حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ " .
It was narrated from Sahl bin Sa’d As-Sa’idi that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The Tasbih is for men and clapping is for women.”
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( نماز میں جب امام بھول جائے، تو اس کو یاد دلانے کے لیے ) مردوں کے لیے «سبحان الله» کہنا ہے، اور عورتوں کے لیے تالی بجانا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، - أَمْلاَهُ عَلَيْنَا - حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَنْ رَجُلٍ، آخَرَ هُوَ أَفْضَلُ فِي نَفْسِي مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ " لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ فَإِنَّهُ رُبَّ مُبَلَّغٍ يُبَلَّغُهُ أَوْعَى لَهُ مِنْ سَامِعٍ " .
It was narrated that Abu Bakrah said:"The Messenger of Allah delivered a religious speech on the Day of Sacrifice and said: 'Let those who are present convey to those who are absent. For perhaps the one to whom it is conveyed will understand it better than the one who (first) hears it
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر ( دسویں ذی الحجہ ) کو خطبہ دیا اور فرمایا: یہ باتیں حاضرین مجلس ان لوگوں تک پہنچا دیں جو موجود نہیں ہیں، اس لیے کہ بہت سے لوگ جنہیں کوئی بات پہنچائی جاتی ہے وہ سننے والے سے زیادہ اس بارے میں ہوشمند اور باشعور ہوتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَنْ أَرَادَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ بِسُوءٍ أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever wishes bad upon the people of Al-Madinah, Allah will cause him to melt as salt melts in water.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ والوں کو جو کوئی تکلیف پہنچانے کا ارادہ کرے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کو اس طرح گھلا دے گا جس طرح نمک پانی میں گھل جاتا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ الْمَعَافِرِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ كُرَيْبٍ، - مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ - قَالَ حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ذَاتَ يَوْمٍ لأَصْحَابِهِ " أَلاَ مُشَمِّرٌ لِلْجَنَّةِ فَإِنَّ الْجَنَّةَ لاَ خَطَرَ لَهَا هِيَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ نُورٌ يَتَلأْلأُ وَرَيْحَانَةٌ تَهْتَزُّ وَقَصْرٌ مَشِيدٌ وَنَهَرٌ مُطَّرِدٌ وَفَاكِهَةٌ كَثِيرَةٌ نَضِيجَةٌ وَزَوْجَةٌ حَسْنَاءُ جَمِيلَةٌ وَحُلَلٌ كَثِيرَةٌ فِي مَقَامٍ أَبَدًا فِي حَبْرَةٍ وَنَضْرَةٍ فِي دَارٍ عَالِيَةٍ سَلِيمَةٍ بَهِيَّةٍ " . قَالُوا نَحْنُ الْمُشَمِّرُونَ لَهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " قُولُوا إِنْ شَاءَ اللَّهُ " . ثُمَّ ذَكَرَ الْجِهَادَ وَحَضَّ عَلَيْهِ .
Usamah bin Zaid said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said one day to his Companions: ‘Who will strive hard with sincerity for Paradise? For there is nothing like Paradise. By the Lord of the Ka’bah, it is sparkling light, sweet basil waving in the breeze, a lofty palace, a flowing river, abundant ripe fruit, a beautiful wife and many fine garments, in a palace of eternal abode, in ease and luxury, in beautiful, strongly-built, lofty houses.’ They said: ‘We will strive heard for it, O Messenger of Allah.’ He said: ‘Say: In sha’ Allah (if Allah wills).’ Then he mentioned Jihad and encouraged them to engage in it.”
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن اپنے صحابہ سے فرمایا: کیا کوئی جنت کے لیے کمر نہیں باندھتا؟ اس لیے کہ جنت جیسی کوئی اور چیز نہیں ہے، رب کعبہ کی قسم، وہ چمکتا ہوا نور ہے، خوشبودار پھول ہے جو جھوم رہا ہے، مضبوط محل ہے، بہتی نہر ہے، وہاں بہت سارے پکے ہوئے میوے اور تیار پھل ہیں، خوبصورت اور خوش اخلاق بیویاں ہیں، کپڑوں کے بہت سارے جوڑے ہیں، ہمیشگی کا مقام ہے، جہاں سدا بہار اور تازگی ہے، اونچا، محفوظ اور روشن محل ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم اس کے لیے کمر باندھتے ہیں، تو آپ نے فرمایا: کہو، ان شاءاللہ، پھر جہاد کا ذکر کیا، اور اس کی رغبت دلائی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا شَرِبْتُمُ اللَّبَنَ فَمَضْمِضُوا فَإِنَّ لَهُ دَسَمًا " .
It was narrated that Umm Salamah, the wife of the Prophet, said:"The Messenger of Allah said: 'If you drink milk, then rinse your mouths, for there is some greasiness in it
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم دودھ پیو تو کلی کر لیا کرو کیونکہ اس میں چکناہٹ ہوتی ہے ۔