بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Ibn Majah
5
6 hadith
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ خَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ آخِرُهَا، وَشَرُّهَا أَوَّلُهَا، وَخَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا، وَشَرُّهَا آخِرُهَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The best rows for women are the back rows, and the worst are the front rows, and the best rows for men are the front rows, and the worst are the back rows.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں کی سب سے بہتر صف ان کی پچھلی صف ہے، اور سب سے خراب صف ان کی اگلی صف ہے ۱؎، مردوں کی سب سے اچھی صف ان کی اگلی صف ہے، اور سب سے بری صف ان کی پچھلی صف ہے ۲؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنِي ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَتْ لِي فَاطِمَةُ يَا أَنَسُ كَيْفَ سَخَتْ أَنْفُسُكُمْ أَنْ تَحْثُوا التُّرَابَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏.‏ وَحَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ فَاطِمَةَ، قَالَتْ حِينَ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَا أَبَتَاهْ إِلَى جِبْرَائِيلَ أَنْعَاهْ وَا أَبَتَاهْ مِنْ رَبِّهِ مَا أَدْنَاهْ وَا أَبَتَاهْ جَنَّةُ الْفِرْدَوْسِ مَأْوَاهْ وَا أَبَتَاهْ أَجَابَ رَبًّا دَعَاهْ ‏.‏ قَالَ حَمَّادٌ فَرَأَيْتُ ثَابِتًا حِينَ حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ بَكَى حَتَّى رَأَيْتُ أَضْلاَعَهُ تَخْتَلِفُ ‏.‏
It was narrated that Anas bin Malik said:“Fatimah said to me: ‘O Anas, how did you manage to scatter dust on the Messenger of Allah (ﷺ)?’” And Thabit narrated to us from Anas that Fatimah said: “When the Messenger of Allah (ﷺ) passed away: ‘O my father! To Jibra’il we announce his death; O my father, how much closer he is now to his Lord; O my father, the Paradise of Firdaws is his abode; O my father, he has answered the call of his Lord.” (One of the narrators) Hammad said: "I saw Thabit, when he narrated this Hadith, weeping until I could see his ribs moving up and down
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے انس! تمہارے دل کو کیسے گوارا ہوا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مٹی ڈالو؟ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہائے میرے والد، میں جبرائیل کو ان کے مرنے کی خبر دیتی ہوں، ہائے میرے والد، اپنے رب کے کتنے نزدیک ہو گئے، ہائے میرے والد، جنت الفردوس میں ان کا ٹھکانہ ہے، ہائے میرے والد، اپنے رب کا بلانا قبول کیا۔ حماد نے کہا: میں نے ثابت کو دیکھا کہ اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد روئے یہاں تک کہ ان کی پسلیاں اوپر نیچے ہونے لگیں۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ ‏ "‏ يَأْخُذُ الْجَبَّارُ سَمَوَاتِهِ وَأَرْضَهُ بِيَدِهِ - وَقَبَضَ بِيَدِهِ فَجَعَلَ يَقْبِضُهَا وَيَبْسُطُهَا - ثُمَّ يَقُولُ أَنَا الْجَبَّارُ أَيْنَ الْجَبَّارُونَ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَيَتَمَيَّلُ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى الْمِنْبَرِ يَتَحَرَّكُ مِنْ أَسْفَلِ شَىْءٍ مِنْهُ حَتَّى إِنِّي أَقُولُ أَسَاقِطٌ هُوَ بِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
It was narrated that 'Abdullah bin 'Umar said:"I heard the Messenger of Allah say, when he was on the pulpit: 'The Compeller will seize the heavens and the earth in His Hand' and he clenched his fist and began to open and close it. Then He will say: "I am the Compeller! Where are the tyrants? Where are the arrogant?" He said, the Messenger of Allah was turning to his right and to his left, until he saw the pulpit moving from below and I thought: 'What if it falls with the Messenger of Allah on it?
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا: «جبار» ( اللہ تعالیٰ ) آسمانوں اور زمین کو اپنے ہاتھ میں لے لے گا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مٹھی بند کی اور پھر اسے باربار بند کرنے اور کھولنے لگے ) اور فرمائے گا: میں «جبار» ہوں، کہاں ہیں «جبار» اور کہاں ہیں تکبر ( گھمنڈ ) کرنے والے؟ ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دائیں اور بائیں جھکنے لگے یہاں تک کہ میں نے منبر کو دیکھا کہ نیچے سے ہلتا تھا، مجھے خطرہ محسوس ہوا کہ وہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر گر نہ پڑے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ، قَالَ قَعَدْتُ إِلَى كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ فِي الْمَسْجِدِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ، ‏{فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ}‏ ‏.‏ قَالَ كَعْبٌ فِيَّ أُنْزِلَتْ كَانَ بِي أَذًى مِنْ رَأْسِي فَحُمِلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي فَقَالَ ‏"‏ مَا كُنْتُ أُرَى الْجُهْدَ بَلَغَ مِنْكَ مَا أَرَى أَتَجِدُ شَاةً ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ لاَ ‏.‏ قَالَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏{فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ}‏ ‏.‏ قَالَ فَالصَّوْمُ ثَلاَثَةُ أَيَّامٍ وَالصَّدَقَةُ عَلَى سِتَّةِ مَسَاكِينَ لِكُلِّ مِسْكِينٍ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ طَعَامٍ وَالنُّسُكُ شَاةٌ ‏.‏
It was narrated that ‘Abdullah bin Ma’qil said:“I sat with Ka’b bin ‘Ujrah in the mosque and asked him about this Verse: ‘He must pay a compensation of either fasting (three days) or giving charity (feeding six poor persons) or offering sacrifice (one sheep).’ [2:196] Ka’b said: it was revealed concerning me. I had trouble with my head, so I was carried to the Messenger of Allah (ﷺ), with lice crawling on my face. He said: ‘I did not think that you were suffering as much as I see. Do you have a sheep?’ I said: ‘No.’ Then this Verse was revealed: “He must pay a Fidyah (ransom) of either fasting (three days) or giving Sadaqah (charity – feeding six poor persons) or offering sacrifice (one sheep).” [2:196] He said: ‘Fasting is three days, charity is to be given to six poor persons, giving each one half of a Sa’ of food, and the sacrifice is a sheep.’”
