎ جوڑے میں۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ أَبُو الشَّعْثَاءِ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، جَمِيعًا عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ: " مَنْ ذَرَعَهُ الْقَىْءُ فَلاَ قَضَاءَ عَلَيْهِ وَمَنِ اسْتَقَاءَ فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:“Whoever unintentionally vomits, he does not have to make up for the fast, but whoever makes himself vomit, has to make up for the fast.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے خود بہ خود قے آ جائے اس پر روزے کی قضاء نہیں، اور جس نے جان بوجھ کر قے کی تو اس پر روزے کی قضاء ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ أَبِي عَرِيبٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَقَدْ عَلَّقَ رَجُلٌ قِنَاءً أَوْ قِنْوًا وَبِيَدِهِ عَصًا فَجَعَلَ يَطْعَنُ بِذَلِكَ يُدَقْدِقُ فِي ذَلِكَ الْقِنْوِ وَيَقُولُ " لَوْ شَاءَ رَبُّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ تَصَدَّقَ بِأَطْيَبَ مِنْهَا إِنَّ رَبَّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ يَأْكُلُ الْحَشَفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
It was narrated that:Awf bin Malik Al-Ashja'i said: “The Messenger of Allah went out, and a man had hung up one or more bunches of dates. He (the Prophet) had a stick in his hand and he started hitting that bunch of dates repeatedly, saying: 'If the owner of these dates wanted to give in charity, he should have given something better than these. The owner of this charity will eat rotten and shriveled dates on the Day of Resurrection.' ”
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلے، اور ایک شخص نے کھجور کے کچھ خوشے مسجد میں لٹکا دئیے تھے، آپ کے ہاتھ میں چھڑی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس خوشہ میں اس چھڑی سے کھٹ کھٹ مارتے جاتے، اور فرماتے: اگر یہ زکاۃ دینے والا چاہتا تو اس سے بہتر زکاۃ دیتا، یہ زکاۃ والا قیامت کے دن خراب ہی کھجور کھائے گا
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ الشِّغَارِ وَالشِّغَارُ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ زَوِّجْنِي ابْنَتَكَ أَوْ أُخْتَكَ عَلَى أَنْ أُزَوِّجَكَ ابْنَتِي أَوْ أُخْتِي . وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا صَدَاقٌ .
It was narrated that:Ibn Umar said: “The Messenger of Allah forbade Shighar. Shighar is when a man says to another man: 'Marry your daughter or sister to me, on condition that I will marry my daughter or sister to you,' and they do not give any dower (i.e. neither of them give other the dower).”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا ہے۔ اور شغار یہ ہے کہ کوئی آدمی کسی سے کہے: آپ اپنی بیٹی یا بہن کا نکاح مجھ سے اس شرط پر کر دیں کہ میں اپنی بیٹی یا بہن کا نکاح تجھ سے کر دوں گا، اور ان دونوں کے درمیان کوئی مہر نہ ہو ۱؎۔
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَى بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ عَمِّهِ، عُمَارَةَ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " لاَ تَسْأَلُ الْمَرْأَةُ زَوْجَهَا الطَّلاَقَ فِي غَيْرِ كُنْهِهِ فَتَجِدَ رِيحَ الْجَنَّةِ . وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا " .
It was narrated from Ibn 'Abbas that the Prophet (ﷺ) said:"No woman asks for divorce when it is not absolutely necessary, but she will never smell the fragrance of paradise, although its fragrance can be detected from a distance of forty years' travel
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت بغیر کسی حقیقی وجہ اور واقعی سبب کے اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ وہ جنت کی خوشبو پا سکے، جب کہ جنت کی خوشبو چالیس سال کی مسافت سے پائی جاتی ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " مَنْ نَذَرَ نَذْرًا وَلَمْ يُسَمِّهِ فَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ وَمَنْ نَذَرَ نَذْرًا لَمْ يُطِقْهُ فَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ وَمَنْ نَذَرَ نَذْرًا أَطَاقَهُ فَلْيَفِ بِهِ " .
