بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Ibn Majah
6
34 hadith
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ وَقَدْ شَقَّ بَصَرُهُ فَأَغْمَضَهُ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ إِنَّ الرُّوحَ إِذَا قُبِضَ تَبِعَهُ الْبَصَرُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Umm Salamah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) entered upon Abu Salamah (after he had died), and his eyes were wide open. He closed his eyes, then he said: ‘When the soul is taken, the sight follows it.’”
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، ان کی آنکھ کھلی ہوئی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بند کر دیا، پھر فرمایا: جب روح قبض کی جاتی ہے، تو آنکھ اس کا پیچھا کرتی ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ: ‏ "‏ شَهْرَا عِيدٍ لاَ يَنْقُصَانِ رَمَضَانُ وَذُو الْحِجَّةِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that from ‘Abdur-Rahman bin Abu Bakrah, from his father, that the Prophet (ﷺ) said:“Two months of ‘Eid whose reward cannot be reduced (even if they are twenty-nine days): ‘Ramadan and Dhul-Hijjah.”
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عید کے دونوں مہینے رمضان اور ذی الحجہ کم نہیں ہوتے ۱؎۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ فِي ثَلاَثِينَ مِنَ الْبَقَرِ تَبِيعٌ أَوْ تَبِيعَةٌ وَفِي أَرْبَعِينَ مُسِنَّةٌ ‏"‏ ‏.‏
Abdullah narrated that:the Prophet said: “For every thirty cattle, Tabi or Tabi'ah and for every forty a Musinnah.”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیس گائے میں ایک «تبیع» یا ایک «تبیعہ» اور چالیس میں ایک«مسنة» ہے
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَذَكَرْتُ لَهُ امْرَأَةً أَخْطُبُهَا فَقَالَ ‏ "‏ اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا ‏"‏ ‏.‏ فَأَتَيْتُ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ فَخَطَبْتُهَا إِلَى أَبَوَيْهَا وَأَخْبَرْتُهُمَا بِقَوْلِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏.‏ فَكَأَنَّهُمَا كَرِهَا ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ فَسَمِعَتْ ذَلِكَ الْمَرْأَةُ وَهِيَ فِي خِدْرِهَا فَقَالَتْ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَمَرَكَ أَنْ تَنْظُرَ فَانْظُرْ ‏.‏ وَإِلاَّ فَإِنِّي أَنْشُدُكَ كَأَنَّهَا أَعْظَمَتْ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ فَنَظَرْتُ إِلَيْهَا فَتَزَوَّجْتُهَا ‏.‏ فَذَكَرَ مِنْ مُوَافَقَتِهَا ‏.‏
It was narrated that:Mughirah bin Shubah said: “I came to the Prophet and told him of a woman to whom I had to propose marriage. He said: 'Go and look at her, for that is more likely to create love between you.' So I went to a woman among the Ansar and proposed marriage through her parents. I told them what the Prophet had said, and it was as if they did not like that. Then I heard that woman, behind her curtain, say: 'If the Messenger of Allah has told you to do that, then do it, otherwise I adjure you by Allah (not to do so)'. And it was as if she regarded that as a serious matter. So I looked at her and married her.” And he mentioned how well he got along with her
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ سے ذکر کیا کہ میں ایک عورت کو پیغام دے رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اسے دیکھ لو، اس سے تم دونوں میں محبت زیادہ ہونے کی امید ہے ، چنانچہ میں ایک انصاری عورت کے پاس آیا، اور اس کے ماں باپ کے ذریعہ سے اسے پیغام دیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سنایا، لیکن ایسا معلوم ہوا کہ ان کو یہ بات پسند نہیں آئی، اس عورت نے پردہ سے یہ بات سنی تو کہا: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھنے کا حکم دیا ہے، تو تم دیکھ لو، ورنہ میں تم کو اللہ کا واسطہ دلاتی ہوں، گویا کہ اس نے اس چیز کو بہت بڑا سمجھا، مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اس عورت کو دیکھا، اور اس سے شادی کر لی، پھر انہوں نے اپنی باہمی موافقت اور ہم آہنگی کا حال بتایا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ أَبُو الأَشْعَثِ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ عَمْرَةَ بِنْتَ الْجَوْنِ، تَعَوَّذَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ حِينَ أُدْخِلَتْ عَلَيْهِ فَقَالَ ‏ "‏ لَقَدْ عُذْتِ بِمُعَاذٍ ‏"‏ ‏.‏ فَطَلَّقَهَا وَأَمَرَ أُسَامَةَ أَوْ أَنَسًا فَمَتَّعَهَا بِثَلاَثَةِ أَثْوَابٍ رَازِقِيَّةٍ ‏.‏
It was narrated from 'Aishah that:'Amrah bint Jawn sought refuge.with Allah from the Messenger of Allah (ﷺ) when she was brought to him (as a bride) He said: "You have sought refuge with Him in Whom refuge is sought." So he divorced her and told Usamah or Anas to give her, a gift of three garments of white flax
