بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Ibn Majah
6
33 hadith
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ قَالَ لِي النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ لاَ تُبْرِزْ فَخِذَكَ وَلاَ تَنْظُرْ إِلَى فَخِذِ حَىٍّ وَلاَ مَيِّتٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that ‘Ali said:“The Prophet (ﷺ) said to me: ‘Do not show your thigh, and do not look at the thigh of anyone, living or dead.’”
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم اپنی ران نہ کھولو، اور کسی زندہ یا مردہ کی ران نہ دیکھو ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"It is not an act of righteousness to fast while traveling
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ مُوسَى بْنَ جُبَيْرٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحُبَابِ الأَنْصَارِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُنَيْسٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، تَذَاكَرَ هُوَ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَوْمًا الصَّدَقَةَ فَقَالَ عُمَرُ أَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ حِينَ يَذْكُرُ غُلُولَ الصَّدَقَةِ ‏ "‏ أَنَّهُ مَنْ غَلَّ مِنْهَا بَعِيرًا أَوْ شَاةً أُتِيَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ بَلَى ‏.‏
Abdullah bin Unais said that he and Umar bin Khattab were speaking about Sadaqah one day, and:Umar bin Khattab said: “Did you not hear the Messenger of Allah when he mentioned Ghulul with the Sadaqah (and said): 'Whoever steals a camel or a sheep from it, he will be brought carrying it on the Day of Resurrection?' ” Abdullah bin Unais said: “Yes.”
عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک دن زکاۃ کے بارے میں آپس میں بات کی تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جس وقت آپ زکاۃ میں خیانت کا ذکر کر رہے تھے یہ نہیں سنا: جس نے زکاۃ کے مال سے ایک اونٹ یا ایک بکری چرا لی تو وہ قیامت کے دن اسے اٹھائے ہوئے لے کر آئے گا ؟ عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہیں ( ہاں، میں نے سنا ہے ) ۔
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ الثَّيِّبُ تُعْرِبُ عَنْ نَفْسِهَا وَالْبِكْرُ رِضَاهَا صَمْتُهَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Adi bin Adi Al-Kindi that:his father said: “The Messenger of Allah said: 'A previously-married woman can speak for herself, and the consent of a virgin is her silence.' ”
عدی کندی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غیر کنواری عورت اپنی رضا مندی صراحۃً ظاہر کرے، اور کنواری کی رضا مندی اس کی خاموشی ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأَ وَالنِّسْيَانَ وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Dharr Al-Ghifari that the Messenger of Allah (ﷺ) said:Allah has forgiven for me my nation their mistakes and forgetfulness, and what they are forced to do
ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت سے بھول چوک، اور جس کام پہ تم مجبور کر دیئے جاؤ معاف کر دیا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الأَجْلَحُ الْكِنْدِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِذَا حَلَفَ أَحَدُكُمْ فَلاَ يَقُلْ مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ ‏.‏ وَلَكِنْ لِيَقُلْ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ شِئْتَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn 'Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:'When anyone of you swears an oath, let him not say: 'What Allah wills and what you will.' Rather let him say: 'What Allah wills and then what you will
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص قسم کھائے تو «ما شاء الله وشئت» جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں نہ کہے، بلکہ یوں کہے: «ما شاء الله ثم شئت» جو اللہ چاہے پھر آپ چاہیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ احْتَجَمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ ‏.‏
It was narrated from Anas bin Malik that:the Prophet (ﷺ) was treated with cupping and gave the cupper his wages
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا اور حجام ( پچھنا لگانے والے ) کو اس کی اجرت دی۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدَكُمْ جَارُهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَةً فِي جِدَارِهِ فَلاَ يَمْنَعْهُ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا حَدَّثَهُمْ أَبُو هُرَيْرَةَ طَأْطَئُوا رُءُوسَهُمْ فَلَمَّا رَآهُمْ قَالَ مَالِي أَرَاكُمْ عَنْهَا مُعْرِضِينَ وَاللَّهِ لأَرْمِيَنَّ بِهَا بَيْنَ أَكْتَافِكُمْ ‏.‏
It was narrated that Anas bin Malik said:“The Prophet (ﷺ): 'When anyone of you asks his neighbor for permission to fix a piece of wood to his wall, he should not refuse him. 'When Abu Hurairah told them this, they lowered their heads, and when he saw them he said: 'Why do I see you turning away from it? By Allah, I will force you to accept it.' ”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی سے اس کا پڑوسی اس کی دیوار پر شہ تیر ( دھرن یا کڑی ) رکھنے کی اجازت مانگے، تو اس کو منع نہ کرے ، جب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث لوگوں سے بیان کی تو لوگوں نے اپنے سروں کو جھکا لیا، یہ دیکھ کر ابوہریرہ رضی اللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیوں، کیا ہوا؟ میں دیکھتا ہوں کہ تم اس حدیث سے منہ پھیر رہے ہو، اللہ کی قسم! میں تو اس کو تمہارے شانوں کے درمیان مار کر رہوں گا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:Whoever is easy with (a debtor) who is in difficulty, Allah will be easy with him in this world and in the Hereafter.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی تنگ دست پر آسانی کرے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دنیا اور آخرت میں آسانی فرمائے گا ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، أَكْرَى الأَرْضَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ فَهُوَ يَعْمَلُ بِهِ إِلَى يَوْمِكَ هَذَا ‏.‏
It was narrated from Tawus that :Mu`adh bin Jabl leased some land during the time of the Messenger of Allah (ﷺ), Abu Bakr, 'Umar and 'Uthmah, in return for one third or one fourth (of the yield), and he was still doing that until this day of yours
طاؤس سے روایت ہے کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکرو عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے عہد میں زمین کو تہائی اور چوتھائی کرائے پر دیا، اور آج تک اسی پر عمل کیا جا رہا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ ذَكَرَ ابْنُ عَبَّاسٍ الْمُتَلاَعِنَيْنِ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ ابْنُ شَدَّادٍ هِيَ الَّتِي قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَوْ كُنْتُ رَاجِمًا أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ لَرَجَمْتُهَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ تِلْكَ امْرَأَةٌ أَعْلَنَتْ ‏.‏
It was narrated that Qasim bin Muhammad said:“Ibn `Abbas mentioned two people who had engaged in the process of Li`an. Ibn Shaddad said to him: 'Is this the one of whom the Messenger of Allah (ﷺ) said: “If I were to stone anyone without proof I would have stoned so-and-so.” Ibn`Abbas said: 'No, that was a woman who, (although she was a Muslim), used to expose herself.'”