lt was narrated from Ibn 'Abbas that the Prophet (ﷺ) said:"Whoever makes a vow and does not state it specifically, the expiation (for such a vow) is the expiation for breaking an oath. Whoever makes a vow and is not able to fulfill it, the expiation for that is the expiation for breaking an oath. Whoever makes a vow and is able to fulfill it, let him do so
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نذر مانی اور اس کی تعیین نہ کی، تو اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے، اور جس نے ایسی نذر مانی جس کے پورا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تو اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے، اور جس نے ایسی نذر مانی جس کے پورا کرنے کی طاقت ہو تو اس کو پورا کرے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " لاَ يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"A City-dweller should not sell for a Bedouin
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شہری باہر سے آنے والے دیہاتی کا مال نہ بیچے ۱؎۔
حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلاَسٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلَيْنِ، تَدَارَءَا فِي بَيْعٍ لَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ فَأَمَرَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ أَحَبَّا ذَلِكَ أَمْ كَرِهَا .
It was narrated from Abu Hurairah that :two men disputed concerning a transaction, and neither of them had proof. The Messenger of Allah commanded them to draw lots as to which of them should swear an oath, whether they liked it or not
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بیع کے متعلق دو آدمیوں نے جھگڑا کیا، اور ان میں کسی کے پاس گواہ نہیں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو قسم کھانے کے لیے قرعہ ڈالنے کا حکم دیا خواہ انہیں یہ فیصلہ پسند ہو یا ناپسند۔
حَدَّثَنَا هَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا الْهِرْمَاسُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِغَرِيمٍ لِي فَقَالَ لِي " الْزَمْهُ " . ثُمَّ مَرَّ بِي آخِرَ النَّهَارِ فَقَالَ " مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ يَا أَخَا بَنِي تَمِيمٍ " .
Hirmas bin Habib narrated from his father that his grandfather said:“I came to the Prophet (ﷺ) with a man who owed me money, and he said to me: 'Keep him.' Then he passed by me at the end of the day and said: 'What did your prisoner do, O brother of Banu Tamim?' ”
ہرماس بن حبیب اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے قرض دار کو لے کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے پیچھے لگے رہو ، پھر آپ شام کو میرے پاس سے گزرے تو فرمایا: اے بنی تمیم کے بھائی! تمہارا قیدی کہاں ہے ۔
حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ غُرَابٍ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الشَّىْءُ الَّذِي لاَ يَحِلُّ مَنْعُهُ قَالَ الْمَاءُ وَالْمِلْحُ وَالنَّارُ " . قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الْمَاءُ قَدْ عَرَفْنَاهُ فَمَا بَالُ الْمِلْحِ وَالنَّارِ قَالَ " يَا حُمَيْرَاءُ مَنْ أَعْطَى نَارًا فَكَأَنَّمَا تَصَدَّقَ بِجَمِيعِ مَا أَنْضَجَتْ تِلْكَ النَّارُ وَمَنْ أَعْطَى مِلْحًا . فَكَأَنَّمَا تَصَدَّقَ بِجَمِيعِ مَا طَيَّبَ ذَلِكَ الْمِلْحُ وَمَنْ سَقَى مُسْلِمًا شَرْبَةً مِنْ مَاءٍ حَيْثُ يُوجَدُ الْمَاءُ فَكَأَنَّمَا أَعْتَقَ رَقَبَةً وَمَنْ سَقَى مُسْلِمًا شَرْبَةً مِنْ مَاءٍ حَيْثُ لاَ يُوجَدُ الْمَاءُ فَكَأَنَّمَا أَحْيَاهَا " .
