حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ، مُؤَذِّنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ كَانَ يُؤَذِّنُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِذَا كَانَ الْفَىْءُ مِثْلَ الشِّرَاكِ .
‘Abdur-Rahman bin Sa’d bin ‘Ammar bin Sad, the Mu’adh-dhin of the Prophet (ﷺ), said:“My father told me, narrating from his father, from his grandfather, that during the time of the Messenger of Allah (ﷺ), he used to call the Adhan on Fridays when the shadow was like a sandal strap.”
مؤذن رسول سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جمعہ کی اذان اس وقت دیتے تھے جب سایہ جوتا کے تسمے کے برابر ہو جاتا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، أَنَّهُ قَالَ سَقَطَ عِقْدُ عَائِشَةَ فَتَخَلَّفَتْ لاِلْتِمَاسِهِ فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى عَائِشَةَ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهَا فِي حَبْسِهَا النَّاسَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الرُّخْصَةَ فِي التَّيَمُّمِ . قَالَ فَمَسَحْنَا يَوْمَئِذٍ إِلَى الْمَنَاكِبِ . قَالَ فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى عَائِشَةَ فَقَالَ مَا عَلِمْتُ إِنَّكِ لَمُبَارَكَةٌ .
It was narrated that 'Ammar bin Yasir said:"Aishah dropped a necklace and stayed behind to look for it. Abu Bakr went to 'Aishah and got angry with her for keeping the people waiting. Then Allah revealed the concession allowing dry ablution, so we wiped our arms up to the shoulders. Abu Bakr went to 'Aishah and said: 'I did not know that you are blessed
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا ہار ٹوٹ کر گر گیا، وہ اس کی تلاش میں پیچھے رہ گئیں، ابوبکر رضی اللہ عنہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، اور ان پہ ناراض ہوئے، کیونکہ ان کی وجہ سے لوگوں کو رکنا پڑا، تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے تیمم کی اجازت والی آیت نازل فرمائی، عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے اس وقت مونڈھوں تک مسح کیا، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، اور کہنے لگے: مجھے معلوم نہ تھا کہ تم اتنی بابرکت ہو ۱؎۔