بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Ibn Majah
6
34 hadith
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، سُلَيْمَانُ بْنُ تَوْبَةَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الأَعْرَجِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِذَا حَضَرْتُمْ مَوْتَاكُمْ فَأَغْمِضُوا الْبَصَرَ فَإِنَّ الْبَصَرَ يَتْبَعُ الرُّوحَ وَقُولُوا خَيْرًا فَإِنَّ الْمَلاَئِكَةَ تُؤَمِّنُ عَلَى مَا قَالَ أَهْلُ الْبَيْتِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Shaddad bin Aws that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“When you come to your dead ones, close their eyes, for the sight follows the soul. And say good things, for the Angels say Amin to what the members of the household say.”
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اپنے مردوں کے پاس جاؤ تو ان کی آنکھیں بند کر دو، اس لیے کہ آنکھ روح کا پیچھا کرتی ہے، اور ( میت کے پاس ) اچھی بات کہو، کیونکہ فرشتے گھر والوں کی بات پر آمین کہتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي عُمَرَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ الْفِطْرُ يَوْمَ تُفْطِرُونَ وَالأَضْحَى يَوْمَ تُضَحُّونَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Al-Fitr is the day when you break your fast and Al-Adha is the day when you offer sacrifices.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عید الفطر وہ دن ہے جس میں تم لوگ روزہ توڑ دیتے ہو، اور عید الاضحی وہ دن ہے جس میں تم لوگ قربانی کرتے ہو ۱؎۔
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ أَقْرَأَنِي سَالِمٌ كِتَابًا كَتَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي الصَّدَقَاتِ قَبْلَ أَنْ يَتَوَفَّاهُ اللَّهُ فَوَجَدْتُ فِيهِ ‏"‏ فِي أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى مِائَتَيْنِ فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا ثَلاَثُ شِيَاهٍ إِلَى ثَلاَثِمِائَةٍ فَإِذَا كَثُرَتْ فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ ‏"‏ ‏.‏ وَوَجَدْتُ فِيهِ ‏"‏ لاَ يُجْمَعُ بَيْنَ مَتَفَرِّقٍ وَلاَ يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ ‏"‏ ‏.‏ وَوَجَدْتُ فِيهِ ‏"‏ لاَ يُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَةِ تَيْسٌ وَلاَ هَرِمَةٌ وَلاَ ذَاتُ عَوَارٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn Shihab, from Salim bin Abdullah, from his father, from the Messenger of Allah:Salim said: “My father read to me a letter that the Messenger of Allah (ﷺ) had written about Sadaqat before Allah caused him to pass away. I read in it: 'For forty sheep, one sheep, up to one hundred and twenty. If there is more than that - even one - then two sheep, up to two hundred, If there is one more than that - even one = then three sheep, up to three hundred. If there are many sheep, then for each hundred, one sheep.' And I read in it: 'Separate flocks should not be combined, and a combined flock should not be separated.' And I read in it: 'And a male goat should not be taken for Sadaqah, nor a decrepit nor defective animal.' ”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھے سالم نے ایک تحریر پڑھائی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ کے سلسلے میں اپنی وفات سے پہلے لکھوائی تھی، اس تحریر میں میں نے لکھا پایا: چالیس سے ایک سو بیس بکریوں تک ایک بکری زکاۃ ہے، اگر ۱۲۰ سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو اس میں دو سو تک دو بکریاں ہیں، اور اگر ۲۰۰ سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو اس میں ۳۰۰ تک تین بکریاں ہیں، اور اگر اس سے بھی زیادہ ہو تو ہر سو میں ایک بکری زکاۃ ہے، اور میں نے اس میں یہ بھی پایا: متفرق مال اکٹھا نہ کیا جائے، اور اکٹھا مال متفرق نہ کیا جائے ، اور اس میں یہ بھی پایا: زکاۃ میں جفتی کے لیے مخصوص بکرا، بوڑھا اور عیب دار جانور نہ لیا جائے ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ لاَ يَخْطُبِ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that:the Messenger of Allah said: “A man should not propose to a woman to whom his brother has already proposed.