حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ سَلَمَةَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، وَطَاوُسٍ، أَخْبَرُوهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فِي السَّفَرِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُعْجِلَهُ شَىْءٌ وَلاَ يَطْلُبَهُ عَدُوٌّ وَلاَ يَخَافَ شَيْئًا .
It was narrated from Mujahid, Sa’eed bin Jubair, ‘Ata’ bin Abi Rabah and Tawus that Ibn ‘Abbas told them that the Messenger of Allah (ﷺ) used to combine the Maghrib and ‘Isha’ when traveling, although there was nothing to make him hurry and no enemy pursuing him, and he was not afraid of anything
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب اور عشاء کی نماز کو سفر میں جمع کرتے تھے، نہ تو آپ کو کسی چیز کی عجلت ہوتی، نہ کوئی دشمن آپ کا پیچھا کئے ہوئے ہوتا، اور نہ آپ کو کسی چیز کا خوف ہی ہوتا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ امْرَأَةٍ، مِنْ بَنِي عَبْدِ الأَشْهَلِ قَالَتْ سَأَلْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقُلْتُ إِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَ الْمَسْجِدِ طَرِيقًا قَذِرَةً . قَالَ " فَبَعْدَهَا طَرِيقٌ أَنْظَفُ مِنْهَا " . قُلْتُ نَعَمْ . قَالَ " فَهَذِهِ بِهَذِهِ " .
It was narrated that a woman from (the tribe of) Banu 'Abdul-Ashhal said:"I said to the prophet: 'Between the mosque and I there is a filthy path.' He said: 'After that is there a cleaner path?' I said: 'Yes.' He said: 'This is (a remedy) for that
قبیلہ بنو عبدالاشہل کی ایک عورت رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: میرے اور مسجد کے مابین ایک گندا راستہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اس کے بعد اس سے صاف راستہ ہے ، میں نے کہا: ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو یہ اس کے بدلے ہے ۔