بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Ibn Majah
6
32 hadith
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الأَزْهَرِ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَمَّا أَخَذُوا فِي غُسْلِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَادَاهُمْ مُنَادٍ مِنَ الدَّاخِلِ لاَ تَنْزِعُوا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَمِيصَهُ ‏.‏
It was narrated from Abu Buraidah that his father said:“When they started to wash the Prophet (ﷺ), a voice called out from inside (the house) saying: ‘Do not remove the shirt of the Messenger of Allah.’”
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینا شروع کیا ۱؎ تو کسی آواز لگانے والے نے اندر سے آواز لگائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کرتہ نہ اتارو۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَجُلٌ فَقَالَ هَلَكْتُ ‏.‏ قَالَ: ‏"‏ وَمَا أَهْلَكَكَ؟ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ أَعْتِقْ رَقَبَةً ‏"‏ ‏.‏ قَالَ: لاَ أَجِدُهَا ‏.‏ قَالَ: ‏"‏ صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ: لاَ أُطِيقُ ‏.‏ قَالَ: ‏"‏ أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ: لاَ أَجِدُ ‏.‏ قَالَ: ‏"‏ اجْلِسْ ‏"‏ ‏.‏ فَجَلَسَ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ أُتِيَ بِمِكْتَلٍ يُدْعَى الْعَرَقَ فَقَالَ: ‏"‏ اذْهَبْ فَتَصَدَّقْ بِهِ ‏"‏ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا بَيْنَ لاَبَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنَّا ‏.‏ قَالَ: ‏"‏ فَانْطَلِقْ فَأَطْعِمْهُ عِيَالَكَ ‏"‏ ‏.‏ حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِذَلِكَ فَقَالَ: ‏"‏ وَصُمْ يَوْمًا مَكَانَهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:“A man came to the Prophet (ﷺ) and said: ‘I am doomed.’ He said: ‘Why are you doomed?’ He said: ‘I had intercourse with my wife in Ramadan.’ The Prophet (ﷺ) said: ‘Free a slave.’ He said: ‘I cannot.’ He said: ‘Fast for two consecutive months.’ He said: ‘I cannot.’ He said: ‘Feed sixty poor persons.’ He said: ‘I cannot.’ He said: ‘Sit down.’ So he sat down, and while doing so a basketful of dates was brought. The Prophet (ﷺ) said: ‘Go and give this in charity.’ He said: ‘O Messenger of Allah, by the One Who sent you with the truth, there is no household between its two lava fields (i.e., in Al-Madinah) that is more in need of it than us.’ He said: ‘Then go and feed your family.’” Another chain from Abu Hurairah with additional words: "Then he (the Prophet SAW) said: "And fast a day in its place
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا، اس نے عرض کیا: میں ہلاک ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کس چیز نے ہلاک کر دیا؟ اس نے کہا: میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے صحبت کر لی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایک غلام آزاد کرو ، اس نے کہا: میرے پاس غلام آزاد کرنے کی طاقت نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا تو دو مہینے لگاتار روزے رکھو ، اس نے کہا: میں اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ اس نے کہا: مجھے اس کی بھی طاقت نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ جاؤ وہ بیٹھ گیا، اسی دوران آپ کے پاس کھجور کا ایک ٹوکرا آ گیا، اس ٹوکرے کو «عرق» کہتے تھے، آپ صلی اللہعلیہ وسلم نے اس سے فرمایا: جاؤ اسے صدقہ کر دو ، اس نے کہا: اللہ کے رسول! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، مدینہ کی ان دونوں سیاہ پتھریلی پہاڑیوں کے بیچ کوئی اور گھر والا ہم سے زیادہ محتاج نہیں ہے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اپنے گھر والوں کو کھلا دو ۱؎۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى أَبُو مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، وَعَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالْعُيُونُ الْعُشْرُ وَفِيمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Hurairah narrated that:the Messenger of Allah (ﷺ) said: “For crops that are irrigated by the sky (i.e. rain) and springs, one-tenth. For those that are irrigated by watering, one half of one-tenth.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو غلہ بارش یا چشمہ کے پانی سے پیدا ہوتا ہو اس میں دسواں حصہ زکاۃ کا ہے، اور جو غلہ پانی سینچ کر پیدا ہو اس میں بیسواں حصہ زکاۃ ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ‏.‏ أَنَّهُ حِينَ هَلَكَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ تَرَكَ ابْنَةً لَهُ ‏.‏ قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَزَوَّجَنِيهَا خَالِي قُدَامَةُ وَهُوَ عَمُّهَا وَلَمْ يُشَاوِرْهَا وَذَلِكَ بَعْدَ مَا هَلَكَ أَبُوهَا فَكَرِهَتْ نِكَاحَهُ وَأَحَبَّتِ الْجَارِيَةُ أَنْ يُزَوِّجَهَا الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ ‏.‏