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام پر پیغام نہ دے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ أَبُو حَفْصٍ التَّنِّيسِيُّ، عَنْ زُهَيْرٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ إِذَا ادَّعَتِ الْمَرْأَةُ طَلاَقَ زَوْجِهَا فَجَاءَتْ عَلَى ذَلِكَ بِشَاهِدٍ عَدْلٍ اسْتُحْلِفَ زَوْجُهَا فَإِنْ حَلَفَ بَطَلَتْ شَهَادَةُ الشَّاهِدِ وَإِنْ نَكَلَ فَنُكُولُهُ بِمَنْزِلَةِ شَاهِدٍ آخَرَ وَجَازَ طَلاَقُهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, from his grandfather, that:the Prophet (ﷺ) said: "If a woman claims that her husband has divorced her, and she brings a witness of good character (to testify) to that, her husband should be asked to swear an oath. If he swears, that will invalidate the testimony of the witness, but if he refuses then that will be equivalent to a second witness, and the divorce will take effect
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب عورت دعویٰ کرے کہ اس کے شوہر نے اسے طلاق دے دی ہے، اور طلاق پہ ایک معتبر شخص کو گواہ لائے ( اور اس کا مرد انکار کرے ) تو اس کے شوہر سے قسم لی جائے گی، اگر وہ قسم کھا لے تو گواہ کی گواہی باطل ہو جائے گی، اور اگر قسم کھانے سے انکار کرے تو اس کا انکار دوسرے گواہ کے درجہ میں ہو گا، اور طلاق جائز ہو جائے گی ۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَكَّائِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْلَى الثَّقَفِيُّ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَفَّرَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ وَأَمَرَ النَّاسَ بِذَلِكَ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَنِصْفُ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ ‏.‏
It was narrated that Ibn Abbas said:"The Messenger of Allah (ﷺ) offered expiation of a Sa' of dates, and he enjoined the people to do likewise. Whoever does not have that (must give) half a Sa' of wheat
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاع کھجور کفارہ میں دی، میں لوگوں کو اسی کا حکم دیتا ہوں، تو جس کسی کے پاس ایک صاع کھجور نہ ہو تو آدھا صاع گیہوں دے ۱؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَمَهْرِ الْبَغِيِّ وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ ‏.‏
It was narrated from Abu Mas'ud that :the Prophet (ﷺ) forbade the price of a dog, the payment (given to a prostitute) and the payment made to a soothsayer
ابومسعود عقبہ بن عمرو انصاری بدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، زانیہ کی کمائی اور کاہن کی اجرت سے منع فرمایا ہے۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ الْبَطِينُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ مَا أَخْطَأَنِي ابْنُ مَسْعُودٍ عَشِيَّةَ خَمِيسٍ إِلاَّ أَتَيْتُهُ فِيهِ قَالَ فَمَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ لِشَىْءٍ قَطُّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ عَشِيَّةٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ - قَالَ فَنَكَسَ ‏.‏ قَالَ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَهُوَ قَائِمٌ مُحَلَّلَةً أَزْرَارُ قَمِيصِهِ قَدِ اغْرَوْرَقَتْ عَيْنَاهُ وَانْتَفَخَتْ أَوْدَاجُهُ قَالَ أَوْ دُونَ ذَلِكَ أَوْ فَوْقَ ذَلِكَ أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ أَوْ شَبِيهًا بِذَلِكَ ‏.‏
Amr bin Maimun said :"I used to visit Ibn Mas'ud every Thursday afternoon but he never uttered the words: 'The Messenger of Allah (ﷺ) said.' Then one evening, he said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) said,' then he let his head hang down." He said: "I looked at him and saw his shirt was unfastened; his eyes were filled with tears, and his veins were bulging out (with fear). He said:' Or more than that, or less than that, or close to that or something similar