قاسم بن محمد کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے دو لعان کرنے والوں کا تذکرہ کیا، تو ان سے ابن شداد نے پوچھا: کیا یہ وہی عورت تھی جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: اگر میں گواہوں کے بغیر کسی کو رجم کرتا تو اس عورت کو کرتا؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: وہ تو ایسی عورت تھی جو علانیہ بدکار تھی
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ الدِّيَةُ لِلْعَاقِلَةِ وَلاَ تَرِثُ الْمَرْأَةُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا شَيْئًا حَتَّى كَتَبَ إِلَيْهِ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَرَّثَ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضِّبَابِيِّ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا ‏.‏
It was narrated from Sa'eed bin Musayyab that 'Umar used to say:“The blood money is for the near male relatives from the father's side and the wife does not inherit anything from the blood money of her husband,” until Ad-Dahhak bin Sufyan wrote to him, and told him that the Prophet (ﷺ) ruled that the wife of Ashyam bin Dibabi should inherit from the blood money of her husband
سعید بن المسیب سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ دیت ( خون بہا ) قاتل کے خاندان والوں کے ذمہ ہے، اور عورت کو اپنے شوہر کی دیت میں سے کچھ نہیں ملے گا، یہاں تک کہ ضحاک بن سفیان نے ان کو لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشیم ضبابی رضی اللہ عنہ کی بیوی کو اس کے شوہر کی دیت میں سے ترکہ دلایا ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ بِلاَلٍ الدِّمَشْقِيُّ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ كُلُّ مُسْتَلْحَقٍ اسْتُلْحِقَ بَعْدَ أَبِيهِ الَّذِي يُدْعَى لَهُ ادَّعَاهُ وَرَثَتُهُ مِنْ بَعْدِهِ فَقَضَى أَنَّ مَنْ كَانَ مِنْ أَمَةٍ يَمْلِكُهَا يَوْمَ أَصَابَهَا فَقَدْ لَحِقَ بِمَنِ اسْتَلْحَقَهُ وَلَيْسَ لَهُ فِيمَا قُسِمَ قَبْلَهُ مِنَ الْمِيرَاثِ شَىْءٌ وَمَا أَدْرَكَ مِنْ مِيرَاثٍ لَمْ يُقْسَمْ فَلَهُ نَصِيبُهُ وَلاَ يَلْحَقُ إِذَا كَانَ أَبُوهُ الَّذِي يُدْعَى لَهُ أَنْكَرَهُ وَإِنْ كَانَ مِنْ أَمَةٍ لاَ يَمْلِكُهَا أَوْ مِنْ حُرَّةٍ عَاهَرَ بِهَا فَإِنَّهُ لاَ يَلْحَقُ وَلاَ يُورَثُ وَإِنْ كَانَ الَّذِي يُدْعَى لَهُ هُوَ ادَّعَاهُ فَهُوَ وَلَدُ زِنًا لأَهْلِ أُمِّهِ مَنْ كَانُوا حُرَّةً أَوْ أَمَةً ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ يَعْنِي بِذَلِكَ مَا قُسِمَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَبْلَ الإِسْلاَمِ ‏.‏
It was narrated from ‘Amr bin Shu’aib, from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Every child who is attributed to his father after his father to whom he is attributed has died, and his heirs attributed him to him after he died, he ruled that* whoever was born to a slave woman whom he owned at the time when he had intercourse with her, he should be named after the one to whom he was attributed, but he has no share of any inheritance that was distributed previously. Whatever inheritance he finds has not yet been distributed, he will have a share of it. But he cannot be named after his father if the man whom he claimed as his father did not acknowledge him. If he as born to a slave woman whom his father did not own, or to a free woman with whom he committed adultery, then he cannot be named after him and he does not inherit from him, even if the one whom he claims as his father acknowledges him. So he is an illegitimate child who belongs to his mother’s people, whoever they are, whether she is a free woman or a slave.”
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس بچے کا نسب اس کے والد کے مرنے کے بعد اس سے ملایا جائے مثلاً اس کے بعد اس کے وارث دعویٰ کریں ( کہ یہ ہمارے مورث کا بچہ ہے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں یہ فیصلہ فرمایا: اگر وہ بچہ لونڈی کے پیٹ سے ہو لیکن وہ لونڈی اس کے والد کی ملکیت رہی ہو جس دن اس نے اس سے جماع کیا تھا تو ایسا بچہ یقیناً اپنے والد سے مل جائے گا، لیکن اس کو اس میراث میں سے حصہ نہ ملے گا جو اسلام کے زمانے سے پہلے جاہلیت کے زمانے میں اس کے والد کے دوسرے وارثوں نے تقسیم کر لی ہو، البتہ اگر ایسی میراث ہو جو ابھی تقسیم نہ ہوئی ہو تو اس میں سے وہ بھی حصہ پائے گا، لیکن اگر اس کے والد نے جس سے وہ اب ملایا جاتا ہے، اپنی زندگی میں اس سے انکار کیا ہو یعنی یوں کہا ہو کہ یہ میرا بچہ نہیں ہے، تو وارثوں کے ملانے سے وہ اب اس کا بچہ نہ ہو گا، اگر وہ بچہ ایسی لونڈی سے ہو جو اس مرد کی ملکیت نہ تھی، یا آزاد عورت سے ہو جس سے اس نے زنا کیا تھا تو اس کا نسب کبھی اس مرد سے ثابت نہ ہو گا، گو اس مرد کے وارث اس بچے کو اس مرد سے ملا دیں، اور وہ بچہ اس مرد کا وارث بھی نہ ہو گا، ( اس لیے کہ وہ ولدالزنا ہے ) گو کہ اس مرد نے خود اپنی زندگی میں بھی یہ کہا ہو کہ یہ میرا بچہ ہے، جب بھی وہ ولدالزنا ہی ہو گا، اور عورت کے کنبے والوں کے پاس رہے گا، خواہ وہ آزاد ہو یا لونڈی ۔ محمد بن راشد کہتے ہیں: اس سے مراد وہ میراث ہے جو اسلام سے پہلے جاہلیت میں تقسیم کر دی گئی ہو۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، أَنْبَأَنَا الرَّبِيعُ بْنُ صَبِيحٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ سَتُفْتَحُ عَلَيْكُمُ الآفَاقُ وَسَتُفْتَحُ عَلَيْكُمْ مَدِينَةٌ يُقَالُ لَهَا قَزْوِينُ مَنْ رَابَطَ فِيهَا أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً كَانَ لَهُ فِي الْجَنَّةِ عَمُودٌ مِنْ ذَهَبٍ عَلَيْهِ زَبَرْجَدَةٌ خَضْرَاءُ عَلَيْهَا قُبَّةٌ مِنْ يَاقُوتَةٍ حَمْرَاءَ لَهَا سَبْعُونَ أَلْفَ مِصْرَاعٍ مِنْ ذَهَبٍ عَلَى كُلِّ مِصْرَاعٍ زَوْجَةٌ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The horizons will be opened to you, and you will conquer a city called Qazvin. Whoever is stationed there for forty days or forty nights, will have pillars of gold in Paradise, with green chrysolite and topped by a dome of rubies. It will have seventy thousand doors, at each door will be a wife from among the wide-eyed houris.’”