It was narrated from Ibn Umar that:when Uthman bin Mazun died, he left behind a daughter. Ibn Umar said: “My maternal uncle Qudamah, who was her paternal uncle, married me to her, but he did not consult her. That was after her father had died. She did not like this marriage, and the girl wanted to marry Mughirah bin Shubah, so she married him.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا، تو انہوں نے ایک بیٹی چھوڑی، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میری شادی اس لڑکی سے میرے ماموں قدامہ رضی اللہ عنہ نے کرا دی جو اس لڑکی کے چچا تھے، اور اس سے مشورہ نہیں لیا، یہ اس وقت کا ذکر ہے جب اس کے والد کا انتقال ہو چکا تھا، اس لڑکی نے یہ نکاح ناپسند کیا، اور اس نے چاہا کہ اس کا نکاح مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے کر دیا جائے، آخر قدامہ رضی اللہ عنہ نے اس کا نکاح مغیرہ ہی سے کر دیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ جُوَيْبِرٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ لاَ طَلاَقَ قَبْلَ النِّكَاحِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from ' Ali bin Abu Talib that the Prophet (ﷺ) said :"There is no divorce before marriage
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نکاح سے پہلے طلاق نہیں ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِنَّ النَّذْرَ لاَ يَأْتِي ابْنَ آدَمَ بِشَىْءٍ إِلاَّ مَا قُدِّرَ لَهُ وَلَكِنْ يَغْلِبُهُ الْقَدَرُ مَا قُدِّرَ لَهُ فَيُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ فَيَتَيَسَّرُ عَلَيْهِ مَا لَمْ يَكُنْ يَتَيَسَّرُ عَلَيْهِ مِنْ قَبْلِ ذَلِكَ وَقَدْ قَالَ اللَّهُ أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْكَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"Vows do not bring the son of Adam anything unless it has been decreed for him. But he is dominated by Divine preordainment, and will get what is decreed for him. And (vows) are a means of making the miser give something, so what he desires becomes obtainable for him, which was not obtainable before his vow. And Allah says: 'Spend, I will spend on you
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نذر سے آدمی کو کچھ نہیں ملتا مگر وہ جو اس کے لیے مقدر کر دیا گیا ہے، لیکن آدمی کی تقدیر میں جو ہوتا ہے وہ نذر پر غالب آ جاتا ہے، تو اس نذر سے بخیل کا مال نکالا جاتا ہے، اور اس پہ وہ بات آسان کر دی جاتی ہے، جو پہلے آسان نہ تھی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تو مال خرچ کر، میں تجھ پر خرچ کروں گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَهَى عَنِ الْمُلاَمَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ ‏.‏ زَادَ سَهْلٌ قَالَ سُفْيَانُ الْمُلاَمَسَةُ أَنْ يَلْمِسَ الرَّجُلُ الشَّىْءَ بِيَدِهِ وَلاَ يَرَاهُ وَالْمُنَابَذَةُ أَنْ يَقُولَ أَلْقِ إِلَىَّ مَا مَعَكَ وَأُلْقِي إِلَيْكَ مَا مَعِي ‏.‏
It was narrated from Abu Sa'eed Al-Khudri that :the Messenger of Allah (ﷺ) forbade Mulamasah and Munabadhah. (Sahih) Sahl added: "Sufyan said: 'Mulamasah means when a man touches something with his hand without seeing it, and Munabadhah means when he says: "Toss me what you have, and I will toss you what have
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع ملامسہ و منابذہ سے منع کیا ہے۔ سہل نے اتنا مزید کہا ہے کہ سفیان نے کہا کہ ملامسہ یہ ہے کہ آدمی ایک چیز کو ہاتھ سے چھوئے اور اسے دیکھے نہیں، ( اور بیع ہو جائے ) اور منابذہ یہ ہے کہ ہر ایک دوسرے سے کہے کہ جو تیرے پاس ہے میری طرف پھینک دے، اور جو میرے پاس ہے وہ میں تیری طرف پھینکتا ہوں ( اور بیع ہو جائے ) ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ ضَرَرَ وَلاَ ضِرَارَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn 'Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“There should be neither harming nor reciprocating harm.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیاللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی کو نقصان پہنچانا جائز نہیں نہ ابتداء ً نہ مقابلۃ ً ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ خَيْرَكُمْ - أَوْ مِنْ خَيْرِكُمْ - أَحَاسِنُكُمْ قَضَاءً ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The best of you - or among the best of you - are those who pay off their debts in the best manner.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں بہتر وہ ہے یا بہتر لوگوں میں سے وہ ہے جو قرض کی ادائیگی میں بہتر ہو ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ مُسْلِمٍ الأَعْوَرِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَيْبَرَ أَعْطَاهَا عَلَى النِّصْفِ ‏.‏
