حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كُنْتُ قَائِدَ أَبِي حِينَ ذَهَبَ بَصَرُهُ، وَكُنْتُ إِذَا خَرَجْتُ بِهِ إِلَى الْجُمُعَةِ فَسَمِعَ الأَذَانَ اسْتَغْفَرَ لأَبِي أُمَامَةَ، أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ، وَدَعَا لَهُ، فَمَكَثْتُ حِينًا أَسْمَعُ ذَلِكَ مِنْهُ، ثُمَّ قُلْتُ فِي نَفْسِي: وَاللَّهِ إِنَّ ذَا لَعَجْزٌ، إِنِّي أَسْمَعُهُ كُلَّمَا سَمِعَ أَذَانَ الْجُمُعَةِ يَسْتَغْفِرُ لأَبِي أُمَامَةَ وَيُصَلِّي عَلَيْهِ، وَلاَ أَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ لِمَ هُوَ؟ فَخَرَجْتُ بِهِ كَمَا كُنْتُ أَخْرُجُ بِهِ إِلَى الْجُمُعَةِ. فَلَمَّا سَمِعَ الأَذَانَ اسْتَغْفَرَ كَمَا كَانَ يَفْعَلُ. فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَتَاهُ أَرَأَيْتَكَ صَلاَتَكَ عَلَى أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ كُلَّمَا سَمِعْتَ النِّدَاءَ بِالْجُمُعَةِ لِمَ هُوَ؟ قَالَ: أَىْ بُنَىَّ كَانَ أَوَّلَ مَنْ صَلَّى بِنَا صَلاَةَ الْجُمُعَةِ قَبْلَ مَقْدَمِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مِنْ مَكَّةَ، فِي نَقِيعِ الْخَضِمَاتِ، فِي هَزْمٍ مِنْ حَرَّةِ بَنِي بَيَاضَةَ . قُلْتُ: كَمْ كُنْتُمُ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: أَرْبَعِينَ رَجُلاً .
It was narrated that ‘Abdur-Rahman bin Ka’b bin Malik said:“I used to guide my father after he lost his sight, and when I took him out for the Friday (prayer), when he heard the Adhan he would pray for forgiveness for Abu Umamah As’ad bin Zurarah, and supplicate for him. I heard that from him for a while, then I said to myself: ‘By Allah! What is this weakness? Every time he heard the Adhan for Friday (prayer) I hear him praying for forgiveness for Abu Umamah and supplicate for him, and I do not ask him about why he does that.’ Then I took him out for Friday (prayer), as I used to take him out, and when he heard the Adhan he prayed for forgiveness as he used to do. I said to him: ‘O my father! I see you supplicating for As’ad bin Zurarah every time you hear the call for Friday; why is that?’ He said: ‘O my son, he was the first one who led us for the Friday prayer before the Messenger of Allah (ﷺ) came from Makkah, in Naqi’ Al- Khadamat (a place near Al-Madinah), in the plain of Harrah Banu Bayadah.’ I asked: ‘How many of you were there at that time?’ He said: ‘Forty men.’”
عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک کہتے ہیں کہ جب میرے والد کی بینائی چلی گئی تو میں انہیں پکڑ کر لے جایا کرتا تھا، جب میں انہیں نماز جمعہ کے لیے لے کر نکلتا اور وہ اذان سنتے تو ابوامامہ اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے استغفار اور دعا کرتے، میں ایک زمانہ تک ان سے یہی سنتا رہا، پھر ایک روز میں نے اپنے دل میں سوچا کہ اللہ کی قسم یہ تو بے وقوفی ہے کہ میں اتنے عرصے سے ہر جمعہ یہ بات سن رہا ہوں کہ جب بھی وہ جمعہ کی اذان سنتے ہیں تو ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے لیے استغفار اور دعا کرتے ہیں، اور ابھی تک میں نے ان سے اس کی وجہ نہیں پوچھی، چنانچہ ایک روز معمول کے مطابق انہیں جمعہ کے لیے لے کر نکلا، جب انہوں نے اذان سنی تو حسب معمول ( اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے ) مغفرت کی دعا کی تو میں نے ان سے کہا: ابا جان! جب بھی آپ جمعہ کی اذان سنتے ہیں تو اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے دعا فرماتے ہیں، آخر اس کی وجہ کیا ہے، تو انہوں نے کہا: میرے بیٹے! اسعد ہی نے ہمیں سب سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ تشریف آوری سے پہلے قبیلہ بنی بیاضہ کے ہموار میدان «نقیع الخضمات» میں نماز جمعہ پڑھائی، میں نے سوال کیا: اس وقت آپ لوگوں کی تعداد کیا تھی؟ کہا: ہم چالیس آدمی تھے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى اللَّيْثِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ رَأَى سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ وَهُوَ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَ إِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ ذَلِكَ فَاجْتَمَعْنَا عِنْدَ عُمَرَ فَقَالَ سَعْدٌ لِعُمَرَ أَفْتِ ابْنَ أَخِي فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ . فَقَالَ عُمَرُ كُنَّا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَمْسَحُ عَلَى خِفَافِنَا لَمْ نَرَ بِذَلِكَ بَأْسًا . فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ وَإِنْ جَاءَ مِنَ الْغَائِطِ قَالَ نَعَمْ .
It was narrated from Ibn 'Umar that:He saw Sa'd bin Malik wiping over his leather socks and said: "Is it you doing this?" They both went to 'Umar and Sa'd said to 'Umar: "Give my brother's son a verdict regarding wiping over leather socks." 'Umar said: "We used to wipe over our leather socks when we were with the Messenger of Allah and we do not see anything wrong with that." Ibn 'Umar said: "Even if that is after one has defecated?" He said: "Yes
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے سعد بن مالک ( سعد بن مالک ابن ابی وقاص ) رضی اللہ عنہ کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا تو کہا: کیا آپ لوگ بھی ایسا کرتے ہیں؟ وہ دونوں عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اکٹھا ہوئے اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: میرے بھتیجے کو موزوں پر مسح کا مسئلہ بتائیے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہوتے تھے، اور اپنے موزوں پر مسح کرتے تھے، اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: خواہ کوئی بیت الخلاء سے آئے؟ فرمایا: ہاں۔