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب عمرہ بنت جون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی گئی تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اللہ کی ) پناہ مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے ایسی ہستی کی پناہ مانگی جس کی پناہ مانگی جاتی ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے طلاق دے دی، اور اسامہ رضی اللہ عنہ یا انس رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اسے سفید کتان کے تین کپڑے دیئے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ عُمَارَةَ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، ‏.‏ أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَتْرُكْهَا فَإِنَّ تَرْكَهَا كَفَّارَتُهَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, that his grandfather said that the Prophet (ﷺ) said:"Whoever swears an oath then sees that something else is better than it, let him not do it, and his leaving it is the expiation for it
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے قسم کھائی، پھر اس کے خلاف کرنا اس سے بہتر سمجھا، تو قسم توڑ دینا ہی اس کا کفارہ ہے ۔
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْكَلاَعِيِّ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ عَلَّمْتُ رَجُلاً الْقُرْآنَ فَأَهْدَى إِلَىَّ قَوْسًا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ ‏ "‏ إِنْ أَخَذْتَهَا أَخَذْتَ قَوْسًا مِنْ نَارٍ ‏"‏ ‏.‏ فَرَدَدْتُهَا ‏.‏
It was narrated that Ubayy bin Ka'b said:"I taught a man the Qur'an, and he gave me a bow. I mentioned that to the Messenger of Allah (ﷺ) and he said: 'If you accept it you will be accepting a bow of fire.' So I returned it
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو قرآن پڑھنا سکھایا تو اس نے مجھے ایک کمان ہدیے میں دی، میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے یہ لی تو آگ کی ایک کمان لی ، اس وجہ سے میں نے اس کو واپس کر دیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ آدَمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ح وَحَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ لِرَجُلٍ يَا ابْنَ أَخِي إِذَا حَدَّثْتُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ حَدِيثًا فَلاَ تَضْرِبْ لَهُ الأَمْثَالَ ‏.‏ قَالَ أَبُو الْحَسَنِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْكَرَابِيسِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، مِثْلَ حَدِيثِ عَلِيٍّ رضى الله تعالى عنه ‏.‏
It was narrated from Abu Salamah that :Abu Hurairah said to a man "O son of my brother, when I narrate a Hadith of the Messenger of Allah (ﷺ), to you, then do not try to make any examples for it
ابوسلمہ (ابوسلمہ ابن عبدالرحمٰن بن عوف) سے روایت ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی سے کہا: میرے بھتیجے! جب میں تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کروں تو تم اس پر کہاوتیں اور مثالیں نہ بیان کیا کرو۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلاَسٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّ رَجُلَيْنِ، ادَّعَيَا دَابَّةً وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ فَأَمَرَهُمَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that:he said that two men laid claim to an animal, and neither of them had any proof, so the Prophet (ﷺ) commanded them to cast lots as to which of them should swear an oath
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ذکر کیا کہ ایک جانور پر دو آدمیوں نے دعویٰ کیا، اور ان دونوں میں سے کسی کے پاس گواہ نہیں تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو قسم پر قرعہ اندازی کا حکم دیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، - مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ أَخَذَ أَمْوَالَ النَّاسِ يُرِيدُ إِتْلاَفَهَا أَتْلَفَهُ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:“Whoever takes people's wealth with the intention of destroying it, Allah (SWT) will destroy him.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوگوں کا مال لے اور اس کو ہڑپ کرنا چاہتا ہو تو اس کو اللہ تباہ کر دے گا ۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لأَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ أَرْضَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا كَذَا وَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ لِشَىْءٍ مَعْلُومٍ ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هُوَ الْحَقْلُ وَهُوَ بِلِسَانِ الأَنْصَارِ الْمُحَاقَلَةُ ‏.‏