It was narrated that Anas bin Malik said:“When the Messenger of Allah (ﷺ) conquered Khaibar, he gave it (to its people) in return for half (of its yield).”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خیبر کو فتح کیا، تو اسے نصف پیداوار کی بٹائی پردے دیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ مُسْلِمٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ عُرْوَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَتْهُ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا زَنَتِ الأَمَةُ فَاجْلِدُوهَا فَإِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا فَإِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا فَإِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا ثُمَّ بِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ ‏"‏ ‏.‏ وَالضَّفِيرُ الْحَبْلُ ‏.‏
Aishah narrated that the Messenger of Allah(ﷺ) said:“If a slave woman commits fornication then whip her, and if she commits fornication then whip her, and if she commits fornication then whip her, then sell her even if that is for a rope.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب لونڈی زنا کرے تو اسے کوڑے مارو، پھر زنا کرے تو پھر کوڑے مارو، اگر اب بھی زنا کرے تو پھر کوڑے مارو، اس کے بعد اگر زنا کرے تو اسے بیچ دو خواہ ایک «ضفیر» ہی کے بدلے ہو، اور «ضفیر» رسی کو کہتے ہیں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الدِّيَةَ عَلَى عَاقِلَةِ الْقَاتِلَةِ فَقَالَتْ عَاقِلَةُ الْمَقْتُولَةِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِيرَاثُهَا لَنَا ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ لاَ مِيرَاثُهَا لِزَوْجِهَا وَوَلَدِهَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Jabir said:“The Messenger of Allah (ﷺ) ruled that the blood money should be paid by the near male relations from the father's side of the killer, and the such relatives of slain woman said: 'O Messenger of Allah (ﷺ),her legacy is for us.' He said: 'No, her legacy is for her husband and children.'”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتولہ کی دیت قاتلہ کے عصبہ ( باپ کے رشتہ داروں ) پر ٹھہرائی تو مقتولہ کے عصبہ نے کہا: اس کی میراث کے حقدار ہم ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میراث اس کے شوہر اور اس کے لڑکے کو ملے گی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، قَالَ سَمِعْتُ تَمِيمًا الدَّارِيَّ، يَقُولُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا السُّنَّةُ فِي الرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ يُسْلِمُ عَلَى يَدَىِ الرَّجُلِ قَالَ ‏ "‏ هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِمَحْيَاهُ وَمَمَاتِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that ‘Abdullah bin Mawhab said:“I heard Tamim Ad- Dari say: ‘I said: O Messenger of Allah, what is the Sunnah concerning a man from among the People of the Book who becomes a Muslim at the hands of another man?’ He said: ‘He is the closest of all people to him in life and in death.’”
عبداللہ بن موہب کہتے ہیں کہ میں نے تمیم داری رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اہل کتاب کا کوئی آدمی اگر کسی کے ہاتھ پر مسلمان ہوتا ہے تو اس میں شرعی حکم کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زندگی اور موت دونوں حالتوں میں وہ اس کا زیادہ قریبی ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ، عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الْخَيْرُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِي الْخَيْلِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from ‘Urwah Al-Bariqi that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Goodness is tied to the forelocks of horses until the Day of Resurrection.”