عبداللہ بن معقل کہتے ہیں کہ میں مسجد میں کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تو میں نے ان سے آیت کریمہ: «ففدية من صيام أو صدقة أو نسك» ( سورۃ البقرہ: ۱۹۶ ) کے متعلق پوچھا تو آپ نے کہا کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی ہے، میرے سر میں تکلیف تھی تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس حال میں لایا گیا کہ جوئیں ( میرے سر میں اتنی کثرت سے تھیں کہ ) میرے منہ پر گر رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نہیں سمجھتا تھا کہ تمہیں اس قدر تکلیف ہو گی، کیا ایک بکری تمہیں مل سکتی ہے ؟ میں نے عرض کیا: نہیں، تب یہ آیت اتری: «ففدية من صيام أو صدقة أو نسك» یعنی فدیہ ہے صوم کا یا صدقہ کا یا قربانی کا ، تو صوم تین دن کا ہے، اور صدقہ چھ مسکینوں کو کھانا دینا ہے، ہر مسکین کو آدھا صاع، اور قربانی ایک بکری کی ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي بَعْضِ غَزَوَاتِهِ فَمَرَّ بِقَوْمٍ فَقَالَ مَنِ الْقَوْمُ فَقَالُوا نَحْنُ الْمُسْلِمُونَ ‏.‏ وَامْرَأَةٌ تَحْصِبُ تَنُّورَهَا وَمَعَهَا ابْنٌ لَهَا فَإِذَا ارْتَفَعَ وَهَجُ التَّنُّورِ تَنَحَّتْ بِهِ فَأَتَتِ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَتْ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَرْحَمِ الرَّاحِمِينَ قَالَ ‏"‏ بَلَى ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ أَوَلَيْسَ اللَّهُ بِأَرْحَمَ بِعِبَادِهِ مِنَ الأُمِّ بِوَلَدِهَا قَالَ ‏"‏ بَلَى ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَإِنَّ الأُمَّ لاَ تُلْقِي وَلَدَهَا فِي النَّارِ ‏.‏ فَأَكَبَّ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَبْكِي ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهَا فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ لاَ يُعَذِّبُ مِنْ عِبَادِهِ إِلاَّ الْمَارِدَ الْمُتَمَرِّدَ الَّذِي يَتَمَرَّدُ عَلَى اللَّهِ وَأَبَى أَنْ يَقُولَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Ibn ‘Umar said:“We were with the Messenger of Allah (ﷺ) on one of his campaigns. He passed by some people and said: ‘Who are these people?’ They said: ‘We are Muslims.’ There was a woman putting wood in her oven, and a son of hers was with her. When the flames got higher, she moved him away. She came to the Prophet (ﷺ) and said: ‘Are you the Messenger of Allah?’ He said: ‘Yes.’ She said: ‘May my father and mother be ransomed for you. Is not Allah the Most Merciful of those who show mercy?’ He said: ‘Yes indeed.’ She said: ‘Is not Allah more Merciful than a mother to her child?’ He said: ‘Yes indeed.’ She said: ‘A mother would not throw her child into the fire.’ The Messenger of Allah (ﷺ) lowered his head and wept. Then he looked up at her and said: ‘Allah does not punish any of His slaves except those who are defiant and rebellious, who rebel against Allah and refuse to say: La ilaha illallah.’”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں شریک تھے کہ آپ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے تو پوچھا: تم کون لوگ ہو ؟ انہوں نے کہا: ہم مسلمان ہیں، ان میں ایک عورت تنور میں ایندھن جھوک رہی تھی، اور اس کے ساتھ اس کا بیٹا بھی تھا، جب تنور کی آگ بھڑک اٹھی وہ اپنے بیٹے کو لے کر ہٹ گئی، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں عورت نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کیا اللہ سارے رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا نہیں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں وہ بولی: کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے زیادہ رحم نہیں کرے گا جتنا ماں اپنے بچے پر کرتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں ؟ اس نے کہا: ماں تو اپنے بچے کو آگ میں نہیں ڈالتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر جھکا دیا، اور روتے رہے پھر اپنا سر اٹھایا، اور فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے انہی بندوں کو عذاب دے گا جو بہت سرکش و شریر ہیں، اور جو اللہ تعالیٰ کے باغی ہوتے ہیں اور «لا إله إلا الله» کہنے سے انکار کرتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَنَضَحَ فَرْجَهُ ‏.‏
It was narrated that Jabir said:"The Messenger of Allah performed ablution and sprinkled his private part
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، اور اپنی شرمگاہ پہ چھینٹ ماری۔