بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Ibn Majah
6
33 hadith
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مُحَمَّدٍ وَكَانَ فِي حَدِيثِ حَفْصَةَ ‏"‏ اغْسِلْنَهَا وِتْرًا ‏"‏ ‏.‏ وَكَانَ فِيهِ ‏"‏ اغْسِلْنَهَا ثَلاَثًا أَوْ خَمْسًا ‏"‏ ‏.‏ وَكَانَ فِيهِ ‏"‏ ابْدَءُوا بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ مِنْهَا ‏"‏ ‏.‏ وَكَانَ فِيهِ أَنَّ أُمَّ عَطِيَّةَ قَالَتْ وَامْشِطْنَهَا ثَلاَثَةَ قُرُونٍ ‏.‏
It was narrated from Ayyub who said:“Hafsah narrated to me, from Umm ‘Atiyyah” and it is similar to the Hadith of Muhammad. And in the narration of Hafsah it says: “Wash her an odd number of times.” And: “Wash her face three or five times.” And “Start on her right, with the places washed in ablution.” And it says that Umm ‘Atiyyah said: “And we combed her hair into three braids.”
اس سند سے بھی ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے محمد بن سیرین کی سابقہ حدیث کی طرح مروی ہے اور حفصہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں یہ ہے کہ: ان کو طاق بار غسل دو ، اور اس میں یہ بھی ہے کہ: انہیں تین بار یا پانچ بار غسل دو، اور دائیں طرف کے اعضاء وضو سے غسل شروع کرو ۔ اور اس روایت میں یہ بھی ہے کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہم نے ان کے بالوں میں کنگھی کر کے تین چوٹیاں کر دیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَاصِمٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ka’b bin ‘Asim that the Messenger of Allah (ﷺ) said:‘It is not an act of righteousness to fast while traveling.”
کعب بن عاصم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، وَيُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏ "‏ الْعَامِلُ عَلَى الصَّدَقَةِ بِالْحَقِّ كَالْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى بَيْتِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that:Rafi bin Khadij said: “I heard the Messenger of Allah say: 'The person who is appointed to collect the Sadaqah - who does so with sincerity and fairness is like one who foes out to fight for the sake of Allah, until he returns to the house.' ”
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: حق و انصاف کے ساتھ زکاۃ وصول کرنے والا اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے، جب تک کہ لوٹ کر اپنے گھر واپس نہ آ جائے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ لاَ تُنْكَحُ الثَّيِّبُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ وَلاَ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ وَإِذْنُهَا الصُّمُوتُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that:the Messenger of Allah said: “A previously-married woman should not be married until she is consulted, and a virgin should not be married until her consent is sought, and her consent is her silence.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غیر کنواری عورت کا نکاح اس کی واضح اجازت کے بغیر نہ کیا جائے، اور کنواری کا نکاح بھی اس سے اجازت لے کر کیا جائے، اور کنواری کی اجازت اس کی خاموشی ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَنْبَأَنَا الْقَاسِمُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ يُرْفَعُ الْقَلَمُ عَنِ الصَّغِيرِ وَعَنِ الْمَجْنُونِ وَعَنِ النَّائِمِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Ali bin Abu Talib that:the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The Pen is lifted from the minor, the insane person and the sleeper
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچے، دیوانے اور سوئے ہوئے شخص سے قلم اٹھا لیا جاتا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَفْوَانَ، أَوْ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيِّ، قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ جَاءَ بِأَبِيهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اجْعَلْ لأَبِي نَصِيبًا فِي الْهِجْرَةِ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّهُ لاَ هِجْرَةَ ‏"‏ ‏.‏ فَانْطَلَقَ فَدَخَلَ عَلَى الْعَبَّاسِ فَقَالَ قَدْ عَرَفْتَنِي فَقَالَ أَجَلْ ‏.‏ فَخَرَجَ الْعَبَّاسُ فِي قَمِيصٍ لَيْسَ عَلَيْهِ رِدَاءٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ عَرَفْتَ فُلاَنًا وَالَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ جَاءَ بِأَبِيهِ لِيُبَايِعَكَ عَلَى الْهِجْرَةِ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ إِنَّهُ لاَ هِجْرَةَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ الْعَبَّاسُ أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ ‏.‏ فَمَدَّ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَدَهُ فَمَسَّ يَدَهُ فَقَالَ ‏"‏ أَبْرَرْتُ عَمِّي وَلاَ هِجْرَةَ ‏"‏ ‏.‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِدْرِيسَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ ‏.‏ قَالَ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ يَعْنِي لاَ هِجْرَةَ مِنْ دَارٍ قَدْ أَسْلَمَ أَهْلُهَا ‏.‏
It was narrated from Mujahid, that 'Abdur-Rahman bin Safwan, or Safwan bin 'Abdur- Rahman Al-Qurashi said:"On the Day of the conquest of Makkah, he came with his father and he said: 'O Messenger of Allah, give my father a share of Hijrah.' He said: 'There is no Hijrah.' Then he went away and entered upon 'Abbas and said: 'Do you know who I am?' He said: 'Yes.' Then 'Abbas went out, wearing a shirt and no upper wrap, and said: 'O Messenger of Allah, do you know so-and-so with whom we have friendly ties? He brought his father to swear an oath of allegiance (i.e., promise) to emigrate.' The Prophet (ﷺ) said: 'There is no Hijrah.'" 'Abbas said: 'I adjure you to do it.' The Prophet (ﷺ) stretched forth his hand and touched his hand, and said: 'I have fulfilled the oath of my uncle, but there is no Hijrah."' (Da'if)Another chain with similar wording. Yazid bin Abu Ziyad said: "Meaning: There is no Hijrah from a land whose people have accepted Islam
