حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ السَّلُولِيِّ، قَالَ قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ إِنَّ الْوِتْرَ لَيْسَ بِحَتْمٍ وَلاَ كَصَلاَتِكُمُ الْمَكْتُوبَةِ وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَوْتَرَ . ثُمَّ قَالَ " يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ أَوْتِرُوا. فَإِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ " .
‘Ali bin Abu Talib said:“Witr is not definite (obligatory) nor is it like your prescribed prayers. But the Messenger of Allah (ﷺ) prayed Witr, then he said: ‘O people of the Qur’an! Perform Witr, for Allah is Witr* and He loves the odd (numbered).’” * Meaning 'one' which is the first of the odd numbers; He is unique, and there is nothing like Him, similar or equal
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وتر واجب نہیں ہے، اور نہ وہ فرض نماز کی طرح ہے، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر پڑھی پھر فرمایا: اے قرآن والو! وتر پڑھو، اس لیے کہ اللہ طاق ہے، طاق ( عدد ) کو پسند فرماتا ہے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُدْنِي رَأْسَهُ إِلَىَّ وَأَنَا حَائِضٌ وَهُوَ مُجَاوِرٌ - تَعْنِي مُعْتَكِفًا - فَأَغْسِلُهُ وَأُرَجِّلُهُ .
It was narrated that 'Aishah said:"The Prophet used to bring his head close to me when I was menstruaring and he was in I'tikaf (seclusion in a mosques for the purpose of worship), and I would wash it and comb his hair
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں حیض کی حالت میں ہوتی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں معتکف ہوتے، تو آپ اپنا سر مبارک میری طرف بڑھا دیتے، میں آپ کا سر دھو کر کنگھا کر دیتی