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ میں بلا ناغہ ہر جمعرات کی شام کو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس جاتا تھا، میں نے کبھی بھی آپ کو کسی چیز کے بارے میں «قال رسول الله صلى الله عليه وسلم» کہتے نہیں سنا، ایک شام آپ نے کہا: «قال رسول الله صلى الله عليه وسلم» اور اپنا سر جھکا لیا، میں نے ان کو دیکھا کہ اپنے کرتے کی گھنڈیاں کھولے کھڑے ہیں، آنکھیں بھر آئی ہیں اور گردن کی رگیں پھول گئی ہیں اور کہہ رہے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کچھ کم یا زیادہ یا اس کے قریب یا اس کے مشابہ فرمایا ۱؎۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اخْتَصَمَ إِلَيْهِ رَجُلاَنِ بَيْنَهُمَا دَابَّةٌ وَلَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ فَجَعَلَهَا بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ ‏.‏
It was narrated from Abu Musa that :two men referred a dispute to the Messenger of Allah (ﷺ) concerning an animal, and neither of them had proof, so he ruled that it should be divided in half
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی جھگڑا لے کر آئے، اور ان دونوں کے درمیان ایک جانور تھا ( جس پر دونوں اپنا اپنا دعویٰ کر رہے تھے ) اور ان دونوں میں سے کسی کے پاس کوئی گواہ نہ تھا، تو آپ نے اسے دونوں کو آدھا آدھا بانٹ دیا۔
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ ثَوْبَانَ، - مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ مَنْ فَارَقَ الرُّوحُ الْجَسَدَ وَهُوَ بَرِيءٌ مِنْ ثَلاَثٍ دَخَلَ الْجَنَّةَ مِنَ الْكِبْرِ وَالْغُلُولِ وَالدَّيْنِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Thawban, the freed slave of the Messenger of Allah (ﷺ), that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Anyone whose soul leaves his body and he is free of three things, will enter Paradise: Arrogance, stealing from the spoils of war, and debt.”
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی روح بدن سے جدا ہوئی اور وہ تین چیزوں غرور ( گھمنڈ ) خیانت اور قرض سے پاک ہو، تو وہ جنت میں داخل ہو گا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ قَالَ كُنَّا نُكْرِي الأَرْضَ عَلَى أَنَّ لَكَ مَا أَخْرَجَتْ هَذِهِ وَلِي مَا أَخْرَجَتْ هَذِهِ فَنُهِينَا أَنْ نُكْرِيَهَا بِمَا أَخْرَجَتْ وَلَمْ نُنْهَ أَنْ نُكْرِيَ الأَرْضَ بِالْوَرِقِ ‏.‏
It was narrated that Hazalah bin Qais said:“I asked Rafi' bin Khadij and he said: 'We used to lease out land on the basis that you would have what is produced by this piece of land, and I would have what is produced by this (other) piece of land, and we were forbidden to lease it out on the basis of crop-sharing but he did not forbid us to rent out land for silver.”
حنظلہ بن قیس کہتے ہیں کہ میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہم زمین کو اس شرط پر کرایہ پر دیتے تھے کہ فلاں جگہ کی پیداوار میری ہو گی، اور فلاں جگہ کی تمہاری، تو ہم کو پیداوار پر زمین کرائے پر دینے سے منع کر دیا گیا، البتہ چاندی کے بدلے یعنی نقد کرائے پر دینے سے ہمیں منع نہیں کیا گیا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَاجِرِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ، أَنَّ امْرَأَةً، أَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَاعْتَرَفَتْ بِالزِّنَا فَأَمَرَ بِهَا فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا ثُمَّ رَجَمَهَا ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا ‏.‏
It was narrated from `Imran bin Husain that :a woman came to the Prophet (ﷺ) and confessed to committing fornication. He issued orders, and her garments were tightened around her (so that her private parts would not become uncovered) then he stoned her, then he offered the funeral prayer for her
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر زنا کا اعتراف کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اس کے کپڑے باندھ دئیے گئے، پھر اس کو رجم کیا، اس کے بعد اس کی نماز جنازہ پڑھی ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ مُحَمَّدٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنِ ابْنِ صُهْبَانَ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ قَوَدَ فِي الْمَأْمُومَةِ وَلاَ الْجَائِفَةِ وَلاَ الْمُنَقِّلَةِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Abbas bin 'Abdul-Muttalib that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“There is no retaliation for a head wound that does not reach the brain, a spear wound that does not penetrate deeply, or a wound that dislocates a bone.”