عبدالرحمٰن بن صفوان یا صفوان بن عبدالرحمٰن قرشی کہتے ہیں کہ جس دن مکہ فتح ہوا، وہ اپنے والد کو لے کر آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد کو ہجرت کے ثواب سے ایک حصہ دلوائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب ہجرت نہیں ہے، آخر وہ چلا گیا، اور عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور کہنے لگا: آپ نے مجھے پہچانا؟ انہوں نے کہا: ہاں، پھر عباس رضی اللہ عنہ ایک قمیص پہنے ہوئے نکلے ان پر چادر بھی نہ تھی عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھ میں اور فلاں شخص میں جو تعلقات ہیں وہ آپ کو معلوم ہیں، اور وہ اپنے والد کو لے کر آیا ہے تاکہ آپ اس سے ہجرت پہ بیعت کر لیں ۱؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب ہجرت نہیں رہی ، عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ کو قسم دیتا ہوں، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ بڑھایا، اور اس کا ہاتھ چھو لیا، اور فرمایا: میں نے اپنے چچا کی قسم پوری کی، لیکن ہجرت تو نہیں رہی ۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ أَبُو حَفْصٍ الصَّيْرَفِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَادَةَ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَأَمَرَنِي فَأَعْطَيْتُ الْحَجَّامَ أَجْرَهُ ‏.‏
It was narrated that 'Ali said:"The Messenger of Allah (ﷺ) was treated with cupping and he told me to give the cupper his wages
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا، اور مجھے حکم دیا تو میں نے حجام ( پچھنا لگانے والے ) کو اس کی اجرت دی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ فَأَرْسَلَتْ أُخْرَى بِقَصْعَةٍ فِيهَا طَعَامٌ فَضَرَبَتْ يَدَ الرَّسُولِ فَسَقَطَتِ الْقَصْعَةُ فَانْكَسَرَتْ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْكِسْرَتَيْنِ فَضَمَّ إِحْدَاهُمَا إِلَى الأُخْرَى فَجَعَلَ يَجْمَعُ فِيهَا الطَّعَامَ وَيَقُولُ ‏ "‏ غَارَتْ أُمُّكُمْ كُلُوا ‏"‏ ‏.‏ فَأَكَلُوا حَتَّى جَاءَتْ بِقَصْعَتِهَا الَّتِي فِي بَيْتِهَا فَدَفَعَ الْقَصْعَةَ الصَّحِيحَةَ إِلَى الرَّسُولِ وَتَرَكَ الْمَكْسُورَةَ فِي بَيْتِ الَّتِي كَسَرَتْهَا ‏.‏
It was narrated that Anas bin Malik said:“The Prophet (ﷺ) was with one of the Mothers of the Believers (his wives) and another (wife) sent a bowl containing food. She (the first wife) struck the hand of the Messenger of (ﷺ) and the bowl fell and broke. The Messenger of Allah (ﷺ) took the two pieces and put them back together, then he started gathering up the food and putting it in (the bowl). He said: 'Your mother was jealous. Eat.' So they ate, and she (the wife who broke the bowl) brought the bowl that was in her house and gave the intact bowl to the Messenger (ﷺ), who left the broken bowl in the house of the one who broke it.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن میں سے ایک کے پاس تھے، آپ کی کسی دوسری بیوی نے ایک کھانے کا پیالہ بھیجا، پہلی بیوی نے ( غصہ سے کھانا لانے والے ) کے ہاتھ پر مارا، اور پیالہ گر کر ٹوٹ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ٹکڑوں کو اٹھا کر ایک کو دوسرے سے جوڑا اور اس میں کھانا اکٹھا کرنے لگے اور فرماتے جاتے تھے: تمہاری ماں کو غیرت آ گئی ہے ( کہ میرے گھر اس نے کھانا کیوں بھیجا ) ، تم کھانا کھاؤ، لوگوں نے کھایا، پھر جن کے گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اپنا پیالہ لائیں، تو آپ نے یہ صحیح سالم پیالہ قاصد کو عنایت کر دیا، اور ٹوٹا ہوا پیالہ اس بیوی کے گھر میں رکھ چھوڑا جس نے اسے توڑا تھا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ تَرَكَ مَالاً فَلِوَرَثَتِهِ وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَعَلَىَّ وَإِلَىَّ وَأَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever leaves behind money, it is for his heirs, and whoever leaves behind a debt for children, I am nearer to the believers.”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے، اور جو قرض یا بال بچے چھوڑ جائے تو اس کے قرض کی ادائیگی اور اس کے بال بچوں کا خرچ مجھ پر ہے، اور ان کا معاملہ میرے سپرد ہے، اور میں مومنوں کے زیادہ قریب ہوں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ قُلْتُ لِطَاوُسٍ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَوْ تَرَكْتَ هَذِهِ الْمُخَابَرَةَ فَإِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْهُ ‏.‏ فَقَالَ أَىْ عَمْرُو إِنِّي أُعِينُهُمْ وَأُعْطِيهِمْ وَإِنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَخَذَ النَّاسَ عَلَيْهَا عِنْدَنَا وَإِنَّ أَعْلَمَهُمْ - يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ - أَخْبَرَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَنْهَ عَنْهَا وَلَكِنْ قَالَ ‏ "‏ لأَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا أَجْرًا مَعْلُومًا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Amr bin Dinar said:I said to Tawus: “O Abu 'Abdur-Rahman, why do you not give up this Mukhabarah because they claim that the Messenger of Allah (ﷺ) forbade it.” He said: “O 'Amr, I help them by taking their land and cultivating it, and giving them something in return, and Mu`adh bin Jabal allowed people here to do that. The most knowledgeable of them - meaning Ibn`Abbas - told me that the Messenger of Allah (ﷺ) did not forbid it, rather he said: 'For one you to give (land) to his brother is better than if he were to take a set amount in rent for it.'”
عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ میں نے طاؤس سے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! کاش آپ اس بٹائی کو چھوڑ دیتے، اس لیے کہ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، تو وہ بولے: عمرو! میں ان کی مدد کرتا ہوں، اور ان کو ( زمین بٹائی پر ) دیتا ہوں، اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے ہماری موجودگی میں لوگوں سے ایسا معاملہ کیا ہے، اور ان کے سب سے بڑے عالم یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے بتایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع نہیں کیا، بلکہ یوں فرمایا: اگر تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو یوں ہی بغیر کرایہ کے دیدے، تو وہ اس سے بہتر ہے کہ زمین کا ایک معین کرایہ لے ۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَوْ كُنْتُ رَاجِمًا أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ لَرَجَمْتُ فُلاَنَةَ فَقَدْ ظَهَرَ فِيهَا الرِّيبَةُ فِي مَنْطِقِهَا وَهَيْئَتِهَا وَمَنْ يَدْخُلُ عَلَيْهَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn`Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“If I were to stone anyone without proof, I would have stoned so-and-so, for there is obviously doubt concerning her speech, her appearance and those who enter upon her.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں گواہوں کے بغیر کسی کو رجم کرتا تو فلاں عورت کو کرتا، اس لیے کہ اس کی بات چیت سے اس کی شکل و صورت سے اور جو لوگ اس کے پاس آتے ہیں اس سے اس کا فاحشہ ہونا ظاہر ہو چکا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ نَشَدَ النَّاسَ قَضَاءَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي ذَلِكَ يَعْنِي فِي الْجَنِينِ فَقَامَ حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ فَقَالَ كُنْتُ بَيْنَ امْرَأَتَيْنِ لِي فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِمِسْطَحٍ فَقَتَلَتْهَا وَقَتَلَتْ جَنِينَهَا فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْجَنِينِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ وَأَنْ تُقْتَلَ بِهَا ‏.‏
It was narrated from 'Umar bin Khattab that :he asked the people about the ruling of the Prophet (ﷺ) concerning that - concerning a fetus. Hamal bin Malik bin Nabighah stood up and said: “I was between my two wives and one of them struck the other with a tent-pole, killing her and a fetus. The Messenger of Allah (ﷺ) ruled that the blood money for the fetus was a slave, and that she would be killed in retaliation.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے جنین ( پیٹ کے بچے ) کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان تلاش کیا، تو حمل بن مالک رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا: میری دو بیویاں تھیں، ان میں سے ایک نے دوسری کو خیمے کی لکڑی سے مارا جس سے وہ اور اس کے پیٹ میں جو بچہ تھا دونوں مر گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنین ( پیٹ کے بچہ ) میں ایک غلام یا ایک لونڈی دینے کا، اور عورت کو عورت کے قصاص میں قتل کا فیصلہ فرمایا ۱؎۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ إِنَّمَا كُنَّا نَحْفَظُ الْحَدِيثَ وَالْحَدِيثُ يُحْفَظُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَأَمَّا إِذَا رَكِبْتُمُ الصَّعْبَ وَالذَّلُولَ فَهَيْهَاتَ ‏.‏
It was narrated from Ibn Tawus that his father said:"I heard Ibn 'Abbas saying: 'We used to memorize Ahadith, and Ahadith were memorized from the Messenger of Allah (ﷺ). But if you go to the extremes of either exaggeration or negligence (in narrating Ahadith), there is no way we can trust your Ahadith
طاؤس کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا: ہم تو بس حدیثیں یاد کرتے تھے اور حدیث رسول تو یاد کی ہی جاتی ہے، لیکن جب تم مشکل اور آسان راستوں پر چلنے لگے تو ہم نے دوری اختیار کر لی ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ عَاهَرَ أَمَةً أَوْ حُرَّةً فَوَلَدُهُ وَلَدُ زِنًا لاَ يَرِثُ وَلاَ يُورَثُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from ‘Amr bin Shu’aib, from his father, from his grandfather that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever commits adultery with a slave woman or a free woman, his child is illegitimate, and he cannot inherit from him or be inherited from (i.e., this child cannot inherit from him).”
