حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، أَنْبَأَنَا يَزِيدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ صَلاَةُ السَّفَرِ رَكْعَتَانِ وَصَلاَةُ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَانِ وَالْفِطْرُ وَالأَضْحَى رَكْعَتَانِ تَمَامٌ غَيْرُ قَصْرٍ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ ـ صلى الله عليه وسلم ـ .
‘Umar said:“The prayer when traveling is two Rak’ah, and Friday is two Rak’ah, and Al-Fitr and Al-Adha are two Rak’ah, complete, not shortened, as told by Muhammad (ﷺ).”
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سفر کی نماز دو رکعت ہے، اور جمعہ کی نماز دو رکعت ہے، عید الفطر اور عید الاضحی کی دو دو رکعت ہے، بہ زبان محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ کامل ہیں ناقص نہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ، مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الأَعْرَجِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ وَاللَّهِ لَوْلاَ آيَتَانِ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى مَا حَدَّثْتُ عَنْهُ - يَعْنِي عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ - شَيْئًا أَبَدًا لَوْلاَ قَوْلُ اللَّهِ {إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ الْكِتَابِ} إِلَى آخِرِ الآيَتَيْنِ .
It was narrated that 'Abdur-Rahman bin Hurmuz Al-A'raj heard Abu Hurairah say:"By Allah, were it not for two Verses in the Book of Allah, I would never have narrated anything from him, meaning from the Prophet, were it not for the Words of Allah: Verily, those who conceal what Allah has sent down of the Book, and purchase a small gain therewith (of worldly things), they eat into their bellies nothing but fire. Allah will not speak to them on the Day of Resurrection, nor purify them, and theirs will be a painful torment. Those are they who have purchased error at the price of guidance, and torment at the price of forgiveness. So how bold they are (for evil deeds which will push them) to the Fire
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم! اگر قرآن کریم کی دو آیتیں نہ ہوتیں تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی بھی کوئی نہ حدیث بیان کرتا، اور دو آیتیں یہ ہیں: «إن الذين يكتمون ما أنزل الله من الكتاب» إلى آخر الآيتين بیشک جو لوگ اللہ کی اتاری ہوئی کتاب کو چھپاتے ہیں اور اس کے بدلہ میں معمولی قیمت لیتے ہیں، وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھر رہے ہیں، قیامت کے دن اللہ نہ تو ان سے بات کرے گا اور نہ ہی ان کو معاف کرے گا، اور ان کو سخت عذاب پہنچے گا، یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے گمراہی کو ہدایت کے بدلے خرید لیا اور عذاب کو مغفرت کے بدلے، پس وہ کیا ہی صبر کرنے والے ہیں جہنم پر ( سورة البقرة: 174-175 ) ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، بَالَ فِي الْمَسْجِدِ فَوَثَبَ إِلَيْهِ بَعْضُ الْقَوْمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ تُزْرِمُوهُ " . ثُمَّ دَعَا بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَصَبَّ عَلَيْهِ .
It was narrated from Anas bin Malik that:A Bedouin urinated in the mosque, and some of the people rushed at him. The Messenger of Allah said: "Do not interrupt him." Then he called for a bucket of water and poured it over (the urine)
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نے مسجد میں پیشاب کر دیا، تو کچھ لوگ اس کی جانب لپکے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا پیشاب نہ روکو اطمینان سے کر لینے دو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈول پانی منگایا، اور اس پر بہا دیا۔