حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ أَرْسَلَ مُعَاوِيَةُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَانْطَلَقْتُ مَعَ الرَّسُولِ فَسَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بَيْنَمَا هُوَ يَتَوَضَّأُ فِي بَيْتِي لِلظُّهْرِ وَكَانَ قَدْ بَعَثَ سَاعِيًا وَكَثُرَ عِنْدَهُ الْمُهَاجِرُونَ وَكَانَ قَدْ أَهَمَّهُ شَأْنُهُمْ إِذْ ضُرِبَ الْبَابُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ جَلَسَ يَقْسِمُ مَا جَاءَ بِهِ . قَالَتْ فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى الْعَصْرِ . ثُمَّ دَخَلَ مَنْزِلِي فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ " أَشْغَلَنِي أَمْرُ السَّاعِي أَنْ أُصَلِّيَهُمَا بَعْدَ الظُّهْرِ فَصَلَّيْتُهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ " .
It was narrated that ‘Abdullah bin Harith said:“Mu’awiyah sent word to Umm Salamah, and I went with his envoy who put the question to Umm Salamah. She said: ‘While the Messenger of Allah (ﷺ) was performing ablution for the Zuhr in my house and he had sent a Sa’i,* the Muhajirun gathered around him in large numbers, and he was busy dealing with them. When a knock on the door came, he went out and performed the Zuhr, then he sat and distributed what had been brought to him.’ She said: ‘He continued doing that until the ‘Asr. Then he came into my house and performed two Rak’ah. Then he said: “The matter of the Sa’i kept me from praying them after Zuhr, so I prayed them after ‘Asr.”
عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک شخص بھیجا، قاصد کے ساتھ میں بھی گیا، اس نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا، تو انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں نماز ظہر کے لیے وضو کر رہے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ وصول کرنے والا ایک شخص روانہ کیا تھا، آپ کے پاس مہاجرین کی بھیڑ تھی، اور ان کی بدحالی نے آپ کو فکر میں مبتلا کر رکھا تھا کہ اتنے میں کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا، آپ باہر نکلے، ظہر پڑھائی پھر بیٹھے، اور صدقہ وصول کرنے والا جو کچھ لایا تھا اسے تقسیم کرنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر تک ایسے ہی تقسیم کرتے رہے، پھر آپ میرے گھر میں داخل ہوئے، اور دو رکعت پڑھی، اور فرمایا: صدقہ وصول کرنے والے کے معاملے نے مجھے ظہر کے بعد دو رکعت سنت کی ادائیگی سے مشغول کر دیا تھا، اب نماز عصر کے بعد میں نے وہی دونوں رکعتیں پڑھی ہیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ سَأَلَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَتْ إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلاَ أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلاَةَ قَالَ " لاَ وَلَكِنْ دَعِي قَدْرَ الأَيَّامِ وَاللَّيَالِي الَّتِي كُنْتِ تَحِيضِينَ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي حَدِيثِهِ " وَقَدْرَهُنَّ مِنَ الشَّهْرِ ثُمَّ اغْتَسِلِي وَاسْتَثْفِرِي بِثَوْبٍ وَصَلِّي " .
It was narrated that Umm Salamah said:"A woman asked the Prophet: 'I bleed continuously and I do not become pure. Should I give up the prayer?' He said: 'No, but leave off praying for the number of days and nights that used to menstruate.'" (One of the narrators) Abu Bakr (Ibn Abu Shaibah) said in this Hadith: "Estimate the number of days in the month, then take a bath and cover your private part with a cloth and perform prayer
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے، پاک نہیں رہتی ہوں، تو کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ جن دنوں میں تمہیں حیض آتا ہے اتنے دن نماز چھوڑ دو ، ابوبکر بن ابی شیبہ نے اپنی حدیث میں کہا: ہر مہینہ سے بقدر ایام حیض نماز چھوڑ دو، پھر غسل کرو، اور کپڑے کا لنگوٹ باندھ کر نماز ادا کرو ۱؎۔