بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Ibn Majah
6
30 hadith
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلاَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ هَذَا مَا سَمِعْتُ مِنْ أَبِي مُعَيْدٍ، حَفْصِ بْنِ غَيْلاَنَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ كُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي ثَلاَثِ رِيَاطٍ بِيضٍ سَحُولِيَّةٍ ‏.‏
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Umar said:“The Messenger of Allah (ﷺ) was shrouded in three thin white Suhuli cloths.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سحول کے بنے ہوئے تین باریک سفید کپڑوں میں کفنائے گئے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَعْلَى، وَمُحَمَّدُ، ابْنَا عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيِّ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ، قَالَ: سَمِعْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ الأَنْصَارِيَّ، يُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ خَرَجَ عَلَيْهِمْ فِي يَوْمٍ كَانَ يَصُومُهُ فَدَعَا بِإِنَاءٍ فَشَرِبَ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا يَوْمٌ كُنْتَ تَصُومُهُ ‏.‏ قَالَ: ‏ "‏ أَجَلْ. وَلَكِنِّي قِئْتُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Masruq said:“I heard Fadalah bin ‘Ubaid Al- Ansari narrating that the Prophet (ﷺ) came out to them on a day when he was fasting. He called for a vessel and drank. We said: ‘O Messenger of Allah, you were fasting today.’ He said: ‘Yes, but I vomited.’”
فضالہ بن عبید انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس ایک ایسے دن میں آئے جس میں آپ روزہ رکھا کرتے تھے، آپ نے ایک برتن منگوایا اور پانی پیا، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ دن تو آپ کے روزے کا ہے؟! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، لیکن آج میں نے قے کی ہے ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ اشْتَرَطَ عَلَيْهِمْ أَنَّ لَهُ الأَرْضَ وَكُلَّ صَفْرَاءَ وَبَيْضَاءَ ‏.‏ يَعْنِي الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ ‏.‏ وَقَالَ لَهُ أَهْلُ خَيْبَرَ نَحْنُ أَعْلَمُ بِالأَرْضِ فَأَعْطِنَاهَا عَلَى أَنْ نَعْمَلَهَا وَيَكُونَ لَنَا نِصْفُ الثَّمَرَةِ وَلَكُمْ نِصْفُهَا ‏.‏ فَزَعَمَ أَنَّهُ أَعْطَاهُمْ عَلَى ذَلِكَ فَلَمَّا كَانَ حِينَ يُصْرَمُ النَّخْلُ بَعَثَ إِلَيْهِمُ ابْنَ رَوَاحَةَ فَحَزَرَ النَّخْلَ وَهُوَ الَّذِي يَدْعُونَهُ أَهْلُ الْمَدِينَةِ الْخَرْصَ فَقَالَ فِي ذَا كَذَا وَكَذَا ‏.‏ فَقَالُوا أَكْثَرْتَ عَلَيْنَا يَا ابْنَ رَوَاحَةَ ‏.‏ فَقَالَ فَأَنَا أَحْزُرُ النَّخْلَ وَأُعْطِيكُمْ نِصْفَ الَّذِي قُلْتُ ‏.‏ قَالَ فَقَالُوا هَذَا الْحَقُّ وَبِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالأَرْضُ ‏.‏ فَقَالُوا قَدْ رَضِينَا أَنْ نَأْخُذَ بِالَّذِي قُلْتَ ‏.‏
Ibn Abbas narrated that:when the Prophet conquered Khaibar, he stipulated that the land, and all the yellow and white, meaning gold and silver belonged to him. The people of Khaibar said to him: “We know the land better, so give it to us so that we may work the land, and you will have half of its produce and we will have half.” He maintained that, he gave it to them on that basis. When the time for the date harvest came, he sent Ibn Rawahah to them. He assesses the date palms, and he said: “For this tree, such and such (amount).” They said: “You are demanding too much of us, O Ibn Rawahah!” He said: “This is my assessment and I will give you half of what I say.” They said: “This is fair, and fairness is what haven and earth are based on.” They said: “We Agree to take (accept) what you say.