عروہ بارقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گھوڑوں کی پیشانی پر قیامت تک خیر و برکت بندھی ہوئی ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ ‏"‏ مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَمُهَلُّ أَهْلِ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَةِ وَمُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ وَمُهَلُّ أَهْلِ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ وَمُهَلُّ أَهْلِ الْمَشْرِقِ مِنْ ذَاتِ عِرْقٍ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ أَقْبَلَ بِوَجْهِهِ لِلأُفُقِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ أَقْبِلْ بِقُلُوبِهِمْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Jabir said:“The Messenger of Allah (ﷺ) addressed us and said: ‘The Talbiyah of the people of Al-Madinah begins at Dhul-Hulaifah. The Talbiyah of the people of Sham begins at Juhfah. The Talbiyah of the people of Yemen begins at Yalamlam. The Talbiyah of the people of Najd begins at Qarn. The Talbiyah of the people of the east begins at Dhat ‘Irq.’ Then he turned to face the (eastern) horizon and said: ‘O Allah, make their hearts steadfast.’”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطاب کیا اور فرمایا: اہل مدینہ کے تلبیہ پکارنے ( اور احرام باندھنے ) کا مقام ذو الحلیفہ ہے، اہل شام کا جحفہ، اہل یمن کا یلملم اور اہل نجد کا قرن ہے، اور مشرق سے آنے والوں کے احرام کا مقام ذات عرق ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا رخ آسمان کی طرف کیا اور فرمایا: اے اللہ! ان کے دل ایمان کی طرف لگا دے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ، سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ، دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَسَمِعْتُهَا تَقُولُ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِذَا خَرَجَ مِنَ الْغَائِطِ قَالَ ‏ "‏ غُفْرَانَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ النَّهْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، نَحْوَهُ ‏.‏
Yusuf bin Abi Burdah narrated:"I heard my father say: 'I entered upon 'Aishah, and I heard her say: "When the Messenger of Allah exited the toilet, he would say: Ghufranaka (I seek Your forgiveness).'" (Sahih) Another chain with similar wording
ابوبردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا تو ان کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانہ سے نکلتے تو کہتے:«غفرانك» یعنی: اے اللہ! میں تیری بخشش چاہتا ہوں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عُوَيْمِرِ بْنِ أَشْقَرَ، أَنَّهُ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَذَكَرَهُ لِلنَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ ‏ "‏ أَعِدْ أُضْحِيَّتَكَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from ‘Uwaimir bin Ashqar that he slaughtered before the prayer, and he mentioned that to the Prophet (ﷺ) who said:“Repeat your sacrifice.”
عویمر بن اشقر رضی اللہ عنہ کہتے کہ انہوں نے نماز عید سے پہلے قربانی کر لی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی قربانی دوبارہ کرو ۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ غَزْوَةَ خَيْبَرَ فَأَمْسَى النَّاسُ قَدْ أَوْقَدُوا النِّيرَانَ فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ عَلاَمَ تُوقِدُونَ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا عَلَى لُحُومِ الْحُمُرِ الإِنْسِيَّةِ فَقَالَ ‏"‏ أَهْرِيقُوا مَا فِيهَا وَاكْسِرُوهَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ أَوْ نُهَرِيقُ مَا فِيهَا وَنَغْسِلُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ أَوْ ذَاكَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Salamah bin Akwa’ said:“We went out with the Messenger of Allah (ﷺ) on the campaign of Khaibar, and in the evening the people lit their fires. The Prophet (ﷺ) said: ‘What are you cooking?’ They said: ‘The meat of domesticated donkeys.’ He said: ‘Throw out what is in them (the pots) and break them.’ A man said: ‘Or can we throw out what is in them and wash them?’ The Prophet (ﷺ) said: ‘Or (do) that.’”