It was narrated from Ibn 'Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“If one of you were to lend his brother his land, it would be better for him than taking such and such rent for it.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی اپنی زمین اپنے بھائی کو مفت دے تو یہ اس کے لیے اس بات سے بہتر ہے کہ وہ اس سے اتنی اور اتنی یعنی کوئی متعین رقم لے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہی «حقل» ہے، اور انصار کی زبان میں اس کو محاقلہ کہتے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَقَالَ إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ ‏.‏ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ قَالَ إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ إِنِّي زَنَيْتُ ‏.‏ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ قَدْ زَنَيْتُ ‏.‏ فَأَعْرَضَ عَنْهُ حَتَّى أَقَرَّ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ ‏.‏ فَلَمَّا أَصَابَتْهُ الْحِجَارَةُ أَدْبَرَ يَشْتَدُّ فَلَقِيَهُ رَجُلٌ بِيَدِهِ لَحْىُ جَمَلٍ فَضَرَبَهُ فَصَرَعَهُ فَذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِرَارُهُ حِينَ مَسَّتْهُ الْحِجَارَةُ قَالَ ‏ "‏ فَهَلاَّ تَرَكْتُمُوهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:“Ma`iz bin Malik came to the Prophet (ﷺ) and said: 'I have committed fornication,' and he (the Prophet (ﷺ)) turned away from him. He said: 'I have committed fornication,' and he turned away from him. Then, he said: I have committed fornication, and he turned away from him, until when he had confessed four times, he ordered that he should be stoned. When he was being struck with the stones, he ran away, but a man caught up with him who had a camel's jawbone in his hand; he struck him and he fell down. The Prophet (ﷺ) was told about how he fled when the stones hit him and he said: 'Why did you not let him be?'”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور کہا: میں نے زنا کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف سے منہ پھیر لیا، انہوں نے پھر کہا: میں نے زنا کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر منہ پھیر لیا، انہوں نے پھر کہا: میں نے زنا کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر منہ پھیر لیا، انہوں نے پھر کہا: میں نے زنا کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر منہ پھیر لیا یہاں تک کہ چار بار زنا کا اقرار کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ انہیں رجم کر دیا جائے، چنانچہ جب ان پر پتھر پڑے تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگنے لگے، ایک شخص نے انہیں پا لیا، اس کے ہاتھ میں اونٹ کے جبڑے کی ہڈی تھی، اس نے ماعز کو مار کر گرا دیا، پتھر پڑتے وقت ان کے بھاگنے کا تذکرہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آخر تم نے انہیں چھوڑ کیوں نہ دیا ؟۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَعَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ دَهْثَمِ بْنِ قُرَّانَ، حَدَّثَنِي نِمْرَانُ بْنُ جَارِيَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلاً، ضَرَبَ رَجُلاً عَلَى سَاعِدِهِ بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا مِنْ غَيْرِ مَفْصِلٍ فَاسْتَعْدَى عَلَيْهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَ لَهُ بِالدِّيَةِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُرِيدُ الْقِصَاصَ ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ خُذِ الدِّيَةَ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِيهَا ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَقْضِ لَهُ بِالْقِصَاصِ ‏.‏
Nimran bin Jariyah narrated from his father that :a man struck another man on the wrist with his sword and severed it, not at the joint. He appealed to the Prophet (ﷺ) who ordered that the Diyah be paid. The man said: “O Messenger of Allah (ﷺ), I want retaliation.” He said: “Take the compensation and may Allah bless you therein.” And he did not rule that he be allowed retaliation
جاریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے دوسرے کی کلائی پر تلوار ماری جس سے وہ کٹ گئی، لیکن جوڑ پر سے نہیں، پھر زخمی شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فریاد کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دیت ( خون بہا ) دینے کا حکم فرمایا، وہ بولا: اللہ کے رسول! میں قصاص لینا چاہتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیت لے لو، اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اس میں برکت دے، اور اس کے لیے قصاص کا فیصلہ نہیں فرمایا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ، مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ إِنَّ أَبِي مَاتَ وَتَرَكَ مَالاً وَلَمْ يُوصِ فَهَلْ يُكَفِّرُ عَنْهُ أَنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهُ قَالَ ‏ "‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that a man asked the Messenger of Allah (ﷺ):“My father died and left behind wealth, but he did not make a will. Will it expiate for him if I give charity on his behalf?” He said: “Yes.