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خیبر فتح کیا، تو آپ نے ان سے شرط لے لی کہ زمین آپ کی ہو گی، اور ہر صفراء اور بیضاء یعنی سونا و چاندی بھی آپ ہی کا ہو گا، اور آپ سے خیبر والوں نے کہا: ہم یہاں کی زمین کے بارے میں زیادہ بہتر جانتے ہیں، لہٰذا آپ ہمیں یہ دے دیجئیے، ہم اس میں کھیتی کریں گے، اور جو پھل پیدا ہو گا وہ آدھا آدھا کر لیں گے، اسی شرط پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمین ان کے حوالے کر دی، جب کھجور توڑنے کا وقت آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو ان کے پاس بھیجا، انہوں نے کھجور کا تخمینہ لگایا، جس کو اہل مدینہ «خرص» کہتے ہیں، تو انہوں نے کہا: اس میں اتنا اور اتنا پھل ہے، یہودی یہ سن کر بولے: اے ابن رواحہ! آپ نے تو بہت بڑھا کر بتایا، ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ٹھیک ہے میں کھجوریں اتروا کر انہیں جمع کر لیتا ہوں اور جو اندازہ میں نے کیا ہے اس کا آدھا تم کو دے دیتا ہوں، یہودی کہنے لگے: یہی حق ہے، اور اسی کی وجہ سے آسمان و زمین قائم ہیں، ہم آپ کے اندازے کے مطابق حصہ لینے پر راضی ہیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْعُقَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ لاَ تُزَوِّجُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ وَلاَ تُزَوِّجُ الْمَرْأَةُ نَفْسَهَا فَإِنَّ الزَّانِيَةَ هِيَ الَّتِي تُزَوِّجُ نَفْسَهَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that:the Messenger of Allah said: “No woman should arrange the marriage of another woman, and no woman should arrange her own marriage. The adulteress is the one who arranges her own marriage.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت عورت کا نکاح نہ کرائے، اور نہ عورت خود اپنا نکاح کرے، پس بدکار وہی عورت ہے جو اپنا نکاح خود کرتی ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا نَزَلَتْ ‏{وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ}‏ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ ‏"‏ يَا عَائِشَةُ إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا فَلاَ عَلَيْكِ أَنْ لاَ تَعْجَلِي فِيهِ حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ قَالَتْ قَدْ عَلِمَ وَاللَّهِ أَنَّ أَبَوَىَّ لَمْ يَكُونَا لِيَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ ‏.‏ قَالَتْ فَقَرَأَ عَلَىَّ ‏{يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا }‏ ‏.‏ الآيَاتِ ‏.‏ فَقُلْتُ فِي هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَىَّ قَدِ اخْتَرْتُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ‏.‏
It was narrated that Aishah said:"When the following was revealed: 'But if you desire Allah and His Messenger, (ﷺ) the Messenger of Allah (ﷺ) entered upon me and said: 'O Aishah I want to say something to you, and you do not have to hasten (in making a decision) until you have consulted your parents."' She said: "He knew, by Allah, that my parents would never tell me to leave him." She said: "Then he recited to me: ' O Prophet (Muhammad)! Say to your wives: " If you desire the life of this world, and its glitter.'" I said: 'Do I need to consult my parents about this? I choose Allah and His Messenger
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب آیت: «وإن كنتن تردن الله ورسوله» اتری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پاس آ کر فرمایا: عائشہ! میں تم سے ایک بات کہنے والا ہوں، تم اس میں جب تک اپنے ماں باپ سے مشورہ نہ کر لینا جلد بازی نہ کرنا ، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اللہ کی قسم! آپ خوب جانتے تھے کہ میرے ماں باپ کبھی بھی آپ کو چھوڑ دینے کے لیے نہیں کہیں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر یہ آیت پڑھی: «يا أيها النبي قل لأزواجك إن كنتن تردن الحياة الدنيا وزينتها» ( سورة الأحزاب: 28 ) اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دیجئیے کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی آرائش و زیبائش پسند کرتی ہو تو آؤ میں تم کو کچھ دے کر اچھی طرح رخصت کر دوں، اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور یوم آخرت کو چاہتی ہو تو تم میں سے جو نیک ہیں اللہ نے ان کے لیے بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے … ( یہ سن کر ) میں بولی: کیا میں اس میں اپنے ماں باپ سے مشورہ لینے جاؤں گی! میں اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کر چکی ہوں ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَافِعٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ مَنْ نَذَرَ نَذْرًا وَلَمْ يُسَمِّهِ فَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Uqbah bin 'Amit Al-Juhani that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"Whoever makes a vow and does not state it specifically, the expiation (for such a vow) is the expiation for breaking an oath
