حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ فَائِدٍ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنِ الْمَهْدِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُيَيْنَةَ بْنِ خَاطِرٍ، قَالَ حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي أُمُّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ سَجَدْتُ مَعَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِحْدَى عَشْرَةَ سَجْدَةً لَيْسَ فِيهَا مِنَ الْمُفَصَّلِ شَىْءٌ الأَعْرَافُ وَالرَّعْدُ وَالنَّحْلُ وَبَنِي إِسْرَائِيلَ وَمَرْيَمُ وَالْحَجُّ وَسَجْدَةُ الْفُرْقَانِ وَسُلَيْمَانُ سُورَةُ النَّمْلِ وَالسَّجْدَةُ وَفِي ص وَسَجْدَةُ الْحَوَامِيمِ .
It was narrated that Abu Darda’ said:“I performed eleven prostrations with the Prophet (ﷺ) of which there were none in the Mufassal. Al-A’raf, Ar-Ra’d, An-Nahl, Bani Isra’il, Maryam, Al-Hajj, the prostration in Al-Furqan, Surat An-Naml (mentioning) Sulaiman, As- Sajdah, Sad, and the Ha-Mim Surah.”
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گیارہ سجدے کئے، جن میں سے کوئی مفصل میں نہ تھا ( اور وہ گیارہ سجدے ان سورتوں میں تھے ) : اعراف، رعد، نحل، بنی اسرائیل، مریم، حج، فرقان، نمل، سورۃ السجدۃ، سورۃ ص اور سورۃ حم سجدہ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " لاَ تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ لِتُبَاهُوا بِهِ الْعُلَمَاءَ وَلاَ لِتُمَارُوا بِهِ السُّفَهَاءَ وَلاَ تَخَيَّرُوا بِهِ الْمَجَالِسَ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَالنَّارُ النَّارُ " .
It was narrated from Jabir bin 'Abdullah that:The Prophet said: "Do not seek knowledge in order to show off in front of the scholars, or to argue with the foolish, and do not choose the best seat in a gathering, due to it (i.e. the knowledge which you have learned) for whoever does that, the Fire, the Fire (awaits him)
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم علم کو علماء پر فخر کرنے یا کم عقلوں سے بحث و تکرار کے لیے نہ سیکھو، اور علم دین کو مجالس میں اچھے مقام کے حصول کا ذریعہ نہ بناؤ، جس نے ایسا کیا تو اس کے لیے جہنم ہے، جہنم ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ طَرِيفِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ انْتَهَيْنَا إِلَى غَدِيرٍ فَإِذَا فِيهِ جِيفَةُ حِمَارٍ . قَالَ فَكَفَفْنَا عَنْهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ " إِنَّ الْمَاءَ لاَ يُنَجِّسُهُ شَىْءٌ " . فَاسْتَقَيْنَا وَأَرْوَيْنَا وَحَمَلْنَا .
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said:"We came to a pond in which there was the carcass of a donkey, so we refrained from using the water until the Messenger of Allah came to us and said: 'Water is not made impure by anything.' Then we drank from it and gave it to our animals to drink, and we carried some with us
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم ایک تالاب پر پہنچے تو دیکھا کہ اس میں ایک گدھے کی لاش پڑی ہوئی ہے ہم اس ( کے استعمال ) سے رک گئے، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ( یہ سنا ) تو ہم نے پیا پلایا، اور پانی بھر کر لاد لیا۔