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میرے والد کا انتقال ہو گیا ہے اور وہ مال چھوڑ گئے ہیں، انہوں نے وصیت نہیں کی ہے، کیا اگر میں ان کی جانب سے صدقہ کر دوں تو ان کے گناہ معاف ہو جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اقْسِمُوا الْمَالَ بَيْنَ أَهْلِ الْفَرَائِضِ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ فَمَا تَرَكَتِ الْفَرَائِضُ فَلأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Distribute wealth among those who are entitled to shares of inheritance, according to the Book of Allah, then whatever is left over goes to the nearest male relative.’”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مال کو اللہ کی کتاب ( قرآن ) کے مطابق ذوی الفروض ( میراث کے حصہ داروں ) میں تقسیم کرو، پھر جو ان کے حصوں سے بچ رہے وہ اس مرد کا ہو گا جو میت کا زیادہ قریبی ہو ۱؎۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، - مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ - عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي جَوْفِ عَبْدٍ مُسْلِمٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:“The dust (of Jihad) in the cause of Allah and the smoke of Hell will never be combined in the interior of a Muslim.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی راہ کا غبار، اور جہنم کا دھواں، دونوں کسی مسلمان کے پیٹ میں اکٹھا نہ ہوں گے ۱؎۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا عَثَّامُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَسْتَاكُ ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah used to pray in the night (Qiyamul-Lail) two Rak'ah by two, then when he finished he would use the tooth stick
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں دو رکعت نماز پڑھتے تھے، پھر ہر دو رکعت کے بعد لوٹتے اور مسواک کرتے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ سَمِعَ رَجُلاً يَقُولُ لَبَّيْكَ عَنْ شُبْرُمَةَ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ مَنْ شُبْرُمَةُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قَرِيبٌ لِي ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هَلْ حَجَجْتَ قَطُّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَاجْعَلْ هَذِهِ عَنْ نَفْسِكَ ثُمَّ احْجُجْ عَنْ شُبْرُمَةَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) heard a man saying:“Labbaik ‘an Shubrumah (Here I am (O Allah) on behalf of Shubrumah.” The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Who is Shubrumah?” He said: “A relative of mine.” He said: “Have you ever performed Hajj?” He said: “No.” He said: “Then make this for yourself, then perform Hajj on behalf of Shubrumah.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو «لبیک عن شبرمہ» حاضر ہوں شبرمہ کی طرف سے کہتے ہوئے سنا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: شبرمہ کون ہے ؟ اس نے بتایا: وہ میرا رشتہ دار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم نے کبھی حج کیا ہے ؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اس حج کو اپنی طرف سے کر لو، پھر ( آئندہ ) شبرمہ کی طرف سے کرنا ۱؎۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ حَيَّانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنْبَأَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ لاَ تَذْبَحُوا إِلاَّ مُسِنَّةً إِلاَّ أَنْ يَعْسُرَ عَلَيْكُمْ فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِنَ الضَّأْنِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah (ﷺ) said:‘Do not slaughter anything but a Musinnah,* unless there is none available, in which case you can slaughter a Jadha’a among sheep.”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صرف مسنہ ( دانتا جانور ) ذبح کرو، البتہ جب وہ تم پر دشوار ہو تو بھیڑ کا جذعہ ( ایک سالہ بچہ ) ذبح کرو ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ جَدِّهِ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي سَفَرٍ فَنَدَّ بَعِيرٌ فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِنَّ لَهَا أَوَابِدَ - أَحْسَبُهُ قَالَ - كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ فَمَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Rafi’ bin Khadij said:“We were with the Prophet (ﷺ) on a journey, and a camel ran away. A man shot an arrow at it and the Prophet (ﷺ) said: ‘It has the inclination to run away like a wild animal. If this happens to any of you, do likewise.’”