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نذر مانی، اور اس کی تعیین نہ کی تو اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ لاَ تَنَاجَشُوا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet said:"Do not practice Najsh
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپس میں بیع نجش نہ کرو ۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلاً، كَانَ لَهُ سِتَّةُ مَمْلُوكِينَ لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ فَأَعْتَقَهُمْ عِنْدَ مَوْتِهِ فَجَزَّأَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً ‏.‏
It was narrated from 'Imran bin Husain that :a man had six slaves, and he did not have any other wealth apart from them, and he set them free when he died. The Messenger of Allah (ﷺ) divided them into groups, set two free and left four as slaves
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص کے چھ غلام تھے، ان غلاموں کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور مال نہ تھا، مرتے وقت اس نے ان سب کو آزاد کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حصے کئے ( دو دو کے تین حصے ) ( اور قرعہ اندازی کر کے ) دو کو ( جن کے نام قرعہ نکلا ) آزاد کر دیا، اور چار کو بدستور غلام رکھا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا وَبْرُ بْنُ أَبِي دُلَيْلَةَ الطَّائِفِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مُسَيْكَةَ، - قَالَ وَكِيعٌ وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا - عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَىُّ الْوَاجِدِ يُحِلُّ عِرْضَهُ وَعُقُوبَتَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عَلِيٌّ الطَّنَافِسِيُّ يَعْنِي عِرْضَهُ شِكَايَتَهُ وَعُقُوبَتَهُ سِجْنَهُ ‏.‏
It was narrated from 'Amr bin Sharid that his father said that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“If one who can afford it delays repayment, his honor and punishment become permissible.”
شرید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو قرض ادا کر سکتا ہو اس کا ٹال مٹول کرنا اس کی عزت کو حلال کر دیتا ہے، اور اس کو سزا ( عقوبت ) پہنچانا جائز ہو جاتا ہے ۔ علی طنافسی کہتے ہیں: عزت حلال ہونے کا مطلب ہے کہ قرض خواہ اس کے نادہند ہونے کی شکایت لوگوں سے کر سکتا ہے، اور عقوبت پہنچانے کے معنیٰ اس کو قید میں ڈال دینے کے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ ثَلاَثٌ لاَ يُمْنَعْنَ الْمَاءُ وَالْكَلأُ وَالنَّارُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Three things cannot be denied to anyone: water, pasture and fire.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین چیزیں ایسی ہیں جن سے کسی کو روکا نہیں جا سکتا: پانی، گھاس اور آگ ۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ، جَمِيعًا عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَضْرِبُ فِي الْخَمْرِ بِالنِّعَالِ وَالْجَرِيدِ ‏.‏
It was narrated that Anas bin Malik said:“The Messenger of Allah (ﷺ) used to beat (offenders) for drinking wine with sandals and date-palm stalks.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شراب کے جرم میں جوتوں اور چھڑیوں سے مارنے کی سزا دیتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، قَالُوا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ هَذِهِ وَهَذِهِ سَوَاءٌ ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي الْخِنْصَرَ وَالإِبْهَامَ ‏.‏
It was narrated from Ibn 'Abbas that the Prophet (ﷺ) said:“This and this are the same” - meaning the pinky finger, ring finger and thumb
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( دیت میں ) یہ اور یہ یعنی چھنگلیا ( سب سے چھوٹی انگلی ) اور انگوٹھا سب برابر ہیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَلْمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّخَعِيِّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَكْرَهُ الشِّكَالَ مِنَ الْخَيْلِ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:“The Prophet (ﷺ) used to dislike horses that had three legs with white markings on them, and one leg the same color as the rest of the body.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے گھوڑے کو ناپسند فرماتے تھے جس کے تین پیر سفید اور ایک پیر کا رنگ باقی جسم کا ہو ۱؎۔
