حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّهُ رَأَى شَبَثَ بْنَ رِبْعِيٍّ بَزَقَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ يَا شَبَثُ لاَ تَبْزُقْ بَيْنَ يَدَيْكَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يَنْهَى عَنْ ذَلِكَ وَقَالَ " إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا قَامَ يُصَلِّي أَقْبَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ حَتَّى يَنْقَلِبَ أَوْ يُحْدِثَ حَدَثَ سُوءٍ " .
It was narrated from Hudhaifah that he saw Shabath bin Rib’i spitting in front of him. He said:“O Shabath! Do not spit in front of you, for the Messenger of Allah (ﷺ) used to forbid that, and he said: ‘When a man stands up to perform prayer, Allah turns His Face towards him until he turns away or he commits an evil Hadath.’”* * In Injah Al-Hajah, 'Abdul-Ghani Dehlawi said: "Meaning he does a matter that negates the Khushu'(submissiveness) and attentiveness of his prayer. Or, the meaning of Hadath is invalidating the ablution. The only reason that he described it as 'evil' is because in most cases, its occurrence during prayer is from Shaitan
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے شبث بن ربعی کو اپنے آگے تھوکتے ہوئے دیکھا تو کہا: شبث! اپنے آگے نہ تھوکو، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے منع فرماتے تھے، اور کہتے تھے: آدمی جب نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو جب تک وہ نماز پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے، یہاں تک کہ نماز پڑھ کر لوٹ جائے، یا اسے برا حدث ہو جائے ۱؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ جَنَاحٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهُ قَالَ " الْخَيْرُ عَادَةٌ وَالشَّرُّ لَجَاجَةٌ وَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ " .
It was narrated that Yunus bin Maisarah bin Halbas said:"I heard Mu'awiyah bin Abu Sufyan narrating that the Messenger of Allah said: "Goodness is a (natural) habit while evil is a stubbornness (constant prodding from Satan). When Allah wills good for a person, He causes him to understand the religion
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خیر ( بھلائی ) انسان کی فطری عادت ہے، اور شر ( برائی ) نفس کی خصومت ہے، اللہ تعالیٰ جس کی بھلائی چاہتا ہے اسے دین میں بصیرت و تفقہ عطاء کرتا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ اشْتَرَى هَدْيَهُ مِنْ قُدَيْدٍ .
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Prophet (ﷺ) bought his sacrificial animal from Qudaid
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہدی قدید سے خریدی ۱؎۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " أُوقِدَتِ النَّارُ أَلْفَ سَنَةٍ فَابْيَضَّتْ ثُمَّ أُوقِدَتْ أَلْفَ سَنَةٍ فَاحْمَرَّتْ ثُمَّ أُوقِدَتْ أَلْفَ سَنَةٍ فَاسْوَدَّتْ فَهِيَ سَوْدَاءُ كَاللَّيْلِ الْمُظْلِمِ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:“The Hell-Fire was kindled for one thousand years and turned white. Then it was kindled for another thousand years and it turned red. Then it was kindled for another thousand years and it turned black. So it is black like the darkest night.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم ہزار برس تک بھڑکائی گئی تو اس کی آگ سفید ہو گئی، پھر ہزار برس بھڑکائی گئی تو وہ سرخ ہو گئی، پھر ہزار برس بھڑکائی گئی تو وہ سیاہ ہو گئی، اب وہ تاریک رات کی طرح سیاہ ہے ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْرَقُ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ يَضَعُ يَدَيْهِ عَلَى أُذُنَيْهِ وَيَقُولُ صُمَّتَا إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ " .
It was narrated that Anas bin Malik would place his hands over his ears and say:"May my ears be made deaf, if I did not hear the messenger of Allah saying: 'Perform ablution after (eating) that which has been changed by fire
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کانوں پر رکھتے اور کہتے: یہ دونوں کان بہرے ہو جائیں اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہو: تم ہر اس چیز کے استعمال سے وضو کرو جسے آگ پر پکایا گیا ہو ۔