بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Ibn Majah
6
30 hadith
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خِذَامٍ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ لَمَّا غَسَّلَ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ذَهَبَ يَلْتَمِسُ مِنْهُ مَا يَلْتَمِسُ مِنَ الْمَيِّتِ فَلَمْ يَجِدْهُ ‏.‏ فَقَالَ بِأَبِي الطَّيِّبُ طِبْتَ حَيًّا وَطِبْتَ مَيِّتًا ‏.‏
It was narrated that ‘Ali bin Abu Talib said that when he washed the Messenger of Allah (ﷺ) he looked for what which is usually looked for on the deceased (i.e., dirt), and he found none. He said:“May my father be sacrificed for you, you are pure; you were pure in life and you are pure in death.”
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دیا، تو آپ کے جسم مبارک سے وہ ڈھونڈنے لگے جو میت کے جسم میں ڈھونڈتے ہیں ۱؎ لیکن کچھ نہ پایا، تو کہا: میرے باپ آپ پر قربان ہوں، آپ پاک صاف ہیں، آپ زندگی میں بھی پاک تھے، مرنے کے بعد بھی پاک رہے ۲؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنِ ابْنِ الْمُطَوِّسِ، عَنْ أَبِيهِ الْمُطَوِّسِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ رُخْصَةٍ لَمْ يُجْزِهِ صِيَامُ الدَّهْرِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever does not fast one day in Ramadan without having a concession allowing that, fasting for a lifetime will not make up for that.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص رمضان کا ایک روزہ بغیر کسی رخصت کے چھوڑ دے تو اسے پورے سال کے روزے ( بھی ) کافی نہ ہوں گے ۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْمِصْرِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏ "‏ فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالأَنْهَارُ وَالْعُيُونُ أَوْ كَانَ بَعْلاً الْعُشْرُ وَفِيمَا سُقِيَ بِالسَّوَانِي نِصْفُ الْعُشْرِ ‏"‏ ‏.‏
Salim narrated that:that his Father said: “I heard the Messenger of Allah say: 'For whatever is irrigated by the sky, rivers and springs, or draws up water from deep roots, one-tenth. For whatever is irrigated by animals (i.e. by artificial means) one half of one-tenth.' ”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو غلہ اور پھل بارش، نہر، چشمہ یا زمین کی تری ( سیرابی ) سے پیدا ہو اس میں دسواں حصہ زکاۃ ہے، اور جسے جانوروں کے ذریعہ سینچا گیا ہو اس میں بیسواں حصہ ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ أَيُّمَا امْرَأَةٍ لَمْ يُنْكِحْهَا الْوَلِيُّ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَإِنْ أَصَابَهَا فَلَهَا مَهْرُهَا بِمَا أَصَابَ مِنْهَا فَإِنِ اشْتَجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لاَ وَلِيَّ لَهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Aishah that :the Messenger of Allah said: “Any woman whose marriage is not arranged by her guardian, her marriage is invalid, her marriage is invalid, her marriage is invalid. If (the man) has had intercourse with her, then the Mahr belongs to her in return for his intimacy with her. And if there is any dispute then the ruler is the guardian of the one who does not have a guardian.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس عورت کا نکاح اس کے ولی نے نہ کیا ہو، تو اس کا نکاح باطل ہے، باطل ہے، باطل ہے، اگر مرد نے ایسی عورت سے جماع کر لیا تو اس جماع کے عوض عورت کے لیے اس کا مہر ہے، اور اگر ولی اختلاف کریں تو حاکم اس کا ولی ہو گا جس کا کوئی ولی نہیں ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ أَىُّ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ اسْتَعَاذَتْ مِنْهُ فَقَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ ابْنَةَ الْجَوْنِ لَمَّا دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَدَنَا مِنْهَا قَالَتْ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ عُذْتِ بِعَظِيمٍ ‏.‏ الْحَقِي بِأَهْلِكِ ‏"‏ ‏.‏
Awza'i said :"I asked Zuhri: 'Which of the wives of the Prophet (ﷺ) sought refuge with Allah from him? He said : "Urwah told me, (narrating) from 'Aishah, that when the daughter of Jawn entered upon the Messenger of Allah (ﷺ) and he came close to her, she said: "I seek refuge with Allah from you." the Messenger of Allah (ﷺ) said : "You have sought refuge in the Almighty" go to your family
اوزاعی کہتے ہیں میں نے زہری سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی بیوی نے آپ سے اللہ کی پناہ مانگی تو انہوں نے کہا: مجھے عروہ نے خبر دی کی عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جَون کی بیٹی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خلوت میں آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے قریب گئے تو بولی: میں آپ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے ایک بڑی ہستی کی پناہ مانگی ہے تم اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ ۱؎۔
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ لاَ نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ وَلاَ نَذْرَ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Imran bin Husain that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"[There is no vow to commit disobedience and] no vow concerning that which the son of Adam does not possess
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت ( گناہ ) میں نذر نہیں ہے، اور نہ اس میں نذر ہے جس کا آدمی مالک نہ ہو ۱؎۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ لاَ يَبِيعُ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"Let one of you not undersell another
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی کسی کے سودے پر سودہ نہ کرے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ لُؤْلُؤَةَ، عَنْ أَبِي صِرْمَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ ضَارَّ أَضَرَّ اللَّهُ بِهِ وَمَنْ شَاقَّ شَقَّ اللَّهُ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Sirmah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever harms others, Allah (SWT) will harm him; and whoever causes hardship to other Allah will cause hardship to him.”
ابوصرمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی کو نقصان پہنچائے گا اللہ تعالیٰ اسے نقصان پہنچائے گا، اور جو کسی پر سختی کرے گا اللہ تعالیٰ اس پر سختی کرے گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اسْتَسْلَفَ مِنْهُ حِينَ غَزَا حُنَيْنًا ثَلاَثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ أَلْفًا فَلَمَّا قَدِمَ قَضَاهَا إِيَّاهُ ثُمَّ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ إِنَّمَا جَزَاءُ السَّلَفِ الْوَفَاءُ وَالْحَمْدُ ‏"‏ ‏.‏
Isma'il bin Abi Rabi'ah Al-Makhzumi narrated from his father, from his grandfather, that :the Prophet (ﷺ) borrowed thirty or forty thousand from him, when he fought at Hunain. When he came back he paid the loan, then the Prophet (ﷺ) said to him: 'May Allah (SWT) bless your family and your wealth for you. The reward for lending is repayment and words of paradise.”
عبداللہ بن ابی ربیعہ مخزومی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے موقع پر ان سے تیس یا چالیس ہزار قرض لیا، پھر جب حنین سے واپس آئے تو قرض ادا کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اللہ تعالیٰ تیرے اہل و عیال اور مال و دولت میں برکت دے، قرض کا بدلہ اس کو پورا کا پورا چکانا، اور قرض دینے والے کا شکریہ ادا کرنا ہے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ مَرَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي نَخْلٍ فَرَأَى قَوْمًا يُلَقِّحُونَ النَّخْلَ فَقَالَ ‏"‏ مَا يَصْنَعُ هَؤُلاَءِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَأْخُذُونَ مِنَ الذَّكَرِ فَيَجْعَلُونَهُ فِي الأُنْثَى ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَا أَظُنُّ ذَاكَ يُغْنِي شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏ فَبَلَغَهُمْ فَتَرَكُوهُ وَنَزَلُوا عَنْهَا فَبَلَغَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ إِنَّمَا هُوَ ظَنٌّ إِنْ كَانَ يُغْنِي شَيْئًا فَاصْنَعُوهُ فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ وَإِنَّ الظَّنَّ يُخْطِئُ وَيُصِيبُ وَلَكِنْ مَا قُلْتُ لَكُمْ قَالَ اللَّهُ فَلَنْ أَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Simak that the heard Musa bin Talhah bin `Ubaidullah narrating that his father said:“I passed by some palm trees with the Messenger of Allah (ﷺ) and he saw some people pollinating the trees. He said: 'What are these people doing?' They said: 'They are taking something from the male part (of the plant) and putting it in the female part.' He said: 'I do not think that this will do any good.' News of that reached them, so they stopped doing it, and their yield declined. News of that reached the Prophet (ﷺ) and he said: 'That was only my thought. If it will do any good, then do it. I am only a human being like you, and what I think may be right or wrong. But When I tell you: “Allah (SWT) says,” I will never tell lies about Allah (SWT).' ”
طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھجور کے باغ میں گزرا، تو آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگ نر کھجور کا گابھا لے کر مادہ میں ڈالتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ لوگ کیا کر رہے ہیں ؟ لوگوں نے عرض کیا: نر کا گابھا لے کر مادہ میں ڈالتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نہیں سمجھتا ہوں کہ اس سے کوئی فائدہ ہو گا ، یہ خبر جب ان صحابہ کو پہنچی تو انہوں نے ایسا کرنا چھوڑ دیا، لیکن اس سے درختوں میں پھل کم آئے، پھر یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ میرا گمان تھا، اگر اس میں فائدہ ہے تو اسے کرو، میں تو تمہی جیسا ایک آدمی ہوں گمان کبھی غلط ہوتا ہے اور کبھی صحیح، لیکن جو میں تم سے کہوں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ( تو وہ غلط نہیں ہو سکتا ہے ) کیونکہ میں اللہ تعالیٰ پر ہرگز جھوٹ نہیں بولوں گا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا نَزَلَ عُذْرِي قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمِنْبَرِ فَذَكَرَ ذَلِكَ وَتَلاَ الْقُرْآنَ فَلَمَّا نَزَلَ أَمَرَ بِرَجُلَيْنِ وَامْرَأَةٍ فَضُرِبُوا حَدَّهُمْ ‏.‏
It was narrated that 'Aishah said:“When my innocence was revealed, the Messenger of Allah (ﷺ) stood on the pulpit and mentioned that, and he recited Quran. When he came down, he ordered that the legal punishment (of slandering) be carried out on two men and a woman.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب میری براءت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور اس کا تذکرہ کر کے قرآنی آیات کی تلاوت کی، اور جب منبر سے اتر آئے، تو دو مردوں اور ایک عورت کے بارے میں حکم دیا چنانچہ ان کو حد لگائی گئی ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى أَبُو مُوسَى، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَسَرَتِ الرُّبَيِّعُ عَمَّةُ أَنَسٍ ثَنِيَّةَ جَارِيَةٍ فَطَلَبُوا الْعَفْوَ فَأَبَوْا فَعَرَضَ عَلَيْهِمُ الأَرْشَ فَأَبَوْا فَأَتَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَ بِالْقِصَاصِ ‏.‏ فَقَالَ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُكْسَرُ ثَنِيَّةُ الرُّبَيِّعِ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لاَ تُكْسَرُ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا أَنَسُ كِتَابُ اللَّهِ الْقِصَاصُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَرَضِيَ الْقَوْمُ فَعَفَوْا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لأَبَرَّهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Anas said:“Rubai, the paternal aunt of Anas, broke the tooth of a girl and they (her family) asked (the girl's family) to let her off, but they refused. They offered to pay compensatory money, but they refused. So they came to Prophet (ﷺ) who ordered retaliation. Anas bin Nadr said: 'O Messenger of Allah (ﷺ), will the tooth of Rubai' be broken? By the One Who sent you with the truth, it will not be broken!' The Prophet (ﷺ) said: 'O Anas, what Allah has decreed is retaliation.' So the people accepted that and forgave her. The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'there are among the slaves of Allah those who, if they swear by Allah, Allah fulfills their oath.'”