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب تم ملکوں کو فتح کرو گے اور عنقریب تم ایک ایسا شہر فتح کرو گے جسے قزوین کہا جاتا ہے جو اس میں چالیس دن یا چالیس رات سرحد کی نگرانی کرے گا، اس کے لیے جنت میں سونے کا ایک ستون ہو گا، جس پر سبز زمرد لگا ہو گا، پھر اس ستون پر سرخ یا قوت کا قبہ ہو گا جس کے ستر ہزار سونے کے چوکھٹے ( دروازے ) ہوں گے، اور ہر چوکھٹے پر بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں میں سے ایک بیوی ہو گی ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ قَرَظَةَ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ بَعَثَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى الْكُوفَةِ وَشَيَّعَنَا فَمَشَى مَعَنَا إِلَى مَوْضِعٍ يُقَالُ لَهُ صِرَارٌ ‏.‏ فَقَالَ أَتَدْرُونَ لِمَ مَشَيْتُ مَعَكُمْ قَالَ قُلْنَا لِحَقِّ صُحْبَةِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَلِحَقِّ الأَنْصَارِ ‏.‏ قَالَ لَكِنِّي مَشَيْتُ مَعَكُمْ لِحَدِيثٍ أَرَدْتُ أَنْ أُحَدِّثَكُمْ بِهِ فَأَرَدْتُ أَنْ تَحْفَظُوهُ لِمَمْشَاىَ مَعَكُمْ إِنَّكُمْ تَقْدُمُونَ عَلَى قَوْمٍ لِلْقُرْآنِ فِي صُدُورِهِمْ هَزِيزٌ كَهَزِيزِ الْمِرْجَلِ فَإِذَا رَأَوْكُمْ مَدُّوا إِلَيْكُمْ أَعْنَاقَهُمْ وَقَالُوا أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ ‏.‏ فَأَقِلُّوا الرِّوَايَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ثُمَّ أَنَا شَرِيكُكُمْ ‏.‏
It was narrated that Qarazah bin Ka'b said:"Umar bin Al-Khattab sent us to Kufah, and he accompanied us as far as a place called Sirar. He said: 'Do you know why I walked with you?' We said: 'Because of the rights of the Messenger of Allah (ﷺ) and because of the rights of the Ansar.' He said: 'No, rather it is because of words that I wanted to say to you. I wanted you to memorize it due to my walking with you. You are going to people in whose hearts the Qur'an bubbles like water in a copper cauldron. When they see you, they will look up at you, saying: "The Companions of Muhammad!" But do not recite many reports from the Messenger of Allah (ﷺ), then I will be your partner
قرظہ بن کعب کہتے ہیں کہ ہمیں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کوفہ بھیجا، اور ہمیں رخصت کرنے کے لیے آپ ہمارے ساتھ مقام صرار تک چل کر آئے اور کہنے لگے: کیا تم جانتے ہو کہ میں تمہارے ساتھ کیوں چل کر آیا ہوں؟ قرظہ کہتے ہیں کہ ہم نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کے حق اور انصار کے حق کی ادائیگی کی خاطر آئے ہیں، کہا: نہیں، بلکہ میں تمہارے ساتھ ایک بات بیان کرنے کے لیے آیا ہوں، میں نے چاہا کہ میرے ساتھ آنے کی وجہ سے تم اسے یاد رکھو گے: تم ایسے لوگوں کے پاس جا رہے ہو جن کے سینوں میں قرآن ہانڈی کی طرح جوش مارتا ہو گا، جب وہ تم کو دیکھیں گے تو ( مارے شوق کے ) اپنی گردنیں تمہاری طرف لمبی کریں گے ۱؎، اور کہیں گے: یہ اصحاب محمد ہیں، تم ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں کم بیان کرنا، جاؤ میں بھی تمہارا شریک ہوں ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَخِيهِ الْفَضْلِ، أَنَّهُ كَانَ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ غَدَاةَ النَّحْرِ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمٍ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لاَ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَرْكَبَ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ قَالَ ‏ "‏ نَعَمْ فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ عَلَى أَبِيكِ دَيْنٌ قَضَيْتِيهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn ‘Abbas that his brother Fadl was riding behind the Messenger of Allah (ﷺ) in the morning of sacrifice (i.e., the 10th of Dhul-Hijjah), when a woman from Khath’am came and said:“O Messenger of Allah, the command of Allah has come for His slaves to perform Hajj, but my father is an old man and cannot ride. May I perform Hajj on his behalf?” He said: “Yes, because if your father owed a debt you would pay it off.”
عبداللہ بن عباس اپنے بھائی فضل رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں کہ وہ یوم النحر کی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار تھے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کے بندوں پر عائد کیے ہوئے فریضہ حج نے میرے والد کو بڑھاپے میں پایا ہے، وہ سوار ہونے کی بھی سکت نہیں رکھتے، کیا میں ان کی طرف سے حج ادا کر لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اس لیے کہ اگر تمہارے باپ پر کوئی قرض ہوتا تو تم اسے چکاتیں نا ؟ ۱؎۔
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ مِنَ الْفِطْرَةِ الْمَضْمَضَةُ وَالاِسْتِنْشَاقُ وَالسِّوَاكُ وَقَصُّ الشَّارِبِ وَتَقْلِيمُ الأَظْفَارِ وَنَتْفُ الإِبِطِ وَالاِسْتِحْدَادُ وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ وَالاِنْتِضَاحُ وَالاِخْتِتَانُ ‏"‏ ‏.‏ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، مِثْلَهُ ‏.‏
It was narrated from 'Ammar bin Yasir that:The Messenger of Allah said: "Part of the Fitrah is rinsing out the mouth, rinsing out the nostrils, using the tooth stick, trimming the mustache, clipping the nails, plucking the armpit hairs, shaving the pubic hairs, washing the joints, washing the private parts and circumcision.'" (Da'if) Another chain with similar wording
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، مسواک کرنا، مونچھ کاٹنا، ناخن کاٹنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ناف کے نیچے کا بال صاف کرنا، انگلیوں کے جوڑوں کو دھونا، اور وضو کے بعد شرمگاہ پر پانی کا چھینٹا مارنا، اور ختنہ کرانا فطرت میں سے ہیں ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيَّادٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ سَأَلْتُ أَبَا أَيُّوبَ الأَنْصَارِيَّ كَيْفَ كَانَتِ الضَّحَايَا فِيكُمْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ كَانَ الرَّجُلُ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُضَحِّي بِالشَّاةِ عَنْهُ وَعَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ فَيَأْكُلُونَ وَيُطْعِمُونَ ثُمَّ تَبَاهَى النَّاسُ فَصَارَ كَمَا تَرَى ‏.‏
It was narrated that ‘Ata’ bin Yasar said:“I asked Abu Ayyub Al- Ansari: ‘How were sacrifices offered among you at the time of the Messenger of Allah (ﷺ)?’ He said: ‘At the time of the Prophet (ﷺ), a man would sacrifice a sheep on behalf of himself and the members of his household, and they would eat some of it and give some to others. Then people started to compete and it because as you see (nowadays).’”
