حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُطَّلِبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ رَجُلٌ فَقَالَ كَيْفَ أُوتِرُ قَالَ أَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ . قَالَ إِنِّي أَخْشَى أَنْ يَقُولَ النَّاسُ الْبُتَيْرَاءُ فَقَالَ سُنَّةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ . يُرِيدُ هَذِهِ سُنَّةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ .
A man asked Ibn ‘Umar:“How should I perform Witr?” He said: “Pray Witr with one Rak’ah.” He said: “I am afraid that the people will say that I am cutting the prayer short.” He said: “The Sunnah of Allah and His Messenger.” Meaning “This is the Sunnah of Allah and His Messenger.”
مطلب بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: میں وتر کیسے پڑھوں؟ تو انہوں نے کہا: تم ایک رکعت کو وتر بناؤ، اس شخص نے کہا: میں ڈرتا ہوں کہ لوگ اس نماز کو «بتیراء» ( دم کٹی نماز ) کہیں گے، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کی سنت ہے، ان کی مراد تھی کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کی سنت ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ قَالَ " يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ أَوْ بِنِصْفِ دِينَارٍ " .
It was narrated from Ibn 'Abbas that:The Prophet said concerning one who has intercourse with a woman when she is menstruating: "Let him give a Dinar or half a Dinar in charity
ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنی بیوی سے حیض کی حالت میں مجامعت کرے، وہ ایک دینار یا نصف دینار صدقہ کرے ۔