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک اونٹ سرکش ہو گیا، ایک شخص نے اس کو تیر مارا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان میں کچھ وحشی ہوتے ہیں ، میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنگلی جانوروں کی طرح تو جو ان میں سے تمہارے قابو میں نہ آ سکے، اس کے ساتھ ایسا ہی کرو ۱؎۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُلاَثَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ إِذَا دَعَا عَلَى الْجَرَادِ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ أَهْلِكْ كِبَارَهُ وَاقْتُلْ صِغَارَهُ وَأَفْسِدْ بَيْضَهُ وَاقْطَعْ دَابِرَهُ وَخُذْ بِأَفْوَاهِهَا عَنْ مَعَايِشِنَا وَأَرْزَاقِنَا إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَدْعُو عَلَى جُنْدٍ مِنْ أَجْنَادِ اللَّهِ بِقَطْعِ دَابِرِهِ قَالَ ‏"‏ إِنَّ الْجَرَادَ نَثْرَةُ الْحُوتِ فِي الْبَحْرِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ هَاشِمٌ قَالَ زِيَادٌ فَحَدَّثَنِي مَنْ رَأَى الْحُوتَ يَنْثُرُهُ ‏.‏
It was narrated from Jabir and Anas bin Malik that whenever the Messenger of Allah (ﷺ) supplicated against the locusts, he said:“O Allah, destroy their large ones and kill their small ones, spoil their eggs and root them out. Take their mouths away from our livelihood and provision, for You are the One Who hears the prayers.” A man said: “O Messenger of Allah, are you praying against one of the troops of Allah, that they may be rooted out?” He said: “Locusts were sneezed out by the fish in the sea.”
جابر اور انس بن مالک رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ٹڈیوں کے لیے بد دعا کرتے تو فرماتے: اے اللہ! بڑی ٹڈیوں کو ہلاک کر دے، چھوٹی ٹڈیوں کو مار ڈال، ان کے انڈے خراب کر دے، اور ان کی اصل ( جڑ ) کو کاٹ ڈال اور ان کے منہ کو ہماری روزیوں اور غلوں سے پکڑ لے ( انہیں ان تک پہنچنے نہ دے ) ، بیشک تو دعاؤں کا سننے والا ہے ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کیسے اللہ کی ایک فوج کی اصل اور جڑ کاٹنے کے لیے بد دعا فرما رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹڈی دریا کی مچھلی کی چھینک ہے ۔ ہاشم کہتے ہیں کہ زیاد ( راوی حدیث ) نے کہا: تو مجھ سے ایسے شخص نے بیان کیا جس نے مچھلی اسے ( ٹڈی کو ) چھینکتے دیکھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ قَالاَ حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ رَاشِدٍ أَبُو الْيَمَانِ، حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ هُذَيْلٍ يُقَالُ لَهُ نُبَيْشَةُ الْخَيْرِ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيْنَا نُبَيْشَةُ وَنَحْنُ نَأْكُلُ فِي قَصْعَةٍ لَنَا فَقَالَ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ مَنْ أَكَلَ فِي قَصْعَةٍ ثُمَّ لَحِسَهَا اسْتَغْفَرَتْ لَهُ الْقَصْعَةُ ‏"‏ ‏.‏
Mu’alla bin Rashid Abu Yaman said:“My grandmother narrated to me from a man of Hudhail who was called Nubaishah Al-Khair. She said: ‘Nubaishah entered upon us when we were eating from a bowl of ours. He said: “The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever eats from a bowl then cleans it, the bowl will pray for forgiveness for him.’”