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی لڑائی لڑی، پھر شام ہو گئی اور لوگوں نے آگ جلائی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا پکا رہے ہو ؟ لوگوں نے کہا: پالتو گدھے کا گوشت ( یہ سن کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کچھ ہانڈی میں ہے اسے بہا دو، اور ہانڈیاں توڑ دو تو لوگوں میں سے ایک نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم ایسا نہ کریں کہ جو ہانڈی میں ہے اسے بہا دیں اور ہانڈی کو دھل ( دھو ) ڈالیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا ہی کر لو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ عَبِيدَةَ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ أَكْلُ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ حَرَامٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:“Eating any predatory animal that has fangs is unlawful.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر کچلی ( نوک دار دانت ) والے درندے کا کھانا حرام ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ إِذَا رُفِعَ طَعَامُهُ أَوْ مَا بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ ‏ "‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلاَ مُوَدَّعٍ وَلاَ مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Umamah Al-Bahili that when his food, or whatever was in front of him was cleared away, the Prophet (ﷺ) used to say:“Al-hamdu lillahi hamdan kathiran tayyiban mubarakan ghaira makfiyyin wa la muwadda’in wa la mustaghnan ‘anhu, Rabbana (Praise is to Allah, abundant good and blessed praise, a never-ending praise, a praise that we will never bid farewell to and an indispensible praise, He is our Lord).”
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب کھانا یا جو کچھ سامنے ہوتا اٹھا لیا جاتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا غير مكفي ولا مودع ولا مستغنى عنه ربنا» اللہ تعالیٰ کی بہت بہت حمد و ثناء ہے، وہ نہایت پاکیزہ اور برکت والا ہے، وہ سب کو کافی ہے اس کے لیے کوئی کافی نہیں، اسے نہ چھوڑا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس سے کوئی بے نیاز ہوسکتا ہے، اے ہمارے رب! ( ہماری دعا سن لے ) ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ مَنْ تَقَوَّلَ عَلَىَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever attributes to me something that I have not said, let him take his place in Hell
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص گھڑ کر میری طرف ایسی بات منسوب کرے جو میں نے نہیں کہی ہے تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ ‏.‏
It was narrated that ‘Abdur-Rahman bin Ya’mar said:“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade Dubba’ and Hantam.”
عبدالرحمٰن بن یعمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء اور حنتم ( کے استعمال ) سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ ذُكِرَتِ الْحُمَّى عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَسَبَّهَا رَجُلٌ فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ لاَ تَسُبَّهَا فَإِنَّهَا تَنْفِي الذُّنُوبَ كَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْحَدِيدِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:“Mention of fever was made in the presence of the Messenger of Allah (ﷺ), and a man cursed it. The Prophet (ﷺ) said: ‘Do not curse it, for it erases sin as fire removes filth from iron.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بخار کا ذکر آیا تو ایک شخص نے بخار کو گالی دی ( برا بھلا کہا ) ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے گالی نہ دو ( برا بھلا نہ کہو ) اس لیے کہ اس سے گناہ اس طرح ختم ہو جاتے ہیں جیسے آگ سے لوہے کا کچرا صاف ہو جاتا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ فِي ذُيُولِ النِّسَاءِ ‏"‏ شِبْرًا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتْ عَائِشَةُ إِذًا تَخْرُجَ سُوقُهُنَّ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَذِرَاعٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from ‘Aishah that the Prophet (ﷺ) said, concerning how long a woman’s hem should hang down:“A hand span.” ‘Aishah said: “This may show her calves.” He said: “Then a forearm’s length.