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو زخم دماغ یا پیٹ تک پہنچ جائے، یا ہڈی ٹوٹ کر اپنی جگہ سے ہٹ جائے، تو اس میں قصاص نہ ہو گا ۱؎۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَجُلاً، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ أُمِّي افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا وَلَمْ تُوصِ وَإِنِّي أَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ لَتَصَدَّقَتْ فَلَهَا أَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا وَلِيَ أَجْرٌ فَقَالَ ‏ "‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Aishah that a man came to the Prophet (ﷺ) and said:“My mother died unexpectedly and she had not made a will. I think that if she could have spoken, she would have given in charity. Will she have a reward if I give in charity on her behalf, and will I have a reward?” He said: “Yes.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، اور اس نے عرض کیا: میری ماں کا اچانک انتقال ہو گیا، اور وہ وصیت نہیں کر سکیں، میرا خیال ہے کہ اگر وہ بات چیت کر پاتیں تو صدقہ ضرور کرتیں، تو کیا اگر میں ان کی جانب سے صدقہ کروں تو انہیں اور مجھے اس کا ثواب ملے گا یا نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ( ملے گا ) ۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَوْسَجَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ مَاتَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ يَدَعْ لَهُ وَارِثًا إِلاَّ عَبْدًا هُوَ أَعْتَقَهُ فَدَفَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِيرَاثَهُ إِلَيْهِ ‏.‏
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“A man died at the time of the Messenger of Allah (ﷺ), and he left no heir except for a slave whom he had set free. The Messenger of Allah (ﷺ) gave the legacy to him.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص مر گیا، اور اس نے کوئی وارث نہیں چھوڑا سوائے ایک غلام کے، جس کو اس نے آزاد کر دیا تھا تو آپ نے اس کی میراث اسی غلام کو دلا دی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ شَبِيبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ رَاحَ رَوْحَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَانَ لَهُ بِمِثْلِ مَا أَصَابَهُ مِنَ الْغُبَارِ مِسْكًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever goes out in the cause of Allah will have the equivalent of the dust that got on him, in musk, on the Day of Resurrection.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہعلیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ایک شام بھی اللہ کی راہ میں چلا، تو جتنا غبار اس پر پڑا قیامت کے دن اس کے لیے اتنی ہی مشک ہو گی ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاتِكَةِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ تَسَوَّكُوا فَإِنَّ السِّوَاكَ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ وَمَا جَاءَنِي جِبْرِيلُ إِلاَّ أَوْصَانِي بِالسِّوَاكِ حَتَّى لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يُفْرَضَ عَلَىَّ وَعَلَى أُمَّتِي وَلَوْلاَ أَنِّي أَخَافُ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَفَرَضْتُهُ لَهُمْ وَإِنِّي لأَسْتَاكُ حَتَّى لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ أُحْفِيَ مَقَادِمَ فَمِي ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Umamah that:The Messenger of Allah said: "Use the tooth stick, for the tooth stick purifies the mouth and is pleasing to the Lord. Jibril never came to me but he advised me to use the tooth stick, until I feared that it would be made obligatory for me and my Ummah. Were it not that I fear that it would be too difficult for my Ummah, I would have enjoined it upon them. And I use the tooth stick until I fear that I may make the front of my mouth sore.' (i.e. my gums) (or cause my teeth to fall out due to brushing them so often)
ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسواک کرو اس لیے کہ مسواک منہ کو پاک کرنے کا ذریعہ اور اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا سبب ہے، جبرائیل جب بھی میرے پاس آئے تو انہوں نے مجھے مسواک کی وصیت کی، یہاں تک کہ مجھے ڈر ہوا کہ کہیں میرے اور میری امت کے اوپر اسے فرض نہ کر دیا جائے، اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ مجھے ڈر ہے کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈال دوں گا تو امت پر مسواک کو فرض کر دیتا، اور میں خود اس قدر مسواک کرتا ہوں کہ مجھے ڈر ہونے لگتا ہے کہ کہیں میں اپنے مسوڑھوں کو نہ چھیل ڈالوں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ أَحُجُّ عَنْ أَبِي قَالَ ‏ "‏ نَعَمْ حُجَّ عَنْ أَبِيكَ فَإِنْ لَمْ تَزِدْهُ خَيْرًا لَمْ تَزِدْهُ شَرًّا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“A man came to the Prophet (ﷺ) and said: ‘Shall I perform Hajj on behalf of my father?’ He said: ‘Yes, perform Hajj on behalf of your father, for if you cannot add any good to his record (at least) you will not add anything bad.’”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: کیا میں اپنے والد کی طرف سے حج کر لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اپنے والد کی طرف سے حج کرو، اگر تم ان کی نیکی نہ بڑھا سکے تو ان کی برائی میں اضافہ مت کرو ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ يُضَحَّى بِمُقَابَلَةٍ أَوْ مُدَابَرَةٍ أَوْ شَرْقَاءَ أَوْ خَرْقَاءَ أَوْ جَدْعَاءَ ‏.‏
It was narrated that ‘Ali said:“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade sacrificing the Muqabalah, the Mudabarah, the Sharqa’, the Kharqa’ and the Jad’a’.”
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے جانور کی قربانی سے منع فرمایا جس کا کان آگے سے یا پیچھے سے کٹا ہو، یا وہ پھٹا ہو یا اس میں گول سوراخ ہو، یا ناک کان اور ہونٹ میں سے کوئی عضو کٹا ہو۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الْعُشَرَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَكُونُ الذَّكَاةُ إِلاَّ فِي الْحَلْقِ وَاللَّبَّةِ قَالَ ‏ "‏ لَوْ طَعَنْتَ فِي فَخِذِهَا لأَجْزَأَكَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu ‘Ushara’ that his father said:“I said: ‘O Messenger of Allah, should slaughtering only be done in the throat or upper chest?’ He said: ‘If you stab it in the thigh that will suffice you.’”
ابوالعشراء کے والد کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا صرف حلق اور کوڑی کے بیچ ہی میں ( ذبح ) کرنا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اس کی ران میں کونچ دو تو بھی کافی ہے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي حَجَّةٍ أَوْ عُمْرَةٍ فَاسْتَقْبَلَنَا رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ أَوْ ضَرْبٌ مِنْ جَرَادٍ فَجَعَلْنَا نَضْرِبُهُنَّ بِأَسْوَاطِنَا وَنِعَالِنَا فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ كُلُوهُ فَإِنَّهُ مِنْ صَيْدِ الْبَحْرِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:“We went out with the Prophet (ﷺ) for Hajj or ‘Umrah, and we encountered a swarm of locusts or a type of locust. We started hitting them with out whips and sandals. The Prophet (ﷺ) said: ‘Eat them for they are the game of the sea.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج یا عمرہ کے لیے نکلے، تو ہمارے سامنے ٹڈیوں کا ایک گروہ آیا، یا ایک قسم کی ٹڈیاں آئیں، تو ہم انہیں اپنے کوڑوں اور جوتوں سے مارنے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں کھاؤ یہ دریا کا شکار ہیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلاَنِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِذَا وُضِعَتِ الْمَائِدَةُ فَلْيَأْكُلْ مِمَّا يَلِيهِ وَلاَ يَتَنَاوَلْ مِنْ بَيْنِ يَدَىْ جَلِيسِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“When food is served, eat from that which is in front of you, and do not take from what is in front of your companion.’”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دستر خوان لگایا جائے تو ہر شخص کو اس جانب سے کھانا چاہیئے جو اس سے قریب ہو، وہ اپنے ساتھی کے سامنے سے نہ کھائے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ بَكْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whatever causes intoxication in large amounts, a small amount of it is (also) unlawful.”
