بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Ibn Majah
6
6 hadith
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَأَبُو بَكْرٍ عِنْدَ امْرَأَتِهِ ابْنَةِ خَارِجَةَ بِالْعَوَالِي فَجَعَلُوا يَقُولُونَ لَمْ يَمُتِ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِنَّمَا هُوَ بَعْضُ مَا كَانَ يَأْخُذُهُ عِنْدَ الْوَحْىِ ‏.‏ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ وَقَبَّلَ بَيْنَ عَيْنَيْهِ وَقَالَ أَنْتَ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ مِنْ أَنْ يُمِيتَكَ مَرَّتَيْنِ قَدْ وَاللَّهِ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏.‏ وَعُمَرُ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ يَقُولُ وَاللَّهِ مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَلاَ يَمُوتُ حَتَّى يَقْطَعَ أَيْدِيَ أُنَاسٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ كَثِيرٍ وَأَرْجُلَهُمْ ‏.‏ فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَىٌّ لَمْ يَمُتْ وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ ‏{وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ}‏ ‏.‏ قَالَ عُمَرُ فَلَكَأَنِّي لَمْ أَقْرَأْهَا إِلاَّ يَوْمَئِذٍ ‏.‏
It was narrated that ‘Aishah said:“When the Messenger of Allah (ﷺ) passed away, Abu Bakr was with his wife, the daughter of Kharijah, in villages surrounding Al-Madinah. They started to say: ‘The Prophet (ﷺ) has not died, rather he has been overcome with what used to overcome him at the time of Revelation.’ Then Abu Bakr came and uncovered his (the Prophet’s (ﷺ)) face, kissed him between the eyes and said: ‘You are too noble before Allah for Him to cause you to die twice. By Allah, the Messenger of Allah (ﷺ) has indeed died.’ ‘Umar was in a corner of the mosque saying: ‘By Allah, the Messenger of Allah (ﷺ) has not died and he will never die until the hands and feet of most of the hypocrites are cut off.’ Then Abu Bakr stood up, ascended the pulpit and said: ‘Whoever used to worship Allah, Allah is alive and will never die. Whoever used to worship Muhammad, Muhammad is dead. “Muhammad is no more than a Messenger, and indeed (many) Messengers have passed away before him. If he dies or is killed, will you then turn back on your heels (as disbelievers)? And he who turns back on his heels, not the least harm will he do to Allah; and Allah will give reward to those who are grateful.’” [3:144] ‘Umar said: ‘It was as if I had never read (that Verse) before that day.’”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو اس وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی بیوی کے ساتھ جو کہ خارجہ کی بیٹی تھیں عوالی مدینہ میں تھے، لوگ کہنے لگے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا بلکہ وحی کے وقت جو حال آپ کا ہوا کرتا تھا ویسے ہی ہو گیا ہے، آخر ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے، آپ کا چہرہ مبارک کھولا اور آپ کی پیشانی کا بوسہ لیا، اور کہا: آپ اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ معزز و محترم ہیں کہ آپ کو دو بار موت دے ۱؎، قسم اللہ کی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا چکے ہیں، اس وقت عمر رضی اللہ عنہ مسجد کے ایک گوشہ میں یہ کہہ رہے تھے کہ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرے نہیں ہیں، اور نہ آپ مریں گے، یہاں تک کہ بہت سے منافقوں کے ہاتھ اور پاؤں کاٹیں گے، آخر ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، منبر پر چڑھے اور کہا: جو کوئی اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ زندہ ہے، مرا نہیں، اور جو کوئی محمد کی عبادت کرتا تھا تو محمد وفات پا گئے، ( پھر یہ آیت پڑھی ) : «وما محمد إلا رسول قد خلت من قبله الرسل أفإن مات أو قتل انقلبتم على أعقابكم ومن ينقلب على عقبيه فلن يضر الله شيئا وسيجزي الله الشاكرين» ( سورة آل عمران: 144 ) محمد صرف ایک رسول ہیں، ان سے پہلے بہت سے رسول آئے، اگر آپ کا انتقال ہو جائے یا قتل کر دئیے جائیں، تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے، اور جو پھر جائے گا وہ اللہ کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچائے گا، اور اللہ شکر کرنے والوں کو بدلہ دے گا ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ اس دن سے پہلے کبھی اس آیت کو میں نے پڑھا ہی نہیں تھا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ لاَ يَنَامُ وَلاَ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَيَرْفَعُهُ يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ اللَّيْلِ قَبْلَ عَمَلِ النَّهَارِ وَعَمَلُ النَّهَارِ قَبْلَ عَمَلِ اللَّيْلِ حِجَابُهُ النُّورُ لَوْ كَشَفَهُ لأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ مَا انْتَهَى إِلَيْهِ بَصَرُهُ مِنْ خَلْقِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Musa said:"The Messenger of Allah stood up among us and said five things. He said: 'Allah does not sleep, and it is not befitting that He should sleep. He lowers the Scales and raises them. The deed done during the day is taken up to Him before the deed done during the night, and the deed done during the night before the deed done during the day. His Veil is Light, and if He were to remove it, the glory of his Face would burn everything of His creation, as far as His gaze reaches