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كَانَتْ تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Jabir said:“The Talbiyah of the Messenger of Allah (ﷺ) was: ‘Labbaika Allahumma labbaik, (labbaika) la sharika laka labbaik. Innal-hamd wan-ni’mata laka, wal-mulk. La sharika laka (Here I am, O Allah, here I am. Here I am, You have no partner, here I am. Verily all praise and blessings are Yours, and all sovereignty, You have no partner).’”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یہ تھا: «لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» حاضر ہوں اے اللہ! تیری خدمت میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں، حمد و ثناء، نعمتیں اور فرماں روائی تیری ہی ہے، ان میں کوئی شریک نہیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ لاَ يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي مُسْتَحَمِّهِ فَإِنَّ عَامَّةَ الْوَسْوَاسِ مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنُ مَاجَهْ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسِيَّ يَقُولُ إِنَّمَا هَذَا فِي الْحَفِيرَةِ فَأَمَّا الْيَوْمَ فَلاَ ‏.‏ فَمُغْتَسَلاَتُهُمُ الْجَصُّ وَالصَّارُوجُ وَالْقِيرُ فَإِذَا بَالَ فَأَرْسَلَ عَلَيْهِ الْمَاءَ لاَ بَأْسَ بِهِ ‏.‏
It was narrated that 'Abdullah bin Mughaffal said:"The Messenger of Allah said: 'None of you should urinate in his wash area for most of the insinuating thoughts come from that.'" (Da'if) Abu 'Abdullah bin Majah said: ("Abul-Hasan said: 'I heard Muhammed bin Yazid saying:) ''Ali bin Muhammed At-Tanafisi said: 'This (prohibition) applies to cases where the ground (in the place used for washing) was soft. But nowadays this does not apply, because the baths you use now are built of plaster, Saruj and tar; so if a person urinates there then pours water over it, that clears it away, and that is fine
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بھی شخص اپنے غسل خانہ میں قطعاً پیشاب نہ کرے، اس لیے کہ اکثر وسوسے اسی سے پیدا ہوتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَنَّ مُجَاهِدًا، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَمَرَهُ أَنْ يَقْسِمَ بُدْنَهُ كُلَّهَا لُحُومَهَا وَجُلُودَهَا وَجِلاَلَهَا لِلْمَسَاكِينِ ‏.‏
‘Ali bin Abu Talib narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) commanded him to distribute the entire sacrificial camel – its meat, skin and covers – among the poor
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے اونٹ کے سبھی اجزاء، اس کے گوشت، اس کی کھالوں اور جھولوں سمیت سبھی کچھ مساکین کے درمیان تقسیم کرنے کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، وَأَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ الْجَنِينِ فَقَالَ ‏ "‏ كُلُوهُ إِنْ شِئْتُمْ فَإِنَّ ذَكَاةَ الْجَنِينِ ذَكَاةُ أُمِّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ سَمِعْتُ الْكَوْسَجَ إِسْحَقَ بْنَ مَنْصُورٍ يَقُولُ فِي قَوْلِهِمْ فِي الذَّكَاةِ لَا يُقْضَى بِهَا مَذِمَّةٌ قَالَ مَذِمَّةٌ بِكَسْرِ الذَّالِ مِنْ الذِّمَامِ وَبِفَتْحِ الذَّالِ مِنْ الذَّمِّ
It was narrated that Abu Sa’eed said:“We asked the Messenger of Allah (ﷺ) about the fetus. He said: ‘Eat it if you wish, for it is considered legally slaughtered with the slaughtering of its mother.’”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنین ( ماں کے پیٹ کے بچے ) کے متعلق سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اگر چاہو تو کھاؤ، کیونکہ اس کی ماں کے ذبح کرنے سے وہ بھی ذبح ہو جاتا ہے ۱؎۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں: میں نے کوسج اسحاق بن منصور کو لوگوں کے قول «الذكاة لا يقضى بها مذمة» کے سلسلے میں کہتے سنا: «مذمۃ» ذال کے کسرے سے ہو تو «ذمام» سے مشتق ہے اور ذال کے فتحہ کے ساتھ ہو تو«ذمّ» سے مشتق ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ، عَنْ حِبَّانَ بْنِ جَزْءٍ، عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ جَزْءٍ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَقُولُ فِي الضَّبُعِ قَالَ ‏ "‏ وَمَنْ يَأْكُلُ الضَّبُعَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Khuzaimah bin Jaz’ said:“I said: ‘O Messenger of Allah (ﷺ), what do you say about hyenas?’ He said: ‘Who eats hyenas?’”