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کی پھوپھی ربیع بنت نضر رضی اللہ عنہا نے ایک لڑکی کے سامنے کا دانت توڑ ڈالا، تو ربیع کے لوگوں نے معافی مانگی، لیکن لڑکی کی جانب کے لوگ معافی پر راضی نہیں ہوئے، پھر انہوں نے دیت کی پیش کش کی، تو انہوں نے دیت لینے سے بھی انکار کر دیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص کا حکم دیا، تو انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ربیع کا دانت توڑا جائے گا؟ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، ایسا نہیں ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے انس! اللہ کی کتاب قصاص کا حکم دیتی ہے ، پھر لوگ معافی پر راضی ہو گئے، اور اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے بعض بندے ایسے بھی ہیں کہ اگر وہ اللہ کی قسم کھا لیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم پوری کر دیتا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“There is goodness in the forelocks of horses until the Day of Resurrection.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک خیر و برکت بندھی ہوئی ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ سَلَمَةَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ إِذَا أَدْخَلَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ وَاسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ أَهَلَّ مِنْ عِنْدِ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ ‏.‏
It was narrated from Ibn ‘Umar that when the Messenger of Allah (ﷺ) put his foot in the stirrup and his riding beast rose up with him, he would say the Talbiyah from the mosque of Dhul-Hulaifah
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنا پاؤں رکاب میں رکھتے اور اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو جاتی، تو آپ ذو الحلیفہ کی مسجد کے پاس سے لبیک پکارتے ۱؎۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، وَقَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِذَا خَرَجَ مِنَ الْخَلاَءِ قَالَ ‏ "‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنِّي الأَذَى وَعَافَانِي ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Anas bin Malik said:"Whenever the Prophet exited the toilet, he would say: 'Al-hamdu lillahilladhi adhhaba 'annial-adha wa 'afani (Praise is to Allah Who has relieved me of impurity and given me good health)
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانہ سے نکلتے تو فرماتے: «الحمد لله الذي أذهب عني الأذى وعافاني» یعنی: تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے مجھ سے تکلیف دور کی، اور مجھے عافیت بخشی ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ، - قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ غَيْرُ عَبْدِ الأَعْلَى عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ، - ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى أَبُو مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِدَارٍ مِنْ دُورِ الأَنْصَارِ فَوَجَدَ رِيحَ قُتَارٍ فَقَالَ ‏"‏ مَنْ هَذَا الَّذِي ذَبَحَ ‏"‏ ‏.‏ فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنَّا فَقَالَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أُصَلِّيَ لأُطْعِمَ أَهْلِي وَجِيرَانِي ‏.‏ فَأَمَرَهُ أَنْ يُعِيدَ ‏.‏ فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ الَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ مَا عِنْدِي إِلاَّ جَذَعٌ أَوْ حَمَلٌ مِنَ الضَّأْنِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اذْبَحْهَا وَلَنْ تُجْزِئَ جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Zaid Al-Ansari said:“The Messenger of Allah (ﷺ) passed by one of the houses of the Ansar and noticed the smell of a cooking pot. He said: ‘Who is this who has slaughtered?’ A man from among us came out and said: ‘It is me, O Messenger of Allah, I slaughtered before the prayer so that I could feed my family and neighbors.’ He commanded him to repeat it. He said: ‘No, by the One besides Whom there is none worthy of worship, I do not have anything but a one-year-old sheep or a lamb.’ He (ﷺ) said: ‘Sacrifice it, but a one-year-old sheep will not do for anyone after you.’”