It was narrated that 'Aishah said:“O Messenger of Allah (ﷺ), what are the things which are not permissible to withhold?” He said: “Water, salt and fire.” She said: “I said: 'O Messenger of Allah (ﷺ), we know what water is, but what about salt and fire?” He said: “O Humaira', whoever gives fire (to another), it is as if he has given in charity all the food that is cooked on that fire. And whoever gives salt, it is as if he has given in charity all that the salt makes good. And whoever gives a Muslim water to drink when water is available, it is as if he freed a slave; and whoever gives a Muslim water to drink when there is no water available, it is as if he brought him back to life.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کون سی ایسی چیز ہے جس کا روکنا جائز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی، نمک اور آگ میں نے کہا: اللہ کے رسول! پانی تو ہمیں معلوم ہے کہ اس کا روکنا جائز اور حلال نہیں؟ لیکن نمک اور آگ کیوں جائز نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے حمیراء! ۱؎ جس نے آگ دی گویا اس نے وہ تمام کھانا صدقہ کیا جو اس پر پکا، اور جس نے نمک دیا گویا اس نے وہ تمام کھانا صدقہ کیا جس کو اس نمک نے مزے دار بنایا، اور جس نے کسی مسلمان کو جہاں پانی ملتا ہے، ایک گھونٹ پانی پلایا گویا اس نے ایک غلام آزاد کیا، اور جس نے کسی مسلمان کو ایسی جگہ ایک گھونٹ پانی پلایا جہاں پانی نہ ملتا ہو گویا اس نے اس کو نئی زندگی بخشی ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّانَاجِ، سَمِعْتُ حُضَيْنَ بْنَ الْمُنْذِرِ الرَّقَاشِيَّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَيْرُوزَ الدَّانَاجُ، قَالَ حَدَّثَنِي حُضَيْنُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ لَمَّا جِيءَ بِالْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ إِلَى عُثْمَانَ قَدْ شَهِدُوا عَلَيْهِ قَالَ لِعَلِيٍّ دُونَكَ ابْنَ عَمِّكَ فَأَقِمْ عَلَيْهِ الْحَدَّ . فَجَلَدَهُ عَلِيٌّ وَقَالَ جَلَدَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرْبَعِينَ وَجَلَدَ أَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ وَجَلَدَ عُمَرُ ثَمَانِينَ وَكُلٌّ سُنَّةٌ .
Hudain bin Mundhir said:“When Walid bin `Uqbah was brought to `Uthman, they had testified against him. He said to 'Ali: 'You are close to your uncle's son, so carry out the legal punishment on him.' So 'Ali whipped him. He said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) gave forty lashes, and Abu Bakr gave forty lashes, and 'Umar gave eighty all are Sunnah.'”
حضین بن منذر رقاشی کہتے ہیں کہ جب ولید بن عقبہ کو عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا اور لوگوں نے ان کے خلاف گواہی دی، تو عثمان رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: اٹھئیے اور اپنے چچا زاد بھائی پر حد جاری کیجئے، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ نے ان کو کوڑے مارے اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس کوڑے لگائے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس کوڑے لگائے، اور عمر رضی اللہ عنہ نے اسی کوڑے لگائے، اور ان میں سے ہر ایک سنت ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الأَصَابِعُ سَوَاءٌ كُلُّهُنَّ فِيهِنَّ عَشْرٌ عَشْرٌ مِنَ الإِبِلِ " .
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The fingers are all same, and (the compensatory money) for each of them is ten camels
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہعلیہ وسلم نے فرمایا: ( دیت میں ) انگلیاں سب برابر ہیں، ہر ایک میں دس دس اونٹ دینے ہوں گے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْرٍ، عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّمْلِيُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ رَوْحٍ الدَّارِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الْقَاضِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنِ ارْتَبَطَ فَرَسًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ عَالَجَ عَلَفَهُ بِيَدِهِ كَانَ لَهُ بِكُلِّ حَبَّةٍ حَسَنَةٌ " .
It was narrated that Tamim Ad-Dari said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘Whoever ties a horse in the cause of Allah, then feeds it with his own hand, he will have one merit for every grain.’”
تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کی غرض سے گھوڑا باندھا، پھر دانہ چارہ اپنے ہاتھ سے کھلایا، تو اس کے لیے ہر دانے کے بدلے ایک نیکی ہو گی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ فِي تَلْبِيَتِهِ " لَبَّيْكَ إِلَهَ الْحَقِّ لَبَّيْكَ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) used to say in his Talbiyah:“Labbaika ilahal-haqq, labbaika (Here I am, O god of Truth, here I am).”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تلبیہ میں یوں کہا: «لبيك إله الحق لبيك» حاضر ہوں، اے معبود برحق، حاضر ہوں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، وَهُشَيْمٌ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ عَلَيْهَا قَائِمًا .
It was narrated from Hudhaifah that:The Messenger of Allah came to the garbage dump of some people and he urinated on it standing up
حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کے کوڑا خانہ پر آئے، اور اس پر کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَمَرَ مِنْ كُلِّ جَزُورٍ بِبَضْعَةٍ فَجُعِلَتْ فِي قِدْرٍ فَأَكَلُوا مِنَ اللَّحْمِ وَحَسَوْا مِنَ الْمَرَقِ .
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah that the Messenger of Allah (ﷺ) ordered that a piece from every camel that had been slaughtered be brought and placed in a pot, then they ate from its meat and drank some of the broth
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے ہر اونٹ کا ایک ٹکڑا منگایا، پھر ان سب ٹکڑوں کو ایک ہانڈی میں پکانے کا حکم دیا، تو وہ ایک ہانڈی میں رکھ کر پکایا گیا، پھر سبھی لوگوں نے اس کا گوشت کھایا، اور اس کا شوربہ پیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ يَزِيدَ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَأَصَابَ النَّاسُ ضِبَابًا فَاشْتَوَوْهَا فَأَكَلُوا مِنْهَا فَأَصَبْتُ مِنْهَا ضَبًّا فَشَوَيْتُهُ ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَأَخَذَ جَرِيدَةً فَجَعَلَ يَعُدُّ بِهَا أَصَابِعَهُ فَقَالَ " إِنَّ أُمَّةً فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ مُسِخَتْ دَوَابَّ فِي الأَرْضِ وَإِنِّي لاَ أَدْرِي لَعَلَّهَا هِيَ " . فَقُلْتُ إِنَّ النَّاسَ قَدِ اشْتَوَوْهَا فَأَكَلُوهَا فَلَمْ يَأْكُلْ وَلَمْ يَنْهَ .
It was narrated that Thabit bin Yazid Al-Ansari said:“We were with the Prophet (ﷺ) and the people caught a mastigure. They grilled it and ate from it. Then I caught a mastigure so I grilled it and brought it to the Prophet (ﷺ). He took a palm stalk and started counting his finger with it, and said: ‘A nation from among the Children of Israel was turned into beasts of the earth, and I do not know if this is they.’ I said: ‘The people have grilled them and eaten them.’ He did not eat it and he did not forbid it.”
ثابت بن یزید انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، لوگوں نے ضب ( گوہ ) پکڑے اور انہیں بھونا، اور اس میں سے کھایا، میں نے بھی ایک گوہ پکڑی اور اسے بھون کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لکڑی لی، اور اس کے ذریعہ اس کی انگلیاں شمار کرنے لگے اور فرمایا: بنی اسرائیل کا ایک گروہ مسخ ہو کر زمین میں کا ایک جانور بن گیا، اور میں نہیں جانتا شاید وہ یہی ہو ، میں نے عرض کیا: لوگ اسے بھون کر کھا بھی گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو اسے کھایا اور نہ ہی ( اس کے کھانے سے ) منع کیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمْ خَادِمُهُ بِطَعَامِهِ فَلْيُجْلِسْهُ فَلْيَأْكُلْ مَعَهُ فَإِنْ أَبَى فَلْيُنَاوِلْهُ مِنْهُ " .