عطا بن یسار کہتے ہیں کہ میں نے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آپ لوگوں کی قربانیاں کیسی ہوتی تھیں؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آدمی اپنے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری قربانی کرتا تھا تو اسے سارے گھر والے کھاتے اور لوگوں کو کھلاتے، پھر لوگ فخر و مباہات کرنے لگے، تو معاملہ ایسا ہو گیا جو تم دیکھ رہے ہو۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنْ لُحُومِ الْجَلاَّلَةِ وَأَلْبَانِهَا ‏.‏
It was narrated that Ibn ‘Umar said:“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade the meat and milk of Al-Jallalah.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «جلالہ» ( گندگی اور نجاست کھانے والے جانور ) کے گوشت اور اس کے دودھ سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ صُهْبَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ نَهَى النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ الْخَذْفِ وَقَالَ ‏ "‏ إِنَّهَا لاَ تَقْتُلُ الصَّيْدَ وَلاَ تَنْكِي الْعَدُوَّ وَلَكِنَّهَا تَفْقَأُ الْعَيْنَ وَتَكْسِرُ السِّنَّ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that ‘Abdullah bin Mughaffal said:“The Prophet (ﷺ) forbade throwing small pebbles and said: ‘They do not kill any game or hurt the enemy, but they can break a tooth or put out an eye.’”
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکری مارنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے: اس سے نہ تو شکار مرتا ہے، اور نہ ہی یہ دشمن کو زخمی کرتی ہے، ہاں البتہ اس سے آنکھ پھوٹ جاتی ہے، اور دانت ٹوٹ جاتا ہے ۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ بَيْنَمَا هُوَ يَتَغَدَّى إِذْ سَقَطَتْ مِنْهُ لُقْمَةٌ فَتَنَاوَلَهَا فَأَمَاطَ مَا كَانَ فِيهَا مِنْ أَذًى فَأَكَلَهَا فَتَغَامَزَ بِهِ الدَّهَاقِينُ فَقِيلَ أَصْلَحَ اللَّهُ الأَمِيرَ إِنَّ هَؤُلاَءِ الدَّهَاقِينَ يَتَغَامَزُونَ مِنْ أَخْذِكَ اللُّقْمَةَ وَبَيْنَ يَدَيْكَ هَذَا الطَّعَامُ ‏.‏ قَالَ إِنِّي لَمْ أَكُنْ لأَدَعَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لِهَذِهِ الأَعَاجِمِ إِنَّا كُنَّا نَأْمُرُ أَحَدَنَا إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَتُهُ أَنْ يَأْخُذَهَا فَيُمِيطَ مَا كَانَ فِيهَا مِنْ أَذًى وَيَأْكُلَهَا وَلاَ يَدَعَهَا لِلشَّيْطَانِ ‏.‏
It was narrated from Hasan about Ma’qil bin Yasar:“While (he) was eating lunch, a morsel of food fell on the floor. He picked it up, removed whatever dirt had gotten onto it, and ate it. The villagers and farmers winked at one another (finding it odd) and it was said: ‘May Allah help the chief! These villagers and farmers are winking at one another because you picked up a morsel (from the ground) when you have this food in front of you.’ He said: ‘I am not going to give up something I heard from the Messenger of Allah (ﷺ) for these non- Arabs. We were told, if one of us dropped a morsel of food, to pick it up, remove whatever dirt was on it, and eat it, and not to leave it for Satan.’”
معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دوپہر کا کھانا کھانے کے دوران ایک لقمہ ان سے گر گیا، تو انہوں نے اسے اٹھایا، اور اس میں لگے کچرے کو صاف کیا، پھر اسے کھا لیا ( یہ دیکھ کر ) عجمی کسان ایک دوسرے کو آنکھوں سے اشارے کرنے لگے، لوگوں نے کہا: اللہ امیر کا بھلا کرے، آپ کے سامنے یہ کھانا موجود ہوتے ہوئے اس لقمے کو آپ کے اٹھانے پر یہ کسان لوگ آنکھوں سے باہم اشارے کر رہے ہیں، وہ بولے: ان عجمیوں کی ( چہ مہ گوئیوں اور اشارے بازیوں کی ) وجہ سے میں اس بات کو ترک کرنے والا نہیں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، ہم میں سے جب کسی کا لقمہ گر جاتا تو ہم اس سے کہتے کہ وہ اسے اٹھا لے اور اس میں لگی گندگی کو صاف کر لے پھر اسے کھا لے، اور اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑ دے ا؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، حَدَّثَتْنَا بَنَانَةُ بِنْتُ يَزِيدَ الْعَبْشَمِيَّةُ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنَّا نَنْبِذُ لِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي سِقَاءٍ فَنَأْخُذُ قَبْضَةً مِنْ تَمْرٍ أَوْ قَبْضَةً مِنْ زَبِيبٍ فَنَطْرَحُهَا فِيهِ ثُمَّ نَصُبُّ عَلَيْهِ الْمَاءَ فَنَنْبِذُهُ غُدْوَةً فَيَشْرَبُهُ عَشِيَّةً وَنَنْبِذُهُ عَشِيَّةً فَيَشْرَبُهُ غُدْوَةً ‏.‏ وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ نَهَارًا فَيَشْرَبُهُ لَيْلاً أَوْ لَيْلاً فَيَشْرَبُهُ نَهَارًا ‏.‏