ابوزید انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر انصار کے گھروں میں سے ایک گھر سے ہوا، تو آپ نے وہاں گوشت بھوننے کی خوشبو پائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کس شخص نے ذبح کیا ہے ؟ ہم میں سے ایک شخص آپ کی طرف نکلا، اور آ کر اس نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول! میں نے نماز عید سے پہلے ذبح کر لیا، تاکہ گھر والوں اور پڑوسیوں کو کھلا سکوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوبارہ قربانی کا حکم دیا، اس شخص نے عرض کیا: قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، میرے پاس ایک جذعہ یا بھیڑ کے بچہ کے علاوہ کچھ بھی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی کو ذبح کر لو اور تمہارے بعد کسی کے لیے جذعہ کافی نہیں ہو گا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ مُنَادِيَ النَّبِيِّ، ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَادَى إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ فَإِنَّهَا رِجْسٌ ‏.‏
It was narrated from Anas bin Malik that the caller of the Prophet (ﷺ) cried out:“Allah and His Messenger forbid you to eat the flesh of domesticated donkeys, for it is filthy.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے آواز لگائی: اللہ اور اس کے رسول تمہیں پالتو گدھے کے گوشت سے منع کرتے ہیں، کیونکہ وہ ناپاک ہے۔
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ ‏.‏
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“On the Day of Khaibar, the Messenger of Allah (ﷺ) forbade eating any predatory animal that has fangs and any bird that has talons.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن ہر کچلی ( نوک دار دانت ) والے درندے اور پنجہ والے پرندے کے کھانے سے منع فرما دیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي مَرْحُومٍ عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ مَنْ أَكَلَ طَعَامًا فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلاَ قُوَّةٍ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Sahl bin Mu’adh bin Anas Al-Juhani, from his father, that the Prophet (ﷺ) said:“Whoever eats food and said: Al- hamdu lillahil-ladhi at’amani hadha wa razaqanihi min ghayri hawlin minni wa la quwwatin (Praise is to Allah Who has fed me this and provided it for me without any strength or power on my part), - his previous sins will be forgiven.”
معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کھانا کھا کر یہ دعا پڑھے: «الحمد لله الذي أطعمني هذا ورزقنيه من غير حول مني ولا قوة غفر له ما تقدم من ذنبه» حمد و ثناء اور تعریف ہے اس اللہ کی جس نے مجھے یہ کھلایا، اور بغیر میری کسی طاقت اور زور کے اسے مجھے عطا کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے گناہ معاف فرما دے گا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنِ الأَوْعِيَةِ فَانْتَبِذُوا فِيهِ وَاجْتَنِبُوا كُلَّ مُسْكِرٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn Buraidah from his father that the Prophet (ﷺ) said:“I used to forbid you to use certain vessels, but now make Nabidh in them, but avoid all intoxicants.”
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں ( مخصوص ) برتنوں کے استعمال سے روکا تھا، اب ان میں نبیذ تیار کر سکتے ہو لیکن ہر نشہ لانے والی چیز سے بچو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الأَشْعَرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهُ عَادَ مَرِيضًا وَمَعَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ مِنْ وَعْكٍ كَانَ بِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ أَبْشِرْ فَإِنَّ اللَّهَ يَقُولُ هِيَ نَارِي أُسَلِّطُهَا عَلَى عَبْدِيَ الْمُؤْمِنِ فِي الدُّنْيَا لِتَكُونَ حَظَّهُ مِنَ النَّارِ فِي الآخِرَةِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) visited a sick person, due to an illness that he was suffering from and Abu Hurairah was with him. The Messenger of Allah (ﷺ) said:“Be of good cheer, for Allah says: ‘It is My fire which I have causes to overwhelm My believing slave in this world, to be his share of the Fire in the Hereafter.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بخار کے ایک مریض کی عیادت کی، آپ کے ساتھ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خوش ہو جاؤ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یہ میری آگ ہے، میں اسے اپنے مومن بندے پر اس دنیا میں اس لیے مسلط کرتا ہوں تاکہ وہ آخرت کی آگ کا بدل بن جائے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى التَّيْمِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ ‏ "‏ إِيَّاكُمْ وَكَثْرَةَ الْحَدِيثِ عَنِّي فَمَنْ قَالَ عَلَىَّ فَلْيَقُلْ حَقًّا أَوْ صِدْقًا وَمَنْ تَقَوَّلَ عَلَىَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Qatadah said:"While he was on this pulpit, I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: ' Beware of narrating too many Ahadith from me. Whoever attributes something to me, let him speak the truth faithfully. Whoever attributes to say something that I did not say, let him take his place in Hell
ابوقتادۃ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس منبر پر فرماتے سنا: تم مجھ سے زیادہ حدیثیں بیان کرنے سے بچو، اگر کوئی میرے حوالے سے کوئی بات کہے تو وہ صحیح صحیح اور سچ سچ کہے، اور جو شخص گھڑ کر میری طرف ایسی بات منسوب کرے جو میں نے نہیں کہی تو وہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لے ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُسَاوِرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ ‏.‏
It was narrated from Ja’far bin ‘Amr bin Huraith that his father said:“I saw the Prophet (ﷺ) delivering a sermon on the pulpit, wearing a black turban.”
عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر خطبہ دیتے دیکھا، آپ کے سر پر کالی پگڑی تھی۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ، عَنْ مُرَّةَ الطَّيِّبِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ سَيِّئُ الْمَلَكَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَيْسَ أَخْبَرْتَنَا أَنَّ هَذِهِ الأُمَّةَ أَكْثَرُ الأُمَمِ مَمْلُوكِينَ وَيَتَامَى قَالَ ‏"‏ نَعَمْ فَأَكْرِمُوهُمْ كَكَرَامَةِ أَوْلاَدِكُمْ وَأَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا فَمَا يَنْفَعُنَا فِي الدُّنْيَا قَالَ ‏"‏ فَرَسٌ تَرْتَبِطُهُ تُقَاتِلُ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَمْلُوكُكَ يَكْفِيكَ فَإِذَا صَلَّى فَهُوَ أَخُوكَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Bakr Siddiq(RA) that the Messenger of Allah(ﷺ) said:"No person who mistreats his slave will enter Paradise." They said: " O Messenger of Allah, did you not tell us that this nation will have more slaves and orphans than any other nation?" He said: " Yes, so be as kind to them as you are to your own children, and feed them with the same food that you eat." They said: "What will benefit us in this world?" He said: "A horse that is kept ready for fighting in the cause of Allah, and your slave to take care of you, and if he performs prayer, then he is your brother(in Islam)
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بدخلق شخص جو اپنے غلام اور لونڈی کے ساتھ بدخلقی سے پیش آتا ہو، جنت میں داخل نہ ہو گا ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ نے ہمیں نہیں بتایا کہ اس امت کے اکثر افراد غلام اور یتیم ہوں گے؟ ۱؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں؟ لیکن تم ان کی ایسی ہی عزت و تکریم کرو جیسی اپنی اولاد کی کرتے ہو، اور ان کو وہی کھلاؤ جو تم خود کھاتے ہو ، پھر لوگوں نے عرض کیا: ہمارے لیے دنیا میں کون سی چیز نفع بخش ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:: گھوڑا جسے تم جہاد کے لیے باندھ کر رکھتے ہو، پھر اس پر اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہو ( اس کی جگہ ) تمہارا غلام تمہارے لیے کافی ہے، اور جب نماز پڑھے تو وہ تمہارا بھائی ہے ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنْذِرِ، زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمِيمِيُّ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً إِلاَّ وَاحِدًا إِنَّهُ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ مَنْ حَفِظَهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَهِيَ اللَّهُ الْوَاحِدُ الصَّمَدُ الأَوَّلُ الآخِرُ الظَّاهِرُ الْبَاطِنُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ الْمَلِكُ الْحَقُّ السَّلاَمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ الْعَلِيمُ الْعَظِيمُ الْبَارُّ الْمُتَعَالِ الْجَلِيلُ الْجَمِيلُ الْحَىُّ الْقَيُّومُ الْقَادِرُ الْقَاهِرُ الْعَلِيُّ الْحَكِيمُ الْقَرِيبُ الْمُجِيبُ الْغَنِيُّ الْوَهَّابُ الْوَدُودُ الشَّكُورُ الْمَاجِدُ الْوَاجِدُ الْوَالِي الرَّاشِدُ الْعَفُوُّ الْغَفُورُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ التَّوَّابُ الرَّبُّ الْمَجِيدُ الْوَلِيُّ الشَّهِيدُ الْمُبِينُ الْبُرْهَانُ الرَّءُوفُ الرَّحِيمُ الْمُبْدِئُ الْمُعِيدُ الْبَاعِثُ الْوَارِثُ الْقَوِيُّ الشَّدِيدُ الضَّارُّ النَّافِعُ الْبَاقِي الْوَاقِي الْخَافِضُ الرَّافِعُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الْمُعِزُّ الْمُذِلُّ الْمُقْسِطُ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ الْقَائِمُ الدَّائِمُ الْحَافِظُ الْوَكِيلُ الْفَاطِرُ السَّامِعُ الْمُعْطِي الْمُحْيِي الْمُمِيتُ الْمَانِعُ الْجَامِعُ الْهَادِي الْكَافِي الأَبَدُ الْعَالِمُ الصَّادِقُ النُّورُ الْمُنِيرُ التَّامُّ الْقَدِيمُ الْوِتْرُ الأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ زُهَيْرٌ فَبَلَغَنَا عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ أَوَّلَهَا يُفْتَحُ بِقَوْلِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ لَهُ الأَسْمَاءُ الْحُسْنَى ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that :the Messenger of Allah (saas) said: "Allah has ninety-nine names, one hundred less one, for He is One and loves the odd (numbered). Whoever learns them will enter Paradise. They are: Allah, Al-Wahid (the One), As-Samad (the