معلی بن راشد ابوالیمان بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے میری دادی نے ہذیل کے نبیشہ الخیر نامی شخص سے نقل کیا کہ ایک بار جب ہم اپنے ایک بڑے پیالے میں کھا رہے تھے نبیشہ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جو شخص کسی پیالے میں کھائے، اور اسے چاٹ کر صاف کر لے تو یہ پیالہ اس کے لیے استغفار کرے گا ۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى، زَكَرِيَّا بْنُ مَنْظُورٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ وَمَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Every intoxicant is unlawful and whatever causes intoxication in large amounts, a small amount of it is (also) unlawful.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے اور جس کی زیادہ مقدار نشہ لانے والی ہو اس کا تھوڑا بھی حرام ہے ۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ بْنِ سَرْجٍ الْفِرْيَابِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ بَكْرٍ السَّكْسَكِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُبَىٍّ ابْنَ أُمِّ حَرَامٍ، وَكَانَ، قَدْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ الْقِبْلَتَيْنِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏"‏ عَلَيْكُمْ بِالسَّنَى وَالسَّنُّوتِ فَإِنَّ فِيهِمَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلاَّ السَّامَ ‏.‏ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا السَّامُ قَالَ ‏"‏ الْمَوْتُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عَمْرٌو قَالَ ابْنُ أَبِي عَبْلَةَ السَّنُّوتُ الشِّبِتُّ ‏.‏ وَقَالَ آخَرُونَ بَلْ هُوَ الْعَسَلُ الَّذِي يَكُونُ فِي زِقَاقِ السَّمْنِ وَهُوَ قَوْلُ الشَّاعِرِ هُمُ السَّمْنُ بِالسَّنُّوتِ لاَ أَلْسَ فِيهِمُ وَهُمْ يَمْنَعُونَ جَارَهُمْ أَنْ يُقَرَّدَا
Ibrahim bin Abu ‘Ablah said:“I heard Abu Ubayy bin Umm Haram, who had prayed with the Messenger of Allah (ﷺ) facing both the Qiblah, saying: ‘I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: “You should use senna and the Sannut, for in them there is healing for every disease, except the Sam.” It was said: “O Messenger of Allah, what is the Sam?” He said: “Death.” (One of the narrators) ‘Amr said: “Ibn Abu ‘Ablah said: the ‘Sannut is dill.” Others said: “Rather, it is honey that is kept in a skin (i.e., receptacle) used for ghee.”
ابو ابی بن ام حرام رضی اللہ عنہا (وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھ چکے ہیں) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: «تمسنا» اور «سنوت» ۱؎ کا استعمال لازم کر لو، اس لیے کہ «سام» کے سوا ان میں ہر مرض کے لیے شفاء ہے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! «سام» کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موت ۔ عمرو کہتے ہیں کہ ابن ابی عبلہ نے کہا: «سنوت»: «سویے» کو کہتے ہیں، بعض دوسرے لوگوں نے کہا ہے کہ وہ شہد ہے جو گھی کی مشکوں میں ہوتا ہے، شاعر کا یہ شعر اسی معنی میں وارد ہے۔ «هم السمن بالسنوت لا ألس فيهم وهم يمنعون جارهم أن يقردا» وہ لوگ ملے ہوئے گھی اور شہد کی طرح ہیں ان میں خیانت نہیں، اور وہ لوگ تو اپنے پڑوسی کو بھی دھوکا دینے سے منع کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ مَرَّ بِأَبِي هُرَيْرَةَ فَتًى مِنْ قُرَيْشٍ يَجُرُّ سَبَلَهُ فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلاَءِ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ له يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that a young man of Quriash passed by Abu Hurairah with his cloak dragging. He said:“O my nephew! I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying ‘Whoever let his garment drag out of pride, Allah will not look at him on the Day of Resurrection.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کے پاس سے قریش کا ایک جوان اپنی چادر لٹکائے ہوئے گزرا، آپ نے اس سے کہا: میرے بھتیجے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جس نے غرور و تکبر سے اپنے کپڑے گھسیٹے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نہیں دیکھے گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّجُ حَقَّ الضَّعِيفَيْنِ الْيَتِيمِ وَالْمَرْأَةِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah(ﷺ) said:"O Allah, bear witness that I have issued a warning concerning (failure to fulfill) the rights of the two weak ones: Orphans and women