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے دامن کے سلسلے میں فرمایا: ایک بالشت کا ہو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ اتنے میں تو پنڈلی کھل جائے گی؟ فرمایا: تو پھر ایک ہاتھ ہو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِخْوَانُكُمْ جَعَلَهُمُ اللَّهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ فَأَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ وَأَلْبِسُوهُمْ مِمَّا تَلْبَسُونَ وَلاَ تُكَلِّفُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ فَإِنْ كَلَّفْتُمُوهُمْ فَأَعِينُوهُمْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Dhar said:"The Messenger of Allah said: '(Slaves are) your brothers whom Allah has put under your control, so feed them with the same food that you eat, clothe them with the same clothes you wear, and do not burden them with so much that htey are overwhelmed; if you do burden them, then help them
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہعلیہ وسلم نے فرمایا: ( حقیقت میں لونڈی اور غلام ) تمہارے بھائی ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے ماتحت کیا ہے، اس لیے جو تم کھاتے ہو وہ انہیں بھی کھلاؤ، اور جو تم پہنتے ہو وہ انہیں بھی پہناؤ، اور انہیں ایسے کام کی تکلیف نہ دو جو ان کی قوت و طاقت سے باہر ہو، اور اگر کبھی ایسا کام ان پر ڈالو تو تم بھی اس میں شریک رہ کر ان کی مدد کرو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً إِلاَّ وَاحِدًا مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that :the Messenger of Allah (saas) said: "Allah has ninety-nine Names, one hundred less one. Whoever counts them will enter Paradise
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نناوے نام ہیں ایک کم سو، جو انہیں یاد ( حفظ ) کرے ۱؎ تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ أَكْرَهُ الْغُلَّ وَأُحِبُّ الْقَيْدَ الْقَيْدُ ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“I dislike (to see in a dream) a chain around the neck, but I like to see fetters on the feet, for fetters (represent) steadfastness in religion.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں خواب میں گلے میں زنجیر اور طوق دیکھنے کو ناپسند کرتا ہوں، اور پاؤں میں بیڑی دیکھنے کو پسند کرتا ہوں، کیونکہ بیڑی کی تعبیر دین میں ثابت قدمی ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنِ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا أَسِيدُ بْنُ الْمُتَشَمِّسِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ إِنَّ بَيْنَ يَدَىِ السَّاعَةِ لَهَرْجًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْهَرْجُ قَالَ ‏"‏ الْقَتْلُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَقْتُلُ الآنَ فِي الْعَامِ الْوَاحِدِ مِنَ الْمُشْرِكِينَ كَذَا وَكَذَا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ لَيْسَ بِقَتْلِ الْمُشْرِكِينَ وَلَكِنْ يَقْتُلُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا حَتَّى يَقْتُلَ الرَّجُلُ جَارَهُ وَابْنَ عَمِّهِ وَذَا قَرَابَتِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَعَنَا عُقُولُنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ لاَ تُنْزَعُ عُقُولُ أَكْثَرِ ذَلِكَ الزَّمَانِ وَيَخْلُفُ لَهُ هَبَاءٌ مِنَ النَّاسِ لاَ عُقُولَ لَهُمْ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ الأَشْعَرِيُّ وَايْمُ اللَّهِ إِنِّي لأَظُنُّهَا مُدْرِكَتِي وَإِيَّاكُمْ وَايْمُ اللَّهِ مَا لِي وَلَكُمْ مِنْهَا مَخْرَجٌ إِنْ أَدْرَكَتْنَا فِيمَا عَهِدَ إِلَيْنَا نَبِيُّنَا ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِلاَّ أَنْ نَخْرُجَ كَمَا دَخَلْنَا فِيهَا ‏.‏
Abu Musa narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Before the Hour comes there will be Harj.” I said: “O Messenger of Allah, what is Harj?” He said: “Killing.” Some of the Muslims said: “O Messenger of Allah, now we kill such and such a number of idolaters in one year.” The Messenger of Allah (ﷺ) said: “That will not be like killing the idolaters, rather you will kill one another, until a man will kill his neighbor and son of the cousin and a relative.” Some of the people said: “O Messenger of Allah, will we be in our right minds that day?” The Messenger of Allah (ﷺ) said: “No, reason will be taken away from most of the people at that time, and there will be left the insignificant people who have no reason.”