Self-Sufficient Master who all creatures need, He neither eats nor drinks), Al-Awwal (the First), Al-Akhir (the Last), Az-Zahir (the Most High), Al-Batin (the Most Near), Al-Khaliq (the Creator), Al-Bari (the Inventor of all things), Al-Musawwir (the Bestower of forms), Al-Malik (the King), Al-Haqq (the Truth), As-Salam (the One free from all defects), Al-Mu'min (the Giver of security), Al-Muhaymin (the Watcher over His creatures), Al-'Aziz (the All-Mighty), Al-Jabbar (the Compeller), Al-Mutakabbir (the Supreme), Ar-Rahman (the Most Gracious), Ar-Rahim (the Most Merciful), Al-Latif (the Most Subtle and Courteous), Al-Khabir (the Aware), As-Sami' (the Hearing), Al-Basir (the Seeing), Al-'Alim (the All-Knowing), Al-'Azim (the Most Great), Al-Barr (the Source of goodness), Al-Muta'al (the Most Exalted), Al-Jalil (the Sublime One), Al-Jamil (the Beautiful), Al-Hayy (the Ever-Living), Al-Qayyum (the One Who sustains and protects all that exists), Al-Qadir (the Able), Al-Qahir (the Irrestible), Al-'Ali (the Exalted), Al-Hakim (the Most Wise), Al-Qarib (the Ever-Near), Al-Mujib (the Responsive), Al-Ghani (the Self-Sufficient), Al-Wahhab (the Bestower), Al-Wadud (the Loving), Ash-Shakur (the Appreciative), Al-Majid (the Most Gentle), Al-Wajid (the Patron), Al-Wali (the Governor), Al-Rashid (the Guide), Al-'Afuw (the Pardoner), Al-Ghafur (the Forgiver), Al-Halim (the Forbearing One), Al-Karim (the Most Generous), At-Tawwab (the Acceptor of Repentance), Ar-Rabb (the Lord and Cherisher), Al-Majid (the Most Glorious), Al-Wali (the Helper), Ash-Shahid (the Witness), Al-Mubin (the Manifest), Al-Burhan (the Proof), Ar-Ra'uf (the Compassionate), Ar-Rahim (the Most Merciful), Al-Mubdi' (the Originator), Al-Mu'id (the Restorer), Al-Ba'ith (the Resurrector), Al-Warith (the Supreme Inheritor), Al-Qawi (the All-Strong), Ash-Shadid (the Severe), Ad-Darr (the One Who harms), An-Nafi' (the One Who benefits), Al-Baqi' (the Everlasting), Al-Waqi (the Protector), Al-Khafid (the Humble), Ar-Rafi' (the Exalter), Al-Qabid (the Retainer), Al-Basit (the Expander), Al-Mu'izz (the Honorer), Al-Mudhill (the Humiliator), Al-Muqsit (the Equitable), Ar-Razzaq (the Providor), Dhul-Quwwah (the Powerful), Al-Matin (the Most Strong), Al-Qa'im (the Firm), Ad-Da'im (the Eternal), Al-Hafiz (the Guardian), Al-Wakil (the Trustee), Al-Fatir (the Originator of creation), As-Sami' (the Hearer), Al-Mu'ti (the Giver), Al-Muhyi (the Giver of life), Al-Mumit (the Giver of death), Al-Mani' (the Withholder), Al-Jami' (the Gatherer), Al-Hadi (the Guide), Al-Kafi (the Sufficient), Al-Abad (the Eternal), Al-'Alim (the Knower), As-Sadiq (the Truthful), An-Nur (the Light), Al-Munir (the Giver of light), At-Tamm (the Perfect), Al-Qadim (the Earlier), Al-Witr (the One), Al-Ahad (the Lone), As-Samad [(the Self-sufficient Master, Who all creatures need, (He neither eats no drinks)]. He begets not, nor was He begotten. And there is none co-equal or comparable unto him."(One of the narrators) Zuhair said: We heard from more than one of the scholars that the first of these (names) should begin after saying: La ilaha illallahu wahdahu la sharika lahu, lahul-mulku wa lahul-hamdu, bi yadihil-khair wa Huwa 'ala kulli shay-in Qadir, la ilaha illallahu lahul-asma'ul-husna [None has the right to be worshipped but Allah, with no partner or associate. His is the dominion and all praise is His. In His Hand is (all) goodness, and He is Able to do all things, none has the right to be worshipped but Allah, and His are the (Most) Beautiful Names