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میں دو کمزوروں ایک یتیم اور ایک عورت کا حق مارنے کو حرام قرار دیتا ہوں ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنِي سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ أَتَى النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ قَالَ ‏"‏ سَلْ رَبَّكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ أَتَاهُ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ قَالَ ‏"‏ سَلْ رَبَّكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ أَتَاهُ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَىُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ قَالَ ‏"‏ سَلْ رَبَّكَ الْعَفْوَ وَالَعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ فَإِذَا أُعْطِيتَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ فَقَدْ أَفْلَحْتَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Anas bin Malik said:"A man come to the Prophet (saas) and said: 'O Messenger of Allah, what supplication is best?' He said: 'Ask your Lord for forgiveness and to be kept safe and sound in this world and in the Hereafter.' Then (the man) came the next day and said: 'O Messenger of Allah, what supplication is best?' He said: 'Ask your Lord for forgiveness and to be kept safe and sound in this world and in the Hereafter.' Then (the man) came the third day and said: 'O Prophet of Allah, what supplication is best?' He said: 'Ask your Lord for forgiveness and to be kept safe and sound in this world and in the Hereafter, for if you are forgiven and kept safe and sound in this world and the Hereafter, you will have succeeded
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! کون سی دعا سب سے بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ سے دنیا اور آخرت میں عفو اور عافیت کا سوال کیا کرو ، پھر وہ شخص دوسرے دن حاضر خدمت ہوا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سی دعا سب سے بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے رب سے دنیا و آخرت میں عفو اور عافیت کا سوال کیا کرو ، پھر وہ تیسرے دن بھی حاضر خدمت ہوا، اور عرض کیا: اللہ کے نبی! کون سی دعا سب سے بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے رب سے دنیا و آخرت میں عفو و عافیت کا سوال کیا کرو، کیونکہ جب تمہیں دنیا اور آخرت میں عفو اور عافیت عطا ہو گئی تو تم کامیاب ہو گئے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ عُدُسٍ الْعُقَيْلِيِّ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏"‏ الرُّؤْيَا عَلَى رِجْلِ طَائِرٍ مَا لَمْ تُعْبَرْ فَإِذَا عُبِرَتْ وَقَعَتْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَالرُّؤْيَا جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَأَحْسِبُهُ قَالَ ‏"‏ لاَ يَقُصُّهَا إِلاَّ عَلَى وَادٍّ أَوْ ذِي رَأْىٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Razin that he heard the Prophet (ﷺ) say:“Dreams are attached to the foot of a bird* until they are interpreted, then when they are interpreted they come to pass.” He said: “And dreams are one of the forty-six parts of prophecy.” He (the narrator) said: “And I think he said: ‘(A person) should not tell them except to one whom he loves or one who is wise.’”
ابورزین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: خواب کی جب تک تعبیر نہ بیان کی جائے وہ ایک پرندہ کے پیر پر ہوتا ہے، پھر جب تعبیر بیان کر دی جاتی ہے تو وہ واقع ہو جاتا ہے ۱؎، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے ، اور میں سمجھتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: تم خواب کو صرف اسی شخص سے بیان کرو جس سے تمہاری محبت و دوستی ہو، یا وہ صاحب عقل ہو ۲؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُهَزِّمِ، يَزِيدُ بْنُ سُفْيَانَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ الْمُؤْمِنُ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ بَعْضِ مَلاَئِكَتِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The believer is more precious to Allah, the Mighty and Sublime, than some of His angels.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن اللہ عزوجل کے نزدیک اس کے بعض فرشتوں سے زیادہ معزز و محترم ہے ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْجُبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مِهْرَانَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ عَبْدَهُ الْمُؤْمِنَ الْفَقِيرَ الْمُتَعَفِّفَ أَبَا الْعِيَالِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from ‘Imran bin Husain that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Allah loves His believing slave who is poor, does not beg and has many children.”
