حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا نُسَلِّمُ فِي الصَّلاَةِ فَقِيلَ لَنَا إِنَّ فِي الصَّلاَةِ لَشُغْلاً .
It was narrated that ‘Abdullah said:“We would greet others during the prayer, and it was said to us: ‘During the prayer one is preoccupied.’”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نماز میں سلام کیا کرتے تھے، پھر ہمیں ارشاد ہوا کہ نماز میں خود ایک مشغولیت ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَوْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ وَاقْرَءُوهُ وَارْقُدُوا فَإِنَّ مَثَلَ الْقُرْآنِ وَمَنْ تَعَلَّمَهُ فَقَامَ بِهِ كَمَثَلِ جِرَابٍ مَحْشُوٍّ مِسْكًا يَفُوحُ رِيحُهُ كُلَّ مَكَانٍ وَمَثَلُ مَنْ تَعَلَّمَهُ فَرَقَدَ وَهُوَ فِي جَوْفِهِ كَمَثَلِ جِرَابٍ أُوكِيَ عَلَى مِسْكٍ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'Learn the Qur'an, recite it and go to bed, for the likeness of the Qur'an and the one who learns it and acts upon it is that of a sack filled with musk, which spreads its fragrance everywhere. And the likeness of one who learns it then goes to bed with it in his heart is that of a sack that is tied up from which no fragrance comes out
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن سیکھو اور اس کی تلاوت کرو، تب سوؤ کیونکہ قرآن اور اس کے سیکھنے والے اور رات کو قیام ( نماز تہجد ) میں قرآن پڑھنے والے کی مثال خوشبو بھری ہوئی تھیلی کی ہے جس کی خوشبو ہر طرف پھیل رہی ہو، اور اس شخص کی مثال جس نے قرآن سیکھا، مگر رات کو پڑھا نہیں ایسی خوشبو بھری تھیلی کی ہے جس کا منہ بندھا ہوا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَفْلَحَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَلَّدَ وَأَشْعَرَ وَأَرْسَلَ بِهَا وَلَمْ يَجْتَنِبْ مَا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ .
It was narrated from ‘Aishah that the Prophet (ﷺ) garlanded, and marked, and sent (the sacrificial animals), but he did not avoid anything that the one in Ihram avoids
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدی کو قلادہ پہنایا، اس کا اشعار کیا، اور اسے ( مکہ ) بھجوایا، اور ان باتوں سے پرہیز نہیں کیا جن سے محرم پرہیز کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْجَذْعَاءِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَكْثَرُ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ سِوَاكَ قَالَ " سِوَاىَ " . قُلْتُ أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ أَنَا سَمِعْتُهُ .
It was narrated from ‘Abdullah bin Abi Jad’a’ that he heard the Prophet (ﷺ) say:“More than (the members of the tribe of) Banu Tamim will enter Paradise through the intercession of a man from among my nation.” They said: “O Messenger of Allah, besides you?” He said: “Besides me.”
عبداللہ بن ابی الجدعا رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: میری امت کے ایک شخص کی شفاعت کے نتیجہ میں بنو تمیم سے بھی زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ کے علاوہ ( یعنی وہ شخص آپ کے علاوہ کوئی ہے؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ، میرے علاوہ، ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی الجدعا رضی اللہ عنہ سے کہا: یہ بات آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خود سنی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں نے آپ ہی سے سنی ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ، قَالَ سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ طَلْقٍ الْحَنَفِيَّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ سُئِلَ عَنْ مَسِّ الذَّكَرِ فَقَالَ " لَيْسَ فِيهِ وُضُوءٌ إِنَّمَا هُوَ مِنْكَ " .
Qais bin Talq Al-Hanafi narrated that his father said:"I heard the Messenger of Allah being asked about touching the penis. He said: 'That does not require ablution, because it is a part of you (your body)
طلق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: آپ سے شرمگاہ چھونے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: اس کے چھونے سے وضو نہیں ہے، وہ تو تمہارے جسم کا ایک حصہ ہے ۱؎۔