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کسی لونڈی یا آزاد عورت سے زنا کیا، پھر اس سے بچہ پیدا ہوا تو وہ ولدالزنا ہے، نہ وہ مرد اس بچے کا وارث ہو گا، نہ وہ بچہ اس مرد کا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، كُلُّهُمْ عَنْ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلاَّ يَوْمٌ لَطَوَّلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى يَمْلِكَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يَمْلِكُ جَبَلَ الدَّيْلَمِ وَالْقُسْطَنْطِينِيَّةَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Even if there was only one day left of this world, Allah would make it last until a man from my household took possession of (the mountain of) Dailam and Constantinople.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر دنیا کی عمر کا صرف ایک دن باقی رہا تو اللہ تعالیٰ اس دن کو اتنا لمبا کر دے گا کہ میرے خاندان کے ایک فرد کی حکومت قائم ہو، اور پھر وہ دیلم پہاڑ اور شہر قسطنطنیہ پر قابض ہو جائے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي حُصَيْنُ بْنُ عَوْفٍ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي أَدْرَكَهُ الْحَجُّ وَلاَ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَحُجَّ إِلاَّ مُعْتَرِضًا ‏.‏ فَصَمَتَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ حُجَّ عَنْ أَبِيكَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:Husain bin ‘Awf told me: I said: “O Messenger of Allah, the command for Hajj has come but my father cannot perform Hajj unless he is tied to a saddle.” Some time passed, then he said: “Perform Hajj on behalf of your father.”
حصین بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد پر حج فرض ہو گیا ہے لیکن وہ حج کرنے کی سکت نہیں رکھتے، مگر اس طرح کہ ا نہیں کجاوے کے ساتھ رسی سے باندھ دیا جائے؟ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر خاموش رہے پھر فرمایا: تم اپنے والد کی طرف سے حج کرو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ عَشْرٌ مِنَ الْفِطْرَةِ قَصُّ الشَّارِبِ وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ وَالسِّوَاكُ وَالاِسْتِنْشَاقُ بِالْمَاءِ وَقَصُّ الأَظْفَارِ وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ وَنَتْفُ الإِبِطِ وَحَلْقُ الْعَانَةِ وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي الاِسْتِنْجَاءَ ‏.‏ قَالَ زَكَرِيَّا قَالَ مُصْعَبٌ وَنَسِيتُ الْعَاشِرَةَ إِلاَّ أَنْ تَكُونَ الْمَضْمَضَةَ ‏.‏
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah said: 'Ten things are connected to the Fitrah: trimming the mustache, letting the beard grow, using the tooth stick, rinsing out the nostrils with water, clipping the nails, washing the joints, plucking the armpit hairs, shaving the pubic hairs, washing the private parts with water.'"(One of the narrators) Zakariyya said: "Mus'ab said: 'I have forgotten the tenth thing, but it may have been rinsing out the mouth
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دس چیزیں فطرت میں سے ہیں: مونچھوں کے بال تراشنا، داڑھی بڑھانا، مسواک کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، ناخن تراشنا، انگلیوں کے جوڑوں کو دھونا، بغل کے بال اکھیڑنا، موئے زیر ناف صاف کرنا، اور پانی سے استنجاء کرنا ۔ زکریا نے کہا کہ مصعب کہتے ہیں: میں دسویں چیز بھول گیا، ہو سکتا ہے وہ کلی کرنا ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ أَبُو بَكْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَرَظَةَ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ ابْتَعْنَا كَبْشًا نُضَحِّي بِهِ فَأَصَابَ الذِّئْبُ مِنْ أَلْيَتِهِ أَوْ أُذُنِهِ فَسَأَلْنَا النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَأَمَرَنَا أَنْ نُضَحِّيَ بِهِ ‏.‏
It was narrated that Abu Sa’eed Al-Khudri said:“We bought a ram for sacrifice, then a wolf tore some flesh from its rump and ears. We asked the Prophet (ﷺ) and he told us to offer it as a sacrifice.”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے قربانی کے لیے ایک مینڈھا خریدا، پھر بھیڑئیے نے اس کے سرین یا کان کو زخمی کر دیا، ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اس سلسلے میں ) سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسی کی قربانی کریں۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ يُقْتَلَ شَىْءٌ مِنَ الدَّوَابِّ صَبْرًا ‏.‏
Jabir bin ‘Abdullah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade killing any animal when it is tied up (for use as a target).”
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جانور کو باندھ کر تیر مارنے سے منع فرمایا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّ قَرِيبًا، لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ خَذَفَ فَنَهَاهُ وَقَالَ إِنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَهَى عَنِ الْخَذْفِ وَقَالَ ‏ "‏ إِنَّهَا لاَ تَصِيدُ صَيْدًا وَلاَ تَنْكَأُ عَدُوًّا وَلَكِنَّهَا تَكْسِرُ السِّنَّ وَتَفْقَأُ الْعَيْنَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَعَادَ ‏.‏ فَقَالَ أُحَدِّثُكَ أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَهَى عَنْهُ ثُمَّ عُدْتَ لاَ أُكَلِّمُكَ أَبَدًا ‏.‏
It was narrated from Sa’eed bin Jubair that a relative of ‘Abdullah bin Mughaffal threw some small pebbles. He told him not to do that and said:“The Prophet (ﷺ) forbade throwing small pebbles and said: ‘They do not kill any game nor hurt the enemy, but they can break a tooth or put out an eye.’” He did it again, and he (‘Abdullah) said: “I tell you that the Prophet (ﷺ) forbade that and then you go and do it again? I will never speak to you again.”
سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کے ایک رشتہ دار نے کنکری ماری، تو انہوں نے اسے منع کیا اور کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکری مارنے سے منع فرمایا ہے، اور فرمایا ہے: نہ اس ( کنکری مارنے ) سے شکار ہوتا ہے، اور نہ یہ دشمن کو زخمی کرتی ہے، ہاں البتہ اس سے دانت ٹوٹ جاتا ہے، اور آنکھ پھوٹ جاتی ہے ، اس شخص نے پھر کنکری ماری تو عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تم سے حدیث بیان کر رہا ہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، اور تم پھر وہی کام کر رہے ہو، اب میں تم سے کبھی بھی بات چیت نہیں کروں گا ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِذَا وُضِعَ الطَّعَامُ فَخُذُوا مِنْ حَافَتِهِ وَذَرُوا وَسَطَهُ فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ فِي وَسَطِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“When food is served, take from the sides and leave the middle, for the blessing descends in the middle.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کھانا رکھ دیا جائے تو اس کے کنارے سے لو، اور درمیان کو چھوڑ دو، اس لیے کہ برکت اس کے درمیان میں نازل ہوتی ہے ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏ "‏ لاَ تَجْمَعُوا بَيْنَ الرُّطَبِ وَالزَّهْوِ وَلاَ بَيْنَ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ وَانْبِذُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى حِدَتِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from ‘Abdullah bin Abu Qatadah, from his father, that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) say:“Do not combine fresh dates and unripe dates, or raisins and dates; rather make Nabidh with each one of them on its own.”
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: تر اور کچی کھجوروں کو نہ ملاؤ، اور نہ ہی انگور اور کھجور کو، بلکہ ان میں سے ہر ایک کا الگ الگ نبیذ بناؤ ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، قَالَتْ دَخَلْتُ بِابْنٍ لِي عَلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَقَدْ أَعْلَقْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ فَقَالَ ‏ "‏ عَلاَمَ تَدْغَرْنَ أَوْلاَدَكُنَّ بِهَذَا الْعِلاَقِ عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ يُسْعَطُ بِهِ مِنَ الْعُذْرَةِ وَيُلَدُّ بِهِ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ ‏"‏ ‏.‏ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِنَحْوِهِ ‏.‏ قَالَ يُونُسُ أَعْلَقْتُ يَعْنِي غَمَزْتُ ‏.‏
It was narrated that Umm Qais bint Mihsan said:“I brought a son of mine to the Prophet (ﷺ), and I had pressed on an area of his throat due to tonsillitis. He said: ‘Why do you poke your children with this pressing?’ You should use this aloeswood, for in it there are seven cures. It should be inhaled for pustules in the throat, and given in the side of the mouth for pleurisy.” (Another chain) from Umm Qais bint Mihsan, from the Prophet (ﷺ) with similar wording
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اپنے بچے کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اور اس سے پہلے میں نے «عذرہ» ۱؎ ( ورم حلق ) کی شکایت سے اس کا حلق دبایا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: آخر کیوں تم لوگ اپنے بچوں کے حلق دباتی ہو؟ تم یہ عود ہندی اپنے لیے لازم کر لو، اس لیے کہ اس میں سات بیماریوں کا علاج ہے، اگر «عذرہ» ۱؎ ( ورم حلق ) کی شکایت ہو تو اس کو ناک ٹپکایا جائے، اور اگر «ذات الجنب» ۲؎ ( نمونیہ ) کی شکایت ہو تو اسے منہ سے پلایا جائے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ الإِسْبَالُ فِي الإِزَارِ وَالْقَمِيصِ وَالْعِمَامَةِ مَنْ جَرَّ شَيْئًا خُيَلاَءَ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ مَا أَغْرَبَهُ ‏.‏
It was narrated from Salim, from his father, that the Prophet (ﷺ) said:“Hanging down may apply to the waist wrap, shirt or turban. Whoever lets any of these drag out of pride, Allah will not look at him on the Day of Resurrection.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اسبال»: تہبند، کرتے ( قمیص ) اور عمامہ ( پگڑی ) میں ہوتا ہے جو اسے محض تکبر اور غرور کے سبب گھسیٹے تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی طرف قیامت کے روز نہیں دیکھے گا ۱؎۔ ابوبکر بن ابی شیبہ کہتے ہیں کہ یہ کتنی غریب روایت ہے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ وَاصِلٍ، مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ عُرِضَتْ عَلَىَّ أُمَّتِي بِأَعْمَالِهَا حَسَنِهَا وَسَيِّئِهَا فَرَأَيْتُ فِي مَحَاسِنِ أَعْمَالِهَا الأَذَى يُنَحَّى عَنِ الطَّرِيقِ وَرَأَيْتُ فِي سَيِّئِ أَعْمَالِهَا النُّخَاعَةَ فِي الْمَسْجِدِ لاَ تُدْفَنُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Dharr that the Prophet(ﷺ) said:"My nation was shown to me with their good deeds and bad deeds. Among their good deeds I saw a harmful thing being removed from the road. And among their bad deeds I saw sputum in the mosque that had not been removed