It was narrated that ‘Aishah said:“We used to make Nabidh for the Messenger of Allah (ﷺ) in a water skin. We would take a handful of dates or a handful of raisins, and put them in it, then pour water over it. We would make that in the morning and he would drink it in the evening, or we would make it in the evening and he would drink it in the morning.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک مشک میں نبیذ تیار کرتے اس کے لیے ہم ایک مٹھی کھجور یا ایک مٹھی انگور لے لیتے، پھر اسے مشک میں ڈال دیتے، اس کے بعد اس میں پانی ڈال دیتے، اگر ہم اسے صبح میں بھگوتے تو آپ اسے شام میں پیتے، اور اگر ہم شام میں بھگوتے تو آپ اسے صبح میں پیتے۔ ابومعاویہ اپنی روایت میں یوں کہتے ہیں: دن میں بھگوتے تو رات میں پیتے اور رات میں بھگوتے تو دن میں پیتے ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَرَاشِدُ بْنُ سَعِيدٍ الرَّمْلِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏ "‏ شِفَاءُ عِرْقِ النَّسَا أَلْيَةُ شَاةٍ أَعْرَابِيَّةٍ تُذَابُ ثُمَّ تُجَزَّأُ ثَلاَثَةَ أَجْزَاءٍ ثُمَّ يُشْرَبُ عَلَى الرِّيقِ فِي كُلِّ يَوْمٍ جُزْءٌ ‏"‏ ‏.‏
Anas bin Malik said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: ‘The cure for sciatica is the fat from the tail of a Bedouin sheep (or wild sheep), which should be melted and divided into three parts, one part to be taken each day on an empty stomach.’”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: «عرق النسا» ۱؎ کا علاج یہ ہے کہ جنگلی بکری کی ( چربی ) کی چکتی لی جائے اور اسے پگھلایا جائے، پھر اس کے تین حصے کئے جائیں، اور ہر حصے کو روزانہ نہار منہ پیا جائے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الأَوْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، ح وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَلْبَسُ قَمِيصًا قَصِيرَ الْيَدَيْنِ وَالطُّولِ ‏.‏
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“The Messenger of Allah (ﷺ) used to wear a shirt that was short in the sleeves and length.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی قمیص پہنتے جس کی آستین چھوٹی اور لمبائی بھی کم ہوتی تھی۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، صَاحِبِ الدَّسْتَوَائِيِّ عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ قَالَ ‏ "‏ سَقْىُ الْمَاءِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Sad bin Ubadah said:"I said: 'O Messenger of Allah, what charity is best?' He said: 'Giving water to drink
سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی پلانا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ لاَ يَقُولَنَّ أَحَدُكُمُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ وَلْيَعْزِمْ فِي الْمَسْأَلَةِ فَإِنَّ اللَّهَ لاَ مُكْرِهَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the :Messenger of Allah (saas) said: "No one among you should say: "O Allah, forgive me if You will.' Let him be definite in his asking, and no one can compel Allah
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے، بلکہ اللہ تعالیٰ سے یقینی طور پر سوال کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ پر کوئی زور زبردستی کرنے والا نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الأَشْيَبُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَجَلَسْتُ إِلَى أَشْيِخَةٍ فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَجَاءَ شَيْخٌ يَتَوَكَّأُ عَلَى عَصًا لَهُ فَقَالَ الْقَوْمُ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا ‏.‏ فَقَامَ خَلْفَ سَارِيَةٍ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ لَهُ قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ كَذَا وَكَذَا ‏.‏ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الْجَنَّةُ لِلَّهِ يُدْخِلُهَا مَنْ يَشَاءُ وَإِنِّي رَأَيْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رُؤْيَا رَأَيْتُ كَأَنَّ رَجُلاً أَتَانِي فَقَالَ لِيَ انْطَلِقْ ‏.‏ فَذَهَبْتُ مَعَهُ فَسَلَكَ بِي فِي مَنْهَجٍ عَظِيمٍ فَعُرِضَتْ عَلَىَّ طَرِيقٌ عَلَى يَسَارِي فَأَرَدْتُ أَنْ أَسْلُكَهَا فَقَالَ إِنَّكَ لَسْتَ مِنْ أَهْلِهَا ‏.‏ ثُمَّ عُرِضَتْ عَلَىَّ طَرِيقٌ عَنْ يَمِينِي فَسَلَكْتُهَا حَتَّى إِذَا انْتَهَيْتُ إِلَى جَبَلٍ زَلَقٍ فَأَخَذَ بِيَدِي فَزَجَلَ بِي فَإِذَا أَنَا عَلَى ذُرْوَتِهِ فَلَمْ أَتَقَارَّ وَلَمْ أَتَمَاسَكْ وَإِذَا عَمُودٌ مِنْ حَدِيدٍ فِي ذُرْوَتِهِ حَلْقَةٌ مِنْ ذَهَبٍ فَأَخَذَ بِيَدِي فَزَجَّلَ بِي حَتَّى أَخَذْتُ بِالْعُرْوَةِ فَقَالَ اسْتَمْسَكْتَ قُلْتُ نَعَمْ فَضَرَبَ الْعَمُودَ بِرِجْلِهِ ‏.‏ فَاسْتَمْسَكْتُ بِالْعُرْوَةِ ‏.‏ فَقَالَ قَصَصْتُهَا عَلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ رَأَيْتَ خَيْرًا أَمَّا الْمَنْهَجُ الْعَظِيمُ فَالْمَحْشَرُ وَأَمَّا الطَّرِيقُ الَّتِي عُرِضَتْ عَنْ يَسَارِكَ فَطَرِيقُ أَهْلِ النَّارِ وَلَسْتَ مِنْ أَهْلِهَا وَأَمَّا الطَّرِيقُ الَّتِي عُرِضَتْ عَنْ يَمِينِكَ فَطَرِيقُ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَمَّا الْجَبَلُ الزَّلَقُ فَمَنْزِلُ الشُّهَدَاءِ وَأَمَّا الْعُرْوَةُ الَّتِي اسْتَمْسَكْتَ بِهَا فَعُرْوَةُ الإِسْلاَمِ فَاسْتَمْسِكْ بِهَا حَتَّى تَمُوتَ ‏"‏ ‏.‏ فَأَنَا أَرْجُو أَنْ أَكُونَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَإِذَا هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ ‏.‏