Isma’il bin Abu Khalid narrated from his father:“I heard Abu Hurairah say: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) said: “When the servant of anyone of you brings him his food, let him make him sit by his side and eat with him, and if he refuses then let him give him some.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے پاس اس کا خادم کھانا لے کر آئے تو اسے چاہیئے کہ وہ خادم کو اپنے ساتھ بیٹھائے اور اس کے ساتھ کھائے، اور اگر اپنے ساتھ کھلانا پسند نہ کرے تو اسے چاہیئے کہ وہ کھانے میں سے اسے بھی دے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ صَدَقَةَ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِنَبِيذِ جَرٍّ يَنِشُّ فَقَالَ " اضْرِبْ بِهَذَا الْحَائِطَ فَإِنَّ هَذَا شَرَابُ مَنْ لاَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:“Some Nabidh from an (earthenware) jar was brought to the Messenger of Allah (ﷺ) and it was bubbling. He said: ‘Throw this against the wall, for this is the drink of one who does not believe in Allah and the Last Day.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ایسے گھڑے میں نبیذ لائی گئی جو جوش مار رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے دیوار پر مار دو، اس لیے کہ یہ ایسے لوگوں کا مشروب ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهَا كَانَتْ تُؤْتَى بِالْمَرْأَةِ الْمَوْعُوكَةِ فَتَدْعُو بِالْمَاءِ فَتَصُبُّهُ فِي جَيْبِهَا وَتَقُولُ إِنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " ابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ " . وَقَالَ " إِنَّهَا مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ " .
It was narrated from Asma’ bint Abu Bakr that a woman suffering from fever would be brought to her, and she would call for water and pour it onto the neck of her garment. She said:The Prophet (ﷺ) said: “Cool it down with water,” and he said: “It is from the heat of Hell-fire.”
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے پاس بخار کی مریضہ ایک عورت لائی جاتی تھی، تو وہ پانی منگواتیں، پھر اسے اس کے گریبان میں ڈالتیں، اور کہتیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اسے پانی سے ٹھنڈا کرو نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ یہ جہنم کی بھاپ ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الآخِرَةِ " .
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever wears silk in this world will not wear it in the Hereafter.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے دنیا میں ریشمی کپڑا پہنا، وہ آخرت میں نہیں پہن سکے گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلاً، دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ جَالِسٌ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَصَلَّى ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ فَقَالَ " وَعَلَيْكَ السَّلاَمُ " .
It was narrated from Abu Hurairah that:"a man entered the masjid, and the Messenger of Allah(ﷺ) was sitting in a corner of the mosque. He prayed, then he came and greeted him with Salam(peace), and he said: 'Wa 'alaikassalm
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص مسجد نبوی میں داخل ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد کے ایک گوشے میں بیٹھے ہوئے تھے تو اس نے نماز پڑھی، پھر آپ کے پاس آ کر سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وعلیک السلام» ( اور تم پر بھی سلامتی ہو ) ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَلْمَانَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " إِنَّ رَبَّكُمْ حَيِيٌّ كَرِيمٌ يَسْتَحْيِي مِنْ عَبْدِهِ أَنْ يَرْفَعَ إِلَيْهِ يَدَيْهِ فَيَرُدَّهُمَا صِفْرًا - أَوْ قَالَ خَائِبَتَيْنِ " .
It was narrated from Salman that the :Prophet (saas) said: "Your Lord is Kind and Most Generous, and is too kind to let His slave, if he raises his hands to Him, bring them back empty," or he said "frustrated
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا رب «حی» ( بڑا باحیاء، شرمیلا ) اور کریم ہے، اسے اس بات سے شرم آتی ہے کہ اس کا بندہ اس کے سامنے ہاتھ پھیلائے تو وہ انہیں خالی یا نامراد لوٹا دے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " مَنْ حَدَّثَ عَنِّي حَدِيثًا وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبَيْنِ " .
It was narrated from Samurah bin Jundub that:The Prophet (ﷺ) said: '"Whoever narrated a Hadith from me thinking it to be false, then he is one of the two liars
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مجھ سے کوئی حدیث یہ جانتے ہوئے بیان کرے کہ وہ جھوٹ ہے تو وہ دو جھوٹوں میں سے ایک ہے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، وَسَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ قَالَ " إِنَّهُ أَرَادَ قَتْلَ صَاحِبِهِ " .
It was narrated from Abu Musa that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“When two Muslims confront one another with their swords, both the killer and the slain will be in Hell.” They said: “O Messenger of Allah, (we understand about) this killer, but what is wrong with the one who is slain?” He said: “He wanted to kill his companion.’”
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو مسلمان تلوار لے کر باہم لڑ پڑیں، تو قاتل اور مقتول دونوں جہنمی ہوں گے ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو قاتل ہے ( قتل کرنے کی وجہ سے جہنم میں جائے گا ) مگر مقتول کا کیا گناہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ بھی تو اپنے ساتھی کے قتل کا ارادہ رکھتا تھا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، وَحُمَيْدِ بْنِ هَانِئٍ الْخَوْلاَنِيِّ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ، يُخْبِرُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهُ قَالَ " قَدْ أَفْلَحَ مَنْ هُدِيَ إِلَى الإِسْلاَمِ وَرُزِقَ الْكَفَافَ وَقَنِعَ بِهِ " .
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Amr bin ‘As that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“He has succeeded who is guided to Islam and is granted sufficient provision and is content with it.”
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کامیاب ہو گیا وہ شخص جس کو اسلام کی ہدایت نصیب ہوئی، اور ضرورت کے مطابق روزی ملی، اور اس نے اس پر قناعت کی ۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ح وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " لاَ تَغْلِبَنَّكُمُ الأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلاَتِكُمْ - زَادَ ابْنُ حَرْمَلَةَ - فَإِنَّمَا هِيَ الْعِشَاءُ وَإِنَّمَا يَقُولُونَ الْعَتَمَةُ لإِعْتَامِهِمْ بِالإِبِلِ " .
It was narrated from Abu Hurairah that:The Prophet said: "Do not let the Bedouins make you change the name of your prayer." Ibn Harmalah added: "Rather it is the 'Isha', but they say the 'Atamah because they bring their camels in for milking at that time (when it is dark)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اعراب ( بدوی ) تمہاری نماز کے نام کے سلسلے میں تم پر غالب نہ آ جائیں ، ابن حرملہ نے یہ اضافہ کیا ہے: اس کا نام «عشاء» ہے، اور یہ اعرابی اسے اس وقت اپنی اونٹنیوں کے دوہنے کی وجہ سے «عتمه» کہتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ وَإِذَا خَرَجَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ وَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ اعْصِمْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ " .
It was narrated from Abu Hurairah that:The Mesenger of Allah said: "When anyone of enters the mosque, let him send peace upon the Prophet, then let him say: 'Allahumma aftahli abwaba rahmatik (O Allah, open to me the gates of Your mercy).' And when he leaves, let him send peace upon the Prophet and say: 'Allahumma- simni minash-shaitanir-rajim (O Allah, protect me from the accursed Shaitan)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص مسجد میں جائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہ سلام بھیجے اور کہے:«اللهم افتح لي أبواب رحمتك» اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے ، اور جب مسجد سے نکلے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہ سلام بھیجے، اور کہے: «اللهم اعصمني من الشيطان الرجيم» اے اللہ! مردود شیطان سے میری حفاظت فرما ۱؎۔
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السُّكَيْنِ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ السَّلْعِيُّ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " كُلُّ صَلاَةٍ لاَ يُقْرَأُ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَهِيَ خِدَاجٌ فَهِيَ خِدَاجٌ " .
It was narrated that from ‘Amr bin Shu’aib, from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Every prayer in which Fatihatil-Kitab (the Opening of the Book) is not recited, it is deficient, it is deficient.”
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ نماز جس میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھی جائے، ناقص ہے، ناقص ۔