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے اچھے اور برے اعمال میرے سامنے پیش کیے گئے، تو میں نے ان میں سب سے بہتر عمل راستے سے تکلیف دہ چیز کے ہٹانے، اور سب سے برا عمل مسجد میں تھوکنے، اور اس پر مٹی نہ ڈالنے کو پایا ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏"‏ يُسْتَجَابُ لأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يَعْجَلْ ‏"‏ ‏.‏ قِيلَ وَكَيْفَ يَعْجَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ يَقُولُ قَدْ دَعَوْتُ اللَّهَ فَلَمْ يَسْتَجِبِ اللَّهُ لِي ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that :the Messenger of Allah (saas) said: "It is necessary that you do not become hasty." It was said: "What does being hasty mean, O Messenger of Allah?" He said: "When one says: 'I supplicated to Allah but Allah did not answer me
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک کی دعا قبول ہوتی ہے، بشرطیکہ وہ جلدی نہ کرے ، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! جلدی کا کیا مطلب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ یوں کہتا ہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی لیکن اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول نہ کی ۱؎۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الصَّنْعَانِيُّ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كُنْتُ غُلاَمًا شَابًّا عَزَبًا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَكُنْتُ أَبِيتُ فِي الْمَسْجِدِ فَكَانَ مَنْ رَأَى مِنَّا رُؤْيَا يَقُصُّهَا عَلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقُلْتُ اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ لِي عِنْدَكَ خَيْرٌ فَأَرِنِي رُؤْيَا يُعَبِّرُهَا لِي النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏.‏ فَنِمْتُ فَرَأَيْتُ مَلَكَيْنِ أَتَيَانِي فَانْطَلَقَا بِي فَلَقِيَهُمَا مَلَكٌ آخَرُ فَقَالَ لَمْ تُرَعْ ‏.‏ فَانْطَلَقَا بِي إِلَى النَّارِ فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَىِّ الْبِئْرِ وَإِذَا فِيهَا نَاسٌ قَدْ عَرَفْتُ بَعْضَهُمْ فَأَخَذُوا بِي ذَاتَ الْيَمِينِ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِحَفْصَةَ فَزَعَمَتْ حَفْصَةُ أَنَّهَا قَصَّتْهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ صَالِحٌ لَوْ كَانَ يُكْثِرُ الصَّلاَةَ مِنَ اللَّيْلِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُكْثِرُ الصَّلاَةَ مِنَ اللَّيْلِ ‏.‏
It was narrated that Ibn ‘Umar said:“I was a young unmarried man at the time of the Messenger of Allah (ﷺ), and I used to stay overnight in the mosque. If any of us had seen a dream, he would tell it to the Prophet (ﷺ). I said: ‘O Allah, if there is any good in me before You, show me a dream that the Prophet (ﷺ) can interpret for me.’ So I went to sleep and I saw two angels who came to me and took me away. They were met by another angel who said: ‘Do not be alarmed,’ and they took me to Hell which was built like a well. In it were people, some of whom I recognized. Then they took me off to the right. In the morning I mentioned that to Hafsah, and Hafsah said that she told the Messenger of Allah (ﷺ) about it, and he said: ‘Abdullah is a righteous man, if only he would pray more at night.’”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک نوجوان غیر شادی شدہ لڑکا تھا، اور رات میں مسجد میں سویا کرتا تھا، اور ہم میں سے جو شخص بھی خواب دیکھتا وہ اس کی تعبیر آپ سے پوچھا کرتا، میں نے ( ایک دن دل میں ) کہا: اے اللہ! اگر میرے لیے تیرے پاس خیر ہے تو مجھے بھی ایک خواب دکھا جس کی تعبیر میرے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیان فرما دیں، پھر میں سویا تو میں نے دو فرشتوں کو دیکھا کہ وہ میرے پاس آئے، اور مجھے لے کر چلے، ( راستے میں ) ان دونوں کو ایک اور فرشتہ ملا اور اس نے کہا: تم خوفزدہ نہ ہو، بالآخر وہ دونوں فرشتے مجھ کو جہنم کی طرف لے گئے، میں نے اسے ایک کنویں کی طرح گھرا ہوا پایا، ( اور میں نے اس میں اوپر نیچے بہت سے درجے دیکھے ) اور مجھے بہت سے جانے پہچانے لوگ بھی نظر آئے، اس کے بعد وہ فرشتے مجھے دائیں طرف لے کر چلے، پھر صبح ہوئی تو میں نے یہ خواب حفصہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا، حفصہ رضی اللہ عنہا کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ خواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ ایک نیک آدمی ہے، اگر وہ رات کو نماز زیادہ پڑھا کرے ۔ راوی کہتے ہیں اس کے بعد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رات کو نماز زیادہ پڑھنے لگے۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ الْجَرْمِيِّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ، مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ زُوِيَتْ لِيَ الأَرْضُ حَتَّى رَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا وَأُعْطِيتُ الْكَنْزَيْنِ الأَصْفَرَ - أَوِ الأَحْمَرَ - وَالأَبْيَضَ - يَعْنِي الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ - وَقِيلَ لِي إِنَّ مُلْكَكَ إِلَى حَيْثُ زُوِيَ لَكَ وَإِنِّي سَأَلْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ثَلاَثًا أَنْ لاَ يُسَلِّطَ عَلَى أُمَّتِي جُوعًا فَيُهْلِكَهُمْ بِهِ عَامَّةً وَأَنْ لاَ يَلْبِسَهُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَهُمْ بَأْسَ بَعْضٍ وَإِنَّهُ قِيلَ لِي إِذَا قَضَيْتُ قَضَاءً فَلاَ مَرَدَّ لَهُ وَإِنِّي لَنْ أُسَلِّطَ عَلَى أُمَّتِكَ جُوعًا فَيُهْلِكَهُمْ فِيهِ وَلَنْ أَجْمَعَ عَلَيْهِمْ مَنْ بَيْنَ أَقْطَارِهَا حَتَّى يُفْنِيَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا وَيَقْتُلَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا ‏.‏ وَإِذَا وُضِعَ السَّيْفُ فِي أُمَّتِي فَلَنْ يُرْفَعَ عَنْهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَإِنَّ مِمَّا أَتَخَوَّفُ عَلَى أُمَّتِي أَئِمَّةً مُضِلِّينَ وَسَتَعْبُدُ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي الأَوْثَانَ وَسَتَلْحَقُ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي بِالْمُشْرِكِيِنَ وَإِنَّ بَيْنَ يَدَىِ السَّاعَةِ دَجَّالِينَ كَذَّابِينَ قَرِيبًا مِنْ ثَلاَثِينَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ وَلَنْ تَزَالَ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ مَنْصُورِينَ لاَ يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو الْحَسَنِ لَمَّا فَرَغَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ مَا أَهْوَلَهُ ‏.‏
It was narrated from Thawban, the freed slave of the Messenger of Allah (ﷺ), that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The earth was brought together for me so that I could see the east and the west, and I was given two treasures, the yellow (or the red) and the white – meaning gold and silver. And it was said to me: ‘Your dominion will extend as far as has been shown to you.’ I asked Allah for three things: That my nation would not be overwhelmed by famine that would destroy them all, and that they would not be rent by schism and fight one another, but it was said to me: ‘When I (Allah) issue My decree it cannot be revoked. But I will never cause your nation to be overwhelmed by famine that would destroy them all, and I will not gather their enemies against them (and destroy them) until they annihilate one another and kill one another.’ Once they start to fight amongst themselves, that will continue until the Day of Resurrection. What I fear most for my nation is misguiding leaders. Some tribes among my nation will worship idols and some tribes among my nation will join the idolaters. Before the Hour comes there will be nearly thirty Dajjals (great liars), each of them claiming to be a Prophet. But a group among my nation will continue to adhere to the truth and be victorious, and those who oppose them will not harm them, until the command of Allah comes to pass.’”
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے زمین سمیٹ دی گئی حتیٰ کہ میں نے اس کے مشرق اور مغرب کو دیکھ لیا، پھر اس کے دونوں خزانے زرد یا سرخ اور سفید ( یعنی سونا اور چاندی بھی ) مجھے دئیے گئے ۱؎ اور مجھ سے کہا گیا کہ تمہاری ( امت کی ) حکومت وہاں تک ہو گی جہاں تک زمین تمہارے لیے سمیٹی گئی ہے، اور میں نے اللہ تعالیٰ سے تین باتوں کا سوال کیا: پہلی یہ کہ میری امت قحط ( سوکھے ) میں مبتلا ہو کر پوری کی پوری ہلاک نہ ہو، دوسری یہ کہ انہیں ٹکڑے ٹکڑے نہ کر، تیسری یہ کہ آپس میں ایک کو دوسرے سے نہ لڑا، تو مجھ سے کہا گیا کہ میں جب کوئی حکم نافذ کر دیتا ہوں تو وہ واپس نہیں ہو سکتا، بیشک میں تمہاری امت کو قحط سے ہلاک نہ کروں گا، اور میں زمین کے تمام کناروں سے سارے مخالفین کو ( ایک وقت میں ) ان پر جمع نہ کروں گا جب تک کہ وہ خود آپس میں اختلاف و لڑائی اور ایک دوسرے کو مٹانے اور قتل نہ کرنے لگیں، لیکن جب میری امت میں تلوار چل پڑے گی تو وہ قیامت تک نہ رکے گی، مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ خوف گمراہ سربراہوں کا ہے، عنقریب میری امت کے بعض قبائل بتوں کی پرستش کریں گے، اور عنقریب میری امت کے بعض قبیلے مشرکوں سے مل جائیں گے، اور قیامت کے قریب تقریباً تیس جھوٹے دجال پیدا ہوں گے جن میں سے ہر ایک کا دعویٰ یہ ہو گا کہ وہ اللہ کا نبی ہے، اور میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا، اور ہمیشہ ان کی مدد ہوتی رہے گی، اور جو کوئی ان کا مخالف ہو گا وہ ان کو کوئی ضرور نقصان نہیں پہنچا سکے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آ جائے ۲؎۔ ابوالحسن ابن القطان کہتے ہیں: جب ابوعبداللہ ( یعنی امام ابن ماجہ ) اس حدیث کو بیان کر کے فارغ ہوئے تو فرمایا: یہ حدیث کتنی ہولناک ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ أَبِي الْمُبَارَكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ أَحِبُّوا الْمَسَاكِينَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ ‏ "‏ اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مِسْكِينًا وَأَمِتْنِي مِسْكِينًا وَاحْشُرْنِي فِي زُمْرَةِ الْمَسَاكِينِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Sa’eed Al-Khudri said:“Love the poor, for I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say in his supplication: ‘O Allah, cause me to live poor and cause me to die poor, and gather me among the poor (on the Day of Resurrection).’”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مسکینوں اور فقیروں سے محبت کرو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی دعا میں کہتے ہوئے سنا ہے: «اللهم أحيني مسكينا وأمتني مسكينا واحشرني في زمرة المساكين» اے اللہ مجھے مسکینی کی حالت میں زندہ رکھ، مسکین بنا کر فوت کر، اور میرا حشر مسکینوں کے زمرے میں کر ۔
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى اللَّيْثِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ صَلاَةَ الْمَغْرِبِ ثُمَّ لَمْ يَخْرُجْ حَتَّى ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ فَخَرَجَ فَصَلَّى بِهِمْ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَنَامُوا وَأَنْتُمْ لَمْ تَزَالُوا فِي صَلاَةٍ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلاَةَ وَلَوْلاَ الضَّعِيفُ وَالسَّقِيمُ أَحْبَبْتُ أَنْ أُؤَخِّرَ هَذِهِ الصَّلاَةَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Sa'eed said:"The Messenger of Allah led us for the Maghrib prayer. Then he did not come out until half the night had passed. Then he came out and led them in prayer, then he said: "The people have prayed and gone to sleep, but you are still in a state of prayer so long as you are waiting for the (next) prayer. Were it not for the weak and the sick, I wanted to delay this prayer until the middle of the night
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی، پھر آدھی رات تک ( حجرہ سے ) باہر نہ آئے، پھر نکلے اور لوگوں کو عشاء کی نماز پڑھائی اور فرمایا: اور لوگ نماز پڑھ کر سو گئے، اور تم برابر نماز ہی میں رہے جب تک نماز کا انتظار کرتے رہے، اگر مجھے کمزوروں اور بیماروں کا خیال نہ ہوتا تو میں اس نماز کو آدھی رات تک مؤخر کرنا پسند کرتا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ، عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنِي مَعْمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، مَوْلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ حَدَّثَنِي أَبِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ رَأَيْتُ بِلاَلاً يُؤَذِّنُ بَيْنَ يَدَىْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مَثْنَى مَثْنَى وَيُقِيمُ وَاحِدَةً ‏.‏
It was narrated that Abu Rafi' said:"I saw Bilal calling the Adhan in fron of Allah's Messenger, (saying the phrases) two by two, and saying each phrase once in the Iqamah
ابورافع کہتے ہیں کہ میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اذان دیتے دیکھا، وہ اذان کے کلمات دو دو بار کہہ رہے تھے، اور اقامت کے کلمات ایک ایک بار ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ أَبُو مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي، سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَأَى نُخَامَةً فِي جِدَارِ الْمَسْجِدِ فَتَنَاوَلَ حَصَاةً فَحَكَّهَا ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ إِذَا تَنَخَّمَ أَحَدُكُمْ فَلاَ يَتَنَخَّمَنَّ قِبَلَ وَجْهِهِ وَلاَ عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَبْزُقْ عَنْ شِمَالِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى ‏"‏ ‏.‏
It is narrated from Abu Hurairah and Abu Sa'eed Al-Khudri that:The Messenger of Allah saw some sputum on the wall of the mosque. He picked up a stone and scraped it off, then he said, "If anyone of you needs to spit, he should not spit in fro not of him or to his right; let him spit to his right; let him spit to his left or under his left foot
ابوہریرہ اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی دیوار پر رینٹ دیکھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کنکری لے کر اسے کھرچ ڈالا، پھر فرمایا: جب کوئی شخص تھوکنا چاہے تو اپنے سامنے اور اپنے دائیں ہرگز نہ تھوکے، بلکہ اپنے بائیں جانب یا بائیں پاؤں کے نیچے تھوکے ۱؎۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلاَلٍ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقْرَأُ بِنَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ مِنْ صَلاَةِ الظُّهْرِ وَيُسْمِعُنَا الآيَةَ أَحْيَانًا ‏.‏
It was narrated from ‘Abdullah bin Abu Qatadah that his father said:“The Messenger of Allah (ﷺ) used to recite when leading us in the first two Rak’ah of the Zuhr prayer, and sometimes he would recite such that we could hear the Verse.”
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی دونوں رکعتوں میں ( سری ) قراءت فرماتے تھے، اور کبھی کبھی ہمیں کوئی آیت سنا دیا کرتے تھے ا؎۔