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں ایک کم سو، چونکہ اللہ تعالیٰ طاق ہے اس لیے طاق کو پسند کرتا ہے جو انہیں یاد کرے گا وہ جنت میں داخل ہو گا، اور وہ ننانوے نام یہ ہیں: «الله» اسم ذات سب ناموں سے اشرف اور اعلیٰ ، «الواحد» اکیلا، ایکتا ، «الصمد» بے نیاز ، «الأول» پہلا ، «الآخر» پچھلا ، «الظاهر» ظاہر ، «الباطن» باطن ، «الخالق» پیدا کرنے والا ، «البارئ» بنانے والا ، «المصور» صورت بنانے والا ، «الملك» بادشاہ ، «الحق» سچا ، «السلام» سلامتی دینے والا ، «المؤمن» یقین والا ، «المهيمن» نگہبان ، «العزيز» غالب ، «الجبار» تسلط والا ، «المتكبر» بڑائی والا ، «الرحمن» بہت رحم کرنے والا ،«الرحيم» مہربان ، «اللطيف» بندوں پر شفقت کرنے والا ، «الخبير» خبر رکھنے والا ، «السميع» سننے والا ، «البصير» دیکھنے والا ،«العليم» جاننے والا ، «العظيم» بزرگی والا ، «البار» بھلائی والا ، «المتعال» برتر ، «الجليل» بزرگ ، «الجميل» خوبصورت ،«الحي» زندہ ، «القيوم» قائم رہنے اور قائم رکھنے والا ، «القادر» قدرت والا ، «القاهر» قہر والا ، «العلي» اونچا ، «الحكيم» حکمت والا ، «القريب» نزدیک ، «المجيب» قبول کرنے والا ، «الغني» تونگر بے نیاز ، «الوهاب» بہت دینے والا ، «الودود» بہت چاہنے والا ، «الشكور» قدر کرنے والا ، «الماجد» بزرگی والا ، «الواجد» پانے والا ، «الوالي» مالک مختار، حکومت کرنے والا ، «الراشد» خیر والا ، «العفو» بہت معاف کرنے والا ، «الغفور» بہت بخشنے والا ، «الحليم» بردبار ، «الكريم» کرم والا ، «التواب» توبہ قبول کرنے والا ، «الرب» پالنے والا ، «المجيد» بزرگی والا ، «الولي» مددگار و محافظ ، «الشهيد» نگراں، حاضر ، «المبين» ظاہر کرنے والا ،«البرهان» دلیل ، «الرءوف» شفقت والا ، «الرحيم» مہربان ، «المبدئ» پہلے پہل پیدا کرنے والا ، «المعيد» دوبارہ پیدا کرنے والا ،«الباعث» زندہ کر کے اٹھانے والا ، «الوارث» وارث ، «القوي» ( قوی ) زور آور ، «الشديد» سخت ، «الضار» نقصان پہنچانے والا ،«النافع» نفع دینے والا ، «الباقي» قائم ، «الواقي» بچانے والا ، «الخافض» پست کرنے والا ، «الرافع» اونچا کرنے والا ، «القابض» روکنے والا ، «الباسط» چھوڑ دینے والا، پھیلانے والا ، «المعز» عزت دینے والا ، «المذل» ذلت دینے والا ، «المقسط» منصف ،«الرزاق» روزی دینے والا ، «ذو القوة» طاقت والا ، «المتين» مضبوط ، «القائم» ہمیشہ رہنے والا ، «الدائم» ہمیشگی والا ، «الحافظ» بچانے والا ، «الوكيل» کارساز ، «الفاطر» پیدا کرنے والا ، «السامع» سننے والا ، «المعطي» دینے والا ، «المحيي» زندہ کرنے والا ، «المميت» مارنے والا ، «المانع» روکنے والا ، «الجامع» جمع کرنے والا ، «الهادي» ( رہبری ہادی ) راہ بنانے والا ، «الكافي» کفایت کرنے والا ، «الأبد» ہمیشہ برقرار ، «العالم» ( عالم ) جاننے والا ، «الصادق» سچا ، «النور» روشن، ظاہر ، «المنير» روشن کرنے والا ،«التام» مکمل ، «القديم» ہمیشہ رہنے والا ، «الوتر» طاق ، «الأحد» اکیلا ، «الصمد» بے نیاز ، «الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد» جس نے نہ جنا ہے نہ وہ جنا گیا ہے، اور اس کا کوئی ہمسر نہیں ہے ۔ زہیر کہتے ہیں: ہمیں بہت سے اہل علم سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ ان ناموں کی ابتداء اس قول سے کی جاتی ہے: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد بيده الخير وهو على كل شيء قدير لا إله إلا الله له الأسماء الحسنى» اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اسی کے لیے ہر طرح کی تعریف ہے، اسی کے ہاتھ میں خیر ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت والا ہے، اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اسی کے لیے اچھے نام ہیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدٍ، مُؤَذِّنُ مَسْجِدِ جُرْدَانَ قَالَ حَدَّثَتْنِي عُدَيْسَةُ بِنْتُ أُهْبَانَ، قَالَتْ لَمَّا جَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ هَاهُنَا الْبَصْرَةَ دَخَلَ عَلَى أَبِي فَقَالَ يَا أَبَا مُسْلِمٍ أَلاَ تُعِينُنِي عَلَى هَؤُلاَءِ الْقَوْمِ قَالَ بَلَى ‏.‏ قَالَ فَدَعَا جَارِيَةً لَهُ فَقَالَ يَا جَارِيَةُ أَخْرِجِي سَيْفِي ‏.‏ قَالَ فَأَخْرَجَتْهُ فَسَلَّ مِنْهُ قَدْرَ شِبْرٍ فَإِذَا هُوَ خَشَبٌ فَقَالَ إِنَّ خَلِيلِي وَابْنَ عَمِّكَ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَهِدَ إِلَىَّ إِذَا كَانَتِ الْفِتْنَةُ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ فَأَتَّخِذُ سَيْفًا مِنْ خَشَبٍ فَإِنْ شِئْتَ خَرَجْتُ مَعَكَ ‏.‏ قَالَ لاَ حَاجَةَ لِي فِيكَ وَلاَ فِي سَيْفِكَ ‏.‏
‘Udaisah bint Uhban said:“When ‘Ali bin Abu Talib came to Basrah, he entered upon my father and said: ‘O Abu Muslim, will you not help me against these people?’ He said: ‘Of course.’ So he called a slave woman of his and said: ‘O slave woman, bring me my sword.’ So she brought it, and he unsheathed it a span, and (I saw that) it was made of wood. He said: ‘My close friend and your cousin (ﷺ) advised me, if tribulation (Fitnah) arose among the Muslims, that I should take a sword of wood. If you wish I will go out with you.’ He said: ‘I have no need of you or of your sword.’”