خزیمہ بن جزء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ لکڑبگھا کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لکڑبگھا کون کھاتا ہے ؟۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَنْفُخُ فِي طَعَامٍ وَلاَ شَرَابٍ وَلاَ يَتَنَفَّسُ فِي الإِنَاءِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“The Messenger of Allah (ﷺ) never blew onto his food or drink, and he did not breathe into the vessel.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے پینے کی چیزوں میں نہ پھونک مارتے تھے، اور نہ ہی برتن کے اندر سانس لیتے تھے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْخَطْمِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ يُنْبَذَ فِي الْجِرَارِ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade making Nabidh in (earthenware) jars.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی کے روغنی برتنوں میں نبیذ تیار کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏"‏ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ ‏"‏ ‏.‏ فَدَخَلَ عَلَى ابْنٍ لِعَمَّارٍ فَقَالَ ‏"‏ اكْشِفِ الْبَاسْ رَبَّ النَّاسْ إِلَهَ النَّاسْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Rafi’ bin Khadij said:“I heard the Prophet (ﷺ) say: ‘Fever is from the heat of the Hell-fire, so cool it down with water.’ He entered upon a son of ‘Ammar and said: ‘Take away the harm, O Lord of mankind, O God of mankind.’”
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بخار جہنم کی بھاپ ہے، لہٰذا اسے پانی سے ٹھنڈا کرو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمار کے ایک لڑکے کے پاس تشریف لے گئے ( وہ بیمار تھا ) اور یوں دعا فرمائی: «اكشف الباس رب الناس إله الناس» لوگوں کے رب، لوگوں کے معبود! ( اے اللہ ) تو اس بیماری کو دور فرما ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مُسَاوِرٍ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ قَدْ أَرْخَى طَرَفَيْهَا بَيْنَ كَتِفَيْهِ ‏.‏
Ja’far bin ‘Amr bin Huraith narrated that his father said:“It is as if I can see the Messenger of Allah (ﷺ), wearing a black turban, with the ends hanging down his shoulders.”
عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں، اور آ پ کے سر پر کالی پگڑی ہے جس کے دونوں کناروں کو آپ اپنے دونوں شانوں کے درمیان لٹکائے ہوئے ہیں
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ اعْبُدُوا الرَّحْمَنَ وَأَفْشُوا السَّلاَمَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abdullah bin 'Amr that the Messenger of Allah(ﷺ) said:"Worship the Most Merciful and spread (the greeting of) peace
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رحمن کی عبادت کرو، اور سلام کو عام کرو ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ مَنْ حَدَّثَ عَنِّي حَدِيثًا وَهُوَ يُرَى أَنَّهُ كَذِبٌ فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبَيْنِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Ali that:The Prophet (ﷺ) said: '"Whoever narrates a Hadith from me thinking it to be false, then he is one of the two liars." (Either the one who invents a lie or the one who repeats it; both are liars)
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مجھ سے کوئی حدیث یہ جانتے ہوئے بیان کرے کہ وہ جھوٹ ہے تو وہ دو جھوٹوں میں سے ایک ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنْبَأَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ، سَمِعَ ابْنَهُ، يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْقَصْرَ الأَبْيَضَ عَنْ يَمِينِ الْجَنَّةِ، إِذَا دَخَلْتُهَا ‏.‏ فَقَالَ أَىْ بُنَىَّ سَلِ اللَّهَ الْجَنَّةَ وَعُذْ بِهِ مِنَ النَّارِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏ "‏ سَيَكُونُ قَوْمٌ يَعْتَدُونَ فِي الدُّعَاءِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Na'amah that :'Abdullah bin Mughaffal heard his son say: "O Allah, I ask You for the white palace on the right-hand side of Paradise, when I enter it." He said: "O my son, ask Allah for Paradise and seek refuge with Him from Hell, for I heard the Messenger of Allah (saas) say: 'There will be people who will transgress in supplication
ابونعامہ (قیس بن عبایہ) سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو یہ دعا مانگتے سنا: «اللهم إني أسألك القصر الأبيض عن يمين الجنة إذا دخلتها» اللہ! جب میں جنت میں جاؤں تو مجھے جنت کی دائیں جانب سفید محل عطا فرما ، تو انہوں نے کہا: میرے بیٹے! اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرو اور جہنم سے پناہ مانگو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: عنقریب کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو دعا میں حد سے آگے بڑھ جائیں گے ۱؎۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ سُحَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ الْتَقَيَا بِأَسْيَافِهِمَا إِلاَّ كَانَ الْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Anas bin Malik that the Prophet (ﷺ) said:“There are no two Muslims who confront one another with their swords, but both the killer and the slain will be in Hell.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو مسلمان تلوار لے کر باہم لڑ پڑیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنمی ہوں گے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Richness is not an abundance of worldly goods, rather richness is contentment with one’s lot.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مالداری دنیاوی ساز و سامان کی زیادتی سے نہیں ہوتی، بلکہ اصل مالداری تو دل کی بے نیازی اور آسودگی ہے ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏ "‏ لاَ تَغْلِبَنَّكُمُ الأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلاَتِكُمْ فَإِنَّهَا الْعِشَاءُ وَإِنَّهُمْ لَيُعْتِمُونَ بِالإِبِلِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Umar said:"I heard the Messenger of Allah say: 'Do not let the Bedouin make you change the name of your prayer. It is the 'Isha', and they bring their camels in and milk them at nightfall
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اعراب ( دیہاتی لوگ ) تمہاری نماز کے نام میں تم پر غالب نہ آ جائیں، اس لیے کہ ( کتاب اللہ میں ) اس کا نام عشاء ہے، اور یہ لوگ اس وقت اونٹنیوں کے دوہنے کی وجہ سے اسے «عتمہ» کہتے ہیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ، قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ثُمَّ لْيَقُلِ اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ ‏.‏ وَإِذَا خَرَجَ فَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Humaid As-Sa'idi said:"The Messenger of Allah said: 'When anyone of you enters the mosque, let him send peace upon the prophet, then let him say: "Allahummaftah li abwaba rahmatika (O Allah, open to me the gates of Your mercy)." And when he leaves, let him say: "Allahumma inni as'aluka min fadlika. (O Allah, I ask of you from Your bounty)
ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص مسجد میں جائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجے، پھر کہے:«اللهم افتح لي أبواب رحمتك» اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے اور جب نکلے تو یہ کہے: «اللهم إني أسألك من فضلك» اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں ۔
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏ "‏ كُلُّ صَلاَةٍ لاَ يُقْرَأُ فِيهَا بِأُمِّ الْكِتَابِ فَهِيَ خِدَاجٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that ‘Aishah said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘Every prayer in which the Ummul-Kitab (the Mother of the Book) is not recited is deficient.’”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ہر وہ نماز جس میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھی جائے، ناقص ہے ۱؎