It was narrated that Kharashah bin Hurr said:“I came to Al-Madinah and sat with some old men in the mosque of the Prophet (ﷺ). Then an old man came, leaning on his stick, and the people said: ‘Whoever would like to look at a man from among the people of Paradise, let him look at this man.’ He stood behind a pillar and prayed two Rak’ah. I got up and went to him, and said to him: ‘Some of the people said such and such.’ He said: ‘Praise is to Allah. Paradise belongs to Allah and He admits whomsoever He wills to it. At the time of the Messenger of Allah (ﷺ) I saw a dream in which a man came to me and said: “Let’s go.” So I went with him and he took me along a great road. A road was shown to me on the left and I wanted to follow it, but he said: “You are not one of its people.” Then a road was shown to me on the right, and I followed him until I reached a slippery mountain. He took me by the hand and helped me up. When I reached the top I could not stand firm. There was an iron pillar there with a golden ring at the top. He took my hand and helped me up until I reached the handhold, then he said: “Have you gotten a firm hold?” I said: “Yes.” Then he struck the pillar with his foot and I held tight to the pillar. I told this to the Prophet (ﷺ) and he said: "You have seen something good. The great road is the plain of gathering (on the Day of Resurrection). The road that you were shown on your left is the way of the people of Hell, and you are not one of its people. The road which you were shown on your right is the way of the people of Paradise. The slippery mountain is the place of the martyrs, and the handhold that you held on tight to is the handhold of Islam. Hold on tight to it until you die." I hope to be one of the people of Paradise,' and he was 'Abdullah bin Salam
خرشہ بن حرر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب میں مدینہ آیا تو مسجد نبوی میں چند بوڑھوں کے پاس آ کر بیٹھ گیا، اتنے میں ایک بوڑھا اپنی لاٹھی ٹیکتے ہوئے آیا، تو لوگوں نے کہا: جسے کوئی جنتی آدمی دیکھنا پسند ہو وہ اس شخص کو دیکھ لے، پھر اس نے ایک ستون کے پیچھے جا کر دو رکعت نماز ادا کی، تو میں ان کے پاس گیا، اور ان سے عرض کیا کہ آپ کی نسبت کچھ لوگوں کا ایسا ایسا کہنا ہے؟ انہوں نے کہا: الحمدللہ! جنت اللہ کی ملکیت ہے وہ جسے چاہے اس میں داخل فرمائے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک خواب دیکھا تھا، میں نے دیکھا، گویا ایک شخص میرے پاس آیا، اور کہنے لگا: میرے ساتھ چلو، تو میں اس کے ساتھ ہو گیا، پھر وہ مجھے ایک بڑے میدان میں لے کر چلا، پھر میرے بائیں جانب ایک راستہ سامنے آیا، میں نے اس پر چلنا چاہا تو اس نے کہا: یہ تمہارا راستہ نہیں، پھر دائیں طرف ایک راستہ سامنے آیا تو میں اس پر چل پڑا یہاں تک کہ جب میں ایک ایسے پہاڑ کے پاس پہنچا جس پر پیر نہیں ٹکتا تھا، تو اس شخص نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھ کو دھکیلا یہاں تک کہ میں اس چوٹی پر پہنچ گیا، لیکن وہاں پر میں ٹھہر نہ سکا اور نہ وہاں کوئی ایسی چیز تھی جسے میں پکڑ سکتا، اچانک مجھے لوہے کا ایک کھمبا نظر آیا جس کے سرے پر سونے کا ایک کڑا تھا، پھر اس شخص نے میرا ہاتھ پکڑا، اور مجھے دھکا دیا یہاں تک کہ میں نے وہ کڑا پکڑ لیا، تو اس نے مجھ سے پوچھا: کیا تم نے مضبوطی سے پکڑ لیا؟ میں نے کہا: ہاں، میں نے پکڑ لیا، پھر اس نے کھمبے کو پاؤں سے ٹھوکر ماری، لیکن میں کڑا پکڑے رہا۔ میں نے یہ خواب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے خواب تو بہت ہی اچھا دیکھا، وہ بڑا میدان میدان حشر تھا، اور جو راستہ تمہارے بائیں جانب دکھایا گیا وہ جہنمیوں کا راستہ تھا، لیکن تم جہنم والوں میں سے نہیں ہو اور وہ راستہ جو تمہارے دائیں جانب دکھایا گیا وہ جنتیوں کا راستہ ہے، اور جو پھسلنے والا پہاڑ تم نے دیکھا وہ شہیدوں کا مقام ہے، اور وہ کڑا جو تم نے تھاما وہ اسلام کا کڑا ہے، لہٰذا تم اسے مرتے دم تک مضبوطی سے پکڑے رہو، تو مجھے امید ہے کہ میں اہل جنت میں ہوں گا اور وہ ( بوڑھے آدمی ) عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ حَبِيبَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، أَنَّهَا قَالَتِ اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مِنْ نَوْمِهِ وَهُوَ مُحْمَرٌّ وَجْهُهُ وَهُوَ يَقُولُ ‏"‏ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ ‏"‏ ‏.‏ وَعَقَدَ بِيَدَيْهِ عَشَرَةً ‏.‏ قَالَتْ زَيْنَبُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ قَالَ ‏"‏ إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Zainab bint Jahsh said:“The Messenger of Allah (ﷺ) woke up red in the face and said: ‘La ilaha illallah, woe to the Arabs from an evil that has drawn nigh. Today a hole has been opened in the barrier of Gog and Magog.’ And he gestured to indicate the size of the hole.” Zainab said: “I said: ‘O Messenger of Allah! Will we be destroyed when there are righteous people among us?’ He said: ‘If sin and evil deeds increase.’”
ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے تو آپ کا مبارک چہرہ سرخ تھا، اور آپ فرما رہے تھے: «لا إله إلا الله» عرب کے لیے تباہی ہے اس فتنے سے جو قریب آ گیا ہے، آج یاجوج و ماجوج کی دیوار میں اتنا سوراخ ہو گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کی انگلیوں سے دس کی گرہ بنائی ۱؎، زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے؟ حالانکہ ہم میں اچھے لوگ بھی موجود ہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، جب معصیت ( برائی ) عام ہو جائے گی ۲؎۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَبِي سَعْدٍ الأَزْدِيِّ، وَكَانَ، قَارِئَ الأَزْدِ عَنْ أَبِي الْكَنُودِ، عَنْ خَبَّابٍ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى ‏{وَلاَ تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{فَتَكُونَ مِنَ الظَّالِمِينَ}‏ قَالَ جَاءَ الأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ التَّمِيمِيُّ وَعُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ الْفَزَارِيُّ فَوَجَدُوا رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مَعَ صُهَيْبٍ وَبِلاَلٍ وَعَمَّارٍ وَخَبَّابٍ قَاعِدًا فِي نَاسٍ مِنَ الضُّعَفَاءِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَلَمَّا رَأَوْهُمْ حَوْلَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ حَقَرُوهُمْ فَأَتَوْهُ فَخَلَوْا بِهِ وَقَالُوا إِنَّا نُرِيدُ أَنْ تَجْعَلَ لَنَا مِنْكَ مَجْلِسًا تَعْرِفُ لَنَا بِهِ الْعَرَبُ فَضْلَنَا فَإِنَّ وُفُودَ الْعَرَبِ تَأْتِيكَ فَنَسْتَحْيِي أَنْ تَرَانَا الْعَرَبُ مَعَ هَذِهِ الأَعْبُدِ فَإِذَا نَحْنُ جِئْنَاكَ فَأَقِمْهُمْ عَنْكَ فَإِذَا نَحْنُ فَرَغْنَا فَاقْعُدْ مَعَهُمْ إِنْ شِئْتَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا فَاكْتُبْ لَنَا عَلَيْكَ كِتَابًا ‏.‏ قَالَ فَدَعَا بِصَحِيفَةٍ وَدَعَا عَلِيًّا لِيَكْتُبَ وَنَحْنُ قُعُودٌ فِي نَاحِيَةٍ فَنَزَلَ جِبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَقَالَ ‏{وَلاَ تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ مَا عَلَيْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِنْ شَىْءٍ وَمَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَيْهِمْ مِنْ شَىْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُونَ مِنَ الظَّالِمِينَ}‏ ثُمَّ ذَكَرَ الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ وَعُيَيْنَةَ بْنَ حِصْنٍ فَقَالَ ‏{وَكَذَلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِيَقُولُوا أَهَؤُلاَءِ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنْ بَيْنِنَا أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِينَ}‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏{وَإِذَا جَاءَكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِنَا فَقُلْ سَلاَمٌ عَلَيْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ }‏ ‏.‏ قَالَ فَدَنَوْنَا مِنْهُ حَتَّى وَضَعْنَا رُكَبَنَا عَلَى رُكْبَتِهِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَجْلِسُ مَعَنَا فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَقُومُ قَامَ وَتَرَكَنَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ ‏{وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ وَلاَ تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُمْ}‏ وَلاَ تُجَالِسِ الأَشْرَافَ ‏{تُرِيدُ زِينَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَلاَ تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَنْ ذِكْرِنَا}‏ - يَعْنِي عُيَيْنَةَ وَالأَقْرَعَ - ‏{وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا }‏ - قَالَ هَلاَكًا - قَالَ أَمْرُ عُيَيْنَةَ وَالأَقْرَعِ ‏.‏ ثُمَّ ضَرَبَ لَهُمْ مَثَلَ الرَّجُلَيْنِ وَمَثَلَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ‏.‏ قَالَ خَبَّابٌ فَكُنَّا نَقْعُدُ مَعَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَإِذَا بَلَغْنَا السَّاعَةَ الَّتِي يَقُومُ فِيهَا قُمْنَا وَتَرَكْنَاهُ حَتَّى يَقُومَ ‏.‏
It was narrated from Khabbab, concerning the Verse:“And turn not away those who invoke their Lord, morning and afternoon...” up to His saying: “...and thus become of the unjust.” [6:52] He said: “Aqra’ bin Habis At-Tamimi and ‘Uyainah bin Hisn Al-Fazri came and found the Messenger of Allah (ﷺ) with Suhaib, Bilal, ‘Ammar and Khabbab, sitting with some of the believers who were weak (i.e., socially). When they saw them around the Prophet (ﷺ) they looked down on them. They took him aside and said: ‘We want you to sit with us along, so that the ‘Arabs will recognize our superiority. If the delegations of the Arabs come to you we will feel ashamed if the Arabs see us with these slaves. So, when we come to you, make them get up from your presence, then when we have finished, sit with them if you wish.’ He said: ‘Yes.’ They said: ‘Write a document for us (binding you to that).’ So he called for a piece of paper and he called ‘Ali to write, and we were sitting in a corner. Then Jibra’il (as), came down and said: “And turn not away those who invoke their Lord, morning and afternoon seeking His Face. You are accountable for them in nothing, and they are accountable for you in nothing, that you may turn them away, and thus become of the unjust.” [6:52] Then he mentioned Aqra’ bin Habis and ‘Uyaynah bin Hisn, then he said: “Thus We have tried some of them with others, that they might say: ‘Is it these (poor believers) whom Allah has favored from amongst us?’ Does not Allah know best those who are grateful.” [6:53] Then he said: “When those who believe in Our Ayat come to you, say: Salamun ‘Alaykum (peace be on you); your Lord has written (prescribed) mercy for Himself”.” [6:54] He said: “Then we got so close to him that our knees were touching his, and the Messenger of Allah (ﷺ) was sitting with us. When he wanted to get up, he stood up and left us. Then Allah revealed: “And keep yourself patiently with those who call on their Lord morning and afternoon, seeking His Face; and let not your eyes overlook them,” – and do not sit with the nobles – “desiring the pomp and glitter of the life of the world; and obey not him whose heart We have made heedless of Our remembrance,” – meaning ‘Uyainah and Aqra’ – “and who follows his own lusts, and those affair (deeds) has been lost” [18:28] He said: ‘May they be doomed.’ He said: ‘May ‘Uyainah and Aqra’ be doomed.’ Then he made the parable for them of two men and the parable of this world. Khabbab said: “We used to sit with the Prophet (ﷺ) and if the time came for him to leave, we would get up and leave him, then he would leave.”