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور پانچ باتیں بیان فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ سوتا نہیں اور اس کے لیے مناسب بھی نہیں کہ سوئے، میزان کو اوپر نیچے کرتا ہے، رات کا عمل دن کے عمل سے پہلے اور دن کا عمل رات کے عمل سے پہلے اس تک پہنچا دیا جاتا ہے، اس کا حجاب نور ہے، اگر اس کو ہٹا دے تو اس کے چہرے کی تجلیات ان ساری مخلوقات کو جہاں تک اس کی نظر پہنچے جلا دیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ثَلاَثَ حَجَّاتٍ حِجَّتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُهَاجِرَ وَحَجَّةً بَعْدَ مَا هَاجَرَ مِنَ الْمَدِينَةِ وَقَرَنَ مَعَ حَجَّتِهِ عُمْرَةً وَاجْتَمَعَ مَا جَاءَ بِهِ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَمَا جَاءَ بِهِ عَلِيٌّ مِائَةَ بَدَنَةٍ مِنْهَا جَمَلٌ لأَبِي جَهْلٍ فِي أَنْفِهِ بُرَةٌ مِنْ فِضَّةٍ فَنَحَرَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِيَدِهِ ثَلاَثًا وَسِتِّينَ وَنَحَرَ عَلِيٌّ مَا غَبَرَ ‏.‏ قِيلَ لَهُ مَنْ ذَكَرَهُ قَالَ جَعْفَرٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرٍ وَابْنُ أَبِي لَيْلَى عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏
Sufyan said:“The Messenger of Allah (ﷺ) performed Hajj three times, twice before he emigrated, and once after he had emigrated, and once after he had emigrated to Al-Madinah. He performed ‘Umrah along with his Hajj. The total number of camels brought by the Prophet (ﷺ) and ‘Ali was one hundred. Among them was a (male) camel belonging to Abu Jahl, which had a silver ring in its nose. The Prophet (ﷺ) slaughtered sixty-three with his own hand, and ‘Ali slaughtered the rest.”
سفیان ثوری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین حج کئے ۱؎، دو حج ہجرت سے پہلے، اور ایک حج ہجرت کے بعد مدینہ سے آ کر کیا، اس حج کے ساتھ آپ نے عمرہ کو بھی ملایا ( یعنی قران کیا ) اس حج میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ جو اونٹ لے کر آئے تھے، اور جو علی رضی اللہ عنہ ( یمن سے ) لے کر آئے تھے سب ملا کر کل سو اونٹ تھے، جن میں سے ایک اونٹ ابوجہل کا بھی تھا، اس کی ناک میں چاندی کا ایک چھلہ تھا، ان میں سے ۶۳ اونٹوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے نحر کیا، اور جو باقی رہ گئے انہیں علی رضی اللہ عنہ نے نحر کیا، سفیان سے پوچھا گیا کہ یہ حدیث کس نے روایت کی ہے تو انہوں نے کہا: جعفر صادق نے اپنے والد سے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے اور ابن ابی لیلیٰ نے حکم سے، حکم نے مقسم سے اور مقسم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ مِائَةَ رَحْمَةٍ فَجَعَلَ فِي الأَرْضِ مِنْهَا رَحْمَةً فَبِهَا تَعْطِفُ الْوَالِدَةُ عَلَى وَلَدِهَا وَالْبَهَائِمُ بَعْضُهَا عَلَى بَعْضٍ وَالطَّيْرُ وَأَخَّرَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةٍ فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ أَكْمَلَهَا اللَّهُ بِهَذِهِ الرَّحْمَةِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Sa’eed that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“On the day when He created the heavens and the earth, Allah created one hundred (degrees of) mercy, of which He placed one on earth, by virtue of which mothers show compassion to their children and animals as well as the birds show compassion to one another. And He kept back ninety-nine (degrees of) mercy. When the Day of Resurrection comes, Allah will complete this mercy.”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل نے جس دن آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، سو رحمتیں پیدا کیں، زمین میں ان سو رحمتوں میں سے ایک رحمت بھیجی، اسی کی وجہ سے ماں اپنے بچے پر رحم کرتی ہے، اور چرند و پرند جانور بھی ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں، اور ننانوے رحمتوں کو اس نے قیامت کے دن کے لیے اٹھا رکھا ہے، جب قیامت کا دن ہو گا، تو اللہ تعالیٰ ان رحمتوں کو پورا کرے گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ قَالَ مَنْصُورٌ حَدَّثَنَا مُجَاهِدٌ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ تَوَضَّأَ ثُمَّ أَخَذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَنَضَحَ بِهِ فَرْجَهُ ‏.‏
It was narrated from Hakam bin Sufyan Ath-Thawri that:He saw the Messenger of Allah perform ablution then take a handful of water and sprinkle it over his private area to remove any doubts about urine drippings
حکم بن سفیان ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا، پھر ایک چلو پانی لے کر شرمگاہ پر چھینٹا مارا۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ مُصَرِّفٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْسَجَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ وَمَلاَئِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصُّفُوفِ الأُوَلِ ‏"‏ ‏.‏
Bara’ bin ‘Azib said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘Allah and the angels send blessings upon the first row.’”
براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بیشک اللہ تعالیٰ پہلی صف والوں پر اپنی صلاۃ بھیجتا یعنی رحمت نازل فرماتا ہے، اور اس کے فرشتے صلاۃ بھیجتے یعنی اس کے حق میں دعا کرتے ہیں ۔