بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Ibn Majah
5
4 hadith
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي مُخَوَّلُ بْنُ رَاشِدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعْدٍ، - رَجُلاً مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ - يَقُولُ رَأَيْتُ أَبَا رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَأَى الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ وَهُوَ يُصَلِّي وَقَدْ عَقَصَ شَعْرَهُ فَأَطْلَقَهُ أَوْ نَهَى عَنْهُ وَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ وَهُوَ عَاقِصٌ شَعْرَهُ ‏.‏
Mukhawwal said:“I heard Abu Sa’d, a man from the people of Madinah, say: ‘I saw Abu Rafi’, the freed slave of the Messenger of Allah (ﷺ), when he saw Hasan bin ‘Ali performing prayer, with his hair braided. He undid it, or told him not to do that, and said: “The Messenger of Allah (ﷺ) forbade a man from performing prayer with his hair braided.”
مدینہ کے ایک باشندہ ابوسعد کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مولی ابورافع کو دیکھا کہ انہوں نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو اس حال میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ وہ اپنے بالوں کا جوڑا باندھے ہوئے تھے، ابورافع رضی اللہ عنہ نے اسے کھول دیا، یا اس ( جوڑا باندھنے ) سے منع کیا، اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ آدمی اپنے بالوں کو جوڑا باندھے ہوئے نماز پڑھے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ مَنْ عَلَّمَ عِلْمًا فَلَهُ أَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهِ لاَ يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الْعَامِلِ ‏"‏ ‏.‏
Sahl bin Mu'adh bin Anas narrated from his father that:The Prophet said: "Whoever teaches some knowledge will have the reward of the one who acts upon it, without that detracting from his reward in the slightest
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی کو علم دین سکھایا، تو اس کو اتنا ثواب ملے گا جتنا کہ اس شخص کو جو اس پر عمل کرے، اور عمل کرنے والے کے ثواب سے کوئی کمی نہ ہو گی ۱؎۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِنِّي لأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْهَا وَآخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولاً الْجَنَّةَ ‏.‏ رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ حَبْوًا فَيُقَالُ لَهُ اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ ‏.‏ فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلأَى فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ يَا رَبِّ وَجَدْتُهَا مَلأَى ‏.‏ فَيَقُولُ اللَّهُ اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ ‏.‏ فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلأَى فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ يَا رَبِّ وَجَدْتُهَا مَلأَى ‏.‏ فَيَقُولُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ ‏.‏ فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلأَى فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ يَا رَبِّ إِنَّهَا مَلأَى ‏.‏ فَيَقُولُ اللَّهُ اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ ‏.‏ فَإِنَّ لَكَ مِثْلَ الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا - أَوْ إِنَّ لَكَ مِثْلَ عَشَرَةِ أَمْثَالِ الدُّنْيَا - فَيَقُولُ أَتَسْخَرُ بِي - أَوْ أَتَضْحَكُ بِي - وَأَنْتَ الْمَلِكُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ‏.‏ فَكَانَ يُقَالُ هَذَا أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً ‏.‏
It was narrated from ‘Abdullah bin Mas’ud that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“I know the last of the people of Hell who will be brought forth from it, and the last of the people of Paradise to be admitted to Paradise. (It is) a man who will emerge from Hell crawling, and it will be said to him: ‘Go and enter Paradise.’ He will come to it and it will be made to appear to him as if it is full.’ Allah will say: ‘Go and enter Paradise.’ He will come to it and it will appear to him as if it is full. So he will say: ‘O Lord, I found it full.’ Allah will say: ‘Go and enter Paradise.’ He will come to it and it will be made to appear to him as if it is full. So he will say: ‘O Lord, I found it full.’ Allah will say: ‘Go and enter Paradise, for you will have the like of the world and ten times more, or you will have ten times the like of the world.’ He will say: ‘Are You mocking me, or are You laughing at me, when You are the Sovereign?’” He said: "And I saw the Messenger of Allah (ﷺ) smiling so broadly that his molar teeth could be seen." And he used to say: "This is the lowest of the people of Paradise in status
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں جانتا ہوں اس کو جو سب سے آخر میں جہنم سے نکلے گا، اور جنت میں سب سے آخر میں داخل ہو گا، وہ شخص جہنم سے گھسٹتا ہوا نکلے گا، اس سے کہا جائے گا: جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ وہ جنت تک آئے گا تو اس کو لگے گا کہ وہ بھری ہوئی ہے، وہ لوٹ جائے گا اس پر کہے گا: اے میرے رب! میں نے اس کو بھری ہوئی پایا، اللہ فرمائے گا: جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ، وہ جنت تک آئے گا تو اس کو بھری ہوئی سمجھ کر پھر واپس چلا جائے گا، لوٹ کر کہے گا: اے میرے رب! وہ تو بھری ہوئی ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ، تمہارے لیے دنیا اور اس کے مثل دس دنیاؤں کی جگہ ( جنت میں ) ہے، وہ کہے گا: کیا تو مجھ سے مذاق کر رہا ہے حالانکہ تو بادشاہ ہے؟، یہ حدیث بیان کرتے ہوئے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اتنا ہنسے کہ آپ کے اخیر کے دانت ظاہر ہو گئے، ( یعنی کھل کھلا کر ہنس پڑے ) کہا جاتا ہے کہ یہ شخص جنتیوں میں سب سے کم درجے والا ہو گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ كُنْتُ أَلْقَى مِنَ الْمَذْىِ شِدَّةً فَأُكْثِرُ مِنْهُ الاِغْتِسَالَ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّمَا يُجْزِيكَ مِنْ ذَلِكَ الْوُضُوءُ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ بِمَا يُصِيبُ ثَوْبِي قَالَ ‏"‏ إِنَّمَا يَكْفِيكَ كَفٌّ مِنْ مَاءٍ تَنْضِحُ بِهِ مِنْ ثَوْبِكَ حَيْثُ تَرَى أَنَّهُ أَصَابَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Sahl bin Hunaif said:"I used to suffer from a great deal of prostatic fluid, and I took many baths because of that. I asked the messenger of Allah about that, and he said: 'Ablution is sufficient for you in this case.' I said: 'O Messenger of Allah! What about the prostatic fluid that gets onto my clothes?' he said: 'it is sufficient for you to pour a handful of water on the part of your clothes wherever you see it has reached
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے شدت سے مذی آتی تھی جس کی وجہ سے میں کثرت سے غسل کیا کرتا تھا، چنانچہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: اس سے وضو کافی ہے ، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! جو کپڑے میں لگ جائے اس کا حکم کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایک چلو پانی لو، اور جہاں پہ دیکھو کہ مذی لگ گئی ہے وہاں پہ چھڑک دو، بس یہ تمہارے لیے کافی ہو گا ۱؎۔