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ اپنے مومن، فقیر ( محتاج ) ، سوال سے بچنے والے اور اہل و عیال والے بندے کو محبوب رکھتا ہے ۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ الْمَغْرِبَ إِذَا تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ ‏.‏
It was narrated from Salamah bin Akwa' that:He used to pray the Maghrib with the Messenger of Allah when the sun set
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب اس وقت پڑھتے تھے جب سورج غروب ہو جاتا۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا مُخْتَارُ بْنُ غَسَّانَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الأَزْرَقُ الْبُرْجُمِيُّ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ح وَحَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ مَنْ أَذَّنَ مُحْتَسِبًا سَبْعَ سِنِينَ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بَرَاءَةً مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah said: 'Whoever calls the Adhan for seven years, seeking reward (from Allah), Allah will decree for him deliverance from the Fire
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے طلب ثواب کی نیت سے سات سال اذان دی تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جہنم سے نجات لکھ دے گا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الْجَارُودِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ صَنَعَ بَعْضُ عُمُومَتِي لِلنَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ طَعَامًا فَقَالَ لِلنَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَأْكُلَ فِي بَيْتِي وَتُصَلِّيَ فِيهِ ‏.‏ قَالَ فَأَتَاهُ وَفِي الْبَيْتِ فَحْلٌ مِنْ هَذِهِ الْفُحُولِ فَأَمَرَ بِنَاحِيَةٍ مِنْهُ فَكُنِسَ وَرُشَّ فَصَلَّى وَصَلَّيْنَا مَعَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنُ مَاجَهْ الْفَحْلُ هُوَ الْحَصِيرُ الَّذِي قَدِ اسْوَدَّ ‏.‏
It was narrated that Anas bin Malik said:"One of my paternal uncles made some food for the Prophet and said to the Prophet: 'I would like you to eat and perform prayer in my house.' So he went to him, and in his house there was one of these Fahl. He ordered that a corner be swept and water sprinkled in it, then he performed prayer and we prayed with him.'" (Sahih)Abu 'Abdullah bin Majah said: A Fahl is a mat that has become black (through use)
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے ایک چچا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا، اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میری خواہش ہے کہ آپ آج میرے گھر کھانا کھائیں، اور اس میں نماز بھی پڑھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے گھر میں ایک پرانی کالی چٹائی پڑی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر کے ایک گوشہ کو صاف کرنے کا حکم دیا، وہ صاف کیا گیا، اور اس پر پانی چھڑک دیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی ۱؎۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ «فحل» اس چٹائی کو کہتے ہیں جو پرانی ہونے کی وجہ سے کالی ہو گئی ہو
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَنْبَأَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ‏{الم * تَنْزِيلُ}‏ وَ ‏{هَلَ أَتَى عَلَى الإِنْسَانِ}‏ ‏.‏ قَالَ إِسْحَاقُ هَكَذَا حَدَّثَنَا عَمْرٌو عَنْ عَبْدِ اللَّهِ لاَ أَشُكُّ فِيهِ ‏.‏
It was narrated from ‘Abdullah bin Mas’ud that for the Subh prayer on Fridays, the Messenger of Allah (ﷺ) used to recite “Alif-Lam-Mim. The revelation...” [32:1] and “Has there not been over man..” [76:]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں «الم تنزيل» اور «هل أتى على الإنسان» پڑھا کرتے تھے۔ اسحاق بن سلیمان کہتے ہیں کہ عمرو بن ابی قیس نے ہم سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایسے ہی روایت کی ہے مجھے اس میں کوئی شک نہیں ہے