بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Ibn Majah
5
3 hadith
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ سَأَلْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قُلْتُ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلاَةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا وَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ فَقَالَ عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ ‏ "‏ صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ، فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Ya’la bin Umayyah said:“I asked ‘Umar bin Khattab: ‘Allah says: “And when you travel in the land, there is no sin on you if you shorten the prayer if you fear that the disbelievers may put you in trial (attack you), verily, the disbelievers are ever to you open enemies,” [4:101] but now there is security and people are safe.’ He said: ‘I found it strange just as you do, so I asked the Messenger of Allah (ﷺ) about that, and he said: “It is charity that Allah has bestowed upon you, so accept His charity.”
یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سوال کیا، میں نے کہا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «ليس عليكم جناح أن تقصروا من الصلاة إن خفتم أن يفتنكم الذين كفروا» نماز قصر کرنے میں تمہارے اوپر کوئی گناہ نہیں اگر کافروں کی فتنہ انگیزیوں کا ڈر ہو ( سورۃ النساء: ۱۰۱ ) ، اب اس وقت تو لوگ مامون ( امن و امان میں ) ہو گئے ہیں؟ انہوں نے کہا: جس بات پر تمہیں تعجب ہوا مجھے بھی اسی پر تعجب ہوا تھا، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ صدقہ ہے، جو اللہ تعالیٰ نے تم پر کیا ہے، لہٰذا تم اس کے صدقہ کو قبول کرو ۱؎۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلاَنِيُّ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ تَمِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِذَا لَعَنَ آخِرُ هَذِهِ الأُمَّةِ أَوَّلَهَا فَمَنْ كَتَمَ حَدِيثًا فَقَدْ كَتَمَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Jabir said:"The Messenger of Allah said: 'When the last people of this Ummah curse the first, (at that time) whoever conceals a Hadith will be concealing what Allah has revealed.'" (Maudu)
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اس امت کے خلف ( بعد والے ) اپنے سلف ( پہلے والوں ) کو برا بھلا کہنے لگیں، تو جس شخص نے اس وقت ایک حدیث بھی چھپائی اس نے اللہ کا نازل کردہ فرمان چھپایا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ جَالِسٌ فَقَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلِمُحَمَّدٍ وَلاَ تَغْفِرْ لأَحَدٍ مَعَنَا ‏.‏ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَقَالَ ‏"‏ لَقَدِ احْتَظَرْتَ وَاسِعًا ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ وَلَّى حَتَّى إِذَا كَانَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَشَجَ يَبُولُ ‏.‏ فَقَالَ الأَعْرَابِيُّ بَعْدَ أَنْ فَقِهَ فَقَامَ إِلَىَّ بِأَبِي وَأُمِّي ‏.‏ فَلَمْ يُؤَنِّبْ وَلَمْ يَسُبَّ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ هَذَا الْمَسْجِدَ لاَ يُبَالُ فِيهِ وَإِنَّمَا بُنِيَ لِذِكْرِ اللَّهِ وَلِلصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ أَمَرَ بِسَجْلٍ مِنَ مَاءٍ فَأُفْرِغَ عَلَى بَوْلِهِ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"A Bedouin entered the mosque when the Messenger of Allah was sitting there, and (the man) said: 'O Allah, forgive me and Muhammed, and do not forgive anyone else with us.' The Messenger of Allah smiled and said: 'You have placed restrictions on something that is vast.' Then the Bedouin turned away, went to a corner of the mosque, spread his legs and began to urinate. After he had a better understanding, the Bedouin said: 'He got up and came to me, and may my father and mother be ransomed for him, he did not rebuke me nor revile me. He said: "This mosque is not for urinating in. Rather it is built for the remembrance of Allah and prayer.'" Then he called for a large vessel of water and poured it over the place where he had urinated
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی ( دیہاتی ) مسجد میں داخل ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، اس نے کہا: اے اللہ! میری اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مغفرت فرما دے، اور ہمارے ساتھ کسی اور کی مغفرت نہ کر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: تم نے ایک کشادہ چیز ( یعنی اللہ کی مغفرت ) کو تنگ کر دیا ، پھر وہ دیہاتی پیٹھ پھیر کر چلا، اور جب مسجد کے ایک گوشہ میں پہنچا تو ٹانگیں پھیلا کر پیشاب کرنے لگا، پھر دین کی سمجھ آ جانے کے بعد ( یہ قصہ بیان کر کے ) دیہاتی نے کہا: میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں، مجھے نہ تو آپ نے ڈانٹا، نہ برا بھلا کہا، صرف یہ فرمایا: یہ مسجد پیشاب کی جگہ نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کے ذکر اور نماز کے لیے بنائی گئی ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈول پانی لانے کا حکم دیا، تو وہ اس کے پیشاب پر بہا دیا گیا۔