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی زیادہ مقدار نشہ آور ہو، اس کا تھوڑا بھی حرام ہے ۔
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنَا السَّرِيُّ بْنُ مِسْكِينٍ، حَدَّثَنَا ذُؤَادُ بْنُ عُلْبَةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ هَجَّرَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَهَجَّرْتُ فَصَلَّيْتُ ثُمَّ جَلَسْتُ فَالْتَفَتَ إِلَىَّ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ ‏"‏ اشِكَمَتْ دَرْدْ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ قُمْ فَصَلِّ فَإِنَّ فِي الصَّلاَةِ شِفَاءً ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ذُؤَادُ بْنُ عُلْبَةَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَقَالَ فِيهِ اشِكَمَتْ دَرْدْ ‏.‏ يَعْنِي تَشْتَكِي بَطْنَكَ بِالْفَارِسِيَّةِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَ بِهِ رَجُلٌ لأَهْلِهِ فَاسْتَعْدَوْا عَلَيْهِ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:“The Prophet (ﷺ) set out in the early morning and I did likewise. I prayed, then I sat. The Prophet (ﷺ) turned to me and said: ‘Do you have a stomach problem?’* I said: ‘Yes, O Messenger of Allah.’ He said: ‘Get up and pray, for in prayer there is healing.’” Another chain with similar wording. Abu `Abdullah said: A man narrated it to his people, then they were stirred up against him
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار دوپہر کو چلے، میں بھی چلا، تو میں نے نماز پڑھی پھر بیٹھ گیا، اتنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے تو آپ نے فرمایا: «اشكمت درد» کیا پیٹ میں درد ہے ؟ میں نے کہا: ہاں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اٹھو اور نماز پڑھو، اس لیے کہ نماز میں شفاء ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ نُذَيْرٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِأَسْفَلِ عَضَلَةِ سَاقِي أَوْ سَاقِهِ فَقَالَ ‏ "‏ هَذَا مَوْضِعُ الإِزَارِ فَإِنْ أَبَيْتَ ‏.‏ فَأَسْفَلَ فَإِنْ أَبَيْتَ فَأَسْفَلَ فَإِنْ أَبَيْتَ فَلاَ حَقَّ لِلإِزَارِ فِي الْكَعْبَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ نُذَيْرٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مِثْلَهُ ‏.‏
It was narrated that Hudhaifah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) took hold of the lower part of my calf or his calf and said: ‘This is where the lower wrap should come to. If you insist, then lower, and if you insist, then lower, but the lower wrap has no right to (come to) the ankle.’”
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پنڈلی کے نیچے کا پٹھا پکڑا اور فرمایا: تہبند کا مقام یہ ہے، اگر تم اتنا نہ کر سکو تو اس سے تھوڑا نیچے رکھو، اور اگر اتنا بھی نہ رکھ سکو تو اور نیچے رکھو، لیکن اگر اتنا بھی نہ کر سکو تو تمہیں ٹخنوں سے نیچے تہبند رکھنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي عَتَّابٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ خَيْرُ بَيْتٍ فِي الْمُسْلِمِينَ بَيْتٌ فِيهِ يَتِيمٌ يُحْسَنُ إِلَيْهِ وَشَرُّ بَيْتٍ فِي الْمُسْلِمِينَ بَيْتٌ فِيهِ يَتِيمٌ يُسَاءُ إِلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah(ﷺ) said:"The best house among the Muslims is a house in which there is an orphan who is treated well. And the worst house among the Muslims is a house in which there is an orphan who is treated badly
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں میں سب سے بہتر گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم ( پرورش پاتا ) ہو، اور اس کے ساتھ نیک سلوک کیا جاتا ہو، اور سب سے بدترین گھر وہ ہے جس میں یتیم کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ سَمِعْتُ شُعْبَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَ بْنَ عَامِرٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَوْسَطَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْبَجَلِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَكْرٍ، حِينَ قُبِضَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي مَقَامِي هَذَا عَامَ الأَوَّلِ ثُمَّ بَكَى أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ فَإِنَّهُ مَعَ الْبِرِّ وَهُمَا فِي الْجَنَّةِ وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ فَإِنَّهُ مَعَ الْفُجُورِ وَهُمَا فِي النَّارِ وَسَلُوا اللَّهَ الْمُعَافَاةَ فَإِنَّهُ لَمْ يُؤْتَ أَحَدٌ بَعْدَ الْيَقِينِ خَيْرًا مِنَ الْمُعَافَاةِ وَلاَ تَحَاسَدُوا وَلاَ تَبَاغَضُوا وَلاَ تَقَاطَعُوا وَلاَ تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Awsat (bin Isma'il) Al-Bajali that :he heard Abu Bakr, when the Prophet (saas) had passed away, saying: "The Messenger of Allah (saas) stood in this place where I am standing, last year." Then Abu Bakr wept, then he said: "You must adhere to the truth, for with it comes righteousness and they both lead to Paradise. And you must beware of lying for with it comes immorality, and they both lead to Hell. Ask Allah for Al-Mu'afah, for no one is given anything after certainty that is better than Mu'afah. Do not envy one another, do not hate one another, do not sever ties with one another, do not turn your backs on one another and be, O slaves of Allah, brothers
اوسط بن اسماعیل بجلی سے روایت ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، تو انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ پچھلے سال میری اس جگہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تھے، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے روتے ہوئے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے لیے سچائی کو لازم کر لو کیونکہ سچائی نیکی کی ساتھی ہے، اور یہ دونوں جنت میں ہوں گی، اور تم جھوٹ سے پرہیز کرو کیونکہ جھوٹ برائی کا ساتھی ہے، اور یہ دونوں جہنم میں ہوں گی، اور تم اللہ تعالیٰ سے تندرستی اور عافیت طلب کرو کیونکہ ایمان و یقین کے بعد صحت و تندرستی سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہے، تم آپس میں ایک دوسرے سے حسد اور بغض نہ کرو، قطع رحمی اور ترک تعلقات سے بچو، اور ایک دوسرے سے منہ موڑ کر پیٹھ نہ پھیرو بلکہ اللہ کے بندے بھائی بھائی بن کر رہو ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ اعْتَبِرُوهَا بِأَسْمَائِهَا وَكَنُّوهَا بِكُنَاهَا وَالرُّؤْيَا لأَوَّلِ عَابِرٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Interpret them (dreams) in accordance with the names of the things you see, and understand what is hinted at, and the dream is for the first interpreter.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم خواب کی تعبیر اس کے نام اور کنیت کی روشنی میں بتایا کرو، اور اس کی تعبیر سب سے پہلے بتانے والے کے مطابق ہوتی ہے ۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلاَلٍ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ غَيْلاَنَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ مَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَايَةٍ عِمِّيَّةٍ يَدْعُو إِلَى عَصَبِيَّةٍ أَوْ يَغْضَبُ لِعَصَبِيَّةٍ فَقِتْلَتُهُ جَاهِلِيَّةٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Whoever fights under a banner of folly, supporting tribalism, or getting angry for the sake of tribalism, he dies in a state of ignorance.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص گمراہی کے جھنڈے تلے لڑے، عصبیت کی دعوت دے، اور عصبیت کے سبب غضب ناک ہو، اس کی موت جاہلیت کی موت ہو گی ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ يَدْخُلُ فُقَرَاءُ الْمُؤْمِنِينَ الْجَنَّةَ قَبْلَ الأَغْنِيَاءِ بِنِصْفِ يَوْمٍ خَمْسِمِائَةِ عَامٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The poor believers will enter Paradise half a day – five hundred years – before the rich.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومنوں میں سے محتاج اور غریب لوگ مالداروں سے آدھے دن پہلے جنت میں داخل ہوں گے، آخرت کا آدھا دن ( دنیا کے ) پانچ سو سال کے برابر ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ لاَ تَزَالُ أُمَّتِي عَلَى الْفِطْرَةِ مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِبَ حَتَّى تَشْتَبِكَ النُّجُومُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنُ مَاجَهْ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى يَقُولُ اضْطَرَبَ النَّاسُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ بِبَغْدَادَ فَذَهَبْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ الأَعْيَنُ إِلَى الْعَوَّامِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِ فَأَخْرَجَ إِلَيْنَا أَصْلَ أَبِيهِ فَإِذَا الْحَدِيثُ فِيهِ ‏.‏