عدیسہ بنت اہبان کہتی ہیں کہ جب علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ یہاں بصرہ میں آئے، تو میرے والد ( اہبان بن صیفی غفاری رضی اللہ عنہ ) کے پاس تشریف لائے، اور کہا: ابو مسلم! ان لوگوں ( شامیوں ) کے مقابلہ میں تم میری مدد نہیں کرو گے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور مدد کروں گا، پھر اس کے بعد اپنی باندی کو بلایا، اور اسے تلوار لانے کو کہا: وہ تلوار لے کر آئی، ابو مسلم نے اس کو ایک بالشت برابر ( نیام سے ) نکالا، دیکھا تو وہ تلوار لکڑی کی تھی، پھر ابو مسلم نے کہا: میرے خلیل اور تمہارے چچا زاد بھائی ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) نے مجھے ایسا ہی حکم دیا ہے کہ جب مسلمانوں میں جنگ اور فتنہ برپا ہو جائے تو میں ایک لکڑی کی تلوار بنا لوں ، اگر آپ چاہیں تو میں آپ کے ہمراہ نکلوں، انہوں نے کہا: مجھے نہ تمہاری ضرورت ہے اور نہ تمہاری تلوار کی ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ بُرْزِينَ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ بُرْزِينَ، حَدَّثَنَا سَيَّارُ بْنُ سَلاَمَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ السَّلِيطِيِّ، عَنْ نُقَادَةَ الأَسَدِيِّ، قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِلَى رَجُلٍ يَسْتَمْنِحُهُ نَاقَةً فَرَدَّهُ ثُمَّ بَعَثَنِي إِلَى رَجُلٍ آخَرَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ بِنَاقَةٍ فَلَمَّا أَبْصَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيهَا وَفِيمَنْ بَعَثَ بِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نُقَادَةُ فَقُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَفِيمَنْ جَاءَ بِهَا قَالَ ‏"‏ وَفِيمَنْ جَاءَ بِهَا ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَحُلِبَتْ فَدَرَّتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَ فُلاَنٍ ‏"‏ ‏.‏ لِلْمَانِعِ الأَوَّلِ ‏"‏ وَاجْعَلْ رِزْقَ فُلاَنٍ يَوْمًا بِيَوْمٍ ‏"‏ ‏.‏ لِلَّذِي بَعَثَ بِالنَّاقَةِ ‏.‏
It was narrated that Nuqadah Al-Asadi said:“The Messenger of Allah (ﷺ) sent me to a man whom he was talking to lend him a she-camel (for milking) and to be returned, but he refused. Then he sent me to another man, who sent a she-camel to him. When the Messenger of Allah (ﷺ) saw it, he said: ‘O Allah, bless it and bless the one who sent it.’” Nuqadah said: "I said to the Messenger of Allah (ﷺ): 'And for the one who brought it.' He said: 'And (bless) the one who brought it.' Then he ordered that it should be milked and it yielded plenty of milk. The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'O Allah, increase the wealth of so-and-so,' meaning the first one who did not give a camel; 'and give so-and-so provision day by day,' meaning the one who had sent the she-camel
نقادہ اسدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک شخص کے پاس اونٹنی مانگنے کے لیے بھیجا، لیکن اس نے انکار کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک دوسرے شخص کے پاس بھیجا تو اس نے ایک اونٹنی بھیج دی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دیکھا تو فرمایا: اللہ تعالیٰ اس میں برکت دے اور جس نے اس کو بھیجا ہے اس میں بھی برکت عطا کرے ۔ نقادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یہ بھی دعا فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ اس کو بھی برکت دے جو اسے لے آیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں جو اسے لایا ہے اس کو بھی برکت دے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اس کا دودھ دوہا گیا، اس نے بہت دودھ دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! ( پہلے اونٹنی نہ دینے والا شخص ) کا مال زیادہ کر دے، اور جس نے اونٹنی بھیجی ہے اس کو رزق یومیہ دے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالُوا حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، سَيَّارِ بْنِ سَلاَمَةَ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَسْتَحِبُّ أَنْ يُؤَخِّرَ الْعِشَاءَ وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا ‏.‏
It was narrated that Abu Barzah Al-Aslami said:"The Messenger of Allah used to like to delay the 'Isha', and he disliked sleeping before it, and engaging in conversation after it
ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء دیر سے پڑھنا پسند فرماتے تھے، اور اس سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات چیت کرنے کو ناپسند کرتے تھے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ صَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ وَلاَ تُصَلُّوا فِي أَعْطَانِ الإِبِلِ فَإِنَّهَا خُلِقَتْ مِنَ الشَّيَاطِينِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Abdullah bin Mughaffal Al-Muzani said:"The Prophet said: 'Perform prayer in the sheep's resting-places and do not perform prayer in the camels' resting-places, for they were created from the devils
عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھو، اور اونٹوں کے باڑ میں نماز نہ پڑھو، کیونکہ ان کی خلقت میں شیطنت ہے ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ لاَ صَلاَةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from ‘Ubadah bin Samit that the Prophet (ﷺ) said:“There is no prayer for the one who does not recite Fatihatil-Kitab in it.”
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی نماز نہیں جو سورۃ فاتحہ نہ پڑھے ۱؎۔