حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ جَاءَنَا النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَصَلَّى بِنَا فِي مَسْجِدِ بَنِي عَبْدِ الأَشْهَلِ فَرَأَيْتُهُ وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى ثَوْبِهِ إِذَا سَجَدَ .
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Abdur-Rahman said:“The Prophet (ﷺ) came to us and led us in prayer in the mosque of Banu ‘Abdul- Ashhal, and I saw him putting his hands on his garment when he prostrated.”
عبداللہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور بنو عبدالاشہل کی مسجد میں ہمیں نماز پڑھائی، تو میں نے دیکھا کہ آپ سجدے کے وقت اپنے دونوں ہاتھ اپنے کپڑے پر رکھے ہوئے ہیں۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلاَلٍ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ذَاتَ يَوْمٍ مِنْ بَعْضِ حُجَرِهِ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَإِذَا هُوَ بِحَلْقَتَيْنِ إِحْدَاهُمَا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ وَيَدْعُونَ اللَّهَ وَالأُخْرَى يَتَعَلَّمُونَ وَيُعَلِّمُونَ فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " كُلٌّ عَلَى خَيْرٍ هَؤُلاَءِ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ وَيَدْعُونَ اللَّهَ فَإِنْ شَاءَ أَعْطَاهُمْ وَإِنْ شَاءَ مَنَعَهُمْ وَهَؤُلاَءِ يَتَعَلَّمُونَ وَيُعَلِّمُونَ وَإِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا " . فَجَلَسَ مَعَهُمْ .
It was narrated that 'Abdullah bin 'Amr said:"The Messenger of Allah came out of one of his apartments one day and entered the mosque, where he saw two circles, one reciting Qur'an and supplicating to Allah, and the other learning and teaching. The Prophet said: 'Both of them are good. These people are reciting the Qur'an and supplicating to Allah, and if He wills He will give them, and if He wills He will withhold from them. And these people are learning and teaching. Verily I have been sent as a teacher.' Then he sat down with them
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن اپنے کسی کمرے سے نکلے اور مسجد میں داخل ہوئے، آپ نے اس میں دو حلقے دیکھے، ایک تلاوت قرآن اور ذکرو دعا میں مشغول تھا، اور دوسرا تعلیم و تعلم میں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دونوں حلقے نیکی کے کام میں ہیں، یہ لوگ قرآن پڑھ رہے ہیں، اور اللہ سے دعا کر رہے ہیں، اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو انہیں دے اور چاہے تو نہ دے، اور یہ لوگ علم سیکھنے اور سکھانے میں مشغول ہیں، اور میں تو صرف معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں، پھر انہیں کے ساتھ بیٹھ گئے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَابْنُ الْفُضَيْلِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَابِطٍ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ الْمَخْزُومِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ تَزَالُ هَذِهِ الأُمَّةُ بِخَيْرٍ مَا عَظَّمُوا هَذِهِ الْحُرْمَةَ حَقَّ تَعْظِيمِهَا فَإِذَا ضَيَّعُوا ذَلِكَ هَلَكُوا " .
It was narrated from ‘Ayyash bin Abu Rabi’ah (Makhzumi) that the Messenger of Allah (ﷺ) said:‘The goodness of this nation will not cease as long as they revere this sanctuary* as it is due. But when they lose that reverence, they will be doomed.”
عیاش بن ابی ربیعہ مخزومی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ امت برابر خیر اور بھلائی میں رہے گی جب تک وہ اس حرمت والے شہر کی اس طرح تعظیم کرتی رہے گی جیسا کہ اس کی تعظیم کا حق ہے، پھر جب لوگ اس کی تعظیم کو چھوڑ دیں گے تو ہلاک ہو جائیں گے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيَ الصَّالِحِينَ مَا لاَ عَيْنٌ رَأَتْ وَلاَ أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلاَ خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ " . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَمِنْ بَلْهَ مَا قَدْ أَطْلَعَكُمُ اللَّهُ عَلَيْهِ اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ {فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ } قَالَ وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقْرَؤُهَا مِنْ قُرَّاتِ أَعْيُنٍ .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Allah says: ‘I have prepared for My righteous slaves that which no eye has seen, no ear has heard, and it has never crossed the mind of man.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل فرماتا ہے: میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ نعمت تیار کر رکھی ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا، اور نہ کسی آدمی کے دل میں اس کا خیال آیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ان نعمتوں کے علاوہ جو تم کو اللہ تعالیٰ نے بتائی ہیں اور بھی نعمتیں ہیں، اگر تم چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھو: «فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين جزاء بما كانوا يعملون» کوئی نفس نہیں جانتا ہے کہ اس کے لیے کیا آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے، یہ بدلہ ہے اس کے نیک اعمال کا ( سورۃ السجدۃ: ۱۷ ) ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس کو «قرآت أعين» ( یعنی جمع کا صیغہ ) پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، وَإِسْرَائِيلُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ نَتَوَضَّأَ مِنْ لُحُومِ الإِبِلِ وَلاَ نَتَوَضَّأَ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ .
It was narrated that Jabir bin Samurah said:"The Messenger of Allah commanded us to perform ablution after eating camel meat but not to perform ablution after eating the mutton
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اونٹ کا گوشت کھائیں تو وضو کریں، اور بکری کا گوشت کھائیں تو وضو نہ کریں ۱؎۔