خباب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ «ولا تطرد الذين يدعون ربهم بالغداة والعشي» سے «فتكون من الظالمين» اور ان لوگوں کو اپنے پاس سے مت نکال جو اپنے رب کو صبح و شام پکارتے ہیں … ( سورة الأنعام: 52 ) کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ اقرع بن حابس تمیمی اور عیینہ بن حصن فزاری رضی اللہ عنہما آئے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صہیب، بلال، عمار، اور خباب رضی اللہ عنہم جیسے کمزور حال مسلمانوں کے ساتھ بیٹھا ہوا پایا، جب انہوں نے ان لوگوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چاروں طرف دیکھا تو ان کو حقیر جانا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے تنہائی میں ملے، اور کہنے لگے: ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمارے لیے ایک الگ مجلس مقرر کریں تاکہ عرب کو ہماری بزرگی اور بڑائی معلوم ہو، آپ کے پاس عرب کے وفود آتے رہتے ہیں، اگر وہ ہمیں ان غلاموں کے ساتھ بیٹھا دیکھ لیں گے تو یہ ہمارے لیے باعث شرم ہے، جب ہم آپ کے پاس آئیں تو آپ ان مسکینوں کو اپنے پاس سے اٹھا دیا کیجئیے، جب ہم چلے جائیں تو آپ چاہیں تو پھر ان کے ساتھ بیٹھ سکتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے ان لوگوں نے کہا کہ آپ ہمیں اس سلسلے میں ایک تحریر لکھ دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کاغذ منگوایا اور علی رضی اللہ عنہ کو لکھنے کے لیے بلایا، ہم ایک طرف بیٹھے تھے کہ جبرائیل علیہ السلام یہ آیت لے کر نازل ہوئے: «ولا تطرد الذين يدعون ربهم بالغداة والعشي يريدون وجهه ما عليك من حسابهم من شيء وما من حسابك عليهم من شيء فتطردهم فتكون من الظالمين» اور ان لوگوں کو اپنے سے دور مت کریں جو اپنے رب کو صبح و شام پکارتے ہیں، وہ اس کی رضا چاہتے ہیں، ان کے حساب کی کوئی ذمے داری تمہارے اوپر نہیں ہے اور نہ تمہارے حساب کی کوئی ذمے داری ان پر ہے ( اگر تم ایسا کرو گے ) تو تم ظالموں میں سے ہو جاؤ گے ) پھر اللہ تعالیٰ نے اقرع بن حابس اور عیینہ بن حصن رضی اللہ عنہما کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: «وكذلك فتنا بعضهم ببعض ليقولوا أهؤلاء من الله عليهم من بيننا أليس الله بأعلم بالشاكرين» اور اسی طرح ہم نے بعض کو بعض کے ذریعے آزمایا تاکہ وہ کہیں: کیا اللہ تعالیٰ نے ہم میں سے انہیں پر احسان کیا ہے، کیا اللہ تعالیٰ شکر کرنے والوں کو نہیں جانتا، ( سورۃ الأنعام: ۵۳ ) پھر فرمایا: «وإذا جاءك الذين يؤمنون بآياتنا فقل سلام عليكم كتب ربكم على نفسه الرحمة» جب تمہارے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں تو کہو: تم پر سلامتی ہو، تمہارے رب نے اپنے اوپر رحم کو واجب کر لیا ہے ( سورة الأنعام: 54 ) ۔ خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ( اس آیت کے نزول کے بعد ) ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ہو گئے یہاں تک کہ ہم نے اپنا گھٹنا، آپ کے گھٹنے پر رکھ دیا اور آپ ہمارے ساتھ بیٹھتے تھے، اور جب اٹھنے کا ارادہ کرتے تو کھڑے ہو جاتے، اور ہم کو چھوڑ دیتے ( اس سلسلے میں ) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: «واصبر نفسك مع الذين يدعون ربهم بالغداة والعشي يريدون وجهه ولا تعد عيناك عنهم» روکے رکھو اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ جو اپنے رب کو یاد کرتے ہیں صبح اور شام، اور اسی کی رضا مندی چاہتے ہیں، اور اپنی نگاہیں ان کی طرف سے مت پھیرو ( سورة الكهف: 28 ) -یعنی مالداروں کے ساتھ مت بیٹھو، تم دنیا کی زندگی کی زینت چاہتے ہو، مت کہا مانو ان لوگوں کا جن کے دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دئیے ) اس سے مراد اقرع و عیینہ ہیں«واتبع هواه وكان أمره فرطا» انہوں نے اپنی خواہش کی پیروی کی اور ان کا معاملہ تباہ ہو گیا ( سورة الكهف: 28 ) ، یہاں «فرطا» کا معنی بیان کرتے ہوئے خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: «هلاكا» اقرع اور عیینہ میں سے ہر ایک کا معاملہ تباہ ہو گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان دو آدمیوں کی مثال اور دنیوی زندگی کی مثال بیان فرمائی، خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھتے تو جب آپ کے کھڑے ہونے کا وقت آتا تو پہلے ہم اٹھتے تب آپ اٹھتے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالاَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَاجِرِ، عَنْ بُرَيْدَةَ الأَسْلَمِيِّ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي غَزْوَةٍ فَقَالَ ‏ "‏ بَكِّرُوا بِالصَّلاَةِ فِي الْيَوْمِ الْغَيْمِ فَإِنَّهُ مَنْ فَاتَتْهُ صَلاَةُ الْعَصْرِ حَبِطَ عَمَلُهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Buraidah Al-Aslami said:"We were with the Messenger of Allah on a campaign, and he said: 'Hasten to perform prayer on a cloudy day, for whoever misses the 'Asr prayer, all his good deeds will be in vain
بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بادل کے ایام میں نماز جلدی پڑھ لیا کرو، کیونکہ جس کی نماز عصر فوت ہو گئی، اس کا عمل برباد ہو گیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، قَالَ كُنَّا قُعُودًا فِي الْمَسْجِدِ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْمَسْجِدِ يَمْشِي فَأَتْبَعَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ بَصَرَهُ حَتَّى خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَمَّا هَذَا فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏.‏
It was narrated that Abu Sha'tha said:"We were sitting in the mosque with Abu Hurairah when the Mu'adh-dhin called the Adhan. A man got up and walked out of the mosque, and Abu Hurairah followed him with his gaze until he left the mosque. Then Abu Hurairah said: "This man has disobeyed Abul-Qasim
ابوالشعثاء کہتے ہیں کہ ہم مسجد میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں مؤذن نے اذان دی، ایک شخص مسجد سے اٹھ کر جانے لگا تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اسے دیکھتے رہے یہاں تک کہ وہ مسجد سے نکل گیا، اس وقت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ، حَدَّثَنَا عَائِذُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَغَضِبَ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَحَكَّتْهَا وَجَعَلَتْ مَكَانَهَا خَلُوقًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ مَا أَحْسَنَ هَذَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Anas that:The Prophet saw some sputum in the prayer direction of the mosque and he became so angry that his face turned red. Then a woman from among the Ansar came and scraped it off, and put some Khaluq on that spot. The Messenger of Allah said: "How good this is
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی دیوار قبلہ پر بلغم دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سخت غصہ ہوئے یہاں تک کہ آپ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا، اتنے میں قبیلہ انصار کی ایک عورت آئی اور اس نے اسے کھرچ دیا، اور اس کی جگہ خوشبو لگا دی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کتنا اچھا کام ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُصَلِّي بِنَا الظُّهْرَ فَنَسْمَعُ مِنْهُ الآيَةَ بَعْدَ الآيَاتِ مِنْ سُورَةِ لُقْمَانَ وَالذَّارِيَاتِ ‏.‏
It was narrated that Bara’ bin ‘Azib said:“The Messenger of Allah (ﷺ) used to lead us for the Zuhr, and we would hear him reciting a Verse after the Verses from Surat Luqman (31) and Adh-Dhariyat (51).”
براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ظہر کی نماز پڑھاتے تو ہم سورۃ «لقمان» اور سورۃ «ذاريات» کی کئی آیتوں کے بعد کوئی آیت سن لیا کرتے تھے۔