حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، وَعَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بَزَقَ فِي ثَوْبِهِ وَهُوَ فِي الصَّلاَةِ ثُمَّ دَلَكَهُ .
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) spat on his garment while he was performing prayer, then he rubbed it
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی حالت میں اپنے کپڑے میں تھوکا، پھر اسے مل دیا۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ جَنَاحٍ أَبُو سَعْدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " فَقِيهٌ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ " .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah said: 'One Faqih (knowledgeable man) is more formidable against the Shaitan than one thousand devoted worshippers
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان پر ایک فقیہ ( عالم ) ہزار عابد سے بھاری ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، . أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَأَى رَجُلاً يَسُوقُ بَدَنَةً فَقَالَ " ارْكَبْهَا " . قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ . قَالَ " ارْكَبْهَا وَيْحَكَ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) saw a man driving a camel and said:“Ride it.” He said: “It is a sacrificial animal.” He said: “Ride it, woe to you!”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ہدی کا اونٹ ہانک کر لے جا رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر سوار ہو جاؤ ، اس نے کہا: یہ ہدی کا اونٹ ہے، آپ صلی اللہ علیہوسلم نے فرمایا: سوار ہو جاؤ، تمہارا برا ہو ۱؎۔
حَدَّثَنَا الْخَلِيلُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " يُؤْتَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَنْعَمِ أَهْلِ الدُّنْيَا مِنَ الْكُفَّارِ فَيُقَالُ اغْمِسُوهُ فِي النَّارِ غَمْسَةً . فَيُغْمَسُ فِيهَا ثُمَّ يُقَالُ لَهُ أَىْ فُلاَنُ هَلْ أَصَابَكَ نَعِيمٌ قَطُّ فَيَقُولُ لاَ مَا أَصَابَنِي نَعِيمٌ قَطُّ . وَيُؤْتَى بِأَشَدِّ الْمُؤْمِنِينَ ضُرًّا وَبَلاَءً . فَيُقَالُ اغْمِسُوهُ غَمْسَةً فِي الْجَنَّةِ . فَيُغْمَسُ فِيهَا غَمْسَةً فَيُقَالُ لَهُ أَىْ فُلاَنُ هَلْ أَصَابَكَ ضُرٌّ قَطُّ أَوْ بَلاَءٌ فَيَقُولُ مَا أَصَابَنِي قَطُّ ضُرٌّ وَلاَ بَلاَءٌ " .
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“On the Day of Resurrection the disbeliever who lived the most luxurious will be brought, and it will be said: ‘Dip him once in Hell.’ So he will be dipped in it, then it will be said to him: ‘O so- and-so, have you every enjoyed any pleasure?’ He will say: ‘No, I have never enjoyed any pleasure.’ Then the believer who suffered the most hardship and trouble will be brought and it will be said: ‘Dip him once in Paradise.’ So he will be dipped in it and it will be said to him: ‘O so-and-so, have you ever suffered any hardship or trouble?’ He will say: ‘I have never suffered any hardship or trouble.’”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن کافروں میں سے وہ شخص لایا جائے گا، جس نے دنیا میں بہت عیش کیا ہو گا، اور کہا جائے گا: اس کو جہنم میں ایک غوطہٰ دو، اس کو ایک غوطہٰ جہنم میں دیا جائے گا، پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ اے فلاں! کیا تم نے کبھی راحت بھی دیکھی ہے؟ وہ کہے گا: نہیں، میں نے کبھی کوئی راحت نہیں دیکھی اور مومنوں میں سے ایک ایسے مومن کو لایا جائے گا، جو سخت تکلیف اور مصیبت میں رہا ہو گا، اس کو جنت کا ایک غوطہٰ دیا جائے گا، پھر اس سے پوچھا جائے گا: کیا تم نے کبھی کوئی تکلیف یا پریشانی دیکھی؟ وہ کہے گا: مجھے کبھی بھی کوئی مصیبت یا تکلیف نہیں پہنچی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَكَلَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَتِفًا ثُمَّ مَسَحَ يَدَيْهِ بِمِسْحٍ كَانَ تَحْتَهُ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلاَةِ فَصَلَّى .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah ate a shoulder, then he wiped his hands on a Mish that was underneath him, then he got up for prayer, and performed the prayer
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کے دست کا گوشت کھایا، پھر نیچے بچھے ہوئے چمڑے میں اپنا ہاتھ پونچھا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے، اور نماز پڑھائی۔