It was narrated that 'Abbas bin 'Abdul-Muttalib said:"The Messenger of Allah said: 'My Ummah will continue to adhere to the Fitrah so long as they do not delay the Maghrib until the stars have come out." (Hasan)Abu 'Abdullah bin Majah said: I heard Muhammed bin Yahya saying: 'The people in Baghdad were confused in narrating this Hadith. Abu Bakr Al-A'yan and I went to 'Awwam bin 'Abbad bin 'Awwam and he brought out to us the book of his father, and this Hadith was in it
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت ہمیشہ فطرت ( دین اسلام ) پر رہے گی، جب تک وہ مغرب کی نماز میں اتنی تاخیر نہ کرے گی کہ تارے گھنے ہو جائیں ۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن یحییٰ کو کہتے سنا: اس حدیث کے بارے میں اہل بغداد نے اختلاف کیا، چنانچہ میں اور ابوبکر الاعین عوام بن عباد بن عوام کے پاس گئے، تو انہوں نے اپنے والد کا اصل نسخہ نکالا تو اس میں یہ حدیث موجود تھی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ مَنْ أَذَّنَ ثِنْتَىْ عَشْرَةَ سَنَةً وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ وَكُتِبَ لَهُ بِتَأْذِينِهِ فِي كُلِّ يَوْمٍ سِتُّونَ حَسَنَةً وَلِكُلِّ إِقَامَةٍ ثَلاَثُونَ حَسَنَةً ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn 'Umar that:The Messenger of Allah said: "Whoever calls the Adhan for twelve years, he will be guaranteed Paradise, and for each day sixty Hasanat (good deeds) will be recorded for him by virtue of his Adhan, and thirty Hasanat by virtue of his Iqamah
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے بارہ سال اذان دی، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی، اور اس کے لیے ہر روز کی اذان کے بدلے ساٹھ نیکیاں، اور ہر اقامت پہ تیس نیکیاں لکھ دی گئیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي الْجَوْنِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ مَنْ أَخْرَجَ أَذًى مِنَ الْمَسْجِدِ بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri said:"The Messenger of Allah said: 'Whoever removes something harmful from the mosque, Allah will build for him a house in Paradise
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مسجد سے کوڑا کرکٹ نکال دے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ قَزَعَةَ، قَالَ سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ عَنْ صَلاَةِ، رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ لَيْسَ لَكَ فِي ذَلِكَ خَيْرٌ ‏.‏ قُلْتُ بَيِّنْ رَحِمَكَ اللَّهُ ‏.‏ قَالَ كَانَتِ الصَّلاَةُ تُقَامُ لِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ الظُّهْرَ فَيَخْرُجُ أَحَدُنَا إِلَى الْبَقِيعِ فَيَقْضِي حَاجَتَهُ وَيَجِيءُ فَيَتَوَضَّأُ فَيَجِدُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى مِنَ الظُّهْرِ ‏.‏
It was narrated that Qaza’ah said:“I asked Abu Sa’eed Al-Khudri about the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ). He said: ‘There is nothing good in that for you.’* I said: ‘Explain it, may Allah have mercy on you.’ He said: ‘The Iqamah would be given for the Zuhr prayer for the Messenger of Allah (ﷺ), then one of us would go out to Al- Baqi’, relieve himself, then come back and perform ablution, and he would find the Messenger of Allah (ﷺ) still in the first Rak’ah of Zuhr.’”
قزعہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: تمہارے لیے اس میں کوئی خیر نہیں۱؎، میں نے اصرار کیا کہ آپ بیان تو کیجئیے، اللہ آپ پہ رحم کرے، ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نماز ظہر کی اقامت کہی جاتی اس وقت ہم میں سے کوئی بقیع جاتا، اور قضائے حاجت ( پیشاب پاخانہ ) سے فارغ ہو کر واپس آتا، پھر وضو کرتا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ظہر کی پہلی رکعت میں پاتا ۲؎۔