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیان کیا: قیامت سے پہلے «ہرج» ہو گا ، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول!«ہرج» کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل ، کچھ مسلمانوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم تو اب بھی سال میں اتنے اتنے مشرکوں کو قتل کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مشرکین کا قتل مراد نہیں بلکہ تم آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرو گے، حتیٰ کہ آدمی اپنے پڑوسی، اپنے چچا زاد بھائی اور قرابت داروں کو بھی قتل کرے گا ، تو کچھ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا اس وقت ہم لوگ عقل و ہوش میں ہوں گے کہ نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ اس زمانہ کے اکثر لوگوں کی عقلیں سلب کر لی جائیں گی، اور ان کی جگہ ایسے کم تر لوگ لے لیں گے جن کے پاس عقلیں نہیں ہوں گی ۔ پھر ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اللہ کی! میں سمجھتا ہوں کہ شاید یہ زمانہ مجھے اور تم کو پا لے، اللہ کی قسم! اگر ایسا زمانہ مجھ پر اور تم پر آ گیا تو ہمارے اور تمہارے لیے اس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہ ہو گا، جیسا کہ ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں وصیت کی ہے، سوائے اس کے کہ ہم اس سے ویسے ہی نکلیں جیسے داخل ہوئے
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدِ اللَّهِ، مُسْلِمِ بْنِ مِشْكَمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ غَيْلاَنَ الثَّقَفِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ اللَّهُمَّ مَنْ آمَنَ بِي وَصَدَّقَنِي وَعَلِمَ أَنَّ مَا جِئْتُ بِهِ هُوَ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِكَ - فَأَقْلِلْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ وَحَبِّبْ إِلَيْهِ لِقَاءَكَ وَعَجِّلْ لَهُ الْقَضَاءَ وَمَنْ لَمْ يُؤْمِنْ بِي وَلَمْ يُصَدِّقْنِي وَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ مَا جِئْتُ بِهِ هُوَ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِكَ فَأَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ وَأَطِلْ عُمْرَهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from ‘Amr bin Ghailan Ath-Thaqafi that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“O Allah, whoever believes in my and knows that what I have brought is the truth from You, decrease his wealth and his children, and make the meeting with You dear to him, and hasten his death. Whoever does not believe in me and does not know that what I have brought is the truth from You, increase his wealth and his children and make his life long.’”
عمرو بن غیلان ثقفی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! جو مجھ پر ایمان لائے، میری تصدیق کرے، اور اس بات پر یقین رکھے کہ جو کچھ میں لایا ہوں وہی حق ہے، اور وہ تیری جانب سے ہے تو اس کے مال اور اولاد میں کمی کر، اپنی ملاقات کو اس کے لیے محبوب بنا دے، اس کی موت میں جلدی کر، اور جو مجھ پر ایمان نہ لائے، میری تصدیق نہ کرے، اور نہ اس بات پر یقین رکھے کہ جو میں لے کر آیا ہوں وہی حق ہے، تیری جانب سے اترا ہے، تو اس کے مال اور اولاد میں اضافہ کر دے، اور اس کی عمر لمبی کر ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى الْمِصْرِيَّانِ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الصُّبْحِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَهَا وَمَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْعَصْرِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَهَا ‏"‏ ‏.‏ حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ ‏.‏
It was narrated from 'Aishah that:The Messeenger of Allah said: "Whoever catches one Rak'ah of the Subh before the sun rises, then he has caught it, and whoever catches one Rak'ah of the 'Asr before the sun sets, then he has caught it." (Sahih)Another chain with similar wording
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پا لی اس نے فجر کی نماز پا لی، اور جس نے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پا لی، اس نے عصر کی نماز پا لی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِنْ لَمْ تَجِدُوا إِلاَّ مَرَابِضَ الْغَنَمِ وَأَعْطَانَ الإِبِلِ فَصَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ وَلاَ تُصَلُّوا فِي أَعْطَانِ الإِبِلِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:The Messenger of Allah said: "If you cannot find anywhere (for prayer) except sheep's resting-places and camels' resting-places, then perform prayer in the sheep's resting-places and do not perform prayer in the camels' resting-places
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں بکریوں اور اونٹوں کے باڑوں کے علاوہ کوئی جگہ میسر نہ ہو تو بکری کے باڑے میں نماز پڑھو، اونٹ کے باڑے میں نماز نہ پڑھو ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، صَلَّى بِأَصْحَابِهِ الْعِشَاءَ فَطَوَّلَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ اقْرَأْ بِالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَاقْرَأْ بِسْمِ رَبِّكَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Jabir that Mu’adh bin Jabal led his companions for the ‘Isha’ and he made the prayer too long for them. The Prophet (ﷺ) said:“Recite ‘By the sun and its brightness,’[Al-Shams (91)] ‘Glorify the Name of your Lord, the Most High,’ [Al-A’la (87)] ‘By the night as it envelops,’ [Al-Lail (92)] or, ‘Read! In the Name of your Lord Who has created.’” [Al-‘Alaq]
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو عشاء کی نماز پڑھائی اور نماز لمبی کر دی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: یہ سورتیں پڑھا کرو: «والشمس وضحاها»، «سبح اسم ربك الأعلى»، «والليل إذا يغشى» اور «اقرأ بسم ربك» ۱؎۔